بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 37
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
اے محمدؐ، تم چاہے اِن کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کر سکتا
گو آپ ان کی ہدایت کے خواہش مند رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراه کر دے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے
اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو تو بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں،
(اے رسول) آپ ان کے ہدایت پانے کے کتنے ہی حریص ہوں مگر (یہ ہدایت پانے والے نہیں) کیونکہ اللہ جس کو (اس کے کفر و سرکشی کی وجہ سے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کو ہدایت نہیں کرتا اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔
اگر تو ان کی ہدایت کی حرص کرے تو بے شک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کر دے اور نہ کوئی ان کی مدد کرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

الٹی سوچ ٭٭

مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئیے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی - انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الانبیآء:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ’ تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ ‘ یہاں بھی فرمایا ’ ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی ‘۔

پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتداء ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ ‘ پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41] ‏‏‏‏ ’ جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا ‘۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ» ۱؎ [11-ھود:34] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لیے محض بےسود ہے ‘۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ ’ جسے اللہ تعالیٰ بہکادے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ‏‏‏‏ ’ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں ‘۔ فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:96-97] ‏‏‏‏ ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں ‘۔ پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ’ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے ‘۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏ ’ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے ‘۔

📖 احسن البیان

37۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اے پیغمبر! تیری خواہش یقیناً یہی ہے کہ یہ سب ہدایت کا راستہ اپنا لیں لیکن قوانین الہیہ کے تحت جو گمراہ ہوگئے ہیں، ان کو ہدایت کے راستے پر نہیں چلا سکتا، یہ تو اپنے آخری انجام کو پہنچ کر ہی رہیں گے، جہاں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت37){اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کر دیے، اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ تعالیٰ انھیں باطل میں پڑے رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان پر حرص کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں کی ہدایت کے لیے حرص بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۲۸)۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →