بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 31
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡزِی اللّٰہُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾
دائمی قیام کی جنتیں، جن میں وہ داخل ہوں گے، نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو
ہمیشگی والے باغات جہاں وه جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جو کچھ یہ طلب کریں گے وہاں ان کے لیے موجود ہوگا۔ پرہیز گاروں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح بدلے عطا فرماتا ہے
بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انہیں وہاں ملے گا جو چاہیں اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو
(یعنی) وہاں ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہاں وہ جو کچھ چاہیں گے ان کو مل جائے گا خدا اسی طرح پرہیزگاروں کو جزا دیتا ہے۔
ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کے لیے ان میں جو وہ چاہیں گے (موجود) ہوگا۔ اسی طرح اللہ ڈرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

متقیوں کے لیے بہترین جزا ٭٭

بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے - پھر خبر دیتا ہے کہ ’ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [16-النحل:97] ‏‏‏‏ ’ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ‘۔ یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ» ۱؎ [28-القصص:80] ‏‏‏‏ ’ ثواب الٰہی بہتر ہے ‘، الخ۔ قرآن فرماتا ہے آیت «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لیے بہت اعلیٰ ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:17] ‏‏‏‏ ’ دار آخرت متقیوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے ‘۔ «جَنَّاتُ عَدْنٍ» بدل ہے «دَارُ الْمُتَّقِينَ» کا یعنی ان کے لیے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71] ‏‏‏‏ ’ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ‘۔

حدیث میں ہے { اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایماندار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں }۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ ’ جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت31) ➊ {جَنّٰتُ عَدْنٍ:} ہمیشہ رہنے کے باغات، کیونکہ ان میں ضرورت اور چاہت کی ہر چیز موجود ہو گی۔ دنیا میں بڑی سے بڑی تفریح گاہ اور اچھے سے اچھے گھر سے بھی دل بھر جاتا ہے، مگر جنت میں ہمیشہ رہنے کے باوجود دل نہیں بھرے گا، کیونکہ دل جو کچھ چاہے گا وہ حاضر ہو جائے گا، فرمایا: «‏‏‏‏{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» ‏‏‏‏ [ السجدۃ: ۱۷ ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ ➋ {كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ:} یعنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسے ہی جزا دیتا ہے، جیسا کہ سونا اور ریشم مردوں پر حرام کر دیا اور فرمایا، یہ چیزیں ان (کافروں) کے لیے دنیا میں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۱۵، ۱۶) اور سورۂ قمر (۵۴، ۵۵)۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →