بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 28
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں "ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے" ملائکہ جواب دیتے ہیں "کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے
وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے
وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے اب صلح ڈالیں گے کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے
کہ جن کی روحیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اس وقت انہوں نے (سپر ڈال دی تھی اور) صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے (ان سے کہا گیا) ہاں (تم نے ضرور برائی کی تھی) تم لوگ جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔
جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، تو وہ فرماں برداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے۔ کیوں نہیں! یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭

مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں ‘۔ «وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ جس طرح دنیا میں اپنی بے گناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو ‘۔ مقام برا، مکان برا، ذلت اور رسوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا» [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف ‘۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا» ۱؎ [40-غافر:46] ‏‏‏‏ ’ یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ ‘۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع وطاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ 28۔ 2 فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہے تمہارے اس انکار سے اب کیا بنے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت28) ➊ { الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …: ” فَاَلْقَوُا”أَلْقٰي يُلْقِيْ“} (افعال) سے ماضی معلوم کا جمع مذکر غائب ہے۔ مراد مستقبل ہے، کیونکہ وہ ماضی کی طرح یقینی ہے۔ {” اِلْقَاءٌ“} کا لفظ اجسام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {”فُلاَنٌ أَلْقَي السِّلَاحَ“} کہ فلاں نے ہتھیار پھینک دیے، یعنی اپنے آپ کو حوالے کر دیا۔ {” السَّلَمَ “} کا معنی {”اِسْتِسْلَامٌ“} ہے، یعنی مکمل طور پر تابع اور مطیع ہونا۔ ➋ { ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ:} اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ {” الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمْ “} پچھلی آیت میں مذکور {” الْكٰفِرِيْنَ “} کی صفت ہے اور اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہی ہے۔ (دیکھیے انعام: 21) ظالم ہونے کی حالت میں انھیں فرشتوں کے فوت کرنے میں اس سختی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت ان ظالموں پر گزرتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۹۳) اور سورۂ انفال (۵۰) براء بن عازب رضی اللہ عنھما کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی موت کے وقت فرشتوں کا ان سے سلوک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ [ مسند أحمد: ۴ /۲۸۷، ۲۸۸، ح: ۱۸۵۶۱۔ أبوداوٗد: ۴۷۵۳ ] ➌ { مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ:} یعنی ساری عمر تو اہل ایمان سے مخالفت اور لڑنے میں گزار دی، اب حقیقت واضح ہونے پر اپنی فرماں برداری کا اظہار کریں گے کہ ہم تو کوئی برا کام کیا ہی نہ کرتے تھے۔ وہاں صاف جھوٹ بول کر سمجھیں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی ہمارا جھوٹ چل جائے گا، بلکہ اس پر قسمیں بھی اٹھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۲، ۲۳) اور سورۂ مجادلہ (۱۸)۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →