بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النحل — Surah Nahl
آیت نمبر 20
کل آیات: 128
قرآن کریم النحل آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ النحل islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں
اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ وه خود پیدا کیے ہوئے ہیں
اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو ہیں (۳۲) وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں
اور اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے (بلکہ) وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں۔
اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ خالق کل ٭٭

چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:96-95] ‏‏‏‏ ’ تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ‘۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بے روح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہیئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 اس میں ایک چیز کا اضافہ ہے یعنی صفت (خالقیت) کی نفی کے ساتھ نقصان یعنی کمی (عدم خالقیت) کا اثبات (فتح القدیر) ُ

📖 القرآن الکریم

(آیت20){وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی بے بسی اور عجز کے بیان کے لیے تین اوصاف بیان فرمائے، پہلا یہ کہ وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، خالق صرف ایک ہی ہے، کیونکہ اگر ان کے معبود نیک یا بد فوت شدہ لوگ ہیں تو ان کا خالق اللہ ہے اور وہ نہ زندگی میں کچھ پیدا کر سکتے تھے نہ اب کر سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (۱۷)، سورۂ رعد (۱۶) اور سورۂ حج (۷۳) میں دیکھیں اور اگر ان کے مجسمے یا ان کی قبریں ہیں تو وہ بھی کچھ پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ انھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: «{اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ }» [ الصافات: ۹۵ ] ”کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو۔“ اگر تمھارے معبود تراشے ہوئے بت ہیں یا قبریں، تو خالق ان کا بھی اللہ تعالیٰ ہے تم نہیں، جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ }» [ الصافات: ۹۶ ] ”حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم بناتے ہو۔“
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →