مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا۔
عبدالسلام بن محمد
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوا ل کیا جو واقع ہونے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
ایک سوال کرنے والے نے (1) اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے والا ہے۔
(آیت 2،1) ➊ { سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ…:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ایک پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق سوال کیا ہے (کہ وہ کب آئے گا؟) اس صورت میں ”باء“ بمعنی {”عَنْ“} ہو گی اور مراد وہ کفریہ سوال ہے جو وہ بار بار عذاب کو جھٹلانے اور مذاق کرنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [ الملک: ۲۵ ] ”اور وہ کہتے ہیں کہ وہ(عذاب کا) وعدہ کب پورا ہو گا، اگر تم سچے ہو؟“ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے۔ اس سے مراد کفار کے سرکش لوگوں کی وہ دعا ہے جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ اے اللہ! محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر یہ حق ہے تو توُ ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ (دیکھیے انفال: ۳۲) اور کفار کا وہ مطالبہ بھی مراد ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہتے تھے کہ ہم پر جلد از جلد عذاب لے آؤ، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ» [ العنکبوت: ۵۳ ] ”اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا سوال کرتے ہیں۔“ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پوچھنے والا عذاب کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہ کب آئے گا؟ مانگنے والا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب لے آؤ، تو سن لو کہ وہ عذاب کافروں پر ضرور آ کر رہے گا اور کوئی اسے ہٹا نہیں سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر آئے گا۔ آپ ان کے مطالبے پر نہ اس کے جلدی آنے کا سوال کریں اور نہ ان کے مذاق اڑانے پر کسی قسم کی بے صبری کامظاہرہ کریں، وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہمیں وہ بالکل قریب نظر آرہا ہے۔ ➋ { لِلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌ: ” لِلْكٰفِرِيْنَ “} یا تو {” وَاقِعٍ “} کے متعلق ہے، یعنی وہ عذاب کافروں پر واقع ہونے والا ہے، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، یا {” دَافِعٌ “} کے متعلق ہے، یعنی کافروں سے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے (اور) اسے کوئی ٹالنے والانہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کافروں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
3۔ 1 یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔
(آیت 3) {مِنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ: ” الْمَعَارِجِ “ ”عَرَجَ يَعْرُجُ“} (ن) سے {”مِعْرَجٌ“} کی جمع ہے، چڑھنے کا آلہ، سیڑھی، زینہ۔ یعنی اس عذاب کو معمولی نہ سمجھو، بلکہ وہ اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے، یعنی اس کی ذات بہت ہی بلند ہے۔ فرشتوں کو اس کے حضور پیش ہونے کے لیے کئی سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ {” الْمَعَارِجِ “} (سیڑھیوں) سے مراد آسمان ہیں، کیونکہ فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔
ملائکہ اور روح اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
ملائکہ اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے
علامہ محمد حسین نجفی
فرشتے اور روح اس کی بارگاہ میں ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، ( وہ عذاب ) ایک ایسے دن میں(ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
(آیت 4) ➊ { تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ:} فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ یہاں {” الرُّوْحُ “} سے مراد یا تو جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ قرآن میں ان کا نام {” الرُّوْحُ “} ہے، جیسا کہ فرمایا: «نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ (193) عَلٰى قَلْبِكَ» [ الشعراء:۱۹۳، ۱۹۴ ] ”اس قرآن کو روح الامین نے تمھارے دل پر نازل کیاہے۔“ اور دوسری جگہ فرمایا: «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ» [ البقرۃ: ۹۷ ] ”کہہ دو جو جبریل کا دشمن ہے(وہ اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟) کیونکہ بلاشبہ اس نے تو اسے تمھارے دل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے۔“ دونوں آیتیں ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ {” الرُّوْحُ “} سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ فرشتوں سے ان کا الگ ذکر ان کی عظمت شان کی وجہ سے ہے۔ یا مراد مومنوں کی ارواح ہیں، کیونکہ نیک لوگ جب فوت ہوتے ہیں توفرشتے ان کی ارواح کو آسمان کی طرف لے کر جاتے ہیں تو آسمانوں کے دروازے ان کے لیے کھلتے چلے جاتے ہیں، جیساکہ ابو ہریرہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنھم کی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ [ دیکھیے نسائي، الجنائز، باب ما یلقی بہ المؤمن…: ۱۸۳۴۔ أبوداوٗد: ۴۷۵۳ ] البتہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں کی ارواح کو لے کر فرشتے چڑھتے ہیں تو ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۴۰) اور مذکورہ بالا احادیث۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا بلندی پر ہونا اور فرشتوں اور روح کا اس کی طرف چڑھنا صاف ثابت ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اوپر کی جانب ہونے اور عرش پر ہونے کے منکر ہیں وہ قرآن مجید کی صریح آیات سن کر بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ان کا رب اوپر کی جانب ہے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے، حالانکہ یہ کسی نے کہا ہی نہیں کہ بلندی یا عرش اس کے لیے قید ہے یا وہ ان کا محتاج ہے۔ ➋ {” فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ “} (ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے، یعنی وہ اتنی بلندی پر ہے کہ فرشتوں اور روح کو اس کی بارگاہ میں پہنچنے کے لیے اتنی بلندیوں پر چڑھنا پڑتا ہے کہ کوئی اور چڑھے تو اسے پچاس ہزار سال لگ جائیں، مگر فرشتے اور روح وہ فاصلہ ایک دن میں طے کر لیتے ہیں۔ (ابن جریر) واضح رہے کہ پچاس ہزار سال کا عدد بھی صرف فاصلے کی دوری بیان کرنے کے لیے ہے، کیونکہ انسان کی محدود نظروں نے آلات کی مدد سے جو کچھ دیکھا ہے اس سے آسمان کے نیچے ہی اتنی وسیع کہکشائیں معلوم ہوئی ہیں کہ زمین سے ان کے ستاروں کے فاصلے ماپنے کے لیے ”نوری سال“ کی اصطلاح وضع کرنا پڑی۔ عربی زبان میں پچاس، سو، ہزار وغیرہ کا عدد کثرت کے بیان کے لیے عام استعمال ہوتا ہے، اس سے مراد گنتی نہیں ہوتی۔ فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قوت و سرعت کی بدولت تحت الثریٰ سے لے کر ساتوں آسمانوں کے اوپر تک پچاس ہزار سال کا یہ فاصلہ ایک ہی دن میں طے کر لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت سے ہر کام سات آسمانوں پر سے اتنی جلدی ہو جاتا ہے تو ان عذاب مانگنے والوں پر عذاب کے آنے میں کیا دیر لگتی ہے، بس تھوڑا سا صبر کریں۔آیت کے الفاظ کی رو سے یہ معنی قریب ہے، کیونکہ {” فِيْ يَوْمٍ “} سے متصل پہلے ہی {” تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ “} آیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب ایک ایسے دن میں واقع ہونے والا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس صورت میں {” فِيْ يَوْمٍ “} کا لفظ {” وَاقِعٍ “} کے متعلق ہے۔ یہ معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور صحیح حدیث سے بھی۔ اس لیے حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ سورۂ طور کے شروع میں فرمایا: «اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ (7) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ (8) يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا (9) وَّ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ طور: ۷ تا۱۰ ] ”یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہنے والا ہے۔ اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ جس دن آسمان لرزے گا سخت لرزنا اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔“ ان آیات میں بھی رب تعالیٰ کا عذاب، جسے کوئی ہٹانے والا نہیں، قیامت کے دن واقع ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ زیر تفسیر آیات میں بھی {” فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ “} کے چند آیات بعد فرمایا: «يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ (8) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ» [ المعارج: 9،8 ] ”(یہ پچاس ہزار سال والے دن کا عذاب اس دن ہو گا) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔“ جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ {” اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا “} سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ نہ دینے والے کو قیامت کے دن ہونے والے عذاب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: [ حَتّٰی يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمََّا تَعُدُّوْنَ ] [أبو داوٗد، الزکاۃ، باب في حقوق المال: ۱۶۵۸۔ مسلم: ۹۸۷ ] ”(زکوۃ نہ دینے والے کو عذاب ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمھاری گنتی سے پچاس ہزار سال ہے۔“ قیامت کے دن کی یہ درازی کفار کے لیے ہو گی اور یہ دوسرے عذاب کے ساتھ بجائے خود ایک عذاب ہو گی، ویسے بھی مصیبت کے دن لمبے ہوتے ہیں۔ رہے اہلِ ایمان تو وہ اس دن بالکل بے فکر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ» [ یونس: ۶۲ ] ”نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ اور فرمایا: «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ» [ الأنبیاء: ۱۰۳] ”انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہیں کرے گی اور انھیں فرشتے لینے کے لیے آئیں گے۔“ اور فرمایا: «وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ» [ النمل: ۸۹ ] ”اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔“ خوشی کے دن گزرنے میں دیر بھی نہیں لگتی۔
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5تا7) {فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا …:} یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔ {” صَبْرًا جَمِيْلًا “} جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ، نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ شکایت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آنا یقینی ہے اور تمھارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [22-الحج:47] یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔ نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔ ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔ روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“ یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔ پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
7۔ 1 دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گی۔
(وہ عذاب اُس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8){ يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ …: ” كَالْمُهْلِ “} یعنی آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح(سرخ اور گرم ہو کر پھٹ جائے گا)۔ (دیکھیے رحمان: ۳۷) {”اَلْعِهْنُ“} اُون، یعنی پہاڑ دھنی ہوئی اُون کی طرح بالکل ہلکے ہو کر اڑنے لگیں گے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۱۰۵) اور قارعہ (۵)۔
اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہاڑ دھنکی ہوئی رُوئی کی مانند ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
9۔ 1 یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورة القارعۃ میں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10تا14) {وَ لَا يَسْـَٔلُ حَمِيْمٌ حَمِيْمًا …:} کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لیے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہو گا، بلکہ {” يُبَصَّرُوْنَهُمْ “} ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہو گی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لیے عذابِ الٰہی کے حوالے کر دینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیاجو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھائی، خاندان اور سورۂ عبس (۳۴تا۳۶) میں اس کا الٹ ہے۔ {” فَصِيْلَتِهِ “} خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا ہے۔ {” تُـْٔوِيْهِ “ ”اٰوٰي يُؤْوِيْ“} (افعال) جگہ دینا، پناہ دینا۔
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو
مولانا محمد جوناگڑھی
(حاﻻنکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے، گناهگار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو
احمد رضا خان بریلوی
ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے مجرم آرزو کرے گا، کاش! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے،
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کیلئے اپنے بیٹوں،
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ وہ انھیں دکھائے جا رہے ہوں گے۔ مجرم چاہے گا کاش کہ اس دن کے عذاب سے (بچنے کے لیے) فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
11۔ 1 لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے قریبی کنبہ جو اسے پناہ دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے خاندان کو، جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دﻻ دے
احمد رضا خان بریلوی
اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور رُوئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور پھر یہ (فدیہ) اسے نجات دلا دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان تمام لوگوں کو جو زمین میں ہیں، پھر اپنے آپ کو بچا لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
14۔ 1 یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کرلی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کا شعلہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں! یقینا وہ (جہنم) ایک شعلہ مارنے والی آگ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
15۔ 1 یعنی وہ جہنم، یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔
(آیت 15) {كَلَّا اِنَّهَا لَظٰى:” كَلَّا “} یعنی ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ وہ اپنے فدیہ میں کسی اور کو عذاب کے حوالے کرکے بچ جائے، بلکہ وہ جہنم ایک شعلے مارنے والی آگ ہے۔ {” لَظٰى “ ”لَظِيَ يَلْظٰي لَظًي“} (ع) آگ کا بھڑکنا، شعلے مارنا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
16۔ 1 یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔
(آیت 16) {نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى: ” نَزَّاعَةً “} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اتار کھینچنے والی۔ {”الشَّوٰي“ ”شَوَاةٌ“} کی جمع ہے، سر اور چہرے کی کھال۔ جمع کا لفظ اس کے اجزا کی وجہ سے لایا گیا ہے۔ مبالغے کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے شعلے کی لپیٹ فوراً ہی سر اور چہرے کی کھال جلا کر اتار کھینچے گی اور یہ بھی کہ وہ کھال بار بار درست ہو تی رہے گی اور آگ کا شعلہ اسے بار بار جلاتا رہے گا، البتہ دل قائم رہے گا تاکہ عذاب کی تکلیف برقرار رہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۶)۔
پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر اس شخص کو (اپنی طرف) بلائے گا جو پیٹھ پھرائے گااور رُوگردانی کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ(ہر) اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18،17) ➊ {تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰى:} یعنی جن لوگوں نے دنیا میں ایمان کی طرف بلائے جانے پر پیٹھ پھیر لی اور منہ موڑ لیا تھا اب جہنم انھیں اپنی طرف بلائے گی اور اس طرح نہیں بلائے گی کہ چاہیں تو جائیں اور چاہیں تو نہ جائیں۔ ➋ { وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى: ”أَوْعٰي“ ”وِعَاءٌ“} برتن کو کہتے ہیں، یعنی برتن میں بند رکھا۔ پچھلی آیت اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار کے جہنم میں جانے کے بڑے اسباب دو ہیں، ایک ایمان نہ لانا بلکہ حق بات سن کر منہ پھیر لینا اور دوسرا شدید بخل۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۳۳، ۳۴)۔ ➌ جہنم کا کلام کرنا ان آیات سے بھی ثابت ہوتا ہے اور سورۂ ق کی آیت(۳۰): «وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ» سے بھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِّنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُوْلُ إِنِّيْ وُكِّلْتُ بِثَلاَثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللّٰهِ إِلٰهًا آخَرَ وَبِالْمُصَوِّرِيْنَ ] [ ترمذي، صفۃ جھنم، باب ما جاء فی صفۃ النار: ۲۵۷۴، وصححہ الألباني ] ”قیامت کے دن آگ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھتی ہوں گی اور دو کان ہوں گے جو سنتے ہوں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولتی ہوگی۔ وہ کہے گی کہ مجھے تین (قسم کے آدمیوں) پر مقرر کیا گیا ہے، ہر جبار عنید پر اور ہر اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنائے اور مصوروں پر۔“ اسی طرح صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت اور دوزخ کی بحث کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، اس لیے جہنم کے کلام کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کے مطابق قیامت کے دن زمین بھی بات کرے گی اور ہاتھ پاؤں اور چمڑے بھی گفتگو کریں گے، پھر جنت یا جہنم کے بولنے میں کیا تعجب ہے؟
اور جس نے (مال) جمع کیا اور پھر اسے سنبھال کر رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور(مال) جمع کیا اور اسے بند رکھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے ‘، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ’ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون ‘، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ۔ پھر فرماتا ہے ’ کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ’ ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا ‘۔ ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» ۱؎ [31-لقمان:33] ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» ۱؎ [35-فاطر:18] ’ کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ۱؎ [80- عبس:34-37] یعنی ’ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا ‘۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔ یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے { سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1434] عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
18۔ 1 یعنی دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوٰۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی، بعض کہتے ہیں، پکارنے والے فرشتے ہی ہونگے اسے منسوب جہنم کی طرف کردیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
19۔ 1 سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔
(آیت 19تا21) {اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا …:} یعنی انسان میں پیدائشی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑدلا ہے، بے صبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہلِ ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ] [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے کہ اس کے سب کام ہی (اس کے لیے) خیر ہیں اور مومن کے علاوہ یہ چیز کسی کو حاصل نہیں، (اس طرح کہ) اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے خیر ہوتی ہے اور اگر تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ (بھی) اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔“ مگر اس کے لیے کوشش یقینا کرنا پڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَمَنْ يَّسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللّٰهُ وَ مَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللّٰهُ وَ مَنْ يَّتَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللّٰهُ ] [ مسلم، الزکاۃ، باب فضل العفف والصبر…: ۱۰۵۳ ] ”جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے بچا لے گا، جو اللہ سے غنا مانگے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔“
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بہت گھبرا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
اورجب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بہت بُخل کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر وه نمازی
احمد رضا خان بریلوی
مگر نمازی،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ نمازی (اس عیب سے محفوظ ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23،22) {اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ …:} مگر نمازی بے صبرے اور تھڑ دلے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ شکایت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور وہ ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو ہی نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ وَ اِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِيْنَ (45) الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ» [ البقرۃ: 46،45 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بے شک وہ بہت بڑی ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ آیات(۲۳) تا(۳۴) تک وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کے بغیر نمازی بھی” ہلوع“ (تھڑدلا) ہی رہتا ہے۔ ان میں سے پہلی صفت اپنی نماز پر ہمیشگی ہے، یہ نہیں کہ کبھی پڑ ھ لی کبھی چھوڑ دی، کیونکہ جونہی نماز ترک کرے گا، تو صرف بے صبری اور بخل ہی واپس نہیں آئیں گے بلکہ کفر بھی دوبارہ اس میں پلٹ آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَيْنَ الْعَبْدِ وَ بَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ] [ أبو داوٗد، السنۃ، باب في رد الإرجاء: ۴۶۷۸۔ مسلم: ۸۲ ] ” بندے اور کفر کے درمیان نماز ترک کرنے کی دیر ہے۔“
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
23۔ 1 مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
24۔ 1 یعنی زکوٰۃ مفروضۃ، بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔
(آیت 25،24) {وَ الَّذِيْنَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ صدقہ و زکوٰۃ مکہ میں بھی فرض تھے اور وہاں بھی اہل ایمان اپنے اموال میں سے ایک مقرر حصہ نکالتے تھے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے، بلکہ مشرکین بھی اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مقرر حصہ نکالتے تھے۔ (دیکھیے انعام: ۱۳۶) اس سے بہت پہلے اسماعیل علیہ السلام بھی اپنے اہل کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ (دیکھیے مریم: ۵۵) ہاں زکوٰۃ کا موجودہ مخصوص نصاب مدینہ میں مقرر ہوا، اتنے فرض کی ادائیگی کے بغیر تو آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اہلِ ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں، یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ اس کی راہ میں کتنا حصہ مقرر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں ایک شخص کا واقعہ مذکور ہے جس کا نام لے کر بادلوں کو حکم ہوا کہ اس کے باغ کو پانی پلائیں۔ وہ شخص اپنے باغ کی آمدنی کے تین حصے کرتا تھا، جس میں سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا۔ [ دیکھیے مسلم: ۲۹۸۴ ] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے بغیربے صبری اور بخل کی کمینگی دور ہو ہی نہیں سکتی۔ {” الْمَحْرُوْمِ “} میں وہ بھی شامل ہے جس کا کوئی ذریعۂ معاش نہیں یا کسی آفت کی وجہ سے اپنے سرمایہ سے محروم ہو گیا ہے اور وہ بھی جسے ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہ کرنے کی وجہ سے کچھ نہیں دیا جاتا۔
اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے
علامہ محمد حسین نجفی
سا ئل اور محروم کا۔
عبدالسلام بن محمد
سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
25۔ 1 محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی وارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہوگیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
2 6 ۔ 1 یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک وشبہ کا اظہار۔
(آیت 26تا28){ وَ الَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ …:} یعنی ان کے اعمال کا اصل محرک قیامت پر ایمان اور رب تعالیٰ کے عذاب کا خوف ہے۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
27۔ 1 یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
کیونکہ اُن کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیونکہ ان کے پروردگار کا عذاب وہ چیز ہے جس سے کسی کو مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا ہے جس سے بے خوف نہیں ہوا جا سکتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
28۔ 1 یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29تا31) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ …:} ان آیات سے بیوی اور لونڈی کے علاوہ جنسی خواہش پوری کرنے کے تمام ذرائع مثلاً زنا، متعہ، لڑکوں یا جانوروں سے بدفعلی اور استمنا بالید وغیرہ کی حرمت ثابت ہوئی، بلکہ ان اسباب کی حرمت بھی معلوم ہوئی جو آدمی کو ان چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلاً عریانی، غیر محرموں سے میل جول، گناہ پر ابھارنے والے گیت، ناول، افسانے اور فلمیں وغیرہ۔ مزید دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷)۔
بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں
احمد رضا خان بریلوی
مگر اپنی بیبیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے اپنی بیویوں کے یا اپنی مملوکہ کنیزوں کے کہ اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اپنی بیویوں پر، یا جس کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں، تو یقینا وہ ملامت کیے ہوئے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
30۔ 1 یعنی انسان کے جنسی تسکین کے لئے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری (لونڈی) بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لئے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔
البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اس سے آگے بڑھے وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو اس کے علاوہ کوئی راستہ ڈھونڈے تو وہی حد سے گزرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اورجو اپنی امانتوں اورعہد و پیمان کا لحاظ رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
32۔ 1 یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔
(آیت 32) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ …:} امانت و عہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ نفاق کی علامات والی مشہور حدیث میں ہے۔ [ دیکھیے بخاري: ۳۳۔ مسلم: ۵۸ ] {”أَمَانَاتٌ“} کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ یا بندوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
(آیت 33) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ:} شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ ”شهادات“ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ:} نمازیوں کے اوصاف کا آغاز نماز پر ہمیشگی سے کیا اور ان کا اختتام نماز پر محافظت سے کیا ہے۔ اس سے نماز کی اہمیت صاف واضح ہو رہی ہے۔ محافظت سے مراد اس کے اوقات کا خیال رکھنا اور اس کے شروط و ارکان کی صحیح ادائیگی کا خیال رکھنا ہے۔ منافق نہ صحیح وقت پر نمازپڑھتا ہے اور نہ اطمینان و سکون سے اس کے ارکان کو درست طریقے سے ادا کرتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا ] [مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر بالعصر: ۶۲۲ ] ”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جاتا ہے (یعنی غروب ہونے کے قریب ہوجاتا ہے) تو اٹھ کر اس کے لیے چار ٹھونگے مار لیتا ہے، اس میں اللہ کا ذکرنہیں کرتا مگر کم۔“
یہی وہ لوگ ہیں جو عزت کے ساتھ باغہائے بہشت میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1] ، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464] خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33] اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔ سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35){ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ:} یہی لوگ ہیں جو تھڑدلی، بے صبری اور شدید بخل سے محفوظ ہیں اور انھی کو جنتوں میں عزت عطا ہو گی۔
پس اے نبیؐ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے،
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کافروں کو کیاہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ٹکٹکی باندھے آپ(ص) کی طرف دو ڑے چلے آرہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، کیا ہے کہ تیری طرف دوڑتے چلے آنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 36تا39) {فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” مُهْطِعِيْنَ “ ”أَهْطَعَ يُهْطِعُ“} (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ {” عِزِيْنَ “} جمع ہے {”عِزَةٌ“} کی، جو اصل میں {”عِزَوَةٌ“} یا {”عِزَهَةٌ“} تھا، ٹولیاں، گروہ۔ کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق کرنے کے لیے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دوڑے چلے آتے، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لیے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا، کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے کی طمع رکھتا ہے؟ ہر گز نہیں! ہم نے انھیں جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے وہ خود بھی جانتے ہیں، حقیر قطرے سے پیدا ہونے والے انسان کو یہ تکبر بھلا زیب دیتا ہے؟ اس مضمون کے لیے دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۳) اور سورۂ طارق (۵تا ۷)۔ ان آیات سے تین باتیں مقصود ہیں، ایک انسان کو تکبر سے باز رکھنا اور یہ یاد دلانا کہ تم منی جیسی حقیر چیز سے پیدا ہو کر اتنے بڑ ے بن رہے ہو کہ جنت میں داخل ہونے کو اپنا حق سمجھ رہے ہو، حالانکہ جنت کے قابل تو رسول کی اطاعت سے ہو گے جس پر ٹولیاں بنا کر حملہ آور ہو رہے ہو۔ دوسری کفار کے اس طمع کا ردّ کہ وہ جنت میں جائیں گے، گویا بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے تمھیں بھی اسی چیز سے پیدا کیا جس سے دوسروں کو پیدا کیا ہے، جب سب کی پیدائش ایک جیسی ہے تو تم عمل کے بغیر جنت میں داخل ہونے کے امیدوار کیسے بن گئے؟ تیسری بات دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل پیش کرنا ہے کہ جب ہم نے اس حقیر پانی سے تمھیں بنا لیا تو دوبارہ بنانا کون سا مشکل کام ہے؟ جیسے فرمایا: «اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى» [ القیامۃ: ۳۷ ] ”کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
37۔ 1 یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔
کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں داخل کیا جائے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان میں سے ہر ایک یہ طمع و لالچ رکھتا ہے کہ اسے آرام و آسائش والے بہشت میں داخل کر دیا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا ان میں سے ہر آدمی طمع رکھتا ہے کہ اسے نعمت والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! ہم نے انہیں اس چیز (مادہ) سے پیدا کیا ہے جسے وہ خود جانتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں! یقیناً ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
39۔ 1 ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے کہ ضرور ہم قادر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی ہم پوری قدرت رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی! کہ بےشک ہم یقیناً قدرت رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 41،40){ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ …:} سورج مشرق سے ہر روز نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ وہ جگہیں بھی ہر شہر اور ہر جگہ کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہیں، اس لحاظ سے مشرقوں اور مغربوں کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ قسم سے پہلے {”لَا“} کہہ کر منکرین کے قول کی نفی کی گئی ہے، پھر مشارق و مغارب کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ انھیں ختم کرکے ان سے بہتر لوگ کو لے آئیں اور ہم کچھ عاجز نہیں ہیں۔ قسم کی مناسبت یہ ہے کہ ہم مشارق و مغارب کے رب ہیں، آسمان و زمین اورسورج وغیرہ سب ہمارے قبضے میں ہیں، کوئی شخص ہمیں عاجز کرکے ہماری گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ ہم جب چاہیں انھیں ہلاک کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لا سکتے ہیں، مگر ہم نے اپنی حکمت کی وجہ سے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ اس قسم اور جوابِ قسم سے ایک اور بات بھی نکل رہی ہے کہ جب ہم ان سے بہتر ایک بالکل نئی مخلوق پیدا کر سکتے ہیں تو انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے؟
کہ اِن کی جگہ اِن سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ ان سے اچھے بدل دیں اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں جاسکتا
علامہ محمد حسین نجفی
اس بات پر کہ ہم ان لوگوں کے بدلے ان سے بہتر لے آئیں اور ہم (ایسا کرنے سے) عاجز نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔ جیسے اور جگہ «فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ۱؎ [74-المدثر:51-49] ، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ ”وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ ”وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: ”میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ [77-المرسلات:20] ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ [86-الطارق:10-5] ، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟ جیسے اور جگہ ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81] ، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔ یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:4،3] ، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:61،60] ، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔ پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
41۔ 1 یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کردینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
لہٰذا اِنہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن تک پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگیوں میں پڑے اور کھیلتے ہوئے یہاں تک کہ اپنے اس دن سے ملیں جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو آپ(ص) انہیں چھوڑئیے کہ وہ بےہودہ باتوں اور کھیل کود میں مشغول رہیں یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھیں چھوڑ دے کہ وہ بے ہودہ باتوں میں لگے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا پہنچیں جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا میں ڈھیل ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم، تھان اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں، مارے شرم و ندامت کے نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی اور چہروں پر پھٹکار برس رہی ہو گی، یہ ہے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے سرکشی کرنے کا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے کو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کی اور شریعت اور کلام الٰہی کی حقارت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیامت کیوں قائم نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ المعارج کی تفسیر ختم ہوئی۔
42۔ 1 یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بددل نہ کر دے۔
(آیت 42) {فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَ يَلْعَبُوْا …:} مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ اس کے بعد {” يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ “} اس سے بدل ہے۔ دنیا کے کھیل کود کی مہلت موت تک ہے اور موت قیامت کا دروازہ ہے۔
جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اِس طرح دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے گویا وہ نشانیوں کی طرف لپک رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن وہ قبروں سے اس طرح جلدی جلدی نکلیں گے گویا (اپنے بتوں کے) استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ قبروں سے تیز دوڑتے ہوئے نکلیں گے، جیسے وہ کسی گاڑے ہوئے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا میں ڈھیل ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم، تھان اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں، مارے شرم و ندامت کے نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی اور چہروں پر پھٹکار برس رہی ہو گی، یہ ہے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے سرکشی کرنے کا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے کو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کی اور شریعت اور کلام الٰہی کی حقارت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیامت کیوں قائم نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ المعارج کی تفسیر ختم ہوئی۔
43۔ 1 جدث کے معنی ہیں قبر۔ جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔
(آیت 44،43) {يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ …: ” الْاَجْدَاثِ “ ”جَدَثٌ“} (جیم اور دال کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، قبریں۔ {” سِرَاعًا “ ”سَرِيْعٌ “} کی جمع ہے، دوڑنے والے۔ قیامت کے دن قبروں سے اتنی تیزی سے نکل کر دوڑیں گے جس طرح وہ لوگ تیزی سے دوڑتے ہیں جو نشانہ بازی کے وقت ایک نشان گاڑ لیتے ہیں، پھر تیر چلا کر تیزی سے دوڑتے ہیں، تاکہ جا کر دیکھیں کہ نشانہ درست لگا ہے یا نہیں۔ {” نُصُبٍ “} ان پتھروں کو بھی کہتے ہیں جو عبادت کے لیے نصب کیے جاتے ہیں۔ مشرکین دنیا میں بتوں اور آستانوں کی طرف تیزی سے جایا کرتے تھے۔ قیامت کے دن ایسے ہی قبروں سے نکل کر حشر کے میدان کی طرف تیزی سے دوڑتے ہوئے جائیں گے۔
اِن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی وہ دن ہے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذلت و رسوائی چھائی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جاتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا میں ڈھیل ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم، تھان اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں، مارے شرم و ندامت کے نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی اور چہروں پر پھٹکار برس رہی ہو گی، یہ ہے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے سرکشی کرنے کا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے کو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کی اور شریعت اور کلام الٰہی کی حقارت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیامت کیوں قائم نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ المعارج کی تفسیر ختم ہوئی۔
44۔ 1 جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ 44۔ 3 یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔