بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الليل
سورۃ الليل — 21 آیات
قرآن کریم Surah 92
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے اس رات کی جب چھا جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور رات کی قسم جب چھائے
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
قسم ہے رات کی جب چھا جائے، (1)
{سورة اليل} (آیت 1تا3) {وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى:} یعنی ان چیزوں کی قسم جو اس نے پیدا کیں، نر ہیں یا مادہ!{” الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤى “ ” مَا خَلَقَ “} سے بدل ہے۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا! تیسرا ترجمہ ہے، نر اور مادہ کو پیدا کرنے کی قسم!
وَ النَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور دن کی جب چمکے
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور دن کی جب وہ روشن ہو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
2۔ 1۔ یعنی رات کا اندھیرا ختم ہوجائے اور دن کو اجالا پھیل جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰۤی ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی جس نے نر و مادہ بنائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس ذات کی قَسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی جو اس نے پیدا کیا نر اور مادہ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
3۔ 1 یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد و عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً تمہاری کوششیں مختلف قِسم کی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تمھاری کوشش یقینا مختلف ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
4۔ 1 یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔
(آیت 4){ اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى:} یعنی جس طرح رات دن اور نر و مادہ مخلوقات میں باہمی اختلاف اور تضادہے اسی طرح تمھاری کوششوں اور تمھارے اعمال میں بھی اختلاف ہے، پھر ان کا نتیجہ اور جزا و سزا بھی الگ الگ ہے۔
فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی
علامہ محمد حسین نجفی
تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔
عبدالسلام بن محمد
پس لیکن وہ جس نے دیا اور ( نافرمانی سے) بچا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
5۔ 1 یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
(آیت 5تا7){ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى …: ”اَلْحُسْنٰي“ ”أَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۳ ] ”اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماں برداروں سے ہوں؟“ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہو جاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لیے نیکی اور جنت کے راستے پر چلنا آسان کر دیں گے، یعنی اس کے لیے نیکی کرنا آسان ہو جائے گا اور گناہ کرنا مشکل۔
وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بھلائی کو سچ مانا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور سب سے اچھی کو سچ مانا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اچھی بات (اسلام) کی تصدیق کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے سب سے اچھی بات کو سچ مانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
6۔ 1 یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقوی اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡیُسۡرٰی ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو یقینا ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
7۔ 2 یعنی ہم بھی اس کو اس سے نیکی اور اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کردیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ (فتح القدیر)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس نے بُخل کیا اور (خدا سے) بےپرواہی کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن وہ جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
8۔ 1 یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بےپرواہی کرے گا۔
(آیت 8تا10){ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰى …:} یعنی جس میں شر کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ بخل کرتا ہے، اخروی انجام اور حلال و حرام کی پروا ہی نہیں کرتا اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے اور اس کی نازل کردہ باتوں کو جھٹلاتا ہے، تو ہم بھی اسے اس کی خواہش کے مطابق اس راستے پر چلنے دیتے ہیں جو مشکلات و مصائب کا راستہ ہے اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے، یعنی اس کے لیے نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
وَ کَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بھلائی کو جھٹلایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نیک بات کی تکذیب کی
احمد رضا خان بریلوی
اور سب سے اچھی کو جھٹلایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اچھی بات کو جھٹلایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے سب سے اچھی بات کو جھٹلا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
9۔ 1 یا آخرت کی جزاء وسزا اور حساب و کتاب کا انکار کرے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡعُسۡرٰی ﴿ؕ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہم اسے سخت راستے کی سہولت دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو یقینا ہم اسے مشکل راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
10۔ 1 تنگی سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کردیں گے، جس سے اس کے لیے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہوجائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر و توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُ مَا لُہٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ (ہلاکت کے) گڑھے میں گرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا جب وہ ( گڑھے میں) گرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4944] ‏‏‏‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [78-النبأ:8] ‏‏‏‏ ’ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ‘ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں ‘۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ’ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ جس نے دیا ‘ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏‏‏‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ’ ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے ‘ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے ‘۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ’ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ‘۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں { سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ }۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

{ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ [صحیح بخاری:4945] ‏‏‏‏

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏‏‏‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏‏‏‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔
11۔ 1 یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
(آیت 11) {وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰى:} جب جہنم میں گرے گا تو وہ مال جو اس نے بخل کرکے جمع کیا تھا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔
اِنَّ عَلَیۡنَا لَلۡہُدٰی ﴿۫ۖ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہمارے ہی ذمے یقینا راستہ بتانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
12۔ 1 یعنی حلال اور حرام، خیر و شر، ہدایت و ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کردیا)
(آیت 12){ اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى:} دوسری جگہ فرمایا: «قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۲۰ ] ”کہہ دے اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔“ یعنی جو راستے لوگوں نے اپنی مرضی سے یا آبا و اجداد کو دیکھ کر یا غیر قوموں کی نقل کرتے ہوئے اختیار کیے ہیں وہ چونکہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں، اس لیے کتنے بھی خوش نما ہوں ہدایت نہیں، ضلالت ہیں۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو خود اس کی طرف سے آئی ہو اور وہ صرف قرآن مجید ہے یا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
وَ اِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَۃَ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہمیں مالک ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک آخرت اور دنیا ہمارے ہی قبضہ میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں یقینا آخرت اور دنیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
13۔ 1 یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
(آیت 13){ وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى:} راستہ بتانا صرف ہمارے ذمے کیوں ہے؟ اس لیے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے بنانے والے اور ان کے مالک ہمیں ہیں، تو ان کا راستہ بھی ہم ہی جانتے ہیں۔
فَاَنۡذَرۡتُکُمۡ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس میں نے تم کو خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے
مولانا محمد جوناگڑھی
میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس میں نے تمھیں ایک ایسی آگ سے ڈرا دیا ہے جو شعلے مارتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14){ فَاَنْذَرْتُكُمْ۠ نَارًا تَلَظّٰى:” تَلَظّٰى “} اصل میں{”تَتَلَظّٰي“} ہے جو {” لَظّٰي“} سے باب تفعّل کا مضارع ہے، شعلے مارتی ہے۔ میرا کام راستہ بتانا ہے، وہ میں نے بتا دیا اور نہ ماننے والوں کو زبردست شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا، اب ماننا یا نہ ماننا تمھارا کام ہے، سب کو زبردستی مسلمان بنا دینا میری حکمت کے خلاف ہے۔
لَا یَصۡلٰىہَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَی ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت،
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں وہ داخل ہوگا(اور جلے گا) جو بڑا بدبخت ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جس میں اس بڑے بدبخت کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16،15){ لَا يَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَى …:} اسی آیت سے مُرجیہ (ایک باطل فرقہ جس کے نزدیک ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام ہے) نے استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے، کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان صریح آیات و احادیث کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصہ کے لیے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت یا محض اللہ کی رحمت سے نکال لیے جائیں گے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۱۶ ] ”بے شک اللہ یہ بات معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔“ اب اگر وہ شخص جو شرک نہیں کرتا بلکہ مسلمان ہے، وہ جہنم میں جائے گا ہی نہیں تو {” وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ “} (اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا) بالکل بے معنی کلام بن جائے گا، پھر تو یوں کہنا چاہیے کہ اس کے علاوہ وہ سب کچھ معاف کر دے گا، {” لِمَنْ يَّشَآءُ “} (جسے چاہے گا) کی شرط کی ضرورت ہی نہیں۔ صحیح بخاری میں مذکور احادیثِ شفاعت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ جہنم میں صرف بڑے بدبخت داخل ہوں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں جہنم دراصل انھی کے لیے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا داخل ہوں گے اور ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔
الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا
احمد رضا خان بریلوی
جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے جھٹلایا اور رُوگردانی کی۔
عبدالسلام بن محمد
جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ سَیُجَنَّبُہَا الۡاَتۡقَی ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس سے دور رکھا جائیگا وہ نہایت پرہیزگار
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا
احمد رضا خان بریلوی
اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے زیادہ پرہیزگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو بڑا پرہیزگار ہوگا وہ اس سے دور رکھا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
17۔ 1 یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔
(آیت 18،17) {وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى …:} جہنم سے وہی شخص دور رہے گا جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ وہ خود بھی پاک ہو جائے اور اس کا مال بھی۔
الَّذِیۡ یُؤۡتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جو پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو اپنامال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
18۔ 1 یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہوجائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعۡمَۃٍ تُجۡزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ اس کے ہاں کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20،19) {وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى …:} وہ مال اس لیے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کے احسان کا بدلا اتارنا چاہتا ہے، بلکہ خرچ کرنے سے اس کی نیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی رضا اور جنت میں اس کا دیدار نصیب ہو جائے۔
اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ وہ تو صرف اپنے بالا و برتر پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر ( وہ تو صرف) اپنے اس رب کا چہرہ طلب کرنے کے لیے (د یتا ہے)جو سب سے بلند ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
20۔ 1 بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَسَوۡفَ یَرۡضٰی ﴿٪۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور عنقریب وہ اس سے ضرور خوش ہوجائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا عنقریب وہ راضی ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ’ حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے ‘، یہ بھی معنی ہیں کہ ’ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا ‘۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ‏‏‏‏ ’ آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے ‘۔ ’ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی }۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ }۔ [صحیح بخاری:6561] ‏‏‏‏

مسلم شریف کی حدیث میں ہے { ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا }۔ [صحیح مسلم:213] ‏‏‏‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ { جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ }۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا }۔ [صحیح بخاری:7280] ‏‏‏‏ اور فرمایا ’ جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا ‘۔

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ’ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏‏‏‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔
21۔ 1 یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا۔ جس سے وہ راضی ہوجائے گا، اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی و مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔
(آیت 21){ وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى:} یعنی جنت کی بے بہا نعمتیں اور بلند مراتب پا کر ضرور خوش ہوگا۔ اکثر مفسرین نے صحیح احادیث و آثار کی رو سے کہا ہے کہ اس سورت میں خرچ کرنے والے سے مراد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں کہ وہ کمزور مسلمان غلاموں کو کفار کے مظالم سے بچانے کے لیے خرید کر آزاد کر دیتے اور نیکی کا ہر کام خوشی خوشی محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے۔ یقینا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیات کا اوّلین مصداق ہیں مگر الفاظ عام ہیں، اس لیے ان میں ہر وہ مسلمان داخل ہے جو ان صفات کا حامل ہے۔