بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجن — Surah Jinn
آیت نمبر 28
کل آیات: 28
قرآن کریم الجن آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الجن islamicurdubooks.com ↗
لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور وہ اُن کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے"
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے
تا کہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے
تاکہ وہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور وہ ان کے حالات کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس نے ہر چیز کو گن رکھا ہے۔
تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کااحاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہو گی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے ‘۔ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بے اصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے، اعرابی کی صورت میں جبرائیل علیہ السلام نے بھی آ کر جب قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا تھا کہ اس کا علم نہ پوچھنے والے کو ہے نہ اسے جس سے پوچھا جا رہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک دیہات کے رہنے والے نے باآواز بلند آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آئے گی ضرور مگر یہ بتا کہ تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس روزے نماز کی کثرت تو نہیں البتہ اللہ اور رسول کی محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس کے ساتھ ہو گا جس کی تجھے محبت ہے“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان کسی حدیث سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے } ۱؎ [صحیح بخاری:6167] ‏‏‏‏ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت کا ٹھیک وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اگر تم میں علم ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کیا کرو اللہ کی قسم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ایک وقت آنے والی ہے“ } ۱؎ [ابن ابی الدنیا فی قصر الامل ص:28-29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مقررہ وقت نہیں بتاتے، ابوداؤد میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ اس امت کو کیا عجب کہ آدھے دن تک کی مہلت دیدے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4349،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ سعد سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے فرمایا: پانچ سو سال۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

اللہ ہی عالم الغیب ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے ’ اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر مرسلین میں سے جسے چن لے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہٰ نہیں کر سکتے مگر جو اللہ چاہے ‘۔ یعنی رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے اللہ جتنا چاہتا ہے بتا دیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تخصیص یہ ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت اور ساتھ ہی اس علم کی اشاعت کے لیے جو اللہ نے اسے دیا ہے اس کے آس پاس ہر وقت نگہبان فرشتے مقرر رہتے ہیں۔ «لِّيَعْلَمَ» کی ضمیر بعض نے تو کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے یعنی جبرائیل علیہ السلام کے آگے پیچھے چار چار فرشتے ہوتے تھے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین آ جائے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام صحیح طور پر مجھے پہنچایا ہے اور بعض کہتے ہیں مرجع ضمیر کا اہل شرک ہے یعنی باری باری آنے والے فرشتے نبی اللہ کی حفاظت بھی کرتے ہیں شیطان سے اور اس کی ذریات سے تاکہ اہل شرک جان لیں کہ رسولوں نے رسالت اللہ ادا کر دی، یعنی رسولوں کو جھٹلانے والے بھی رسولوں کی رسالت کو جان لیں مگر اس میں کچھ اختلاف ہے۔ امام یعقوب کی قرأت پیش کے ساتھ ہے یعنی لوگ جان لیں کہ رسولوں نے تبلیغ کر دی اور ممکن ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ جان لے یعنی وہ اپنے رسولوں کی اپنے فرشتے بھیج کر حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ رسالت ادا کر سکیں اور وحی الٰہی محفوظ رکھ سکیں اور اللہ جان لے کہ انہوں نے رسالت ادا کر دی۔ جیسے فرمایا «وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ» ۱؎ [2-البقرہ:143] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس قبیلے پر تو تھا اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم رسول کے سچے تابعداروں اور مرتدوں کو جان لیں ‘۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [29-العنكبوت:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور منافقوں کو برابر جان لے گا ‘ اور بھی اس قسم کی آیتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے لیکن اسے ظاہر کر کے بھی جان لیتا ہے، اسی لیے یہاں اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ ہر چیز اور سب کی گنتی اللہ کے علم کے احاطہٰ میں ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الجن کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 لیعلم۔ میں ضمیر کا مرجع کون ہے؟ بعض کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاکہ آپ جان لیں کہ آپ سے پہلے رسولوں نے بھی اللہ کا پیغام اسی طرح پہنچایا جس طرح آپ نے پہنچایا۔ بعض نے فرشتوں کو بنایا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام نبیوں تک پہنچایا۔ اور بعض نے اللہ کو مرجع بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی فرشتوں کے ذریعے حفاظت فرماتا ہے۔ 28۔ 2 فرشتوں کے پاس کی یا پیغمبروں کے پاس کی۔ 28۔ 3 کیونکہ وہی عالم الغیب ہے، جو ہوچکا اور آئندہ ہوگا، سب کا اس نے شمار کر رکھا ہے۔ یعنی اسکے علم میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ {لِيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا …:} اس سارے انتظام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر اس چھوٹی اور بڑی چیز کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔ رسولوں کی مجال نہیں(خواہ وہ فرشتے ہوں جیسے جبریل علیہ السلام یا انسان ہوں جیسے تمام رسول علیھم السلام) کہ اللہ کے پیغامات میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی کر سکیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی ہر چیز کا علم رکھتا ہے، پھر{” لِيَعْلَمَ “} (تاکہ وہ جان لے) فرمانے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک وہ پہلے ہی سب کچھ جانتا ہے کہ اس طرح ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سب انتظام اس لیے کیا ہے تاکہ رسول اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیں اور اللہ تعالیٰ جان لے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں۔ ➋ بعض لوگ ان آیات سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول بھی عالم الغیب ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں غیب پر مطلع کرتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے اور انبیاء کا علم غیب عطائی یعنی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے: «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» [ النمل: ۶۵ ] ”کہہ دیجیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ کے علاوہ غیب نہیں جانتا۔“ یعنی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر وہ کسی رسول کو کوئی بات بتا دے تو اس سے وہ عالم الغیب نہیں بن جاتا، کیونکہ ایک تو رسولوں کو صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے جتنی بتائی جاتی ہے، وہ ہر بات نہیں جانتے اور یہ عالم الغیب کی شان کے خلاف ہے کہ اسے کچھ خبریں معلوم ہوں اور کچھ معلوم نہ ہوں۔ دوسرے جب کسی کو غیب کی کوئی بات بتانے سے معلوم ہو تو وہ عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ ہم سب عالم الغیب ہو جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی جو باتیں بتائیں وہ لوگوں کو پہنچانے کے لیے بتائیں، قیامت، جنت، دوزخ اور حوض کوثر وغیرہ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے ہمیں معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہیں؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، سو حق یہی ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے، دوسرا کوئی عالم الغیب نہیں، نہ ذاتی نہ عطائی۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت →