بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجن — Surah Jinn
آیت نمبر 24
کل آیات: 28
قرآن کریم الجن آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الجن islamicurdubooks.com ↗
حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے
یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس ک مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم
(یہ لوگ اپنی کجروی سے باز نہیں آئیں گے) یہاں تک کہ جب وہ وہ چیز (عذاب) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مددگار اور تعداد کی حیثیت سے کون زیادہ کمزور ہے۔
(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کاان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مدد گار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں ‘۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد الاقصیٰ تھی اور مسجد الحرام۔ اعمش رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان بھی کی ہے کہ جنات نے حضور علیہ السلام سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری: 35128:مرسل] ‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لیے سجدہ کرنا حرام ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے { سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کر لیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پانچے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:812] ‏‏‏‏ آیت «‏‏‏‏لَمَّا قَامَ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہو چکا ہے۔

میں تو کسی کے نفع نقصان کا مالک نہیں ٭٭

یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد ہے کہ ’ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا ‘، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس ہو چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر سب متحد ہو گئے اس وقت ان سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے «‏‏‏‏وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ» کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں، تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں، میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار و مالک میں نہیں، سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں، میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقیناً اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے۔ بعض تو کہتے ہیں «الا» کا استثنا «لَا أَمْلِكُ» سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ «لَن يُجِيرَنِي» سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:67] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمانوں کے لیے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں ‘۔ جب یہ مشرکین جن و انس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہو جائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بے وقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہو گا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہو گی۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 24۔ 2 یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) {حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی کفار اپنی تعداد کی کثرت اور اپنے مددگاروں کی قوت پر فخر اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور کمزوری پر طعن کرتے ہیں تو کرتے رہیں، یہ سب کچھ تھوڑے وقت کے لیے ہے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت انھیں معلوم ہو گا کہ مدد گاروں کے لحاظ سے کمزور اور تعداد میں کم کون ہے؟ وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد اسلام کا غلبہ اور کفار کی شکست بھی ہے، جیسا کہ بدر، خندق، فتح مکہ اور حنین میں انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، کفار پر خوف اور قحط کا مسلط ہونا بھی ہے اور مرتے وقت فرشتوں کا ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارنا بھی، قبر کا عذاب بھی ہے، قیامت کی ہولناکی اور جہنم کی آگ بھی۔ درجہ بدرجہ یہ سب کچھ دیکھتے جانے کے ساتھ ہی ان پر اپنی تعداد کی کثرت اور حمایتیوں کی قوت کی حقیقت کھلتی جائے گی۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →