بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 9
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾
ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے ایسے سب لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے
وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہے
اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے ان کے لیے خواری کا عذاب،
اور جب اس کو ہماری آیات میں سے کسی کا علم ہوتا ہے تو وہ ان کو مذاق بنا لیتا ہے ایسے لوگوں کیلئے رسوا کُن عذاب ہے۔
اور جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی چیز معلوم کر لیتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں، تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے؟ ان کے لیے «ویل» ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے، کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں، اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر، انکار اور بدباطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں، انہیں سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے، قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ { قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2990] ‏‏‏‏ پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔ پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

9۔ 1 یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے مذاق کا موضوع بنا لیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفر و معصیت پر اصرار و استکبار کی وجہ سے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ {وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْـًٔا اتَّخَذَهَا هُزُوًا:اتَّخَذَهَا “} میں ضمیر {” هَا “ ” شَيْـًٔا “ } کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، کیونکہ{ ” اٰيٰتِنَا “} کا لفظ اگرچہ مذکر ہے مگر اس سے مراد کوئی {”آيَةٌ“} (آیت) ہے، اس لیے ضمیر مؤنث {” هَا “} استعمال فرمائی ہے اور {” اٰيٰتِنَا “} کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کر لیتا ہے (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا یا جس کا مطلب الٹا نکال لیتا ہے) تو اسے مذاق بنا لیتا ہے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کر لیتا ہے تو صرف اس کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہماری تمام آیات کو مذاق بنا لیتا ہے۔ مثلاً جب اس کے ہاتھ قرآن مجید کی کوئی ایسی بات آتی ہے جس کا مطلب توڑ مروڑ کر اس کا مذاق اڑا سکتا ہے تو تمام آیات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کی سبھی آیات ایسی ہیں۔ یہ اس کے بدترین ”افاك“ و ”اثيم“ ہونے کا بیان ہے کہ آیاتِ الٰہی سن کر وہ کفر پر اصرار ہی نہیں کرتا بلکہ ناحق ان کا مذاق بھی اڑاتا ہے اور اتنا کہ انھیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ:} آیاتِ الٰہی کی اہانت کے بدلے میں ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اس آیت میں آیات سے استہزا اور ان کی توہین کی مناسبت سے ان کے لیے عذابِ مہین کی خبر دی۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →