بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 7
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 7
آیت نمبر: 7 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾
تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بد اعمال شخص کے لیے
ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر
خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے
ہلاکت ہے ہر اس بڑے جھوٹے (اور) بڑے گنہگار کے لئے۔
بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں، تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے؟ ان کے لیے «ویل» ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے، کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں، اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر، انکار اور بدباطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں، انہیں سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے، قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ { قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2990] ‏‏‏‏ پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔ پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

7۔ 1 بہت گنہگار، وَیْل بمعنی ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی کا نام۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 7) ➊ { وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ:} آیات سن کر ان کا اثر قبول کرنے کے لحاظ سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو ایمان و یقین اور عقل سے بہرہ ور ہوتے ہیں، اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو تکبر کی وجہ سے اللہ کی آیات کے انکار پر اصرار کرنے والے ہیں۔ ➋ {” وَيْلٌ “} کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۹) {”إِفْكٌ“} بدترین جھوٹ، بہتان۔ {” اَفَّاكٍ “} مبالغے کا صیغہ ہے، سخت جھوٹا۔ {” اَثِيْمٍ “} سخت گناہ گار۔ یعنی ہر ایسے انسان کے لیے بہت بڑی ہلاکت اور بربادی ہے جو قول میں سخت جھوٹا اور فعل میں سخت گناہ گار ہے۔
← پچھلی آیت (6) پوری سورۃ اگلی آیت (8) →