بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 5
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں، اور اُس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جِلا اٹھاتا ہے، اور ہواؤں کی گردش میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے، (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں
اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،
اور رات اور دن کی آمد ورفت میں اس (ذریعہ) رزق (بارش) میں جو اللہ نے آسمانوں سے نازل کیا اور اس سے زمین کو زندہ کر دیا اس کی موت کے بعد اور ہواؤں کی گردش میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں، پھر ان کا شکر بجا لائیں، دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے، جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے، فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بےشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے، رات کا اندھیرا، دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے، رزق سے مراد بارش ہے، اس لیے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہو جاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا تر و خشک، کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی والا کر دیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لیے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، پھر یقین والوں کے لیے فرمایا، پھر عقل والوں کے لیے فرمایا، یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورۃ البقرہ کی آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:164] ‏‏‏‏ ہے۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات کا مالک وہی ایک ہے، ان میں کوئی شریک نہیں سارا اور ہر قسم کا تصرف وہی کرتا ہے کسی اور کے پاس ادنیٰ سا تصرف کرنے کا بھی اختیار نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ { وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ:} اس میں دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کا آنا بھی شامل ہے، رات کا دن سے لمبا ہونا اور دن کا رات سے لمبا ہونا بھی اور سارا سال ہر روز طلوع و غروب کی جگہوں کا مختلف ہونا بھی۔ ➋ {وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ …:} یہاں آسمان سے نازل کی جانے والی چیز کے لیے {” مَاءٌ “} (پانی) کے بجائے {” رِزْقٍ “} کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ آسمان سے بارش کے علاوہ بھی بہت کچھ اترتا ہے جس سے تمام جانداروں کے رزق کا اہتمام ہوتا ہے۔ مثلاً سورج اور چاند کی کرنیں اور روشنی، ہوائیں اور بہت سی چیزیں جو نظر نہیں آتیں مگر موجود ہیں اور اوپر کی جانب سے نازل ہوتی ہیں۔ ➌ { وَ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ:} ہواؤں کی تقسیم بھی کئی طرح کی ہے، مثلاً مشرقی، مغربی، جنوبی یاشمالی یا ان کے درمیان کی ہوائیں، ٹھنڈی یا گرم یا معتدل ہوائیں، بار آور یا عقیم ہوائیں اور فائدہ پہنچانے والی یا نقصان پہنچانے والی ہوائیں وغیرہ۔ یاد رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی جن نشانیوں کا ذکر ہوا ہے سورۂ بقرہ (۱۶۴) میں یہی نشانیاں زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ ➍ { اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} مفسر قالی نے فرمایا: ”منصف لوگ جب آسمان و زمین کو دیکھیں گے تو ایمان لے آئیں گے کہ یقینا انھیں ایک بنانے والا ہے، اس لیے وہاں فرمایا: «‏‏‏‏لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۳ ] ”ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔“ پھر جب اپنی پیدائش اور دوسرے جانداروں میں غور کریں گے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو گا اور وہ یقین کر لیں گے، اس لیے وہاں فرمایا: «‏‏‏‏اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۴ ] ”ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔“ پھر دوسری تمام مخلوقات پر غور و فکر کریں گے تو بہت اچھی طرح سمجھ جائیں گے، اس لیے یہاں فرمایا: «‏‏‏‏اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ ”ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ (نظم الدرر)
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →