بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 36
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 36
آیت نمبر: 36 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾
پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے
پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے
تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب،
ہر قِسم کی تعریف اللہ کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بلکہ سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
پس اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اب ان کی بداعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آ گئی، اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے، جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے، ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لیے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لیے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کر سکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے؟، کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے؟، کیا میں نے تیرے لیے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے؟‘ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے، بے شک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اس لئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بے فکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑ گئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی، یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضا مندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بے حساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی۔ اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہو گیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے، اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے، وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے، ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے۔

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے، عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے، جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دوں گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2620] ‏‏‏‏ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ «عزیز» ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا، کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کر سکے، اس کے سامنے پڑ سکے، وہ «حکیم» ہے، اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورۃ الجاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 36) ➊ {فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ …: } یہ ان تمام باتوں کا خلاصہ اور نتیجہ ہے جو اس سے پہلے سورت میں بیان ہوئی ہیں۔ جن میں اس اکیلے کا کائنات کو پیدا کرنا، اسے مسخر کرنا، اسے نہایت اعلیٰ انتظام اور عدل کے ساتھ چلانا، مسلمانوں کو دنیا اور آخرت میں اپنے انعامات سے نوازنا، کفار کے آیاتِ الٰہی سے اعراض کی مذمت، نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ ان کے کفر و شرک کی تردید اور آخرت میں انھیں ان کے نہایت برے انجام کی وعید سنانا سب کچھ شامل ہے۔ یہ آیات اور ان میں مذکور حقائق اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام خوبیوں اور صفاتِ کمال کا مالک ہے اور وہ اکیلا تمام نعمتیں عطا فرمانے والا ہے۔ اس بات کو بطور نتیجہ بیان فرمایا۔ {” فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ “} میں {” لِلّٰهِ“} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا اور ”فاء“ کے ساتھ پچھلی ساری سورت کے ساتھ کلام کا تعلق قائم ہو گیا کہ جب وہ سب کچھ ثابت ہوا جو پہلے مذکور ہے تو ثابت ہو گیا کہ تمام حمد صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اب {” فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ “} سے تین معنی مراد ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اس میں خبر دی جا رہی ہے کہ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے، دوسرا یہ کہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ ہی کی حمد کرو اور تیسرا یہ کہ اس میں حمد کی انشاء ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حمد فرما رہا ہے جس کا وہ یقینا حق دار ہے اور اکیلا حق دار ہے۔ پچھلے کلام کا خلاصہ اور نتیجہ ہونے میں اس آیت کی مثال یہ آیت بھی ہے: «‏‏‏‏فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ الأنعام: ۴۵ ] ”تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔“ (ابن عاشور) ➋ {رَبِّ السَّمٰوٰتِ …:} يہاں {”رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“} بھی کہا جا سکتا تھا، مگر حمد کا مستحق ہونے میں رب ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اسے تین دفعہ دہرایا: «‏‏‏‏رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت ہماری حمد کا مستحق ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے، کیونکہ ہمارا وجود، ہماری بقا، ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور دنیا اور آخرت میں ہمیں ملنے والی ہر نعمت اسی کا نتیجہ ہے، یہ نہ ہو تو ہمارا وجود تک نہ ہو۔ اس لیے قرآن مجید کی سب سے عظمت والی اور پہلی سورت کی ابتدا اسی کے ساتھ فرمائی: «‏‏‏‏اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الفاتحۃ: ۱ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ سورۂ صافات اور زیر تفسیر سورت کا خاتمہ اس کے ساتھ فرمایا اور جنتیوں کے متعلق بتایا: «‏‏‏‏دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ یونس:۱۰] ”ان کی دعا ان میں یہ ہو گی ”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
← پچھلی آیت (35) پوری سورۃ اگلی آیت (37) →