بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 32
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے"
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں
اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں،
اورجب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے؟ بس ایک گمان ہے جو ہم کرتے ہیں اور ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔
اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (‏‏‏‏جب کہا جاتا)‏‏‏‏‏‏‏‏ اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔

📖 احسن البیان

32۔ 1 یعنی قیامت کا وقوع، محض ظن وتخمین ہے، ہمیں تو یقین نہیں کہ یہ واقعی ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32) ➊ {وَ اِذَا قِيْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ …:} اللہ تعالیٰ کفار کے جرائم بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے اور انکار کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا: «‏‏‏‏وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الشعراء: ۲۳ ] ”اور رب العالمین کیا چیز ہے؟“ یہ جھٹلانے کا بدترین انداز ہے جس میں انکار کے ساتھ استہزا بھی شامل ہے۔ ➋ {اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا:} یہاں ایک سوال ہے کہ اس جملے کا لفظی معنی ہے ”ہم نہیں گمان کرتے مگر گمان کرنا “ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے {”إِنْ نَأْكُلُ إِلَّا أَكْلًا“} ”ہم نہیں کھاتے مگر کھانا۔“ ظاہر ہے اس سے کوئی مفید مطلب بات حاصل نہیں ہوتی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ {” ظَنًّا “} پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی ہم گمان نہیں کرتے مگر ہلکا اور معمولی سا گمان، یعنی پیغمبروں کے وعظ اور لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ہمیں اس کا معمولی سا گمان ہوتا ہے جس کی کچھ حیثیت نہیں۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ظن یقین کے معنی میں آیا ہے، مگر یہاں شک کے معنی میں ہے، کیونکہ وہ یقین کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ ➌ { وَ مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ:} ”باء“ یہاں نفی کی تاکید کے لیے ہے اور {” مُسْتَيْقِنِيْنَ “} میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہے، یعنی ہم پورا یقین کرنے والے ہر گز نہیں ہیں، کبھی معمولی سا گمان یا دھندلا سا خیال آ جائے تو وہ الگ بات ہے۔ ➍ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یومِ آخرت اور تقدیر میں سے کسی چیز میں شک ہو (گو انکار نہ بھی ہو) تو وہ کافر ہے۔ ایمان نام ہی یقین یعنی زوالِ شک کا ہے، کیونکہ انسان کو اللہ کے احکام کا پابند بنانے والی چیز ہے ہی یقین۔ آگے یقین کے درجات مختلف ہو سکتے ہیں اور ایمان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں والے واقعہ سے ظاہر ہے۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →