بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 26
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾
اے نبیؐ، اِن سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زنده کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے
تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے پھر تم کو مارے گا پھر تم سب کو اکٹھا کریگا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے
آپ(ص) کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ رکھتا ہے وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں۔
کہہ دے اللہ ہی تمھیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمھیں موت دیتا ہے، پھر تمھیں قیامت کے دن کی طرف(لے جا کر)جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

زمانے کو گالی مت دو ٭٭

دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔ فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے ‘۔ ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (‏‏‏‏یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے { دہر (‏‏‏‏زمانہ)‏‏‏‏‏‏‏‏ کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے { اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ’ وہ زمانے کو برا کہتے تھے ‘،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ’ مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے، میں زمانہ ہوں، دن رات میرے ہاتھ میں ہیں }۔ اور حدیث میں ہے { میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا، مجھے میرے بندے گالیاں دیں، وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:92/25:] ‏‏‏‏ امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔ پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کر دیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے ‘، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم27] ‏‏‏‏ ’ تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ ‘۔ بلکہ عقلًا ہدایت (‏‏‏‏واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔ پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔ «إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» ۱؎ [70-المعارج:6،7] ‏‏‏‏ ’ تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے ‘، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ { قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ:} یہ ان کی مزعومہ حجت کا جواب ہے کہ تم اپنے اختیار سے اتفاقاً پیدا نہیں ہو گئے، نہ تمھاری موت تمھارے اختیار سے یا اتفاقاً واقع ہوتی ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہے جو تمھیں زندگی بخشتا ہے اور تمھیں موت دیتا ہے۔ پھر جب چاہے گا دوبارہ زندہ کر دے گا، اس میں تمھارا کوئی اختیار یا عمل دخل نہیں ہو گا۔ ➋ {ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی تمھیں الگ الگ زندہ نہیں کرے گا کہ کچھ لوگوں کو ایک وقت زندہ کیا، دوسروں کو کسی اور وقت اور باقی کو کسی تیسرے وقت، بلکہ سب اگلے پچھلوں کو قیامت کے دن تک لے جا کر ایک ہی وقت میں جمع کر دے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۸)۔ ➌ { لَا رَيْبَ فِيْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی قیامت واقع ہونے میں تو کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ اس کا انکار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ جاہل ہیں۔ وہ حقیقت کو نہ جانتے ہیں نہ جاننا چاہتے ہیں اور اپنی خواہش کے خلاف نہ کسی کی بات سنتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [ الملک: ۱۰ ] ” اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →