بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 23
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراه کردیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پرده ڈال دیا ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے
بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا رکھاہے اوراللہ نے باوجود علم کے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دہ ڈال دیا ہے اللہ کے بعد کون ایسے شخص کو ہدایت کر سکتا ہے؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اصل دین چار چیزیں ہیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں ‘۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہو جائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلیٰ میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے، جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا۔‏‏‏‏“ پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا: ”یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال، حرام، حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں، اس کے حلال کو حلال، اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آ جانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہو سکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے }۔ ۱؎ [المجروحین:41/3:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:196/1] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ { سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی }۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو رب بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا، جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گزرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے، اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کر دیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آ گئی پھر اسے گمراہ کیا۔‏‏‏‏“ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے، نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے، ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں، اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں، بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟ جیسے فرمایا «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ‏‏‏‏ یعنی ’ جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں ‘۔

📖 احسن البیان

23۔ 1 یعنی بلوغ علم اور قیام حجت کے باوجود، وہ گمراہی ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے جیسے بہت سے پندار علم میں مبتلا گمراہ۔ 23۔ 2 چناچہ وہ حق کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ:} سلسلۂ کلام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ آخرت کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ آخرت کا عقیدہ ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے، اس لیے وہ آخرت کا انکار کر دیتے ہیں، پھر ان کے دل میں جو آتا ہے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جس طرح ایک مومن اپنے رب کو اپنا معبود مانتا ہے، اسی کے حکم پر چلتا ہے، اس کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے منکروں کا معبود ان کے نفس کی خواہش ہی ہوتا ہے، وہ جو چاہے ان کے لیے حلال اور جو نہ چاہے ان کے ہاں حرام ہوتا ہے۔ پھر جب وہ آخرت کی باز پرس سے بے فکر ہو جاتے ہیں تو ان کی گمراہی بڑھتی ہی جاتی ہے، نہ کوئی چیز انھیں برائی سے روکنے والی ہوتی ہے نہ نیکی پر مائل کرنے والی۔ ➋ تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں بھی {”هَوٰي“} (خواہشِ نفس) کا ذکر فرمایا ہے، مذمت ہی کے طور پر فرمایا ہے، مثلاً فرمایا: «‏‏‏‏وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۷۶ ] ”مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، تو اس کی مثال کتے کی مثال کی طرح ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا» [ الکہف: ۲۸ ] ”اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔“ اور فرمایا: «بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ الروم: ۲۹ ] ”بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۵۰ ] ”اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [صٓ: ۲۶ ] ”اور خواہش کی پیروی نہ کر، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى (40) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۴۰، ۴۱ ] ”اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔ تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔“ ➌ {” اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ “} کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۴۳) کی تفسیر۔ ➍ { وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ:} اس کی تفسیر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ازل سے اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ راہِ راست پر آنے والا نہیں بلکہ اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنانے والا اور آخرت کے انکار پر اصرار کرنے والا ہے، اس لیے اس نے اپنے علم کی بنا پر اسے گمراہی میں پھینک دیا۔ دوسری یہ کہ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور قیامت یقینا قائم ہونے والی ہے فسق و فجور کی آزادی کے لیے قیامت کے انکار پر اڑ گیا۔ (دیکھیے قیامہ: ۱ تا ۶) تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے گمراہی میں پھینک دیا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۱۵ ] ”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت خوب واضح ہو چکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔“ ➎ { وَ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷) کی تفسیر۔ ➏ { فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ:” أَيْ مِنْ بَعْدِ مَا أَضَلَّهُ اللّٰهُ “} یعنی جب اللہ تعالیٰ ہی نے اسے گمراہ کر دیا تو اب کون اسے ہدایت دے گا۔ ➐ { اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ:تَذَكَّرُوْنَ “} اصل میں {”تَتَذَكَّرُوْنَ“} ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف فرما دی ہے۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →