بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 2
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 2
آیت نمبر: 2 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے
یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے
کتاب کا اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں، پھر ان کا شکر بجا لائیں، دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے، جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے، فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بےشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے، رات کا اندھیرا، دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے، رزق سے مراد بارش ہے، اس لیے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہو جاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا تر و خشک، کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی والا کر دیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لیے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، پھر یقین والوں کے لیے فرمایا، پھر عقل والوں کے لیے فرمایا، یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورۃ البقرہ کی آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:164] ‏‏‏‏ ہے۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 2) {تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ:} اس آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف نہیں بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتدریج نازل کی گئی ہے، کیونکہ {” تَنْزِيْلُ “} کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنا بھی ہے۔ دوسری یہ کہ اسے نازل کرنے والی کوئی معمولی ہستی نہیں کہ چاہو تو اس کی بات مان لو، چاہو تو نہ مانو، بلکہ اسے نازل کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتا اور اگر کرتا ہے تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ کمال حکمت والا ہے، اس کے کسی کام میں غلطی نہیں نکالی جا سکتی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر اور سورۂ مومن کی ابتدا۔
← پچھلی آیت (1) پوری سورۃ اگلی آیت (3) →