بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 16
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾
اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اُن کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزه (اور نفیس) روزیاں دی تھیں اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،
اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حُکم اور نبوت عطا فرمائی اور ان کو پاکیزہ رزق عطا فرمایا اور ان کو دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت دی اور انھیں پاکیزہ چیزوںسے رزق دیا اور انھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل پر اللہ تعالٰی کے خصوصی انعامات کا تذکرہ ٭٭

بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں، رسول ان میں بھیجے، حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہو گئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا۔ اے نبی! تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا۔ اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا، ان کی چال نہ چلنا اسی لیے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ، مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ، بےعلموں کی ریس نہ کر، یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں، یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے، جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں، جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

📖 احسن البیان

16۔ 1 کتاب سے مراد تورات، حکم سے حکومت و بادشاہت یا فہم و قضا کی وہ صلاحیت ہے جو فضل خصوصیات اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لئے ضروری ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 16) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَ …:} پچھلی آیات {” اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ “} میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے تمام انسانوں پر فرمائی ہیں، تاکہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور کفر و شرک سے اجتناب کریں اور اس آیت میں ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے خصوصاً بنی اسرائیل پر کیں۔ {” الْكِتٰبَ “} سے مراد کوئی ایک کتاب نہیں بلکہ جنس کتاب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے صاحب کتاب انبیاء مبعوث فرمائے۔ تورات، انجیل اور زبور تو عام معروف ہیں، ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس نے انھیں کتنی کتابیں عطا فرمائیں۔ ➋ {وَ الْحُكْمَ:الْحُكْمَ “} کا معنی فیصلہ اور قوتِ فیصلہ ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو آزادی اور حکومت بخشی، جس میں وہ اپنے فیصلے خود کر سکتے تھے، کیونکہ اپنی حکومت کے بغیر اسلام پر پوری طرح عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے نجات اور آزادی ملنے پر بنی اسرائیل کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بادشاہ بنا دیا، کیونکہ آزاد قوم کا ہر فرد ہی بادشاہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [ المائدۃ: ۲۰ ] ”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمھیں بادشاہ بنا دیا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ بعد میں داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام اور دوسرے اسرائیلی حکمرانوں کی حکومتیں بھی انھیں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس {” الْحُكْمَ “} میں شامل ہیں۔ ➌ { وَ النُّبُوَّةَ:} بنی اسرائیل میں جتنے نبی مبعوث ہوئے کسی اور قوم میں اتنے زیادہ نبیوں کے آنے کا کہیں ذکر نہیں۔ ➍ { وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ:} ان طیبات میں صحرا کے اندر کھانے کے لیے من و سلویٰ، پینے کے لیے بارہ چشمے اور بادلوں کا سایہ بھی شامل ہے اور بعد میں شام و مصر کی زرخیز و بابرکت زمین کی حکومت اور وہاں سے حاصل ہونے والی بے شمار نعمتیں بھی شامل ہیں۔ ➎ { وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۷) اور سورۂ دخان (۳۲)۔
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →