بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
إبراهيم
سورۃ إبراهيم — 52 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 14
لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دے، بیشک اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگنے کی
احمد رضا خان بریلوی
اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہوگا کہ اللہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ ہر جان کو اس کا بدلہ دے جو اس نے کمایا۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جکڑے ہوئے مفسد انسان ٭٭

’ زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو ‘ اور آیت میں ہے «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ ’ جب کہ نفس کے جوڑے ملا دیے جائیں ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے ‘۔ سلیمان علیہ السلام کے جنات کی بابت بھی «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» [38-ص:38، 37] ‏‏‏‏ «أَصْفَادِ» کا لفظ ہے۔ «أَصْفَادِ» کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں «فَآبُوا بِالثِّيَابِ وَبِالسَّبَايَا وأُبْنَا بِالْمُلُوكِ مُصَفَّدِينَا» ، «مُصَفَّدِ» زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ «قَطِرَان» بھی ہے «قَطّرَانِ» بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”پگھلے ہوئے تانبے کو «قَطِرَانٍ» کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔‏‏‏‏“ «تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:104] ‏‏‏‏ ’ ان کے منہ بھی آگ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی، سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے، منہ بگڑ گئے ہوں گے ‘۔

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر، نسب میں طعنہ زنی، ستاروں سے بارش کی طلبی، میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:342/5:صحیح] ‏‏‏‏ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:934] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہو گا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہو گی }۔ [طبرانی کبیر:18/8-78:ضعیف] ‏‏‏‏ «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آ جائیں گی نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے گا ‘۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ کے ہو یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں ‘۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا ‘۔ یہی معنی حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے قول کے ہیں کہ ”حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔‏‏‏‏“ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت51) ➊ { لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ:} یعنی قیامت کے دن کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی کی جزا دے، نیکوں کو نیک اور بدوں کو بد جزا دے۔ ➋ {اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ:} اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ یوم حساب بہت جلد آنے والا ہے، فرمایا: «{ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ }» [ الأنبیاء: ۱ ] ”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آ گیا۔“ اور فرمایا: «{ اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠ }» ‏‏‏‏ [ النحل:۱ ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، آنکھ جھپکنے میں سب کچھ سامنے آ جائے گا، فرمایا: «{ وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا (13) اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا}» [ بنی إسرائیل: ۱۳، ۱۴ ] ”اور ہر انسان کو، ہم نے اسے اس کا نصیب اس کی گردن میں لازم کر دیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔ اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب کافی ہے۔“
ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے اطلاع نامہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے وه ہوشیار کر دیے جائیں اور بخوبی معلوم کرلیں کہ اللہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلمند لوگ سوچ سمجھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب انسانوں کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعہ سے ڈرایا جائے اور یہ کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ الٰہ بس ایک ہی ہے نیز یہ کہ عقل والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے ‘، یعنی کل انسان اور تمام جنات۔ جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ «الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ» الخ، ’ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے ‘ الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کر لیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و عبرت وعظ و پند حاصل کر لیں۔
52۔ 1 یہ اشارہ قرآن کی طرف ہے، یا پچھلی تفصیلات کی طرف جو (وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا) 14۔ ابراہیم:42) بیان کی گئی ہیں۔
(آیت52){ هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ …:} اس آیت میں قرآن مجید نازل کرنے کے چار مقصد بیان ہوئے ہیں: 1 اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ جائے۔ 2 اس کے ذریعے سے وہ آگاہ ہو جائیں اور ڈر جائیں۔ 3 لوگوں کو علم ہو جائے کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنی ہے۔ 4 عقلوں والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ رازی نے فرمایا، معلوم ہوا کہ انسان میںعقل ہی اصل ہے، یہ نہ ہو تو وہ کبھی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا۔