صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مسلمان سے جب اس کی قبر میں سوال ہوتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ ہیں یہی مراد اس آیت کی ہے } }۔ [صحیح بخاری:1369] مسند میں ہے [مسند احمد:287/4:صحیح] کہ { ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے قبرستان پہنچے ابھی تک قبر تیار نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر لکیریں نکال رہے تھے جو سر اٹھا کر دو تین مرتبہ فرمایا کہ { عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہو بندہ جب دنیا کی آخرت اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے نورانی چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے سورج جیسے ہیں ان کے ساتھ جنتی کفن اور جنتی خوشبو ہوتی ہے اس کے پاس جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے وہاں تک بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرھانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے پاک روح اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کی رضا مندی کی طرف چل وہ اس آسانی سے نکل آتی ہے جیسے کسی مشک سے پانی کا قطرہ ٹپ آیا ہو ایک آنکھ جھپکے کے برابر کی دیر ہی میں وہ فرشتے اسے ان کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے فوراً لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ خود اس روح میں سے بھی مشک سے بھی عمدہ خوشبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر ایسی عمدہ خوشبو نہ سونگھی گئی ہو۔ وہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا جو بہترین نام دنیا میں مشہور تھا۔ وہ بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازے کھلواتے ہیں آسمان کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور وہاں کے فرشتے اسے دوسرے آسمان تک اور دوسرے آسمان کے تیسرے آسمان تک }۔
{ اسی طرح ساتویں آسمان پر وہ پہنچتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے ’ میرے بندے کو کتاب علیین میں لکھ لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے اسی سے اسے پیدا کیا ہے اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا ‘۔ پس اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اللہ تعالیٰ۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اسلام۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ یہ کہتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے پوچھتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے میں نے کتاب اللہ پڑھی اس پر ایمان لایا اسے سچا مانا۔ اسی وقت آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے، کہ ’ میرا بندہ سچا ہے ‘۔ اس کے لیے جنتی فرش بچھا دو اور جنتی لباس پہنا دو اور جنت کی طرف کا دروازہ کھول دو پس جنت کی روح پرور خوشبودار ہواؤں کی لپٹیں اسے آنے لگتی ہیں اس کی قبر بقدر درازگی نظر کے وسیع کر دی جاتی ہے۔ اس کے پاس ایک شخص خوبصورت نورانی چہرے والا عمدہ کپڑوں والا اچھی خوشبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے۔ آپ خوش ہو جائیں اسی دن کا وعدہ آپ دئے جاتے تھے۔ یہ اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ آپ کے چہرے سے بھلائی ہی بھلائی نظر آتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے۔ کہ تیرا نیک عمل ہوں۔ اس وقت مسلمان آرزو کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت جلد قائم ہو جائے تو میں اپنے اہل و عیال اور ملک و مال کی طرف لوٹ جاؤں۔
{ اور کافر بندہ جب دنیا کی آخری ساعت اور آخرت کی اول ساعت میں ہوتا ہے اس کے پاس سیاہ چہرے کے آسمانی فرشتے آتے ہیں اور ان کے ساتھ جہنمی ٹاٹ ہوتا ہے جہاں تک نگاہ پہنچے وہاں تک وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آ کر اس کے سرہانے بیٹھ کر فرماتے ہیں اے خبیث روح اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر کی طرف چل۔ اس کی روح جسم میں چھپتی پھرتی ہے جسے بہت سختی کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ اسی وقت ایک آنکھ جھپکنے جتنی دیر میں اسے فرشتے ان کے ہاتھوں سے لے لیتے ہیں اور اس جہنمی بورے میں لپیٹ لیتے ہیں اس میں سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر اس سے زیادہ بدبو نہیں پائی گئی اب یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے؟ وہ اس کا بدترین نام جو دنیا میں تھا بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں لیکن کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:40] کی تلاوت فرمائی کہ ’ نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں نہ وہ جنت میں جا سکیں یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزر جائے ‘۔ اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ ’ اس کو کتاب سجین میں لکھ لو جو سب سے نیچے کی زمین میں ہے پس اس کو روح وہیں پھینک دی جاتی ہے ‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» ۱؎ [22-الج:31] ، کی تلاوت فرمائی یعنی ’ اللہ کے ساتھ جو شرک کرے گویا کہ وہ آسمان سے گر پڑا۔ یا تو اسے پرند اچک لے جائیں گے یا آندھی اسے کسی دور کے گڑھے میں پھینک مارے گی ‘۔ پھر اس کی روح اسی جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں جو اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہائے ہائے مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے اس کا بھی علم نہیں۔ پھر پوچھتے ہیں وہ کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے معلوم نہیں اسی وقت آسمان سے ایک منادی کی ندا آتی ہے کہ میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لیے جہنم کی آگ کا فرش کر دو اور دوزخ کی جانب کا دروازہ کھول دو وہیں سے اسے دوزخی ہوا اور دوزخ کا جھونکا پہنچتا رہتا ہے اور اس کی قبر اس پر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں }۔
{ بڑی بری اور ڈراؤنی صورت والا برے میلے کچیلے خراب کپڑوں والا بڑی بدبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اب غمناک ہو جاؤ۔ اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے برائی برستی ہے۔ وہ کہتا ہے میں تیرے بد اعمال کا مجسمہ ہوں تو یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت قائم نہ ہو }۔ [سنن ابوداود:4793، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے کہ { نیک بندے کی روح نکلنے کے وقت آسمان و زمین کے درمیان کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے سب اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور آسمانوں کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں ہر دروازے کے فرشتوں کی دعا ہوتی ہے کی اس کی پاک اور نیک روح ان کے دروازے سے چڑھائی جائے الخ اور برے شخص کے بارے میں اس میں ہے کہ اس کی قبر میں ایک اندھا بہرا گونگا فرشتہ مقرر ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ مٹی بن جائے۔ اس سے وہ اسے مارتا ہے یہ مٹی ہو جاتا ہے اسے اللہ عزوجل پھر لوٹاتا ہے۔ جیسا تھا ویسا ہی ہو جاتا ہے وہ اسے پھر وہی گرز ماتا ہے یہ ایسا چیختا ہے کہ اس کی چیخ کو سوائے انسانوں اور جن کے ہر کوئی سنتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:295/4:الشيخ الألباني:صحیح]
قبر کا عذاب ٭٭
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی آیت سے قبر کے عذاب کا ثبوت ملتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”مراد اس سے قبر کے سوالوں کے جواب میں مومن کو استقامت کا ملنا ہے۔“ مسند عبد بن حمید میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے لوگ منہ پھیرتے ہیں ابھی ان کی واپسی کی چال کی جوتیوں کی آہٹ اس کے کانوں ہی میں ہے جو دو فرشتے اس کے پاس پہنچ کر اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے مومن جواب دیتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اسے کہا جاتا ہے کہ دیکھ جہنم میں تیرا یہ ٹھکانا تھا۔ لیکن اب اسے بدل کر اللہ نے جنت کی یہ جگہ تجھے عنایت فرمائی ہے }۔ فرماتے ہیں کہ { اسے دونوں جگہ نظر آتی ہیں } }۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اس کی قبر ستر گز چوڑی کر دی جاتی ہے اور قیامت تک سر سبزی سے بھری رہتی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1338] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس امت کی آزمائش ان کی قبروں میں سے ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مومن اس وقت آرزو کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو میں اپنے لوگوں کو یہ خوشخبری سنا دوں وہ کہتے ہیں ٹھہر جاؤ } اس میں یہ بھی ہے کہ { منافق کو بھی اس کی دونوں جگہیں دکھا دی جاتی ہیں }۔ فرماتے ہیں کہ { ہر شخص جس پر مرا ہے اسی پر اٹھایا جاتا ہے۔ مومن اپنے ایمان پر منافق اپنے نفاق پر } }۔ [مسند احمد:346/3:ضعیف]
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ { فرشتہ جو آتا ہے اس کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا ہوتا ہے مومن اللہ کی معبودیت اور توحید کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دیتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اپنا جنت کا مکان دیکھ کر اس میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن اسے کہا جاتا ہے ابھی یہیں آرام کرو }۔ اس کے آخر میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک فرشتے کو ہاتھ میں گرز لیے دیکھیں گے تو حواس کیسے قائم رہیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی }۔ [مسند احمد:3/3:حسن] یعنی اللہ کی طرف سے انہیں ثابت قدمی ملتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ { روح نکلنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے کہ اے اطمینان والی روح جو پاک جسم میں تھی۔ نکل تعریفوں والی ہو کر اور خوش ہو جا۔ راحت و آرام اور پھل پھول اور رحیم و کریم اللہ کی رحمت کے ساتھ۔ اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس روح کو مرحبا کہتے ہیں اور یہی خوشخبری سناتے ہیں۔ اس میں ہے کہ برے انسان کی روح کو کہا جاتا ہے کہ اے خبیث روح جو خبیث جسم میں تھی نکل بری بن کر اور تیار ہو جا آگ جیسا پانی پینے کے لیے اور لہو پیپ کھانے کے لیے اور اسی جیسے اور بےشمار عذابوں کے لیے اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس کے لیے دروازہ نہیں کھولتے اور کہتے ہیں بری ہو کر مذمت کے ساتھ لوٹ جا تیرے لیے دروازے نہیں کھلیں گے }۔ [سنن ابن ماجه:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { آسمانی فرشتے نیک روح کے لیے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحمت کرے اور اس جسم پر بھی جس میں تو تھی۔ یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل کے پاس پہنچاتے ہیں وہاں سے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اسے آخری مدت تک کے لیے لے جاؤ ‘۔ اس میں ہے کہ کافر کی روح کی بدبو کا بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اپنی ناک پر رکھ لی } اور روایت میں ہے کہ { رحمت کے فرشتے مومن کی روح کے لیے جنتی سفید ریشم لے کر اترتے ہیں۔ ایک ایک کے ہاتھ سے اس روح کو لینا چاہتا ہے۔ جب یہ پہلے کے مومنوں کی ارواح سے ملتی ہے۔ تو جیسے کوئی نیا آدمی سفر سے آئے اور اس کے گھر والے خوش ہوتے ہیں اس سے زیادہ یہ روحیں اس روح سے مل کر راضی ہوتی ہیں پھر پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ابھی سوال جواب نہ کرو ذرا آرام تو کر لینے دو۔ یہ تو غم سے ابھی ہی چھوٹی ہے۔ لیکن وہ جواب دیتی ہے کہ وہ تو مر گیا کیا تمھارے پاس نہیں پہنچا وہ کہتے ہیں چھوڑو اس کے ذکر کو وہ اپنی اماں ہاویہ میں گیا }۔ [مستدرک حاکم353/1:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { کافر کی روح کو جب زمین کے دروازے کے پاس لاتے ہیں تو وہاں داروغہ فرشتے اس کی بدبو سے گھبراتے ہیں آخر اسے سب سے نیچے کی زمین میں پہنچاتے ہیں }۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”مومنوں کی روحیں جابیہ میں اور کافروں کی روحیں برھوت نامی حضر موت کے قید خانے میں جمع رہتی ہیں، اس کی قبر بہت تنگ ہو جاتی ہے۔“ ترمذی میں ہے کہ { میت کے قبر میں رکھے جانے کے بعد اس کے پاس دو سیاہ فام کیری آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں ایک منکر دوسرا نکیر۔ اس کے جواب کو سن کر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تم ایسے ہی جواب دو گے پھر اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور نورانی بنا دی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے سوجا۔ یہ کہتا ہے کہ میں تو اپنے گھر والوں سے کہوں گا۔ لیکن وہ دونوں کہتے ہیں کہ دلہن کی سی بے فکری کی نیند سو جا۔ جسے اس کے اہل میں سے وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ پیارا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ خود اسے اس خواب گاہ سے جگائے۔ منافق جواب میں کہتا ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے تھے میں بھی کہتا رہا لیکن جانتا نہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم تو جانتے ہی تھے کہ تیرا یہ جواب ہوگا۔ اسی وقت زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ سمٹ جا۔ وہ سمٹتی ہے یہاں تک کہ اس پسلیاں ادھر ادھر گھس جاتی ہیں پھر اسے عذاب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے اور اسے اس کی قبر سے اٹھائے }۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ { مومن کے جواب پر کہا جاتا ہے کہ اسی پر تو جیا اسی پر تیری موت ہوئی اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20760] ابن جریر میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میت تمہاری جوتیوں کی آہٹ سنتی ہے جب کہ تم اسے دفنا کر واپس لوٹتے ہو اگر وہ ایمان پر مرا ہے تو نماز اس کے سرہانے ہوتی ہے زکوٰۃ دائیں جانب ہوتی ہے روزہ بائیں طرف ہوتا ہے۔ نیکیاں مثلاً صدقہ خیرات صلہ رحمی بھلائی لوگوں سے احسان وغیرہ اس کے پیروں کی طرف ہوتے ہیں جب اس کے سر کی طرف سے کوئی آتا ہے تو نماز کہتی ہے یہاں سے جانے کی جگہ نہیں۔ دائیں طرف سے زکوٰۃ روکتی ہے۔ بائیں طرف سے روزہ۔ پیروں کی طرف سے اور نیکیاں۔ پس اس سے کہا جاتا ہے بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے ایسا معلوم دیتا ہے کہ گویا سورج ڈوبنے کے قریب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھو جو ہم پوچھیں اس کا جواب دو۔ وہ کہتا ہے تم چھوڑو پہلے میں نماز ادا کر لوں۔ وہ کہتے ہیں وہ تو تو کرے گا ہی۔ ابھی تو ہمیں ہمارے سوالوں کا جواب دے۔ وہ کہتا ہے اچھا تم کیا پوچھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے اور کیا شہادت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے ہمارے پاس دلیلیں لے کر آئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رکھا گیا اور اسی پر مرا اور ان شاءاللہ اسی پر دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کی قبر ستر ہاتھ پھیلا دی جاتی ہے اور نورانی کر دی جاتی ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے دیکھ یہ ہے تیرا اصلی ٹھکانا۔ اب تو اسے خوشی اور راحت ہی راحت ہوتی ہے۔ پھر اس کی روح پاک روحوں میں سبز پرندوں کے قالب میں جنتی درختوں میں رہتی ہے۔ اور اس کا جسم جس سے اس کی ابتداء کی گئی تھی اسی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ یعنی مٹی کی طرف یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ [عبدالرزاق،6703:حسن]
اور روایت میں ہے کہ { موت کے وقت کی راحت و نور کو دیکھ کر مومن اپنی روح کے نکل جانے کی تمنا کرتا ہے اور اللہ کو بھی اسی کی ملاقات محبوب ہوتی ہے۔ جب اس کی روح آسمان پر چڑھ جاتی ہے تو اس کے پاس مومنوں کی اور روحیں آتی ہیں اور اپنی جان پہچان کے لوگوں کی بابت اس سے سوالات کرتے ہیں۔ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو زندہ ہے تو خیر۔ اور اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو مر چکا ہے تو یہ ناراض ہو کر کہتے ہیں یہاں نہیں لایا گیا۔ مومن کو اس کی قبر میں بیٹھا دیا جاتا ہے۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے۔ تیرا نبی کون ہے؟ یہ کہتا ہے میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے کہ تیرا دین کیا ہے؟ یہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ اسی میں ہے کہ اللہ کے دشمن کو جب موت آنے لگتی ہے اور یہ اللہ کی ناراضگی کے اسباب دیکھ لیتا ہے تو نہیں چاہتا کہ اس کی روح نکلے۔ اللہ بھی اس کی ملاقات سے ناخوش ہوتا ہے۔ اس میں ہے کہ اسے سوال جواب اور مارپیٹ کے بعد کہا جاتا ہے ایسا سو جیسے سانپ کٹا ہوا }۔ ۱؎ [مسندبزار:874:صحیح بالشواھد] اور روایت میں ہے کہ { جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تجھے کیسے معلوم ہو گیا کیا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایا ہے؟ اس میں ہے کہ کافر کی قبر میں ایسا بہرا فرشتہ عذاب کرنے والا ہوتا ہے کہ جو نہ کبھی سنے نہ رحم کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:352/6:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”موت کے وقت مومن کے پاس فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں لوگوں کے ساتھ اس کے جنازے کی نماز میں شرکت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ کافروں کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ان کی کمر پر مار مارتے ہیں۔ اسے اس کی قبر میں جواب بھلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ظالموں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے۔“
حضرت ابوقتادہ انصاری رحمہ اللہ سے بھی ایسا ہی قول مروی ہے۔ اس میں ہے کہ ”مومن کہتا ہے کہ میرے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کئی دفعہ اس سے سوال ہوتا ہے اور یہ یہی جواب دیتا ہے اسے جہنم کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیڑھا چلتا تو تیری یہ جگہ تھی۔ اور جنت کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ توبہ کی وجہ سے یہ ٹھکانہ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا میں ثابت قدمی کلمہ توحید پر استقامت ہے اور آخرت میں ثابت قدمی منکر نکیر کے جواب کی ہے۔“ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”خیر اور عمل صالح کے ساتھ دنیا میں رکھے جاتے ہیں اور قبر میں بھی۔“ ابوعبداللہ حکیم ترمذی اپنی کتاب نوادر الاصول میں لائے ہیں کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے پاس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی مسجد میں فرمایا کہ { گزشتہ رات میں نے عجیب باتیں دیکھیں، دیکھا کہ میرے ایک امتی کو عذاب قبر نے گھیر رکھا ہے آخر اس کے وضو نے آ کر اسے چھڑا لیا، میرے ایک امتی کو دیکھا کہ شیطان اسے وحشی بنائے ہوئے ہیں لیکن ذکر اللہ نے آ کر اسے خلاصی دلوائی۔ ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے گھیر رکھا ہے۔ اس کی نماز نے آ کر اسے بچا لیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہے جب حوض پر جاتا ہے دھکے لگتے ہیں۔ اس کا روزہ آیا اور اس نے اسے پانی پلا دیا۔ اور آسودہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور امتی کو دیکھا کہ انبیاء علیہم السلام حلقے باندھ باندھ کر بیٹھے ہیں یہ جس حلقے میں بیٹھنا چاہتا ہے وہاں والے اسے اٹھا دیتے ہیں۔ اسی وقت اس کی جنابت کا غسل آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس بٹھا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ چاروں طرف سے اسے اندھیرا گھیرے ہوئے ہے اور اوپر نیچے سے بھی وہ اسی میں گھرا ہوا ہے جو اس کا حج اور عمرہ آیا اور اسے اس اندھیرے میں سے نکال کر نور میں پہنچا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ وہ مومنوں سے کلام کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس سے بولتے نہیں اسی وقت صلہ رحمی آئی اور اعلان کیا کہ اس سے بات چیت کرو چنانچہ وہ بولنے چالنے لگے۔ ایک امتی کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ پر سے آگ کے شعلے ہٹانے کو ہاتھ بڑھا رہا ہے اتنے میں اس کی خیرات آئی اور اس کے منہ پر پردہ اور اوٹ ہوگئی اور اس کے سر پر سایہ بن گئی اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے ہر طرف سے قید کر لیا ہے۔ لیکن اس کا نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا آیا اور ان کے ہاتھوں سے چھڑا کر رحمت کے فرشتوں سے ملا دیا۔ اپنے ایک ایک امتی کو دیکھا کہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ اور اللہ میں اور اس میں حجاب ہے اس کے اچھے اخلاق آئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کے پاس پہنچا آئے۔ اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ اس کا نامہ اعمال اس کی بائیں طرف سے آ رہا ہے لیکن اس کے خوف الٰہی نے آ کر اسے اس کے سامنے کر دیا۔ اپنے ایک امتی کو میں نے جہنم کے کنارے کھڑا دیکھا اسی وقت اس کا اللہ سے کپکپانا آیا اور اسے جہنم سے بچا لے گیا۔ میں نے ایک امتی کو دیکھا کہ پل صراط پر لڑھکنیاں کھا رہا ہے کہ اس کا مجھ پر درود پڑھانا آیا اور ہاتھ تھام کر سیدھا کر دیا۔ اور وہ پار اتر گیا ایک کو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر پہنچا لیکن دروازہ بند ہو گیا۔ اسی وقت «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت پہنچی دروازے کھلوا دیے اور اسے جنت میں پہنچا دیا } }۔ قرطبی اس حدیث کو وارد کر کے فرماتے ہیں یہ حدیث بہت بڑی ہے اس میں ان مخصوص اعمال کا ذکر ہے جو مخصوص مصیبتوں سے نجات دلوانے والے ہیں۔
(تذکرہ) اسی بارے میں حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے بھی ایک غریب مطول حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ { اللہ تبارک وتعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے ’ تو میرے دوست کے پاس جا۔ میں نے اسے آسانی اور سختی دونوں طرح سے آزما لیا ہر ایک حالت میں اسے اپنی خوشی میں خوش پایا تو جا اور اسے میرے پاس لے آ۔ کہ میں اسے ہر طرح کا آرام و عیش دوں ‘۔ ملک الموت علیہ السلام اپنے ساتھ پانچ سو فرشتوں کو لے کر چلتے ہیں ان کے پاس جنتی کفن وہاں کی خوشبو اور ریحان کے خوشے ہوتے ہیں جس کے سرے پر بیس رنگ ہوتے ہیں ہر رنگ کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے سفید ریشمی کپڑے میں اعلیٰ مشک بہ تکلف لپٹی ہوئی ہوتی ہے یہ سب آتے ہیں ملک الموت علیہ السلام تو اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرشتے اس کے چاروں طرف بیٹھ جاتے ہیں ہر ایک کے ساتھ جو کچھ جنتی تحفہ ہے وہ اس کے اعضاء پر رکھ دیا جاتا ہے اور سفید ریشم اور مشک اذفر اس کی ٹھوڑی تلے رکھ دیا جاتا ہے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کی روح کبھی جنتی پھولوں سے کبھی جنتی لباسوں سے کبھی جنتی پھلوں سے اس طرح بہلائی جاتی ہے جیسے روتے ہوئے بچہ کو لوگ بہلاتے ہیں۔ اس وقت اس کی حوریں ہنس ہنس کر اس کی چاہت کرتی ہیں روح ان مناظر کو دیکھ کر بہت جلد جسمانی قید سے نکل جانے کا قصد کرتی ہے ملک الموت فرماتے ہیں ہاں اے پاک روح بغیر کانٹے کی بیریوں کی طرف اور لدے ہوئے کیلوں کی طرف اور لمبی لمبی چھاؤں کی طرف اور پانی کے جھرنوں کی طرف چل۔ واللہ ماں جس قدر بچے پر مہربان ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ ملک الموت اس پر شفقت و رحمت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسے علم ہے کہ یہ محبوب الٰہی ہے اگر اسے ذرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میرے رب کی ناراضگی مجھ پر ہوگی۔ بس اس طرح اس روح کو اس جسم سے الگ کر لیتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے میں سے بال۔ انہیں کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ ان کی روح کو پاک فرشتے فوت کرتے ہیں۔
اور جگہ فرمان ہے کہ ’ اگر وہ مقربین میں سے ہے تو اس کے لیے آرام و آسائش ہے ‘۔ یعنی موت آرام کی اور آسائش کی ملنے والی اور دنیا کے بدلے کی جنت ہے۔ ملک الموت کے روح کو قبض کرتے ہی روح جسم سے کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل تجھے جزا خیر دے تو اللہ کی اطاعت کی طرف جلدی کرنے والا اور اللہ کی معصیت سے دیر کرنے والا تھا۔ تو نے آپ بھی نجات پائی اور مجھے بھی نجات دلوائی جسم بھی روح کو ایسا ہی جواب دیتا ہے۔ زمین کے وہ تمام حصے جن پر یہ عبادت الٰہی کرتا تھا اس کے مرنے سے چالیس دن تک روتے ہیں اسی طرح آسمان کے وہ کل دروازے جن سے اس کے نیک اعمال چڑھتے تھے اور جن سے اس کی روزیاں اترتی تھیں اس پر روتے ہیں۔ اس وقت وہ پانچ سو فرشتے اس جسم کے اردگرد کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے نہلانے میں شامل رہتے ہیں انسان اس کی کروٹ بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدل دیتے ہیں اور اسے نہلا کر انسانی کفن سے پہلے اپنا ساتھ لایا ہوا کفن پہنا دیتے ہیں ان کی خوشبو سے پہلے اپنی خوشبو لگا دیتے ہیں اور اس کے گھر کے دروازے سے لے کر اس کی قبر تک دو طرفہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے استغفار کرنے لگتے ہیں اس وقت شیطان اس زور سے رنج کے ساتھ چیختا ہے کہ اس کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں اور کہتا ہے میرے لشکریو تم برباد ہو جاؤ ہ