بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 22
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا "حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے"
جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعده دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا مگر یہی کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میری مان لی تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،
اور جب (ہر قسم کا) فیصلہ ہو جائے گا تو اس وقت شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی تسلط (زور) تو تھا نہیں سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (کفر اور گناہ کی) دعوت دی اور تم نے میری دعوت قبول کر لی پس تم مجھے ملامت نہ کرو (بلکہ) خود اپنے آپ کو ملامت کرو (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو اس سے پہلے (دنیا میں) جو تم نے مجھے (خدا کا) شریک بنایا تھا میں اس سے بیزار ہوں بے شک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہاور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں بلایا تو تم نے فوراً میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بے شک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقینا جو لوگ ظالم ہیں انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭

اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ ”اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لیے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بے دلیل تھیں میرا کلام بے حجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی با دلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف5، 6] ‏‏‏‏، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں ‘۔ اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82] ‏‏‏‏، ’ یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔ یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔

لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ پس آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے }۔

محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جہنمی اپنا صبر اور بے صبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ «لَمَقْتُ اللَّـهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ» ۱؎ [40-غافر:10] ‏‏‏‏ ’ تمہاری اس وقت کی اس بیزاری سے بھی زیادہ بیزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے ‘۔ عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا ‘ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:116-119] ‏‏‏‏ الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» ۱؎ [14-ابراھیم:22] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» ۱؎ [39-الزمر:73] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے ‘، الخ۔ اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ‏‏‏‏ ’ ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ‏‏‏‏ ’ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ‌ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ‏‏‏‏ ’ ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی ‘۔

📖 احسن البیان

22۔ 1 یعنی اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے تو شیطان جہنمیوں سے کہے گا 22۔ 2 اللہ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے۔ وہ حق پر تھے ان کے مقابلے میں میرے وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب تھے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا ' شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکا ہیں ' (النساء۔ 20) 22۔ 3 دوسرا یہ کہ میری باتوں میں کوئی دلیل و حجت نہیں ہوتی تھی، نہ میرا کوئی دباؤ ہی تم پر تھا۔ 22۔ 4 ہاں میری دعوت اور پکار تھی، تم نے میری بےدلیل پکار کو مان لیا اور پیغمبروں کی دلیل و حجت سے بھرپور باتوں کو رد کردیا۔ 22۔ 5 اس لئے قصور سارا تمہارا اپنا ہی ہے تم نے عقل و شعور سے ذرا کام نہ لیا، دلائل واضحہ کو تم نے نظر انداز کردیا، اور مجرد دعوے کے پیچھے لگ رہے، جس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں۔ 22۔ 6 یعنی نہ میں تمہیں عذاب سے نکلوا سکتا ہوں جس میں تم مبتلا ہو اور نہ تم اس قہر و غضب سے مجھے بچا سکتے ہو جو اللہ کی طرف سے مجھ پر ہے۔ 22۔ 7 مجھے اس بات سے بھی انکار ہے کہ میں اللہ کا شریک ہوں، اگر تم مجھے یا کسے اور کو اللہ کا شریک گردانتے رہے تو تمہاری اپنی غلطی اور نادانی تھی، جس اللہ نے ساری کائنات بنائی تھی اور اس کی تدبیر بھی وہی کرتا رہا، بھلا اس کا کوئی شریک کیونکر ہوسکتا تھا۔ 22۔ 8 بعض کہتے ہیں کہ یہ جملہ بھی شیطان ہی کا ہے اور یہ اس کے مذکورہ خطبے کا تتمہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان کا کلام مِنْ قَبْلُ پر ختم ہوگیا، یہ اللہ کا کلام ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت22) ➊ {بِمُصْرِخِكُمْ:صُرَاخٌ “} کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ {”اَصْرَخَ يُصْرِخُ“} باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے {”شَكَانِيْ فَأَشْكَيْتُهُ “} کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کر دی۔ اسی لیے عام طور پر {”صُرَاخٌ“} کا معنی فریاد اور {”اِصْرَاخٌ“} کا معنی فریاد رسی کر لیا جاتا ہے۔ {” بِمُصْرِخِيَّ “} اصل میں {”بِمُصْرِخِيْنَ“} جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گر گیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ {” بِمُصْرِخِيَّ “} ہو گیا۔ ➋ { وَ قَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ …:} فیصلے کے بعد جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں اور ہر طرف سے شیطان پر ملامت کی بوچھاڑ ہو گی تو شیطان اس کے جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں کا مالک تھا جن کا وعدہ کیا تھا، مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا، جنت، جہنم اور دعا کی قبولیت وغیرہ، اس لیے اس نے وہ وعدہ پورا کیا اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا کہ اس طرح کرو گے تو یہ ہو جائے گا، داتا کو پکارو گے تو یہ ہو گا، دستگیر کو پکارو گے تو یہ ہو گا، کیونکہ ان میں سے کوئی کسی چیز کا مالک ہی نہ تھا اور جو آرزوئیں میں نے تمھارے دل میں ابھاری تھیں کہ فلاں کی نیاز دینے سے معشوق قدموں میں آ گرتا ہے، فلاں کے نام کا بکرا دینے سے دشمن کا ستیاناس ہو جاتا ہے، ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا: «{ يَعِدُهُمْ وَ يُمَنِّيْهِمْ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا }» [ النساء: ۱۲۰ ] ”وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہمیں تعلیم یہ ہے کہ تم جب بھی وعدہ کرو تو اس چیز کا کرو جو تم کر سکتے ہو، پھر بھی ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہو، کیونکہ تمھارا اختیار اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۲۳، ۲۴ ] ”اور کسی چیز کے بارے میں ہر گز نہ کہہ کہ میں کل یہ کام ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“ ➌ {وَ مَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ …: ” سُلْطَةٌ “} اور {” سُلْطٰنٍ “} كا مطلب زبردستی كسی پر غلبہ حاصل كر لينا، مسلط ہو جانا ہے۔ يہ تسلط دو طرح كا ہوتاہے، ايك حكومت كے ذریعے سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی ان پر کوئی حکومت نہ تھی کہ وہ ان پر کوئی فوج چڑھا لایا تھا اور ایک سلطان اور غلبہ صحیح دلیل کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ دلیل دل پر قابو پا لیتی ہے اور آدمی اس کے مطابق عمل پر مجبور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے پاس ڈنڈا بھی نہ تھا اور کوئی معقول دلیل بھی نہ تھی، چنانچہ وہ کہے گا میں نے تو بس اتنا کیا تھا کہ تمھیں کچھ کاموں کی دعوت دی، وہ تمھاری کمزوریوں، مثلاً حرص، شہوت، غصے، بزدلی وغیرہ کے عین مطابق تھی اور اس میں تمھاری خواہشات کو ابھارا گیا تھا، تم نے فوراً اسے قبول کر لیا ({أَجَبْتُمْ } اور {اِسْتَجَبْتُمْ} کے فرق کو ملحوظ رکھیں) اس لیے مجھے ملامت مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، کیونکہ اپنی مرضی سے گناہ تم نے کیا، میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اب نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو نہ میں تمھاری۔ سورۂ نحل کی آیت (۱۰۰) میں شیطان کے سلطان کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ { اِنِّيْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ:} اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا تھا میں اس کا انکار کرتا ہوں، کیونکہ عبادت تو صرف اللہ کا حق تھا، اسی طرح حکم ماننا تم پر صرف اللہ کا حق تھا اور وہ بھی اس کی عبادت میں شامل تھا، تم نے اس کے بجائے میرا حکم مانا، میری عبادت کی، مجھے اس کا شریک بنایا، اب میں اس سے صاف لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ تم نے میری نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کی اور تم اللہ کے بجائے مجھے نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے دستگیروں اور داتاؤں کو پکارتے رہے ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ }» [ النجم: ۲۳ ] ”یہ لوگ (مشرکین) صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“ ➎ { اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} یہ بطور اعتراف شیطان کی بات کا آخری حصہ بھی ہو سکتا ہے جس سے پہلے وہ درج ذیل باتیں کہہ کر ان سے بری ہو چکا ہے: (1) میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ (2) میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا۔ (3) تم نے دلیل سے خالی دعوت قبول کی۔ (4) مجھے ملامت کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ (5) میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ (6) تم نے مجھے جو شریک بنایا میں اسے نہیں مانتا۔ (7) یہ آخری بات ہے کہ ظالموں (مشرکوں) کے لیے عذابِ الیم ہے۔ (خلاصہ از شوکانی) اور یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہو سکتا ہے جو اظہار حقیقت ہے۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →