بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ إبراهيم — Surah Ibrahim
آیت نمبر 10
کل آیات: 52
قرآن کریم إبراهيم آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ إبراهيم islamicurdubooks.com ↗
قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۰﴾
اُن کے رسولوں نے کہا "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر =ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے" اُنہوں نے جواب دیا "تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند"
ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا حق تعالیٰ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے واﻻ ہے وه تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے گناه معاف فرما دے، اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت عطا فرمائے، انہوں نے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان خداؤں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے۔ اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی دلیل پیش کرو
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بے عذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ
ان کے رسولوں نے کہا کیا (تمہیں) اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے اس پر ان لوگوں نے کہا تم نہیں ہو مگر ہمارے جیسے بشر (اور انسان) تم چاہتے ہو کہ جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے آئے ہیں ہمیں ان کی عبادت سے روکو! سو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا (ہمارا مطلوبہ) معجزہ لاؤ۔
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے؟ تمھیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمھارے لیے تمھارے کچھ گناہ بخش دے اور تمھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دے۔ انھوں نے کہا تم نہیں ہو مگر ہمارے جیسے بشر، تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روک دو جس کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭

رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔

📖 احسن البیان

10۔ 1 یعنی تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایمان و توحید کی دعوت بھی صرف اس لئے دے رہا ہے کہ تمہیں گناہوں سے پاک کر دے۔ اس کے باوجود تم اس خالق ارض و سماء کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس کی دعوت سے تمہیں انکار ہے؟ 10۔ 2 یہ وہی اشکال ہے جو کافروں کو پیش آتا رہا کہ انسان ہو کر کس طرح کوئی وحی الٰہی اور نبوت و رسالت کا مستحق ہوسکتا ہے؟ 10۔ 3 یہ دوسری رکاوٹ ہے کہ ہم ان معبودوں کی عبادت کس طرح چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کرتے رہے ہیں؟ جب کہ تمہارا مقصد ہمیں ان کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت پر لگانا ہے۔ 10۔ 4 دلائل و معجزات تو ہر نبی کے ساتھ ہوتے تھے، اس سے مراد ایسی دلیل یا معجزہ ہے جس سے دیکھنے کے وہ آرزومند ہوتے تھے جیسے مشرکین مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف قسم کے معجزات طلب کئے تھے، جس کا تذکرہ بنی اسرائیل میں آئے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت10) ➊ { قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ …:} رسولوں نے یہاں کوئی منطقی و فلسفی بحث نہیں چھیڑی، بلکہ ان کی فطرت کو جھنجوڑا کہ ہر شخص سمجھتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز حتیٰ کہ سوئی یا کوئی کھلونا بھی بنانے والے کے بغیر نہیں بنتا۔ رازی نے اس کی ایک مثال دی کہ دو بچوں میں سے ایک بچہ دوسرے کو پیچھے سے سر پر ایک چپت لگا کر چھپ جائے تو وہ کبھی یہ نہیں مانے گا کہ یہ چپت خود بخود لگ گئی ہے، بلکہ اسے یقین ہو گا کہ یہ کسی نے ماری ہے۔ تو کسی بھی کام کے خودبخود ہو جانے کو تو ایک بچے کی فطرت بھی تسلیم نہیں کرتی، تو عاقل و بالغ ہو کر تمھیں اس اللہ کے متعلق شک ہے جس نے اتنے عظیم آسمان و زمین بنائے، جن کے مقابلے میں تمھارا بنانا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ اللہ ہے بھی یا نہیں؟ اور ایک ہے یا کئی ہیں؟ {”شَكٌّ “} کی تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی کیا اللہ کے بارے میں کوئی بھی شک ہے؟ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی اس کے متعلق کسی قسم کے شک کی تو گنجائش ہی نہیں۔ ➋ {مِنْ ذُنُوْبِكُمْ:” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی تاکہ تمھارے بعض یا کچھ گناہ بخش دے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ اسلام لانے سے معاف ہو جائیں گے، آئندہ کے گناہ تمھارے عمل اور توبہ کے مطابق دیکھے جائیں گے۔ کفار کے گناہوں کی معافی کا ذکر ہر جگہ {” مِنْ “} (بعض) کے ساتھ آیا ہے، جیسا کہ یہاں اور سورۂ نوح اور احقاف میں ہے، البتہ اہل ایمان کی مغفرت کا ذکر {”مِنْ“} کے بغیر ہے، جیسا کہ سورۂ صف میں جہاد کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا: «{ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ }» [الصف: ۱۲ ] ”وہ تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گا۔“ ➌ { وَ يُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمھیں عذاب سے محفوظ رکھے۔ (قرطبی) ➍ { قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا:} یعنی تم ظاہری شکل و صورت میں، کھانے پینے میں اور دوسری انسانی ضروریات کے اعتبار سے ہمارے جیسے بشر ہو، ہم اپنے آپ پر تمھاری برتری کیسے تسلیم کر لیں۔ مقصد تمھارا ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے معبودوں کی عبادت سے روکنا ہے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یہی کفار جو دین اور آخرت کے معاملے میں اپنے آباء کی تقلید کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید سے انکار پر اصرار کر رہے ہیں، اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں میں بھی وہ آباء کی تقلید کرتے تو دنیا کے ہر دور میں انھوں نے جو ترقی کی، حتیٰ کہ اب ایٹم بم تک پہنچ گئے، یہ ترقی کبھی نہ ہو سکتی، مگر ان کی ڈھٹائی دیکھو کہ انبیاء کے واضح معجزات دیکھ کر اور {” اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} جیسی لاجواب دلیلیں سن کر بھی، جنھوں نے انھیں اندر سے ہلا دیا اور وہ اپنے بے چین رکھنے والے شک کا خود اقرار کر رہے ہیں، تقلید پر اڑے ہوئے ہیں اور مزید واضح دلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر دنیوی معاملات میں وہ آباء کی تقلید پر اکتفا کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →