اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تم (کسی کام میں) خدا اور رسول(ص) سے آگے نہ بڑھو (سبقت نہ کرو) اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔ { سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4845]
اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:1] نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» }۔ ۱؎ [49-الحجرات:5] ۱؎ [صحیح بخاری:4847] مسند بزار میں ہے { آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:2] کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2257:حسن]
صحیح بخاری میں ہے کہ { سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:4846] مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے { اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:137/3:صحیح]
صحیح مسلم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:187] لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن جریر میں ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔ یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:3] نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔ علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» ۱؎ [24-النور:63] ’ اے مسلمانو! رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6478] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں ‘۔
امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو (1) اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔
(آیت 1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} رازی نے فرمایا: ”اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مکارمِ اخلاق کا سبق دیا ہے، ان کا تعلق یا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملے میں ہو گا یا اس کے رسول کے ساتھ یا فاسق لوگوں کے ساتھ یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو حاضر ہوں یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو غائب ہوں اور پانچوں قسموں میں سے ہر ایک کی ابتدا {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ کی ہے۔“ ➋ {لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: ” لَا تُقَدِّمُوْا “} باب تفعیل ہے، جس کا مجرد {”قَدَمَ يَقْدُمُ“} (ن) آتا ہے، جس کا معنی ”دوسرے کے آگے چلنا“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا: «يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ ھود: ۹۸ ] ”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہو گا۔“ {” تَقَدَّمَ يَتَقَدَّمُ “} (تفعّل) کا معنی بھی ”آگے بڑھنا“ ہے۔ باب تفعیل کے لحاظ سے اس کا معنی ”آگے کرنا“ ہو گا، یعنی اپنی کوئی بات یا کوئی فعل اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ کرو۔ بعض اوقات {”قَدَّمَ“ ”تَقَدَّمَ“} کے معنی میں بھی آ جاتا ہے، یعنی وہ آگے بڑھا، جیسے {” كَأَنَّهُ قَدَّمَ نَفْسَهُ “} ”گویا اس نے اپنے آپ کو آگے بڑھا لیا۔“ اس صورت میں آیت کا معنی ہو گا: ”اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو۔“ اور یہاں یہی معنی راجح ہے۔ اسی سے {”مُقَدِّمَةُ الْجَيْشِ“} (لشکر کا سب سے اگلا حصہ) ہے۔ باب تفعیل باب تفعّل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے {”وَجَّهَ أَيْ تَوَجَّهَ“} اور {” بَيَّنَ أَيْ تَبَيَّنَ۔“} آیت میں اس شخص کو جو اللہ اور اس کے رسول کی اجازت یا حکم کے بغیر کوئی کام یا بات کرتا ہے اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کسی دوسرے کو پیچھے چھوڑ کر اس سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ (ابن عاشور) ➌ { ” لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ “} میں اللہ اور اس کے رسول کو اکٹھا ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول سے آگے بڑھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے آگے بڑھنا ہے، کیونکہ رسول وہی کہتا اور کرتا ہے جس کی وحی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، فرمایا: «وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى» [ النجم: ۳،۴ ] ”اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ ➍ اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا بنیادی تقاضا بیان کیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کو اپنا رب اور رسول کو اپنا ہادی اور رہبر مانتے ہو تو پھر ان کے پیچھے چلو، آگے مت بڑھو! اپنے فیصلے خود ہی نہ کر لو، بلکہ پہلے یہ دیکھو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم سورۂ احزاب میں موجود حکم سے بھی ایک قدم آگے ہے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» [ الأحزاب: ۳۶ ] ”اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔ “ یعنی سورۂ احزاب میں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو کسی ایمان والے مرد یا ایمان والی عورت کو خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا اور یہاں فرمایا کہ ایمان والوں کو پہل کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود نہیں کر لینے چاہییں، بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کے انفرادی معاملات میں بھی ہے اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ کسی بھی شخص کو خواہ وہ کوئی عالم ہو یا امام یا پیر فقیر، یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی کسی جماعت یا پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ اپنی طرف سے شریعت بنائے، کسی کام کو حلال یا حرام کہے، یا باعثِ ثواب یا گناہ قرار دے۔ اگر کوئی کسی کو یہ حق دیتا ہے تو وہ اسے اپنا رب بناتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۳۱): «اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ» کی تفسیر۔ ➎ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت سے آگے مت بڑھو، ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ چنانچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے: [ «لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» يَقُوْلُ لَا تَقُوْلُوْا خِلاَفَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ] [ طبري: ۳۱۹۲۷ ] یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی بات نہ کہو۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی شان نزول رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنا بیان کی ہے اور بعض نے عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام کام اس آیت کے مضمون میں شامل ہیں، البتہ یہ بات ثابت نہیں کہ یہ آیت خاص ان کے بارے میں اتری ہے۔ ➏ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:” اِنَّ “} تعلیل یعنی پہلی بات کی وجہ بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر کام کو جاننے والا ہے، خواہ وہ سب کے سامنے کیا جائے یا چھپ کر، عمل میں آ چکا ہو یا دل میں اس کا ارادہ ہو، اگر تم اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھو گے تو اُس سے تمھارا جرم چھپا نہیں رہے گا اور وہ تمھیں اس کی سزا دے گا۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اونچی آواز میں کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔ { سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4845]
اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:1] نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» }۔ ۱؎ [49-الحجرات:5] ۱؎ [صحیح بخاری:4847] مسند بزار میں ہے { آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:2] کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2257:حسن]
صحیح بخاری میں ہے کہ { سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:4846] مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے { اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:137/3:صحیح]
صحیح مسلم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:187] لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن جریر میں ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔ یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:3] نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔ علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» ۱؎ [24-النور:63] ’ اے مسلمانو! رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6478] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں ‘۔
امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
2۔ 1 اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس ادب و تعظیم اور احترام و تکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے پہلا ادب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمہاری آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ ہو دوسرا ادب جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے کرو اس طرح اونچی اونچی آواز سے نہ کرو جس طرح تم آپس میں بےتکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا محمد یا احمد نہ کہو بلکہ ادب سے یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرو اگر ادب و احترام کے ان تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھو گے تو بےادبی کا احتمال ہے جس سے بےشعوری میں تمہاے عمل برباد ہوسکتے ہیں اس آیت کی شان نزول کے لیے دیکھئے صحیح بخاری تفسیر سورة الحجرات تاہم حکم کے اعتبار سے یہ عام ہے۔
(آیت 2) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ:} آلوسی نے فرمایا کہ پچھلی آیت میں ایمان والوں کو اپنے قول یا فعل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا، اس آیت میں آپ کے سامنے بولنے کی کیفیت میں بھی آپ سے بڑھنے کو منع فرما دیا۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی یا آپ کی مجلس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنی آوازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ صحیح بخاری میں اس آیت کا سبب نزول بیان ہوا ہے، ابن ابی مُلیکہ فرماتے ہیں: [ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا، أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِيْ تَمِيْمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِيْ بَنِيْ مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِيْ قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِيْ ذٰلِكَ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ» اَلْآيَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هٰذِهِ الْآيَةِ حَتّٰی يَسْتَفْهِمَهُ ] [ بخاري، کتاب التفسیر، باب: «لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي» : ۴۸۴۵ ] ”دو سب سے بہتر آدمی قریب تھے کہ ہلاک ہو جاتے، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما، دونوں نے اپنی آوازیں بلند کیں جب بنو تمیم کے شتر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ تو ان دونوں (بہترین آدمیوں) میں سے ایک نے بنی مجاشع کے اقرع بن حابس (کو بنو تمیم کا امیر مقرر کرنے) کا اشارہ کیا اور دوسرے نے ایک اور کا اشارہ کیا۔ نافع نے کہا، مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم نے صرف میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔“ اس میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو۔“ ابن زبیر رضی اللہ عنھما نے فرمایا، پھر اس آیت کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہیں دیتی تھی جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دوبارہ پوچھتے نہیں تھے۔“ ➋ کسی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا تقاضا ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی شخص کا قول ذکر نہ کیا جائے اور نہ اسے ردّ کرنے کے لیے کسی قسم کے عقلی ڈھکوسلے پیش کیے جائیں، کیونکہ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنا ہے، بلکہ مخالفت کی وجہ سے یہ اس سے بھی سنگین بے ادبی ہے۔ ➌ بعض لوگوں کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ وہ لوگوں کو باور کرواتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں موجود ہیں، پھر اتنی اونچی آواز سے بولتے ہیں کہ سننے والوں کے کانوں کے پردے پھٹنے کے قریب ہوتے ہیں، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے واحد اجارہ دار بھی بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب کسی مجلس میں موجود ہوتے یا تشریف لاتے ہیں اور نہ ہی آپ کو موجود سمجھتے ہوئے آپ کی محبت یا ادب میں اتنی بلند آواز کے ساتھ بولنے کی کوئی گنجائش ہے۔ ➍ { وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ:} اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس ادب کی تعلیم اس لیے دی کہ بعض اکھڑ اعرابی آپ سے اسی طرح اونچی آواز میں بات کرتے اور آپ کو اسی طرح نام لے کر خطاب کرتے جس طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے یا مخاطب کرتے تھے۔ چنانچہ فرمایا، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح اونچی آواز میں بات کرو جس طرح ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو اور نہ ہی اس طرح آپ کو نام لے کر مخاطب کرو جس طرح ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہو، بلکہ ” اے محمد “کہنے کے بجائے ”اے اللہ کے رسول“ یا ”اے اللہ کے نبی“ وغیرہ کہا کرو۔ یہ ادب سورۂ نور میں بھی سکھایا گیا ہے، فرمایا: «لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا» [ النور: ۶۳ ] ”رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔“ خود اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن مجید میں کسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نام کے ساتھ مخاطب نہیں فرمایا، بلکہ مختلف القاب کے ساتھ ہی مخاطب فرمایا ہے، جیسے {” يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ “، ” يٰۤاَيُّهَا النَّبِیُّ “، ” يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ “} اور{” يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ “} وغیرہ۔ حالانکہ دوسرے انبیاء کو نام لے کر خطاب فرمایا ہے، جیسے{” يٰۤاٰدَمُ “، ” يَا نُوْحُ “، ” يٰۤاِبْرٰهِيْمُ “، ” يَا مُوْسٰي “، ” يٰعِيْسَي ابْنَ مَرْيَمَ “} اور{” يٰۤدَاوٗدُ “} وغیرہ۔ اس کے باوجود اکثر جاہل ”یا محمد“ کہنے اور لکھنے پر اصرار کرتے ہیں اور دعویٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا رکھتے ہیں۔ اس آیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر و تعظیم کا اندازہ ہوتا ہے۔ ➎ { اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آپ کی آواز سے آواز اونچی کرنا یا آپ سے ایسے لہجے میں بات کرنا جس سے آپ کی توقیر و تکریم میں فرق آتا ہو اعمال ضائع ہو جانے کا موجب ہے، خواہ یہ کام کوئی مومن ہی کیوں نہ کرے، کیونکہ ساتھ ہی فرمایا: «وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» ”اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔“ منافقین تو ایمان سے خالی تھے، اس لیے وہ جان بوجھ کر آپ سے گستاخی کے ساتھ پیش آتے تھے اور انھیں اپنے اعمال کے ضائع ہونے کی کوئی فکر بھی نہیں تھی۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اعمال ایسے منحوس ہیں کہ وہ اعمال صالحہ کو بھی ضائع کرنے کا باعث بن جاتے ہیں، خصوصاً جن میں اللہ تعالیٰ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی پائی جائے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہوتے ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا: ” «اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» یعنی ہم نے تمھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آواز بلند کرنے سے اس لیے منع کیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو جائیں تو آپ کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے ہو جائے اور اس شخص کے اعمال برباد کر دے جس نے آپ کو غصہ دلایا اور اسے معلوم بھی نہ ہو، جیسا کہ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰهِ لاَ يُلْقِيْ لَهَا بَالاً يَرْفَعُ اللّٰهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللّٰهِ لاَ يُلْقِيْ لَهَا بَالاً يَهْوِيْ بِهَا فِيْ جَهَنَّمَ ] [ بخاري، الرقاق، باب حفظ اللسان: ۶۴۷۸ ] ”بندہ اللہ کو راضی کرنے والی کوئی بات کرتا ہے، جس کا وہ کوئی دھیان نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے کئی درجے بلند کر دیتا ہے اور بندہ اللہ کو غصہ دلانے والی کوئی بات کرتا ہے، جس کا وہ کوئی دھیان نہیں کرتا، تو اس کی وجہ سے وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔“ ➏ اس آیت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آواز بلند کرنے سے کس قدر ڈرتے اور اس سے بچتے تھے اس کا اندازہ ایک تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عمل سے ہوتا ہے جس کا تذکرہ اسی آیت کی تفسیر کے پہلے فائدے میں ہوا ہے، اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا رویہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب یہ آیت اتری: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» اب ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی آواز بہت بلند تھی تو وہ کہنے لگے: ”میں ہی اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند کیا کرتا تھا، میرا عمل تو ضائع ہو گیا، میں اہلِ نار سے ہوں۔“ اور وہ غمگین ہو کر گھر میں بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نہ دیکھا تو ان کے بارے میں پوچھا۔ کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں تلاش کر رہے تھے، تمھیں کیا ہوا؟“ کہنے لگے: ”میں ہی ہوں جو اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند کرتا تھا اور اونچی آواز سے بات کرتا تھا، میرا عمل ضائع ہو گیا اور میں اہلِ نار سے ہوں۔“ لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ، بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ] ”نہیں، بلکہ وہ اہلِ جنت سے ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر ہم انھیں اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ جنتی ہیں۔ تو جب یمامہ (مسیلمہ کذاب سے جنگ) کا دن ہوا تو ہم میں پیچھے ہٹنے کے کچھ آثار ظاہر ہوئے۔ ایسے میں ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ آئے، انھوں نے میت والی خوشبو لگا رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا۔ کہنے لگے: ”تم نے اپنے ساتھیوں کو (پیچھے ہٹنے کی) بہت بری عادت ڈال دی ہے۔“ یہ کہہ کر لڑنے لگے، حتیٰ کہ قتل کر دیے گئے۔“ [ مسند أحمد: 137/3، ح: ۱۲۴۰۸ ] اس کی سند صحیح ہے۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق لکھتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو یہ خیال اس لیے ہوا کہ بنو تمیم (جن کے بارے میں یہ آیات اتریں) ان کے سامنے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) انھوں نے ہی خطبہ دیا تھا۔ دیکھیے البدایہ والنہایہ (۵؍۴۲) اور فتح الباری (۸؍۵۹۱)۔
جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا ﺛواب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ رسولِ خدا(ص) کے پاس (بات کرتے ہوئے) اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کیلئے آزمایا ہے ان کے لئے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔ { سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4845]
اور روایت میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:1] نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» }۔ ۱؎ [49-الحجرات:5] ۱؎ [صحیح بخاری:4847] مسند بزار میں ہے { آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:2] کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2257:حسن]
صحیح بخاری میں ہے کہ { سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:4846] مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے { اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:137/3:صحیح]
صحیح مسلم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:187] لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن جریر میں ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔ یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:3] نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔ علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» ۱؎ [24-النور:63] ’ اے مسلمانو! رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6478] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں ‘۔
امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
3۔ 1 اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت کا خیال رکھتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے۔
(آیت 3){ اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ …:} اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا خیال رکھتے ہوئے آپ کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے تھے، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق گزرا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے تقویٰ کا امتحان کر کے دیکھ لیا کہ وہ پرہیز گاری کے امتحان میں پوری طرح کامیاب ہیں، جیسے سونے کو آگ میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور وہ خالص نکلتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس کے خالص ہونے کی آزمائش کر لی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز پست نہیں رکھتا اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے، پھر جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سننے کے بعد اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ تقویٰ اور ایمان سے کس قدر دور ہو گا۔
اے نبیؐ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (بالکل) بے عقل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول(ص)) جو لوگ آپ کو حجروں میں باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو تجھے دیواروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب خطاب ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ’ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ‘۔ پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے ‘، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی۔
پھر حکم دیتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ‘۔ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کا نام لے کر پکارا ”یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے کہا: سنئے، یا رسول اللہ! میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:488/3:صحیح لغیرہ] بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت «يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] پڑھ دیتے یعنی ’ اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو ‘ اور بنو اسد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے، اس پر یہ آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/11:حسن]
4۔ 1 یہ آیت قبیلہ بنو تمیم کے بعض اعرابیوں (گنوار قسم کے لوگوں) کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیلولے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز میں یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد 84۔ 318) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اداب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا، بےعقلی ہے۔
(آیت 4) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ: ”حُجْرَةٌ “} زمین کا وہ قطعہ جس کے گرد دیوار بنی ہوئی ہو، گھر کے صحن کی چار دیواری۔ طبری نے فرمایا: {”حُجْرَةٌ “} کی جمع {”حُجَرٌ“} ہے اور اس کی جمع {”حُجُرَاتٌ“} ہے۔“ روح المعانی میں ان حجرات کی کیفیت بیان کی گئی ہے: ”یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور جیسا کہ ابن سعد نے عطاء خراسانی سے روایت کی ہے، یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔ بخاری نے ”الادب المفرد“ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے بیان کیا ہے، انھوں نے فرمایا: ”میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنھیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔“ اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ”میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔“ اور سعید بن مسیب نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہلِ مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی۔“ اور ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے بھی ایسی ہی بات فرمائی۔“ (روح المعانی) گزشتہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آپ کے ادب کا بیان تھا، ان آیات میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کو ملحوظ رکھنے کا بیان ہے جب آپ گھر میں ہوں۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ کچھ اعرابی لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی چار دیواری کے باہر کھڑے ہو کر آپ کو بلانے کے لیے آوازیں دیں، تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو {” لَا يَعْقِلُوْنَ “} قرار دیا۔ {” لَا يَعْقِلُوْنَ “} قرار دینے سے مقصود انھیں ڈانٹنا اور تمام مسلمانوں کو آپ کے ادب کی تعلیم دینا ہے۔ ➋ { اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ:} ابن جزی (صاحب التسہیل) نے فرمایا: ”اس میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ان میں کچھ لوگ عقل رکھنے والے بھی تھے، اس لیے ان کے اکثر کو {” لَا يَعْقِلُوْنَ “} فرمایا، سب کو نہیں۔ دوسری یہ کہ مراد سب ہی کو {” لَا يَعْقِلُوْنَ “} قرار دینا ہے، عقل والوں کو کم قرار دینے سے مراد ان کی نفی ہے۔ الفاظ کے مطابق پہلی وجہ زیادہ ظاہر ہے، دوسری میں زیادہ بلیغ طریقے سے سب کی مذمت کا بیان ہے۔“
اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ یہاں تک صبر کرتے کہ آپ خود سے نکل کر ان کے پاس آجاتے تو یہی ان کے لئے بہتر ہوتا، اور اللہ غفور ورحیم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ اتنا صبر کرتے کہ آپ خود ان کے پاس باہر نکل کر آجائیں تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب خطاب ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ’ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ‘۔ پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے ‘، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی۔
پھر حکم دیتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ‘۔ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کا نام لے کر پکارا ”یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے کہا: سنئے، یا رسول اللہ! میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:488/3:صحیح لغیرہ] بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت «يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] پڑھ دیتے یعنی ’ اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو ‘ اور بنو اسد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے، اس پر یہ آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/11:حسن]
5۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کا انتظار کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دینے میں جلدی نہ کرتے تو دین اور دنیا دونوں لحاظ سے بہتر ہوتا۔ 5۔ 2 اس لیے مواخذہ نہیں فرمایا بلکہ آئندہ کے لیے ادب و تعظیم کی تاکید بیان فرما دی۔
(آیت 5) ➊ { وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ …:} یعنی اگر وہ آوازیں دینے کے بجائے صبر کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا انتظار کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، کیونکہ اس صبر و انتظار میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ملحوظ رکھنے میں انھیں اجر و ثواب ملتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خوش دلی کے ساتھ ان سے ملتے اور زیادہ بہتر طریقے سے ان کی ضرورتیں پوری فرماتے۔ ظاہر ہے جس شخص پر پوری امت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور وہ ہر وقت اسی فکر و عمل میں مصروف ہے، اگر اس وقت جب وہ گھر میں ہے یہ خیال کیے بغیر کہ اس وقت وہ آرام کر رہا ہے یا گھر کے کسی کام میں مصروف ہے، آوازیں دینا شروع کر دیا جائے تو اس خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی جو صبر و انتظار کے ساتھ اس سے حاصل ہونا تھی۔ اس سے اساتذہ کرام، اہلِ علم اور مسلمانوں کے امراء و اکابر کے اکرام کی بھی تعلیم ملتی ہے۔ ➋ { وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی حق تو یہ تھا کہ ان لوگوں کو ان کی اس بے ادبی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی سزا ملتی، مگر چونکہ ان سے یہ فعل بے عقلی کی وجہ سے سرزد ہوا تھا، بدنیتی کی وجہ سے نہیں، اس لیے آخر میں اپنے غفور و رحیم ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی مغفرت کا اشارہ فرما دیا۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زندہ تھے اور دیوار کے باہر سے آپ تک آواز بھی پہنچتی تھی اس وقت آپ کو آواز دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بے عقل قرار دیا تو اب جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے اور یہ ممکن ہی نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بات سنیں یا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ» [المؤمنون: ۱۰۰] ”اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے، ایک پردہ ہے۔ “ تو جو لوگ اب ہزاروں میل دور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آوازیں دیتے ہیں اور آوازیں بھی اس مقصد کے لیے دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کر سکتا، تو ان کے {” لَا يَعْقِلُوْنَ “} (بے عقل) ہونے میں کیا شبہ ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو، جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے کوئی حرکت نہ کرو، ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے۔ اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لیے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو۔ گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور جس کا حال معلوم نہیں اس کا فاسق ہونا ہم پر ظاہر نہیں۔ ہم نے اس مسئلہ کی پوری وضاحت سے صحیح بخاری شریف کی شرح میں کتاب العلم میں بیان کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { حارث بن ضرار خزاعی جو ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد ہیں فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم میں جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوٰۃ ادا کریں، میں ان کی زکوۃٰ جمع کرتا ہوں، اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیجئیے، میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوٰۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔ سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہی کیا، مال زکوٰۃ جمع کیا، جب وقت مقررہ گزر چکا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا، تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا: یہ تو ناممکن ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وعدے کے مطابق اپنا کوئی آدمی نہ بھیجیں، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوٰۃ لے جانے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ لوگ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ شریف چلیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں یہ تجویز طے ہو گئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوٰۃ ساتھ لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے لیکن یہ راستے ہی میں سے ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہو گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور کچھ آدمی تنبیہ کے لیے روانہ فرمائے، مدینہ کے قریب راستے ہی میں اس مختصر سے لشکر نے حارث کو پا لیا اور گھیر لیا۔ حارث نے پوچھا: آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم تیری طرف بھیجے گئے ہیں پوچھا کیوں؟ کہا: اس لیے کہ تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ولید رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہ دی بلکہ انہیں قتل کرنا چاہا۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس اللہ کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے اسے دیکھا، نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں، یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تو نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے آدمی کو بھی قتل کرنا چاہا؟ حارث نے جواب دیا ہرگز نہیں یا رسول اللہ! قسم ہے اللہ کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے انہیں دیکھا، نہ وہ میرے پاس آئے۔ بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض نہ ہو گئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا، اس پر یہ آیت «وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:8] تک نازل ہوئی }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/4:حسن بشواھدہ]
طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد حارث کی بستی کے پاس پہنچا تو یہ لوگ خوش ہو کر اس کے استقبال کیلئے خاص تیاری کر کے نکلے، ادھر ان کے دل میں یہ شیطانی خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ مجھ سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں، تو یہ لوٹ کر واپس چلے آئے، انہوں نے جب یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد واپس چلے گئے، تو خود ہی حاضر ہوئے اور ظہر کی نماز کے بعد صف بستہ کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اپنے آدمی کو بھیجا، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، ہم بے حد خوش ہوئے، لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ راستے میں سے ہی لوٹ گئے تو اس خوف سے کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو گیا ہو ہم حاضر ہوئے ہیں اسی طرح وہ عذر معذرت کرتے رہے۔ عصر کی اذان جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { ولید رضی اللہ عنہ کی اس خبر پر ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ آدمی ان کی طرف بھیجیں جو ان کا وفد آ گیا اور انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آدھے راستے سے ہی لوٹ گیا، تو ہم نے خیال کیا کہ آپ نے کسی ناراضگی کی بنا پر انہیں واپسی کا حکم بھیج دیا ہو گا اس لیے حاضر ہوئے ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور اس کا عذر سچا بتایا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ان لوگوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے لشکر جمع کر لیا ہے اور اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی زیر امارت ایک فوجی دستے کو بھیج دیا لیکن انہیں فرما دیا تھا کہ ”پہلے تحقیق و تفتیش اچھی طرح کر لینا، جلدی سے حملہ نہ کر دینا“۔ اسی کے مطابق سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر اپنے جاسوس شہر میں بھیج دئیے وہ خبر لائے کہ وہ لوگ دین اسلام پر قائم ہیں، مسجد میں اذانیں ہوئیں، جنہیں ہم نے خود سنا اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے خود دیکھا۔ صبح ہوتے ہی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ خود گئے اور وہاں کے اسلامی منظر سے خوش ہوئے، واپس آ کر سرکار نبوی میں ساری خبر دی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ قتادہ رحمہ اللہ جو اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”تحقیق و تلاش بردباری اور دور بینی اللہ کی طرف سے ہے۔ اور عجلت اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:384/11:ضعیف] سلف میں سے قتادہ رحمہ اللہ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات نے یہی ذکر کیا ہے جیسے ابن ابی لیلیٰ، یزید بن رومان، ضحاک، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
6 ۔ 2 یہ آیت اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ولید بن عقبہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا لیکن انہوں نے آ کر یوں ہی رپورٹ دے دی کہ انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرما لیا تاہم پھر پتہ لگ گیا کہ یہ بات غلظ تھی اور ولید ؓ تو وہاں گئے ہی نہیں لیکن سند اور امر واقعہ دونوں اعتبار سے یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لیے اسے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے تاہم شان نزول کی بحث سے قطع نظر اس میں ایک نہایت ہی اہم اصول بیان فرمایا گیا ہے جس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر نہایت اہمیت ہے ہر فرد اور ہر حکومت سے تو پہلے اس کی تحقیق کی جائے تاکہ غلظ فہمی میں کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو۔
(آیت 6) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا: ” فَاسِقٌ“} جو دین کی کسی حد سے یا تمام حدوں سے نکل جائے، جن کی پابندی لازم ہے۔ اس کا اشتقاق {”فَسَقَ الرُّطَبُ“} (تازہ کھجور چھلکے سے باہر نکل گئی، یعنی پھٹ گئی) سے ہے۔ اس کا اکثر استعمال نافرمانی کے مرتکب مسلمان پر ہوتا ہے، کافر پر بھی یہ لفظ بول لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوٗنَ» [السجدۃ: ۱۸] ”تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو؟ برابر نہیں ہوتے۔“ {”نَبَأٌ“} کوئی اہم خبر۔ راغب نے فرمایا: ”خبر کو ”نبا“ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے کوئی عظیم فائدہ حاصل ہوتا ہو، ایسی ہی خبر سے کسی بات کا یقین یا غلبۂ ظن حاصل ہوتا ہے۔“ {” فَتَبَيَّنُوْۤا “ ”تَبَيَّنَ يَتَبَيَّنُ “} (تفعّل) لازم بھی آتا ہے، یعنی کسی چیز کا خوب واضح ہو جانا اور متعدی بھی، یعنی کسی چیز پر پوری طرح غور و فکر اور اس کی تحقیق کرنا، اس کی حقیقت معلوم کر لینا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔ اکثر قراء توں میں {” فَتَبَيَّنُوْۤا “} ہے، حمزہ اور کسائی کی قراء ت میں {”فَتَثَبَّتُوْا“} ہے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسے ادب کی تعلیم دی ہے جس کا اہتمام ان کے دین و دنیا کے معاملات میں نہایت ضروری ہے اور جس کی پابندی نہ کرنے سے بے پناہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ وہ یہ کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق، جو کھلم کھلا دین کی حد پامال کرنے والا ہے، کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اسے سنتے ہی سچا نہ سمجھ لیں اور نہ ہی پوری تحقیق کے بغیر اس کی بات کا اعتبار کریں، کیونکہ جو فسق سے پرہیز نہیں کرتا وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔ ➌ { اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ:} اس سے معلوم ہوا کہ فاسق کی خبر پر بلاتحقیق عمل کرنا جہالت ہے، جو خطا سے بڑھ کر ہے، کیونکہ مجتہد اگر غلطی کرے تو اسے مخطی کہہ سکتے ہیں، جاہل نہیں، جب کہ بلاتحقیق فاسق کے قول پر فیصلہ کرنے والا اگر غلط فیصلہ کرے تو وہ جاہل ہے۔ (رازی) یعنی ایسا نہ ہو کہ تم کسی فاسق کی خبر پر بلاتحقیق کوئی کارروائی کر گزرو اور لاعلمی میں کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا دو، ان پر حملہ کر کے انھیں زخمی یا قتل کر دو، ان کی غیبت کر بیٹھو یا ان سے قطع تعلق کر لو، غرض تمھاری طرف سے انھیں کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کتنے ہی فتنے اور فساد ہیں جو بلاتحقیق ایسی خبروں پر عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور بات بگڑ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ ➍ { فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ:} پھر تم اس پر پشیمان ہو جاؤ، کیونکہ جلد بازی اور بلاتحقیق کام کا نتیجہ پشیمانی ہی ہے۔ ➎ یہ آیت اس عظیم الشان علم کی بنیاد ہے جسے اصولِ حدیث کہا جاتا ہے، جو ہماری امت کی خصوصیت ہے اور جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال اور احوال و تقریرات محفوظ طریقے سے ہم تک پہنچے ہیں اور قیامت تک پہنچتے جائیں گے۔ اس علم کی تکمیل کے لیے امت مسلمہ نے ایک لاکھ سے زیادہ راویوں کے حالاتِ زندگی، ان کا صدق و کذب، عدالت و فسق، حافظ ہونا یا نہ ہونا وغیرہ سب کچھ محفوظ کر دیا ہے۔ اس میں سب سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ کوئی خبر بیان کرنے والا فاسق ہے یا عادل، اگر فاسق ہے تو اس کی خبر کی تحقیق کی جائے گی، اگر کسی دوسرے ذریعے سے اس کا درست ہونا ثابت ہو جائے تو اسے مان لیا جائے گا ورنہ اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر خبر دینے والا عادل ہے تو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں اور اس کی خبر قبول کی جائے گی، خواہ خبر دینے والا ایک ہی ہو۔ اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ خبر واحد حجت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجہول آدمی کی خبر بھی بلاتحقیق قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس کے فاسق ہونے کا احتمال ہے۔ ➏ آیت کے الفاظ میں {” فَاسِقٌ“} اور {” بِنَبَاٍ “} دونوں نکرہ ہیں، اس میں کسی خاص شخص کو متعین نہیں کیا گیا، بلکہ ایک عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی فاسق شخص کوئی بھی خبر لے کر تمھارے پاس آئے تو اس کی تحقیق کر لو۔ بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ بنو مصطلق اور ان کے قبیلہ میں اسلام سے پہلے سے دشمنی چلی آ رہی تھی، وہ لوگ مسلح ہو کر استقبال کے لیے آئے، تو یہ ڈر گئے کہ شاید یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور وہیں سے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ بنو مصطلق نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے، بلکہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بنو مصطلق کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، ابھی یہ لشکر راستے میں تھا کہ ادھر سے بنو مصطلق کے سردار حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ (ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنھا کے والد) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر انھوں نے لشکر والوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ تمھاری طرف ہی جا رہے ہیں۔ انھوں نے سبب پوچھا تو لشکر والوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو تمھارے پاس بھیجا اور تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، بلکہ اسے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث کیا ہے! ولید نہ ہمارے پاس آیا اور نہ ہم نے اس کی شکل دیکھی۔ پھر یہی بات انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہی اور مزید کہا کہ ہم تو خود آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کی طرف سے کوئی زکوٰۃ وصول کرنے نہیں پہنچا اور ہم ڈر گئے کہ کہیں آپ ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ ان روایات کا خلاصہ ہے جو ابنِ کثیر وغیرہ نے نقل فرمائی ہیں۔ ➐ عام مفسرین نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو فاسق اور ان کی خبر کو تحقیق کے بغیر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ بعض کج دماغوں نے اسے اس مسلم قاعدے پر طعن کا ذریعہ بنایا ہے کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب کے سب عادل ہیں اور کسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ثابت نہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی کوئی بھی ہو اس کی بیان کردہ ہر روایت معتبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کو ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے متعلق قرار دینے والی کسی بھی روایت کی سند صحیح نہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس مقام پر چار روایتیں نقل کی ہیں اور ان میں سب سے بہتر حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ کی روایت کو قرار دیا ہے۔ اس کی سند یہ ہے: {” قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِيْ مُسْنَدِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عِيْسَي بْنُ دِيْنَارٍ حَدَّثَنَا أَبِيْ أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيَّ قَالَ “} [ مسند أحمد: 279/4، ح: ۱۸۴۵۹ ] تفسیر ابن کثیر کے محقق سامی بن محمد سلامہ لکھتے ہیں: ”بہت سے مفسرین اس قول کی طرف گئے ہیں (کہ یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے) حالانکہ اس قول میں نظر ہے، کیونکہ جتنی بھی روایات میں یہ قصہ بیان ہوا ہے وہ سب معلول ہیں (ان میں خرابی ہے)، ان میں سب سے بہتر امام احمد کی حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے اور قاضی ابوبکر بن العربی نے اپنی کتاب ”العواصم من القواصم (ص: ۱۰۲)“ میں اس قصے کا انکار کیا ہے۔“ تفسیر ابن کثیرکی تخریج {”هداية المستنير“} (تالیف ابو عبد الرحمن عادل بن یوسف العزازی) میں ہے: ”اس روایت میں دینار کوفی ہے، حافظ نے فرمایا، مقبول ہے، یعنی جب اس کی کوئی متابعت موجود ہو۔“ ظاہر ہے یہاں کسی نے اس کی متابعت نہیں کی، اس لیے اس کی یہ روایت قبول نہیں۔ مسند احمد کے محققین نے اس روایت پر لکھا ہے: ”حارث بن ضرار کے اسلام کا قصہ چھوڑ کر باقی روایت اپنے شواہد کی وجہ سے حسن ہے اور یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ عیسیٰ کا والد دینار مجہول ہے۔ وہ کوفے کا رہنے والا ہے اور عمرو بن حارث کا مولیٰ ہے، اس سے اس کے بیٹے عیسیٰ نے اکیلے ہی یہ روایت بیان کی ہے اور ابن المدینی نے فرمایا: {”لَا أَعْرِفُهُ“} (میں اسے نہیں پہچانتا) اس کے باوجود ابن حبان نے اس کا ذکر ”الثقات“ میں کیا ہے۔“ اس آیت کے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہونے کی دوسری روایت ابن کثیر نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی بیان کی ہے۔ ابن کثیر (طبع دار ابن الجوزی) کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”اس کی سند موسیٰ بن عبیدہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔“ ابن کثیر میں اس مفہوم کی تیسری روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، جو عوفی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ چوتھی روایت مجاہد اور قتادہ نے بیان کی ہے جو تابعی ہیں اور ان کی روایت مرسل ہے جو حجت نہیں۔ آپ غور فرمائیں! یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی سب سے بہتر روایت کو حسن کہنے والے بھی اس کی سند کے ضعیف ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، حسن صرف شواہد کی وجہ سے کہتے ہیں اور شواہد بھی ایسے کہ سب کی سند ضعیف ہے۔ ایسی کمزور روایت کے ساتھ ایک صحابی کو فاسق قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے، جو اس جماعت کا فرد ہے جسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی سند حاصل ہو چکی ہے۔ ➑ اگر اس قصے کو درست مان لیا جائے تو بھی اس سے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کا فاسق ہونا لازم نہیں آتا۔ سب سے پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقات کی وصولی کے لیے ان کا انتخاب ان کے فاسق ہونے کی نفی کرتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عمال کو صدقات وغیرہ کی وصولی پر مقرر فرماتے تھے جو نہایت امین ہوتے تھے، جیسا کہ ابوعبیدہ امین ہذہ الامہ کو یمن کی طرف بھیجنے سے ظاہر ہے۔ پھر ولید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ بنو مصطلق نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے اور میرے قتل کا ارادہ کیا ہے، اس کی وجہ خود اس روایت میں موجود ہے کہ ان کے درمیان سابقہ دشمنی موجود تھی اور مسلح افراد کی بہت بڑی تعداد کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ یہ مجھے قتل کرنے آئے ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسا گمان پیدا ہونا فطری بات ہے۔ آپ اسے گمان کی غلطی کہہ سکتے ہیں مگر جھوٹ یا فسق نہیں کہہ سکتے۔ رہا آیت کا نزول تو ا س میں نہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ولید فاسق ہے نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ آیت میں مسلمانوں کو ایک حکم دیا گیا ہے کہ ان کے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کریں، اندھا دھند اس پر کارروائی نہ کریں۔ ➒ شیخ عبد الرحمان معلمی یمانی نے ”الانوار الکاشفہ (ص: ۲۶۳)“ میں ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث منقول ہی نہیں، اس لیے اس واقعہ سے کسی صحابی کی نقل کردہ روایت کا مردود ہونا لازم ہی نہیں آتا، کیونکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت نقل ہی نہیں کی۔ شیخ معلمی نے ان سے مروی دوسری روایات کے علاوہ اس روایت کی بھی نفی کی ہے جو مسند احمد میں ہے کہ ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ لَمَّا فَتَحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُوْنَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلٰی رُؤُوْسِهِمْ وَيَدْعُوْ لَهُمْ، فَجِيْئَ بِيْ إِلَيْهِ وَ إِنِّيْ مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوْقِ، فَلَمْ يَمْسَحْ عَلٰی رَأْسِيْ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذٰلِكَ إِلاَّ أَنَّ أُمِّيْ خَلَّقَتْنِيْ بِالْخَلُوْقِ فَلَمْ يَمَسَّنِيْ مِنْ أَجْلِ الْخَلُوْقِ ] [مسند أحمد: 32/4، ح: ۱۶۳۷۹ ] ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو اہلِ مکہ اپنے بچے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے برکت کی دعا کرتے۔ مجھے بھی آپ کے پاس لایا گیا مگر آپ نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اور آپ کے ہاتھ نہ پھیرنے کی وجہ یہی بنی کہ میری ماں نے مجھے خلوق (زعفران سے مرکب ایک خوشبو) لگائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔“ مسند احمد کے محققین نے لکھا ہے: ”اس کی سند عبد اللہ ہمدانی کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کنیت اس کی ابوموسیٰ ہے۔ اس سے روایت میں ثابت بن حجاج الکلابی منفرد ہے اور ذہبی اور ابنِ حجر نے تقریب میں اسے مجہول کہا ہے۔ بخاری نے ”تاریخ کبیر“ (۵؍۲۲۴) میں کہا ہے: {”لَا يَصِحُّ حَدِيْثُهُ“} (اس کی حدیث صحیح نہیں) اور ابن عبد البر نے کہا ہے کہ یہ ابوموسیٰ مجہول ہے اور یہ خبر منکر ہے، صحیح نہیں۔“ اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو فاسق کہنے کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے فتح مکہ کے موقع پر ولید کا بچہ ہونا ثابت ہوتا ہے، جسے صدقات کا عامل بنا کر بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ➓ بعض لوگوں نے صحیح مسلم (۱۷۰۷) وغیرہ کی اس روایت کی وجہ سے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیا ہے جس میں ہے کہ انھوں نے شراب پی کر صبح کی جماعت دو رکعتیں پڑھانے کے بعد کہا کہ مزید پڑھاؤں، جس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے ان پر شراب کی حد لگائی۔ واضح رہے کہ بعض روایات میں دو کے بجائے چار رکعتیں پڑھانے کا ذکر ہے مگر ان میں سے کوئی روایت بھی صحیح نہیں۔ بعض اہلِ علم نے لکھا ہے: ”علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا: ”اس معاملے میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ہیں، ان سے گناہ کبیرہ بھی سرزد ہو سکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں، یعنی شرعی سزا جاری کی جائے گی، لیکن اہلِ سنت والجماعہ کا عقیدہ قرآن و سنت کی نصوص کی بنا پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہو سکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کرکے پاک نہ ہو گیا ہو۔ قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ فرما دیا ہے، فرمایا: «رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [التوبۃ: ۱۰۰ ] ”اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کی رضا گناہ کے معاف ہونے کے بغیر نہیں ہوتی، جیسا کہ قاضی ابو یعلی نے فرمایا: ”رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے، وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھی کے لیے فرماتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات ان کاموں پر ہو گی جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے۔“ [ کَذَا فِي الصَّارِمِ الْمَسْلُوْلِ لاِبْنِ تَیْمِیَۃَ ] خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی عظیم الشان جماعت میں سے اگر کسی سے کبھی کوئی گناہ سرزد ہوا بھی ہے تو ان کو فوراً توبہ کی توفیق نصیب ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ایسا بنا دیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی، خلافِ شرع کوئی کام یا گناہ سرزد ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا۔ ان کے اعمال صالحہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر اپنی جانیں قربان کرنا اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کو وظیفۂ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا جن کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی، ان بے شمار اعمال صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہو جانا اس کو خود ہی کالعدم کر دیتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت اور ادنیٰ سے گناہ کے وقت ان کا خوف، خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا کے لیے خود پیش کر دینا روایاتِ حدیث میں مشہور و معروف ہے اور بحکمِ حدیث گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔ تیسرے قرآن کے ارشاد کے مطابق اعمال صالحہ اور حسنات خود بھی گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ہود: ۱۱۴] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ خصوصاً جب ان کی حسنات عام لوگوں کی طرح نہیں، بلکہ ان کا حال وہ ہے جو ابوداؤد اور ترمذی نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے (جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں) نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: [ لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِّنْهُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيْهِ وَجْهُهُ خَيْرٌ مِّنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوْحٍ ] [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في الخلفاء: ۴۶۵۰، قال الألبانی صحیح ] ”اللہ کی قسم! ان میں سے کسی شخص کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کے چہرے پر غبار پڑ گیا ہو، تم میں سے کسی شخص کی عمر بھر کی عبادت و اطاعت سے افضل ہے۔ اگرچہ اس کو نوح علیہ السلام کی عمر دے دی گئی ہو۔“ اس لیے ان سے صدورِ گناہ کے وقت اگرچہ سزا وغیرہ میں معاملہ وہی کیا گیا جو اس جرم کے لیے مقرر تھا، مگر اس کے باوجود بعد میں کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو فاسق قرار دے۔ اس لیے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کسی صحابی سے کوئی گناہ موجب فسق سرزد بھی ہو اور اس وقت ان کو فاسق کہا بھی گیا ہو تو اس سے یہ جائز نہیں ہو جاتا کہ اس فسق کو ان کے لیے ہمیشہ کا حکم سمجھ کر معاذ اللہ فاسق کہا جائے۔“ (کذا فی الروح)
خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہو جاؤ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا، اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وه تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں، تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور خوب جان لو کہ تمہارے درمیان رسولِ خدا(ص) موجود ہیں اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم زحمت و مشقت میں پڑ جاؤ گے لیکن اللہ نے ایمان کو تمہارا محبوب بنایا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مرغوب بنایا (آراستہ کیا) اور کفر، فسق اور نافرمانی کو تمہارے نزدیک مبغوض بنایا (اور تم کو ان سے متنفر کیا) یہی لوگ راہِ راست پر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میںمزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت و ادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے، وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں، انہیں تم سے بہت محبت ہے، وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے «النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] یعنی ’ مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے زیادہ خیر اندیش ہیں ‘۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پا سکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:71] یعنی ’ اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے، پرہیزگاری کی جگہ یہ ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6906] اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے۔
مسند احمد میں ہے { احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنأ بیان کروں“، پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لاَ قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلاَ بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلاَ هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلاَ مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلاَ مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ، وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ، وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الإِيمَانَ وَزِيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ، إِلَهَ الْحَقِّ» [نسائی] یعنی ”اے اللہ! تمام تر تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا، تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا، جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں، اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے، اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں، نہ زائل ہوں۔ اللہ! فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا۔ پروردگار! جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے معبود! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر، بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے، ہم رسوا نہ ہوں، ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں۔ اللہ! ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما۔ الٰہی! اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر، اے سچے معبود“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2424/3:صحیح] یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب [عمل الیوم واللیله] میں لائے ہیں۔ مرفوع حدیث میں ہے { جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2165،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔
7۔ 1 جس کا تقاصا یہ ہے کہ ان کی تعظیم اور اطاعت کرو اس لیے کہ وہ تمہاے مصالح زیادہ بہتر جاتنے ہیں کیونکہ ان پر وحی اترتی ہے پس تر ان کے پیچھے چلو ان کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش مت کرو اس لیے کہ اگر وہ تمہاری پسند کی باتیں ماننا شروع کردیں تو اس سے تم خود ہی زیادہ مشقت میں پڑ جاو گے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ) 23۔ المؤمنون:71)۔
(آیت 7) ➊ { وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِيْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ:} ظاہر ہے کہ ہر صحابی یہ جانتا تھا کہ اللہ کا رسول ہم میں موجود ہے، اس کے باوجود فرمایا: ”اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بنفس نفیس موجود ہونے اور آپ کی وفات کے بعد کتاب و سنت کے موجود ہونے کے باوجود جو شخص اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی حدیث سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی بات منوانا چاہتا ہے درحقیقت وہ اس بات سے جاہل ہے کہ ہم میں اللہ کا رسول موجود ہے، ہمیں ہر معاملے میں ان کی بات ماننا چاہیے، کیونکہ اگر اسے یہ بات معلوم ہوتی تو وہ رسول کی اطاعت کرتا اور رسول کو اپنی اطاعت کروانے کی کوشش نہ کرتا۔ سو جس طرح وہ شخص جاہل ہے جو چار دیواری کے باہر سے آپ کو آوازیں دیتا ہے اور وہ شخص جاہل ہے جو کسی فاسق کی لائی ہوئی خبر پر بلاتحقیق کارروائی کر گزرتا ہے، اسی طرح وہ شخص بھی جاہل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی حدیث کے ہوتے ہوئے اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے یہ بتانے کی شدید ضرورت ہے کہ جان لو! تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔ ➋ { لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِلَعَنِتُّمْ:} یعنی رسول کے احکام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اور اس کا ہر حکم علم و حکمت اور رحمت و مصلحت پر مبنی ہے اس لیے رسول کی اطاعت کرنے سے تم ہر طرح کی مشقت اور مصیبت سے بچے رہو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [البقرۃ: ۱۸۵] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور رسول کو بھی تمھارا مشقت میں پڑنا کسی صورت گوارا نہیں، فرمایا: «عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ» [التوبۃ: ۱۲۸] ”اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے۔“ اس کے برعکس اگر رسول تمھاری اطاعت کرے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے، کیونکہ اوّل تو تمھاری سب کی بات ایک نہیں ہو گی، ہر شخص وہ بات منوانے کی کوشش کرے گا جو اس کے خیال میں اس کے فائدے کی ہے، تو رسول کس کس کی بات مانے گا اور کس کی بات کا امت کو حکم دے گا؟ پھر تمھارا علم ناقص ہے، نہ تمھیں مستقبل کی کوئی خبر ہے نہ تم غیب کا علم رکھتے ہو، تمھیں کیا معلوم کہ تم جسے اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رہے ہو وہ انجام کے لحاظ سے کس قدر نقصان دہ ہے۔ اس لیے جس طرح کائنات کا نظام درست اس لیے چل رہا ہے کہ وہ ایک اللہ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے اسی طرح شریعت کا نظام بھی صرف رسول کی اطاعت سے صحیح چل سکتا ہے، کیونکہ اس کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، فرمایا: «وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ» [المؤمنون: ۷۱ ] ”اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، یقینا بگڑ جائیں۔“ ➌ { ” لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ “} میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول بعض تدبیری امور میں تمھارا مشورہ مان بھی لیتا ہے، کیونکہ اسے اللہ کی طرف سے مشورے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» [ آل عمران: ۱۵۹ ] ”سو ان سے درگزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ مگر یاد رکھو! تمھارا کام حکم دینا نہیں، مشورہ دینا ہے، رسول مناسب سمجھے تو مان لے مناسب نہ سمجھے تو نہ مانے، آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے ساتھ اسی نے کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [ آل عمران: ۱۵۹ ] ”پھر جب تو پختہ ارادہ کرے تو اللہ پر بھروسا کر۔“ ➍ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ:} ایمان سے مراد یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے جس میں تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالارکان تینوں شامل ہیں۔ یعنی اگر رسول بہت سی باتوں میں تمھاری اطاعت کرے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ، لیکن اللہ تعالیٰ نے(تمھیں مشکل میں پڑنے سے بچا لیا اور) ایمان یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو تمھارے لیے محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں ایسا مزین کر دیا کہ تم خوش دلی سے رسول کی اطاعت پر کار بند ہو گئے۔ اس لیے بعض اوقات بتقاضائے بشریت تم سے غلطی ہو جاتی ہے مگر ایمان کی محبت اور کفر سے نفرت کی بدولت تم جلد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہو اور گناہوں سے باز رہتے ہو۔ ➎ { وَ كَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْيَانَ:} یعنی کفر، فسوق اور عصیان کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔ رازی نے فرمایا: ”ایمان میں تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالارکان تینوں شامل ہیں۔ کفر دل کی تصدیق نہ ہونا ہے، فسوق زبان سے اقرار نہ کرنا ہے اور عصیان عمل نہ کرنا ہے۔“ شیخ عبد الرحمان السعدی نے فرمایا: ”(کفر کا معنی تو ظاہر ہے) فسوق سے مراد بڑے گناہ (کبائر) اور عصیان سے مراد ان سے کم تر درجے کے گناہ ہیں۔“ (واللہ اعلم) ➏ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ:} یعنی یہ لوگ جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے ان کے دلوں میں مزین کر دیا ہے اور کفر و فسوق و عصیان کو ان کے لیے ناپسندیدہ بنا دیا ہے، یہی لوگ ہیں جو کامل ہدایت والے ہیں۔ ”الف لام“ بیانِ کمال کے لیے ہے اور حصر کا فائدہ بھی دے رہا ہے کہ صحابہ ہی ہدایت پر ہیں، ان کے دشمن اور مخالف گمراہ ہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کی بے حد فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے وہ اوصاف حمیدہ بیان کیے جو اس نے انھیں عطا فرمائے اور آخر میں صریح الفاظ میں ان کے راہِ راست پر ہونے کی شہادت دی۔
ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے احسان وانعام سے اور اللہ دانا اور باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کے فضل و کرم اور اس کے انعام و احسان سے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت و ادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے، وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں، انہیں تم سے بہت محبت ہے، وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے «النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] یعنی ’ مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے زیادہ خیر اندیش ہیں ‘۔ پھر بیان فرمایا کہ ’ لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پا سکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:71] یعنی ’ اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے ‘۔ مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے، پرہیزگاری کی جگہ یہ ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6906] اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے۔
مسند احمد میں ہے { احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنأ بیان کروں“، پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لاَ قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلاَ بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلاَ هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلاَ مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلاَ مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ، وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ، وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الإِيمَانَ وَزِيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ، إِلَهَ الْحَقِّ» [نسائی] یعنی ”اے اللہ! تمام تر تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا، تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا، جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں، اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے، اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں، نہ زائل ہوں۔ اللہ! فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا۔ پروردگار! جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے معبود! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر، بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے، ہم رسوا نہ ہوں، ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں۔ اللہ! ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما۔ الٰہی! اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر، اے سچے معبود“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2424/3:صحیح] یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب [عمل الیوم واللیله] میں لائے ہیں۔ مرفوع حدیث میں ہے { جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2165،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔
8۔ 1 یہ آیت میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت، ان کے ایمان اور ان کے رشد و ہدایت پر ہونے کی واضح دلیل ہے ولو کرہ الکافرون۔
(آیت 8) ➊ {فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً:} یہ {” الرّٰشِدُوْنَ “} کا مفعول لہ ہے، یعنی یہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کی وجہ سے کامل ہدایت والے ہیں۔ یہ {” حَبَّبَ “} اور {” كَرَّهَ “} کا مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے۔ ➋ {وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اندھا دھند نہیں بلکہ اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر انھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا۔ ان کے دلوں میں ایمان کو محبوب و مزین کر دیا، کفر و فسوق اور عصیان کو ناپسندیدہ بنا دیا اور انھیں راہِ راست پر گامزن فرما دیا، کیونکہ وہ ان کی استعداد و اہلیت پوری طرح جانتا تھا اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ انھیں اس مقام پر فائز فرمائے۔
اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر تعدی و زیادتی کرے تو تم سب ظلم وزیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ حکمِ الٰہی کی طرف لوٹ آئے پس اگر وہ لوٹ آئے تو پھر تم ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دونوں کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔ اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ ”میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2704] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6952] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: ”کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا، اس نے اپنے میکے جانا چاہا، خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے۔ عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالاخانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں، خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا، اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے پھر حکم ہوتا ہے ’ دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:صحیح]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:18] پھر فرمایا ’ کل مومن دینی بھائی ہیں ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442] صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے }۔ اور صحیح حدیث میں ہے { جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:87] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے { مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011] ایک اور حدیث میں ہے { مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2446] مسند احمد میں ہے { مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف] پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔
9۔ 1 اور اس صلح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں قرآن و حدیث کی طرف بلایا جائے یعنی ان کی روشنی میں ان کے اختلاف کا حل تلاش کیا جائے۔ 9۔ 2 یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق اپنا اختلاف دور کرنے پر آمادہ نہ ہو بلکہ بغاوت کی روش اختیار کرے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ سب مل کر بغاوت کرنے والے گروہ سے لڑائی کریں تاکہ وہ اللہ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار ہوجائے۔ 9۔ 3 یعنی باغی گروہ بغاوت سے باز آجائے تو پھر عدل کے ساتھ یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرا دی جائے۔
(آیت 9) ➊ {وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا:} فاسق لوگوں کی خبر پر بلاتحقیق اعتماد کر لینے سے کئی دفعہ آپس میں لڑائی ہو جاتی ہے اور کئی دفعہ ہر قسم کی پیش بندی کے باوجود لڑائی ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی کے موقع پر ان لوگوں پر لازم ہے جو اس لڑائی میں شریک نہیں کہ لڑنے والوں کے درمیان صلح کروا دیں۔ ان کے لیے جائز نہیں کہ مسلمانوں کو لڑتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دیں اور تماشا دیکھتے رہیں۔ ➋ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [ أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوْا حَتّٰی تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ فَأُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذٰلِكَ فَقَالَ اذْهَبُوْا بِنَا نُصْلِحْ بَيْنَهُمْ ] [بخاري، الصلح، باب قول الإمام لأصحابہ اذھبوا…: ۲۶۹۳ ] ”قبا میں رہنے والے لڑ پڑے، حتیٰ کہ انھوں نے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ چلو، تاکہ ہم ان کے درمیان صلح کروائیں۔“ اور انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ عبد اللہ بن اُبی کے پاس جائیں تو بہتر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر گئے، مسلمان بھی آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے۔ وہ زمین شور والی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا: ”مجھ سے دور رہو، اللہ کی قسم! تمھارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔“ ایک انصاری صحابی نے کہا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی خوشبو تجھ سے اچھی ہے۔“ عبد اللہ بن اُبی کی طرف سے اس کی قوم کا ایک آدمی غصے میں آ گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، پھر دونوں طرف سے دونوں کے حمایتی مشتعل ہو گئے اور چھڑی، ہاتھا پائی اور جوتوں کے ساتھ ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی: «وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا» [ بخاري، الصلح، باب ما جاء في الإصلاح بین الناس: ۲۶۹۱ ] ➌ قرطبی نے فرمایا: ”طائفہ کا لفظ ایک آدمی پر، دو پر اور زیادہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ {” طَآىِٕفَتٰنِ “} میں لڑنے والے دو آدمی بھی شامل ہیں اور دو جماعتیں بھی، چھوٹی ہوں یا بڑی۔ آیت میں لڑنے والے فریقوں کے درمیان صلح کروانے کا حکم ہے، خواہ دو مسلمان آپس میں لڑ رہے ہوں یا زیادہ۔“ ➍ بعض احادیث میں کسی مسلمان سے لڑنے کو کفر اور لڑنے والوں کو کافر کہا گیا ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَ قِتَالُهُ كُفْرٌ ] [ بخاري، الإیمان، باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ …: ۴۸ ] ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ] [ بخاري، الفتن، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” لا ترجعوا بعدي کفارا… “: ۷۰۷۷ ] ”میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ امام بخاری اور دوسرے ائمہ کرام نے فرمایا کہ آیت: «وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» دلیل ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے کے باوجود مسلمان ہی رہتے ہیں، اسلام سے خارج یا مرتد نہیں ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لڑنے والے دونوں فریقوں کو مومن قرار دیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں بھی فرمایا: «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ» [ الحجرات: ۱۰ ] ”مومن تو (آپس میں) بھائی ہی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔“ اسی طرح آیت قصاص میں قاتل کو مقتول کے وارث کا بھائی قرار دیا، فرمایا: «فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ» [ البقرۃ: ۱۷۸] ”پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کر دیا جائے تو معروف طریقے سے پیچھا کرنا اور اچھے طریقے سے اس کے پاس پہنچا دینا (لازم) ہے۔“ رہا حدیث میں مسلمان سے لڑائی کو کفر قرار دینا تو اس سے وہ کفر مراد نہیں جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، بلکہ اس سے مراد ”کفر دون کفر“ یعنی کفر اکبر (جس سے انسان اسلام سے خارج ہوتا ہے) سے کم تر درجے کا کفر ہے، کیونکہ گناہ کے تمام کام کفر اور جاہلیت ہیں اور ایسے شخص کو کافر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کفر کے کام کا ارتکاب کیا ہے، اس کا ایمان کامل نہیں بلکہ وہ ناقص الایمان مومن ہے، یہ نہیں کہ وہ ملت اسلام سے خارج ہو گیا۔ دلیل اس کی زیر تفسیر آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث ہیں جو امام بخاری نے اپنی صحیح کی ”کتاب الایمان“ میں اور دوسرے ائمہ نے اپنی تصانیف میں بیان فرمائی ہیں۔ اس آیت سے خوارج کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے جو کسی بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو، جس نے توبہ نہ کی ہو، کافر اور ابدی جہنمی سمجھتے ہیں اور معتزلہ کے عقیدے کی بھی جو کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ مومن ہے نہ کافر۔ انجام کے لحاظ سے وہ بھی اسے ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں۔ ➎ {فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى: ” بَغَتْ “ ” بَغٰي يَبْغِيْ بَغْيًا “} (ض) سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم ہے۔ اگر ان دو فریقوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے، یعنی وہ کتاب و سنت کے فیصلے کے مطابق صلح پر اور اختلاف دور کرنے پر آمادہ ہی نہ ہو، بلکہ دوسرے پر چڑھتا چلا جائے اور ظلم و زیادتی پر کمر باندھ لے۔ ➏ { فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ:} تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، کیونکہ اس لڑائی کا حکم اللہ نے دیا ہے، اس لیے یہ واجب ہے اور جہاد کے حکم میں ہے۔ اس حکم کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو طاقت استعمال کرکے زیادتی کا ازالہ کرنے پر قادر ہوں۔ ➐ { حَتّٰى تَفِيْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ: ”تَفِيْءَ“ ”فَائَ يَفِيْئُ فَيْئًا “} (ض) لوٹنا، پلٹنا۔ یہ واحد مؤنث غائب مضارع معلوم ہے۔ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آنے کا مطلب یہ ہے کہ جو بات کتاب و سنت کی رو سے حق ہے باغی گروہ اسے قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باغی گروہ سے لڑتے وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ لڑنے سے مقصود انھیں صلح پر مجبور کرنا ہے، انھیں ختم کرنا یا ان کا نام و نشان مٹانا مقصود نہیں۔ ➑ یہ آیت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے بارے میں شرعی فیصلوں کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں کی آپس میں کوئی بڑی لڑائی نہیں ہوئی، چند موقعوں پر جھگڑا ہوا مگر نوبت ہاتھا پائی اور چھڑی جوتے سے آگے نہیں بڑھی۔ ان آیات کی عملی تفسیر اس وقت سامنے آئی جب علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں۔ اس وقت چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کثیر تعداد میں موجود تھے، جو قرآن و سنت کا علم بعدمیں آنے والے کسی بھی شخص سے زیادہ رکھتے تھے، اس لیے ان کے عمل اور ان کے بیان کردہ احکام سے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے ایک اسوہ اور ضابطہ مرتب ہو گیا۔ اس طرح یہ جنگیں ناگوار اور نہایت تکلیف دہ ہونے کے باوجود خیر سے خالی نہیں رہیں، کیونکہ اگر یہ نہ ہوتیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ بعد میں آنے والے مسلمان آپس کی لڑائیوں میں ایک دوسرے پر کیا کیا ظلم و ستم کرتے۔ اس ضابطے کا ضروری خلاصہ یہ ہے: (1) جب لڑنے والے دو گروہ کسی مسلم حکومت کی رعایا ہوں اور عام مسلمان انھیں صلح پر آمادہ نہ کر سکیں تو ان کے درمیان صلح کرانا یا یہ فیصلہ کرنا کہ ان میں زیادتی کرنے والا گروہ کون ہے، پھر طاقت کے ذریعے سے اس کو حق پر مجبور کرنا حکومت کا فریضہ ہے۔ (2) لڑنے والے دونوں فریق بہت بڑے طاقتور گروہ ہوں، یا دو مسلمان حکومتیں ہوں اور دونوں کی لڑائی دنیا کی خاطر ہو تو اس صورت میں اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ اس فتنے میں حصہ لینے سے قطعی اجتناب کریں اور دونوں فریقوں کو اللہ کا خوف دلا کر جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔ (3) مسلم حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے رعایا کا کوئی گروہ اگر اس کے خلاف خروج کرے تو اس کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں کا متفقہ حکمران موجود ہو اور اس کے خلاف خروج کرنے والوں کے پاس خروج کے لیے شرعی دلیل اور حکمرا ن کا کفر بواح یعنی کھلم کھلا کافر ہو جانا موجود نہ ہو، ایسے گروہ کے خلاف حکومت کی جنگ بالاتفاق جائز ہے اور اس کا ساتھ دینا ایمان والوں پر واجب ہے۔ قطع نظر اس سے کہ حکومت عادل ہو یا نہ ہو، کیونکہ عادل نہ ہونے کا بہانہ بنا کر کوئی بھی گروہ کسی بھی وقت حکومت کے خلاف خروج کر سکتا ہے، جس کا نتیجہ افتراق و انتشار اور کفار کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت دلانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ دوسری قسم ظالم حکمران کے خلاف خروج ہے، جس کی امارت جبراً قائم ہوئی ہو اور جس کے امراء فاسق ہوں اور خروج کرنے والا گروہ عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لیے اٹھا ہو اور اس کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کو وہ نیک لوگ ہیں۔ اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفرِ بواح کا ارتکاب کرے، یعنی کھلم کھلا کافر ہو جائے۔ امام نووی نے اس پر اجماع کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض لوگ ایسے حکمران کے خلاف خروج کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اہلِ بیت کے بعض خروج کرنے والے حضرات کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور بعض فقہاء کا نام بھی لیا جاتا ہے جنھوں نے مسلم حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کو جائز قرار دیا، مگر محدثین اور جمہور فقہاء ان کے اس موقف کو غلط قرار دیتے ہیں، بلکہ اسے یہ موقف رکھنے والوں کے لیے باعثِ طعن قرار دیتے ہیں کہ {”فُلَانٌ كَانَ يَرَي السَّيْفَ“} کہ فلاں صاحب مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کو جائز قرار دیتے تھے۔ امام احمد ابن حنبل اور دوسرے محدثین نے حکمرانوں کے بے حد ظلم و ستم کے باوجود ان کے خلاف نہ خروج کیا نہ خروج کو جائز رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ پوری تاریخ اسلام پڑھ جائیں کسی خروج کے نتیجے میں مسلمانوں کو تَشتُّت و انتشار اور کفار سے جہاد کے رک جانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، خواہ حکمران عادل تھا یا ظالم۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کے سامنے حق کہنے اور ان کو نصیحت کرنے کی تلقین فرمائی، مگر ان کے خلاف خروج سے سختی کے ساتھ منع فرما دیا۔ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں، ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ رَأٰی مِنْ أَمِيْرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوْتُ إِلاَّ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً ] [بخاري، الأحکام، باب السمع والطاعۃ للإمام ما لکم تکن معصیۃ: ۷۱۴۳ ] ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی چیز دیکھے جو اسے بری لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جو بھی شخص جماعت سے ایک بالشت جدا ہوا پھر فوت ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ فِيْمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيْ مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَ أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللّٰهِ فِيْهِ بُرْهَانٌ ] [بخاري، الفتن، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” سترون بعدي أمور تنکرونھا “: ۷۰۵۵،۷۰۵۶ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعوت دی تو ہم نے آپ سے بیعت کی۔ آپ نے ہم سے جو عہد لیا اس میں یہ تھا کہ ہم نے بیعت کی سننے اور اطاعت کرنے پر، اپنی خوشی اور ناخوشی میں اور اپنی تنگی اور آسانی میں اور اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیے جانے پر بھی اور اس بات پر کہ ہم صاحب امر (حکمران) سے امارت میں جھگڑا نہیں کریں گے، الا یہ کہ تم صریح کفر دیکھو، جس کے متعلق تمھارے پاس اللہ کے ہاں واضح دلیل ہو۔“ (4) علی رضی اللہ عنہ کا عمل اپنے خلاف جنگ کرنے والوں کو باغی سمجھنے اور ان سے لڑنے کے باوجود یہ تھا کہ وہ مسلمان ہیں، ان کے زخمیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہیں کیا جائے گا، ان کے اسیروں کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام نہیں بنایا جائے گا، بلکہ ان کی آبرو کی حفاظت کی جائے گی اور ان کا مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں دونوں فریق ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے اور ایک دوسرے کا جنازہ پڑھتے تھے۔ احکام کی تفصیل اور دلائل کے لیے دیکھیے ”المغنی“ از ابن قدامہ میں {”كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ“} اور دوسری کتب فقہ۔ ➒ { فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ:} زیادتی کرنے والے گروہ کے اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آنے پر دونوں گروہوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کروانے کا حکم دیا، یہ نہیں کہ کسی فریق کی بے جا رعایت کرکے اور دوسرے کو دبا کر صرف لڑائی روکنے کے لیے صلح کروائی جائے، کیونکہ ایسی صلح نہ پائیدار ہوتی ہے، نہ اس سے آئندہ کے لیے لڑائی کا دروازہ بند ہوتا ہے۔ اس لیے ایک فریق پر دوسرے کا جو حق ثابت ہوتا ہے وہ اسے دلا کر عدل کے ساتھ صلح کروانی چاہیے۔ ➓ {وَ اَقْسِطُوْا:} یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے فرمایا، دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کروا دو، پھر دوبارہ {” اَقْسِطُوْا “} کہنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ لڑائی کے موقع پر بعض لڑنے والوں کے خلاف دل میں شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے انسان درست فیصلہ نہیں کر سکتا، اس لیے تاکید کے لیے دوبارہ انصاف کا حکم دیا اور انصاف کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نوید سنائی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ پہلے جملے میں لڑنے والوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کروانے کا حکم ہے اور {” اَقْسِطُوْا “} میں اپنے تمام معاملات میں انصاف سے کام لینے کا حکم ہے۔ انصاف کیا ہے؟ اس کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۹۰) کی تفسیر۔ ⓫ { اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ:} ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ، إِمَامٌ عَدْلٌ… ] [ بخاري، الزکوٰۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳ ] ”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ (سب سے پہلے جس کا ذکر فرمایا وہ ہے) عادل حکمران…۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْمُقْسِطِيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ عَنْ يَمِيْنِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِيْنٌ الَّذِيْنَ يَعْدِلُوْنَ فِيْ حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيْهِمْ وَمَا وَلُوْا ] [ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الإمام العادل…: ۱۸۲۷ ] ”انصاف کرنے والے اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمان عز و جل کی دائیں جانب ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں میں اور جس کے ذمہ دار ہیں سب میں انصاف کرتے ہیں۔“
مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
احمد رضا خان بریلوی
مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اہلِ اسلام و ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو تم اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اللہ (کی عصیاں کاری) سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔ اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ ”میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2704] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6952] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: ”کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا، اس نے اپنے میکے جانا چاہا، خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے۔ عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالاخانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں، خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا، اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے پھر حکم ہوتا ہے ’ دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:صحیح]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:18] پھر فرمایا ’ کل مومن دینی بھائی ہیں ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442] صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے }۔ اور صحیح حدیث میں ہے { جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:87] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے { مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011] ایک اور حدیث میں ہے { مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2446] مسند احمد میں ہے { مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف] پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔
10۔ 1 یہ پچھلے حکم کی ہی تاکید ہے یعنی جب مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہوئی اس لیے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و باز و ہمدرد وغم گسار اور مونس و خیر خواہ بن کر رہیں اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بعد اور نفرت پیدا ہوجائے تو اسے دور کر کے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے مزید دیکھئے (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ) 9۔ التوبہ:17) 10۔ 1 اور ہر معاملے میں اللہ سے ڈرو، شاید اس کی وجہ سے تم اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پا جاؤ۔ ورنہ اللہ کی رحمت تو اہل ایمان و تقوٰی کے لئے یقینی ہے۔
(آیت 10) ➊ {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ:} لڑائی سے باز رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ لڑنے والوں کو قرابت کا احساس دلانا ہے کہ دیکھو تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اپنے ہی بھائی سے، یہ کتنی بری بات ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی دینی قرابت کا احساس دلایا، جو نسبی قرابت سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے جو لوگ نسبی قرابت کے باوجود ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے، جیسا کہ اوس اور خزرج کا معاملہ تھا، اللہ کی نعمت سے اسلام کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔ (دیکھیے آل عمران:۱۰۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ ] [ بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ: ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔“ ➋ {فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ: ”أَخٌ“} کا تثنیہ {”أَخَوَانِ“} اور {”أَخَوَيْنِ“} ہے جو {”كُمْ“} کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گر گیا اور {”أَخَوَيْ“} باقی رہا جو {”كُمْ“} کے ساتھ مل کر {” اَخَوَيْكُمْ “} ہو گیا، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دو، وہ دو خواہ ایک ایک فرد ہوں یا ایک ایک جماعت ہوں۔ ➌ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} یعنی صلح کرواتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا رہے ہو، جن کا تمھارے ساتھ بھی اخوت کا رشتہ ہے۔ لہٰذا اس رشتے کا خیال رکھو اور پوری طرح عدل و انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس طرح صلح کرواؤ کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فریضہ سرانجام دو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ {”لَعَلَّ“} کا لفظ امید دلانے کے لیے ہوتا ہے، مگر بڑے لوگوں کے کلام میں اس سے یقین حاصل ہوتا ہے، کیونکہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرنا ان کی شان کے لائق نہیں ہوتا۔ پھر جو شاہوں کا شاہ اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ امید دلائے تو اس کے یقینی ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اس کے علاوہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رحم انھی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس لیے بھائیوں کے درمیان صلح کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور عدل کے ساتھ صلح کرواؤ، تاکہ تم پر اللہ کا رحم ہو۔ ➍ یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک برادری میں منسلک کر دیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں ہو، دوسرے سب مسلمان اسے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے سوا ایسا رشتہ اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ (کیلانی)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کامذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کامذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب کے ساتھ پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق کہلانا کتنا برا نام ہے اور جو توبہ نہیں کریں گے (باز نہیں آئیں گے) وہی لوگ ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ کوئی عورتیں دوسری عورتوں سے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں کے ساتھ پکارو، ایمان کے بعد فاسق ہونا برا نام ہے اور جس نے توبہ نہ کی سو وہی اصل ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے { تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:91] اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ ’ جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو ‘۔ مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہً عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ» ۱؎ [104-الهمزة:1] یعنی ’ ہر طعنہ باز عیب جو کے لیے خرابی ہے ‘۔ «هُمَزَ» فعل سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَةِ» قول سے۔ ایک اور آیت میں ہے «هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:11] یعنی ’ وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو۔ ‘ ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا۔ یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، جیسے فرمایا: «وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:29] یعنی ’ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/11:] پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو، نہ اس کو برا نام دو۔ مسند احمد میں ہے کہ { یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے، یا رسول اللہ! یہ اس سے چڑتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4962،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہے کہ ’ ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہیئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے ‘۔
11۔ 1 ایک شخص دوسرے کسی شخص کا استہزا یعنی اس سے مسخرا پن اسی وقت کرتا ہے جب وہ اپنے کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں ایمان وعمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور کون نہیں۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے اپنے کو بہتر اور دوسرے کو کم تر سمجنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے بنا بریں آیت میں اس سے منع فرما دیا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ عورتوں میں یہ اخلاقی بیماری زیادہ ہوتی ہے اس لیے عورتوں کا الگ ذکر کر کے انہیں بھی بظور خاص اس سے روک دیا گیا ہے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کے حقیر سمجھنے کو کبر سے تعبیر کیا گبا ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس اور کبر اللہ کو نہایت ہی ناپسند ہے۔ 11۔ 2 یعنی ایک دوسرے پر طعنہ زنی مت کرو، مثلاً تو فلاں کا بیٹا ہے، تیری ماں ایسی ویسی ہے، تو فلاں خاندان کا ہے نا وغیرہ۔ 11۔ 3 یعنی اپنے طور پر استزاء اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا یہ تنابز بالالقاب ہے جس کی یہاں ممانعت کی گئی ہے 11۔ 4 یعنی اس طرح نام بگاڑ کر یا برے نام تجریز کر کے بلانا یا قبول اسلام اور توبہ کے بعد اسے سابقہ دین یا گناہ کی طرف منسوب کر کے خطاب کرنا مثلا اے کافر اے زانی یا شرابی وغیرہ یہ بہت برا کام ہے الاسم یہاں الذکر کے معنی میں ہے یعنی بئس الاسم الذی یذکر بالفسق بعد دخولھم فی الایمان فتح القدیر۔ البتہ اس سے بعض وہ صفاتی نام بعض حضرات کے نزدیک مستثنی ہیں جو کسی کے لیے مشہور ہوجائیں اور وہ اس پر اپنے دل میں رنج بھی محسوس نہ کریں جیسے لنگڑے پن کی وجہ سے کسی کا نام لنگڑا پڑجائے کالے رنگ کی بنا پر کا لیا یا کالو مشہور ہوجائے وغیرہ۔ القرطبی۔
(آیت 11) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی صورت میں ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا، اس سے پہلے بلاتحقیق خبر پر عمل سے منع فرمایا تھا، کیونکہ اس سے لڑائی پیدا ہو سکتی ہے اور لاعلمی میں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں سے مزید ان چیزوں سے منع فرمایا جو اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باہمی عداوت اور لڑائی کا باعث بنتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی تین چیزیں ذکر فرمائیں: (1) کسی کا مذاق اڑانا۔ (2) کسی پر عیب لگانا۔ (3) کسی کو برے لقب سے پکارنا۔ ➋ { لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ: ”سَخِرَ يَسْخَرُ سَخَرًا وَسَخْرًا وَ سُخْرًا وَ سِخْرًا وَ سُخْرَةً و مَسْخَرًا بِهٖ وَ مِنْهُ “} (ع) استہزا، مذاق اڑانا، ٹھٹھا کرنا، وہ ہنسی جس سے دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری ہو۔ وہ ہنسی جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح کہلاتی ہے، وہ جائز ہے بلکہ مسنون ہے۔ کشاف میں ہے: ”قوم کا لفظ مردوں کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ مرد عورتوں کے ”قوام“ ہوتے ہیں، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے: {وَلَا أَدْرِيْ وَ سَوْفَ إِخَالُ أَدْرِيْ أَقَوْمٌ آلُ حِصْنٍ أَمْ نِسَاءُ} ”اور میں نہیں جانتا اور میرا خیال ہے کہ میں جلد ہی جان لوں گا کہ آلِ حصن قوم (یعنی مرد) ہیں یا عورتیں۔“ یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے، کیونکہ قوم کو ٹھٹھا کرنے سے منع کرنے کے بعد عورتوں کو اس سے منع فرمایا ہے۔ رہی یہ بات کہ قرآن میں مذکور قومِ فرعون اور قومِ ثمود وغیرہ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں تو اصل یہ ہے کہ وہاں مردوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، کیونکہ عورتیں ان کے تابع ہیں۔ ➌ پہلی چیز جس سے منع فرمایا وہ کسی کا مذاق اڑانا یا تمسخر ہے، کیونکہ اس سے دلوں میں شدید بغض پیدا ہوتا ہے۔ جس کا مذاق اڑایا جائے وہ اسے اپنی تذلیل سمجھ کر ہر وقت انتقام کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور ظاہر ہے انتقام میں بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے۔ کوئی شخص کسی کا ٹھٹھا اسی وقت اڑاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے اور یہ سمجھنا تکبر ہے، جس پر شدید وعید آئی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو(تو کیا یہ بھی تکبر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ یہاں قوم کو قوم کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا، کیونکہ عموماً کسی مجلس ہی میں کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ورنہ اکیلے کا مذاق اڑانا بھی منع ہے۔ ➍ { عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ:} مذاق اڑانے سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی کہ جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو، ہو سکتا ہے وہ اللہ کے ہاں تم سے بہتر ہو، کیونکہ اچھا یا برا ہونے کا دارومدار ظاہری شکل و صورت پر نہیں، بلکہ دل کے تقویٰ پر ہے اور اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ پھر دار و مدار موجودہ حالت پر نہیں بلکہ خاتمے پر ہے، تمھیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ تم سے اچھا ہو جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو۔ ➎ { وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ:} قرآن مجید میں عموماً احکام کے لیے مردوں ہی کو مخاطب کیا گیا ہے، عورتوں کا ذکر تابع ہونے کی وجہ سے الگ نہیں کیا گیا۔ یہاں عورتوں کو الگ بھی خطاب فرمایا، اس سے ظاہر ہے کہ عورتوں کو اس گناہ سے روکنے کی خاص ضرورت ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں مردوں کو مردوں سے اور عورتوں کو عورتوں سے ٹھٹھا کرنے سے منع فرمایا تو کیا مرد عورتوں سے یا عورتیں مردوں سے ٹھٹھا کر سکتی ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کے ملے جلے معاشرے کی گنجائش ہی نہیں، جس میں وہ ایک دوسرے کا بے تکلف مذاق اڑا سکیں۔ یہاں مردوں اور عورتوں کی مجلسیں الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے دونوں کو الگ الگ منع فرمایا۔ ➏ مذاق خواہ زبان کے ساتھ اڑایا جائے یا کسی کے نقص کی طرف اشارہ کرکے یا نقل اتار کر، ہر طرح کا مذاق حرام ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: [ حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِيْ قَصِيْرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ قَالَتْ وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنِّيْ حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَ إِنَّ لِيْ كَذَا وَكَذَا] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۵، وقال الألباني صحیح ] ”آپ کو صفیہ سے یہی کچھ کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔“ مسدد کے علاوہ دوسرے راوی نے وضاحت کی کہ مراد ان کے قد کا چھوٹا ہونا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر سمندر کے پانی میں ملا دی جائے تو سارے پانی کو خراب کر دے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا: ”اور میں نے آپ کے سامنے کسی انسان کی نقل اتاری (تو اس کا کیا حکم ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں، خواہ مجھے یہ یہ کچھ مل جائے۔“ ➐ { وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ: ”لَمَزَ يَلْمِزُ لَمْزًا“} (ض،ن)کسی پر عیب لگانا، خفی کلام کے ساتھ آنکھ کا اشارہ کرنا، دھکا دینا، مارنا۔ مزید دیکھیے سورۂ ہمزہ کی آیت (۱): «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کسی پر عیب نہ لگاؤ، یہ فرمایا کہ اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ» [النساء: ۲۹] ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔“ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تمام مسلمان {”كَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ“} (ایک جسم کی مانند) ہیں، عیب لگانے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب وہ کسی مسلم بھائی پر عیب لگا رہا ہے تو درحقیقت وہ اپنے آپ ہی پر عیب لگا رہا ہے، سو اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب یہ دوسروں پر عیب لگائے گا تو عیب سے خالی تو یہ بھی نہیں اور دوسروں کی آنکھیں بھی ہیں اور زبان بھی، پھر اس کے عیوب بھی ظاہر کیے جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اپنے آپ پر عیب مت لگاؤ۔“ اس آیت میں لوگوں کے سامنے کسی کے عیب ظاہر کرنے اور ان کا طعنہ دینے سے منع فرمایا، اگلی آیت میں کسی کی عدم موجودگی میں اس کے عیب ذکر کرنے یعنی غیبت سے بھی منع کیا۔ صرف ایک بات کی اجازت ہے اور وہ ہے نصیحت کہ اپنے بھائی کو الگ لے جا کر اسے اس کی غلطی بتا کر درست کرنے کی نصیحت کرے، جس طرح آئینہ غلطی بتاتا ہے مگر شور نہیں ڈالتا۔ لوگوں کے سامنے کسی مسلم کے منہ پر یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے عیب کا اظہار کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِيْ حَاجَةِ أَخِيْهِ كَانَ اللّٰهُ فِيْ حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُّسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ: ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں ہو اللہ اس کے کام میں ہوتا ہے اور جو کسی مسلم سے کوئی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف اس سے دور فرمائے گا اور جو کسی مسلم پر پردہ ڈالے، اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈالے گا۔“ ➑ { وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ: ”اَلنَّبَزُ“} (نون اور باء کے فتحہ کے ساتھ) برے لقب کو کہتے ہیں، مثلاً لنگڑا، لولا، اندھا، کالا، ٹھگنا، کبڑا، گدھا، لومڑ یا کوئی بھی نام جس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو، مثلاً کسی سے کوئی گناہ ہوا ہو، تائب ہونے کے بعد عار دلانے کے لیے اسے چور یا زانی یا شرابی کہہ کر پکارنا۔ لقب ایسے نام کو کہتے ہیں جس سے کسی خوبی یا خامی کا اظہار ہوتا ہو، خواہ آدمی نے خود اپنے لیے رکھ لیا ہو یا کسی دوسرے نے رکھ دیا ہو۔ یہاں {” وَ لَا تَنَابَزُوْا “} کے قرینے سے لقب سے مراد برا نام ہے، کیونکہ اچھے القاب سے پکارنا تو قابلِ تعریف ہے، جیسے ابوبکر صدیق، عمر فاروق، حمزہ اسد اللہ، خالد سیف اللہ، ابوعبیدہ امین الامت، حذیفہ صاحب سر رسول اللہ، عبد اللہ بن مسعود صاحب المطہرۃ والوسادۃ والنعلین(رضی اللہ عنھم)۔ اس کے علاوہ عرب کا طریقہ اکرام کرتے ہوئے کنیت کے ساتھ پکارنے کا تھا، جسے اسلام نے برقرار رکھا۔ مومن کا حق یہ ہے کہ اسے اس نام سے پکارا جائے جو اسے اپنے لیے سب سے زیادہ پسند ہو، کیونکہ یہ محبت پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کا باعث ہے۔ {” وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ “} یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کا برا نام نہ رکھے جس سے وہ ناراض ہو، یا اس کی توہین و تذلیل ہوتی ہو اور نہ ایسے نام کے ساتھ اسے آواز دے کر پکارے۔ جاہلیت میں یہ بات عام تھی کہ ایک شخص نے دوسرے کا برا لقب رکھا تو اس نے اس کا رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”آیت: «وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ» ہم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو دو، تین تین نام تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو کوئی نام لے کر بلاتے تو لوگ کہتے: ”یا رسول اللہ! اسے اس نام سے نہ بلائیں، کیونکہ وہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔“ تو اس پر یہ آیت: «وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ» اتری۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الألقاب:۴۹۶۲ ] ➒ اس حکم سے وہ القاب مستثنیٰ ہیں جو کسی کی پہچان بن چکے ہوں، نہ اس نام والا اسے برا سمجھتا ہو اور نہ اس سے مقصود تحقیر یا تذلیل ہو، بلکہ مقصود صرف تعارف ہو، جیسے سلیمان الاعمش (چندھیائی ہوئی آنکھوں والا)، واصل الاحدب (کبڑا)، حمید الطویل (لمبا)، ابوہریرہ اور ذوالیدین وغیرہ۔ ➓ { بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ:} اس سے معلوم ہوا کہ اوپر جن چیزوں سے روکا گیا ہے وہ سب فسوق ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان کاموں کا ارتکاب کرے وہ مومن ہونے کے باوجود فاسق ہے اور یہ بہت بری بات ہے کہ آدمی کا نام فاسق رکھا جائے، اس کے بعد کہ اس کا نام مومن ہے۔ {” بَعْدَ الْاِيْمَانِ “} (ایمان کے بعد) اس لیے فرمایا کہ اگر تم ایمان کا شرف حاصل نہ کر چکے ہوتے تو فاسق یا بدمعاش کہلانے میں عار کی کوئی خاص بات نہ تھی، لیکن اب ایمان لے آنے کے بعد یہ نام تم پر آنا بہت بری بات ہے۔ تمھیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اب تم وہ ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَ زَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْيَانَ» [ الحجرات: ۷ ] ”اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔“ تو تمھیں ہر ایسے کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے تم پر فسق کا نام آئے۔ ⓫ {وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ:} ”الف لام“ کمال کا ہے، یعنی اگرچہ جو بھی گناہ کرے ظالم ہے مگر توبہ سے اس ظلم کی تلافی ہو جاتی ہے۔ اصل ظالم وہی ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور توبہ کیے بغیر فوت ہو جاتے ہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو (بچو) کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو اور کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھا ئے؟ اس سے تمہیں کراہت آتی ہے اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بےشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمان سے بچو، یقینا بعض گمان گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کرو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے، جب کہ وہ مردہ ہو، سو تم اسے نا پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیئے۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر۔“ ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تو کتنا پاک گھر ہے؟، تو کیسی بڑی حرمت والا ہے؟، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ مومن کی حرمت اس کے مال اور اس کی جان کی حرمت اور اس کے ساتھ نیک گمان کرنے کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بہت بڑی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3932،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں ہی ہے۔
صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بدگمانی سے بچو، گمان سب سے بڑی جھوٹی بات ہے، بھید نہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کی ٹوہ حاصل کرنے کی کوشش میں نہ لگ جایا کرو، حسد بغض اور ایک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچو، سب مل کر اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو سہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6066] مسلم وغیرہ میں ہے { ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جایا کرو، ایک دوسرے سے میل جول ترک نہ کر لیا کرو، ایک دوسرے کا حسد بغض نہ کیا کرو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے آپس میں دوسرے کے بھائی بند ہو کر زندگی گزارو۔ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال اور میل جول چھوڑ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6564] طبرانی میں ہے کہ { تین خصلتیں میری امت میں رہ جائیں گی فال لینا، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا، ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ان کا تدارک کیا ہے؟ فرمایا: ”جب حسد کرے تو استغفار کر لے، جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کر اور جب شگون لے خواہ نیک نکلے، خواہ بد اپنے کام سے نہ رک اسے پورا کر“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3727:ضعیف] ابوداؤد میں ہے کہ { ایک شخص کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ڈاڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”ہمیں بھید ٹٹولنے سے منع فرمایا گیا ہے اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو گئی تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں }۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:4890،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { عقبہ کے کاتب وحین کے پاس ابولہیثم گئے اور ان سے کہا کہ میرے پڑوس میں کچھ لوگ شرابی ہیں میرا ارادہ ہے کہ میں داروغہ کو بلا کر انہیں گرفتار کرا دوں، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرنا بلکہ انہیں سمجھاؤ بجھاؤ ڈانٹ ڈپٹ کر دو، پھر کچھ دنوں کے بعد آئے اور کہا: وہ باز نہیں آتے اب تو میں ضرور داروغہ کو بلاؤں گا آپ نے فرمایا: افسوس! افسوس! تم ہرگز ہرگز ایسا نہ کرو، سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ داری کرے اسے اتنا ثواب ملے گا جیسے کسی نے زندہ درگور کردہ لڑکی کو بچا لیا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4891،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد میں ہے { سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اگر تو لوگوں کے باطن اور ان کے راز ٹٹولنے کے درپے ہو گا تو، تو انہیں بگاڑ دے گا“، یا فرمایا ”ممکن ہے تو انہیں خراب کر دے۔“ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس حدیث سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت فائدہ پہنچایا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4888،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { امیر اور بادشاہ جب اپنے ماتحتوں اور رعایا کی برائیاں ٹٹولنے لگ جاتا ہے اور گہرا اترنا شروع کر دیتا ہے تو انہیں بگاڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4889،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو یعنی برائیاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو تاک جھانک نہ کیا کرو۔ اسی سے جاسوس ماخذ ہے «تجسس» کا اطلاق عموماً برائی پر ہوتا ہے اور «تحسس» کا اطلاق بھلائی ڈھونڈنے پر۔ جیسے یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں «يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [12-یوسف:87] ، بچو تم جاؤ اور یوسف کو ڈھونڈو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اور کبھی کبھی ان دونوں کا استعمال شر اور برائی میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے { نہ «تجسس» کرو، نہ «تحسس» کرو، نہ حسد و بغض کرو، نہ منہ موڑو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ }۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تجسس» کہتے ہیں کسی چیز میں کرید کرنے کو اور «تحسس» کہتے ہیں ان لوگوں کی سرگوشی پر کان لگانے کو جو کسی کو اپنی باتیں سنانا نہ چاہتے ہوں۔ اور «تدابر» کہتے ہیں ایک دوسرے سے رک کر آزردہ ہو کر قطع تعلقات کرنے کو۔ پھر غیبت سے منع فرماتا ہے، ابوداؤد میں ہے { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! غیبت کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو“، تو کہا گیا اگر وہ برائی اس میں ہو جب بھی؟ فرمایا: ”ہاں! غیبت تو یہی ہے ورنہ بہتان اور تہمت ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد میں ہے { ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ صفیہ تو ایسی ایسی ہیں، مسدد راوی کہتے ہیں یعنی کم قامت، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسی بات کہی ہے کہ سمندر کے پانی میں اگر ملا دی جائے تو اسے بھی بگاڑ دے“ }۔ { اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص کی کچھ ایسی ہی باتیں بیان کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے پسند نہیں کرتا مجھے چاہے ایسا کرنے میں کوئی بہت بڑا نفع بھی مل جائے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4875،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ { ایک بی بی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئیں جب وہ جانے لگیں تو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے کہا کہ یہ بہت پست قامت ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کی غیبت کی“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:395/11] الغرض غیبت حرام ہے اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا: ”یہ بہت برا آدمی ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6054] اور جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”معاویہ مفلس شخص ہے اور ابوالجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480] یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کا مانگا ڈالا تھا اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔ اسی لیے یہاں فرمایا کہ ’ جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیئے ‘۔ جیسے حدیث میں ہے { اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لیے لائق نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2622] حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے { تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:67]
ابوداؤد میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”مسلمان کا مال اس کی عزت اور اس کا خون مسلمان پر حرام ہے انسان کو اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حقارت کرے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564] اور حدیث میں ہے { اے وہ لوگو! جن کی زبانیں تو ایمان لا چکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے، تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو، یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4880،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ { اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نشین عورتوں کے کانوں میں بھی اپنی آواز پہنچائی اور اس خطبہ میں اوپر والی حدیث بیان فرمائی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1675:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا ”تیری حرمت و عظمت کا کیا ہی کہنا ہے لیکن تجھ سے بھی بہت زیادہ حرمت ایک ایماندار شخص کی اللہ کے نزدیک ہے }۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:5763،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ابوداؤد میں ہے { جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اسی جیسی پوشاک جہنم کی پہنائی جائے گی اور جو شخص کسی دوسرے کی بڑائی دکھانے سنانے کو کھڑا ہوا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھاوے سناوے کے مقام میں کھڑا کر دے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4881،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”معراج والی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے ہیں میں نے پوچھا کہ جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے }۔ [سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { لوگوں کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معراج والی رات میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جن میں مرد و عورت دونوں تھے کہ فرشتے ان کے پہلوؤں سے گوشت کاٹتے ہیں اور پھر انہیں اس کے کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ اسے چبا رہے ہیں، میرے سوال پر کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طعنہ زن، غیبت گو، چغل خور تھے، انہیں جبراً آج خود ان کا گوشت کھلایا جا رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/22:ضعیف] یہ حدیث بہت مطول ہے اور ہم نے پوری حدیث سورۃ سبحٰن کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» مسند ابوداؤد طیالسی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب تک میں نہ کہوں کوئی افطار نہ کرے“، شام کو لوگ آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دیتے اور وہ افطار کرتے، اتنے میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! دو عورتوں نے روزہ رکھا تھا جو آپ ہی کے متعلقین میں سے ہیں انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ روزہ کھول لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ روزے سے نہیں ہیں، کیا وہ بھی روزے دار ہو سکتا ہے؟ جو انسانی گوشت کھائے، جاؤ انہیں کہو کہ اگر وہ روزے سے ہیں تو قے کریں۔“ چنانچہ انہوں نے قے کی جس میں خون جمے کے لوتھڑے نکلے اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اسی حالت میں مر جاتیں تو آگ کا لقمہ بنتیں“ }۔ ۱؎ [مسند طیالسی:2107:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے اور متن بھی غریب ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ { اس شخص نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! ان دونوں عورتوں کی روزے میں بری حالت ہے، مارے پیاس کے مر رہی ہیں اور یہ دوپہر کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی پر اس نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو مر گئی ہوں گی یا تھوڑی دیر میں مر جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں بلا لاؤ“، جب وہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا مٹکا ایک کے سامنے رکھ کر فرمایا: ”اس میں قے کر“، اس نے قے کی تو اس میں پیپ خون جامد وغیرہ نکلی جس سے آدھا مٹکا بھر گیا پھر دوسری سے قے کرائی اس میں بھی یہی چیزیں اور گوشت کے لوتھڑے وغیرہ نکلے اور مٹکا بھر گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دیکھو حلال روزہ رکھے ہوئے تھیں اور حرام کھا رہی تھیں دونوں بیٹھ کر لوگوں کے گوشت کھانے لگی تھیں“ (یعنی غیبت کر رہی تھیں) }۔ ۱؎ [مسند احمد:431/5:ضعیف]
مسند حافظ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ کہہ چکے، پھر پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تو نے زنا کیا ہے؟“، جواب دیا ہاں، فرمایا: ”جانتا ہے زنا کسے کہتے ہیں؟“، جواب دیا، ہاں! جس طرح انسان اپنی حلال عورت کے پاس جاتا ہے اسی طرح میں نے حرام عورت سے کیا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تیرا مقصد کیا ہے؟“ کہا: یہ کہ آپ مجھے اس گناہ سے پاک کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسی طرح دخول کیا تھا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور لکڑی کنویں میں؟“، کہا: ہاں، یا رسول اللہ!، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے یعنی پتھراؤ کرنے کا حکم دیا چنانچہ یہ رجم کر دئے گئے }۔ [سنن ابوداود:4419،قال الشيخ الألباني:صحيح دون قوله لعله أن] { اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسے دیکھو اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس نے اپنے تئیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ کتے کی طرح پتھراؤ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنتے ہوئے چلتے رہے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے فرمایا: ”فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟ وہ سواری سے اتریں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں“، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ شخص جسے تم نے برا کہا تھا وہ تو اب اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے“ }، اس کی اسناد صحیح ہے۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7164:ضعیف] مسند احمد میں ہے { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نہایت سڑی ہوئی مرداری بو والی ہوا چلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو، یہ بو کس چیز کی ہے؟ یہ بدبو ان کی ہے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں“ }۔ اور روایت میں ہے کہ { منافقوں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ بدبودار ہوا وہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:351/3:قال الشيخ الألباني:صحیح]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک سفر میں دو شخصوں کے ساتھ تھے جن کی یہ خدمت کرتے تھے اور وہ انہیں کھانا کھلاتے تھے ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ سو گئے تھے اور قافلہ آگے چل پڑا۔ پڑاؤ ڈالنے کے بعد ان دونوں نے دیکھا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نہیں تو اپنے ہاتھوں سے انہیں خیمہ کھڑا کرنا پڑا اور غصہ سے کہا: سلمان تو بس اتنے ہی کام کا ہے کہ پکی پکائی کھا لے اور تیار خیمے میں آ کر آرام کر لے۔ تھوڑی دیر بعد سلمان رضی اللہ عنہ پہنچے ان دونوں کے پاس سالن نہ تھا تو کہا: تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے سالن لے آؤ۔ یہ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے میرے دونوں ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ اگر آپ کے پاس سالن ہو تو دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سالن کا کیا کریں گے؟ انہوں نے تو سالن پا لیا“، سلمان واپس گئے اور جا کر ان سے یہ بات کہی وہ اٹھے اور خود حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس تو سالن نہیں، نہ آپ نے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مسلمان کے گوشت کا سالن کھا لیا جبکہ تم نے انہیں یوں کہا“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ» ۱؎ [49-الحجرات:12] اس لیے کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور یہ ان کی غیبت کر رہے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:102/6:ضعیف] مختار ابوضیاء میں تقریبًا ایسا ہی واقعہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے اس خادم کا گوشت تمہارے دانتوں میں اٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں“، اور ان کا اپنے غلام سے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور ان کا کھانا تیار نہیں کیا تھا صرف اتنا ہی کہنا مروی ہے کہ ”یہ تو بڑا سونے والا ہے“، ان دونوں بزرگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ ہمارے لیے استغفار کریں }۔ ۱؎ [المختارۃ للمقدسی:71/5:حسن] ابو یعلیٰ میں ہے { جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا (یعنی اس کی غیبت کی) قیامت کے دن اس کے سامنے وہ گوشت لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جیسے اس کی زندگی میں تو نے اس کا گوشت کھایا تھا اب اس مردے کا گوشت بھی کھا۔ اب یہ چیخے گا چلائے گا ہائے وائے کرے گا اور اسے جبراً وہ مردہ گوشت کھانا پڑے گا۔ } یہ روایت بہت غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کا لحاظ کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جاؤ اور اس سے ڈرتے رہا کرو۔ جو اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو اس پر بھروسہ کرے اس کی طرف رجوع کرے وہ اس پر رحم اور مہربانی فرماتا ہے۔ جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے۔ بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولاً بدلہ ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے { جو شخص اس وقت کسی مومن کی حمایت کرے جبکہ کوئی منافق اس کی مذمت بیان کر رہا ہو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو قیامت والے دن اس کے گوشت کو نار جہنم سے بچائے گا اور جو شخص کسی مومن پر کوئی ایسی بات کہے گا جس سے اس کا ارادہ اسے مطعون کرنے کا ہو اسے اللہ تعالیٰ پل صراط پر روک لے گا یہاں تک کہ بدلا ہو جائے }۔ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4883،قال الشيخ الألباني:حسن] ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی مسلمان کی بےعزتی ایسی جگہ میں کرے جہاں اس کی آبرو ریزی اور توہین ہوتی ہو تو اسے بھی اللہ تعالیٰ ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کا طالب ہو اور جو مسلمان ایسی جگہ اپنے بھائی کی حمایت کرے اللہ تعالیٰ بھی ایسی جگہ اس کی نصرت کرے گا }۔ [سنن ابوداود:4884،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
12۔ 1 ظن کے معنی ہیں گمان کرنا مطلب ہے کہ اہل خیر واہل اصلاح وتقوی کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بےاصل ہوں اور تہمت وافترا کے ضمن میں آتے ہوں اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے اور حدیث میں اس کو اکذب الحدیث سب سے بڑا جھوٹ کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ایاکم والظن البخاری کتاب الادب باب یا ایھا الذین امنو اجتنبو امنو اجتنبوا کثیرا من الظن صحیح مسلم ورنہ فسق و فجور میں مبتلا لوگوں سے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور ان کے گناہوں پر بدگمانی رکھنا یہ وہ بدگمانی نہیں ہے جسے یہاں گناہ کہا گیا ہے اور اس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے۔ ان الظن القبیح بمن ظاہرہ الخیر لا یجوز وانہ لا حرج فی الظن القبیح بمن ظاہرہ القبیح۔ القرطبی۔ 12۔ 2 یعنی اس ٹوہ میں رہنا کہ کوئی خامی یا عیب معلوم ہوجائے تاکہ اسے بدنام کیا جائے یہ تجسس ہے جو منع ہے اور حدیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کی خامی کوتاہی تمہارے علم میں آجائے تو اس کی پردہ پوشی کرو نہ کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھرو بلکہ جستجو کر کے عیب تلاش کرو آج کل حریت اور آزادی کا بڑا چرچا ہے اسلام نے بھی تجسس سے روک کر انسان کی حریت اور آزدی کو تسلیم کیا ہے لیکن اس وقت تک جب تک وہ کھلے عام بےحیائی کا ارتکاب نہ کرے یا جب تک دوسروں کے لیے ایذا کا باعث نہ ہو مغرب نے مطلق آزادی کا درس دے کر لوگوں کو فساد عام کی اجازت دے دی ہے جس سے معاشرے کا تمام امن و سکون برباد ہوگیا ہے۔ 12۔ 3 غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کی برائیوں اور گناہوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں ہیں تو وہ بہتان ہے۔ اپنی اپنی جگہ دونوں ہی بڑے جرم ہیں۔ 12۔ 4 یعنی کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا ایسے ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا تو پسند نہیں کرتا۔ لیکن غیبت لوگوں کی نہایت مرغوب غذا ہے۔
(آیت 12) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا …:} پچھلی آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات خراب کرنے والی ایسی چیزوں سے منع فرمایا تھا جو ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں، یعنی مذاق اڑانا، عیب لگانا اور برے نام سے پکارنا، اب ان تین چیزوں سے منع فرمایا جو دوسرے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انھیں ان کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ ہیں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت۔ یہ تینوں کام انتہائی کمینگی اور بزدلی کے کام ہیں، کیونکہ انھیں کرنے والے میں جرأت ہی نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کے سامنے آ سکے۔ یہ اس سورت کی پانچویں آیت ہے جس کا آغاز {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا “} سے ہوا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تینوں کام ایمان اور اس کے دعوے کے منافی ہیں، اس لیے ان سے بچ جاؤ۔ ➋ { اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ …:} پہلی بات یہ فرمائی کہ اس چیز سے بچو کہ کسی کے متعلق جو سنو یا دیکھو اس سے اس کے متعلق برا گمان ہی قائم کر لو، بلکہ جہاں تک ہو سکے مومن کے تمام اقوال و اعمال کے متعلق اچھا گمان رکھنے کی کوشش کرو، کیونکہ بعض گمان بالکل بے بنیاد اور گناہ ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ اس کا نتیجہ ایسے گمانوں میں پڑ جانا ہے جو گناہ ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بعض گمانوں کو گناہ قرار دیا ہے، سب گمانوں کو نہیں، کیونکہ ظن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ظن غالب ہے، جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہو جائے، اس پر عمل کرنا درست ہے۔ شریعت کے اکثر احکام اس پر مبنی ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلاً عدالتوں کے فیصلے، گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے سے اطلاعات اور خبرِ واحد کے راویوں کی روایات۔ ان سب چیزوں میں غور وفکر، جانچ پڑتال اور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے، مگر اس پر عمل واجب ہے۔ اسے ظن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی مخالف جانب کا یعنی اس کے درست نہ ہونے کا نہایت ادنیٰ سا امکان رہتا ہے، مثلاً ہو سکتا ہے کہ گواہ کی گواہی درست نہ ہو، اطلاع دینے والا جھوٹ بول رہا ہو، یا راوی کو غلطی لگی ہو، مگر اس امکان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس امکان پر جائیں تو دنیا کا کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔ اس لیے اپنی پوری کوشش کے بعد دلائل سے جو علم حاصل ہو اس پر بھی اگرچہ ظن کا لفظ بول لیا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ علم ہی ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔ ظن کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی وجہ سے دل میں ایک خیال آ کر ٹھہر جاتا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہوتا ہے، اسے شک بھی کہتے ہیں، یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ ہونے کے امکان سے کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے۔ ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے۔ {” اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ “} (بے شک بعض گمان گناہ ہیں) سے یہی مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [ یونس: ۳۶ ] (بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا) اور اللہ کے فرمان: «اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ» [ النجم: ۲۳ ] (یہ لوگ صرف اپنے گمان کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں) میں اسی ظن کا ذکر ہے اور اسی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ ] [ بخاري، الأدب، باب: «یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…» : ۶۰۶۶ ] ”گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اسے سب سے جھوٹی بات اس لیے کہا گیا کہ جب کوئی شخص کسی کے متعلق بدگمانی کرتا ہے تو وہ دلیل کے بغیر فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے۔ چونکہ حقیقت میں وہ شخص ایسا نہیں ہوتا، اس لیے اس کے اس فیصلے کو جھوٹ کہا گیا ہے اور سب سے بڑا جھوٹ اس لیے کہ اس نے بغیر کسی قرینے یا سبب کے محض نفس یا شیطان کے کہنے پر اسے براقرار دے لیا، جب کہ اس کے برے ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔ ➌ آیت میں ایسے گمان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو بے دلیل ہو، مثلاً ایک آدمی جو ظاہر میں صالح ہے، اس کے عیوب پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہوا ہے، عام مشاہدہ میں وہ عفیف اور امانت دار ہے اور اس کے بددیانت یا گناہ گار ہونے کی کوئی دلیل یا علامت موجود نہیں، اس کے متعلق بدگمانی کرنا حرام ہے۔ ہاں، اگر گمان کرنے کی کوئی واقعی دلیل یا علامت موجود ہے تو اس وقت گمان منع نہیں۔ مثلاً ایک شخص کا اٹھنا بیٹھنا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو چوری یا زنا کے ساتھ معروف ہیں، یا رات کو وہاں پھرتا ہے جہاں اس کا کوئی کام نہیں، اس کے متعلق گمان پیدا ہونا فطری بات ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر گمان سے منع نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا: «اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ» ”بہت سے گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں فرمایا: {”بَابُ مَا يَجُوْزُ مِنَ الظَّنِّ“} ”وہ گمان جو جائز ہیں۔“ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَظُنُّ فُلاَنًا وَ فُلاَنًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِيْنِنَا شَيْئًا قَالَ اللَّيْثُ كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِيْنَ ] [ بخاري، الأدب، باب ما یجوز من الظن …: ۶۰۶۷ ] ”میں فلاں اور فلاں کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین میں سے کچھ بھی جانتے ہیں۔“ لیث نے فرمایا: ”یہ دونوں آدمی منافق تھے۔“ اس جائز گمان سے مراد وہ گمان ہے جس کی علامات یا دلیلیں واضح ہوں۔ ➍ جس طرح دوسرے مسلمان کے حق میں بدگمانی کرنا منع ہے اسی طرح خود مسلمان کو بھی لازم ہے کہ ایسے ہر کام سے اجتناب کرے جس سے کسی کے دل میں اس کے متعلق برا گمان پیدا ہو۔ علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صفیہ رضی اللہ عنھا نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ وہ جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: ”جلدی نہ کرنا، یہاں تک کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں۔“ ان کا مکان اسامہ کی حویلی میں تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو آپ کو دو انصاری ملے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آگے بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: [ تَعَالَيَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ] ”ادھر آؤ! یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حیی ہے۔“ انھوں نے کہا: ”سبحان اللہ! یا رسول اللہ! (بھلا ہم آپ کے متعلق برا گمان کر سکتے ہیں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يُلْقِيَ فِيْ أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا ] [ بخاري، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا في اعتکافہ: ۲۰۳۸ ] ”شیطان انسان میں خون کے پھرنے کی طرح پھرتا ہے، تو میں ڈرا کہ وہ تمھارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔“ ➎ { وَ لَا تَجَسَّسُوْا:”جَسَّ يَجُسُّ جَسًّا“} (ن) کسی چیز کو معلوم کرنے کے لیے ہاتھ سے ٹٹولنا، تجسس، جاسوسی کرنا، خفیہ باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ جاسوسی برے گمان کا لازمی نتیجہ ہے، کیونکہ آدمی جب کسی کے متعلق دل میں برا گمان قائم کر لیتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لیے اس کی جاسوسی کرتا ہے اور اس کے ان عیوب کی ٹوہ میں رہتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال رکھا ہے، تاکہ یہ اپنے گمان کو سچا ثابت کر سکے۔ یہ ایمانی مودّت و اخوت کے سراسر خلاف ہے۔ جب مسلمان بھائی کے ان عیوب پر بھی پردہ ڈالنے کا حکم ہے جو آدمی کو معلوم ہوں تو ان عیوب کی ٹوہ لگانا کیسے جائز ہو سکتا ہے جو محض اس کے گمان کی پیداوار ہیں، یا جن پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوْا، وَلاَ تَجَسَّسُوْا، وَلاَ تَنَاجَشُوْا، وَلاَ تَحَاسَدُوْا، وَلاَ تَبَاغَضُوْا، وَلاَ تَدَابَرُوْا، وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا ] [ بخاري، الفرائض، باب تعلیم الفرائض:۶۰۶۶، ۶۷۲۴ ] ”گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکے سے (خرید و فروخت میں) بولی بڑھاؤ، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو، نہ ایک دوسرے سے دل میں کینہ رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ قَلْبَهُ! لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِيْنَ وَلاَ تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ، وَ مَنْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِيْ بَيْتِهٖ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۸۰، قال الألباني حسن صحیح ] ”اے ان لوگوں کی جماعت جو اپنی زبان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ہی ان کے چھپے ہوئے عیبوں کا پیچھا کرو، کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اور جس کے عیبوں کا پیچھا اللہ تعالیٰ کرے وہ اسے اس کے گھر میں رسوا کر دے گا۔“ بعض اوقات آدمی اصلاح کی نیت سے جاسوسی کرتا ہے، مگر یہ اصلاح کا طریقہ نہیں، اس سے باہمی عداوت پیدا ہوتی ہے اور خرابی بڑھتی ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أوْكِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ ] ”یقینا جب تو لوگوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا تو انھیں خراب کر دے گا “ یا فرمایا: ”قریب ہے تو انھیں خراب کر دے۔“ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایسی بات تھی جو معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کے ساتھ نفع دیا (کہ انھوں نے بیس سال شام کی امارت کی اور بیس سال پورے عالمِ اسلام پر خلافت کی اور رعایا کو ان سے کوئی خاص شکایت پیدا نہیں ہوئی)۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب في النھي عن التجسس: ۴۸۸۸، و قال الألباني صحیح ] ➏ جس طرح کوئی دلیل یا قرینہ موجود ہو تو بدگمانی کی گنجائش ہے اسی طرح اسلام کے دشمنوں کی جاسوسی یا امن و امان کی خرابی کا باعث بننے والوں کی جاسوسی بھی جائز ہے، بلکہ مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے حالات سے واقف رہے اور اللہ کی حدود کو پامال کرنے والوں کا سدِباب کرتا رہے، مگر اس کے لیے کسی طرح جائز نہیں کہ محض گمان کی بنا پر تجسس یا کوئی کارروائی کرے۔ ➐ { وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا:” لَا يَغْتَبْ “} (غ، ی، ب) سے باب افتعال ہے: {”اِغْتَابَ يَغْتَابُ اِغْتِيَابًا “} کسی کے غائب ہونے کی حالت میں اس کی وہ بات کرنا جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟ ] ”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ] ”تمھارا اپنے بھائی کا ذکر ایسی چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”آپ یہ بتائیں کہ اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيْهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ: ۲۵۸۹ ] ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ چیز اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ ➑ { اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ:} اس جملے میں غیبت سے کئی طریقوں سے شدید نفرت دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں غیبت کے ساتھ کسی بھائی کی عزت و آبرو تار تار کرنے کو انسان کا گوشت کھانا قرار دیا، پھر کسی دوسرے انسان کا نہیں بلکہ اپنے بھائی کا اور وہ بھی زندہ کا نہیں بلکہ مردہ بھائی کا۔ پھر ایسی شدید قابل نفرت چیز سے محبت کرنے کی عار دلاتے ہوئے پوچھا کہ اتنی گندی اور مکروہ چیز سے تو شدید نفرت ہونی چاہیے تھی، تو کیا تم نفرت کے بجائے اس سے محبت کرتے ہو۔ پھر {” اَحَدُكُمْ “} فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایک یہ پسند کرتا ہے؟ مطلب یہ کہ لاکھوں کروڑوں میں سے کوئی ایک بھی یہ پسند نہیں کرے گا تو تم میں سے کوئی ایک یہ کام کیوں کرے!؟ ➒ { فَكَرِهْتُمُوْهُ:} یعنی اگر تمھارے سامنے یہ چیز پیش کی جائے تو یقینا تم اس سے نفرت کرو گے۔ ➓ غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی ہے کہ جس طرح مردہ اپنا گوشت کھانے سے کسی کو ہٹا نہیں سکتا اسی طرح جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ ⓫ جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسے سننا بھی حرام ہے، کیونکہ سننے والا بھی غیبت میں برابر کا شریک ہے، اگر وہ خاموش رہ کر تائید نہ کرے تو غیبت کرنے والے کو اس کام کی جرأت ہو ہی نہیں سکتی۔ دونوں ہی اپنے مردہ بھائی کے گوشت سے لذت حاصل کر رہے ہیں، ایک غیبت کر کے اور دوسرا اسے سن کر۔ اس لیے غیبت سننے سے بھی بہت پرہیز کرنا چاہیے، بلکہ اپنے مسلم بھائی کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے غیبت کرنے والے کو اس سے منع کرنا چاہیے۔ ⓬ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ کا ڈر ہی ہے جو ان کاموں سے آدمی کو باز رکھ سکتا ہے جن سے ان آیات میں منع فرمایا گیا ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ اس لیے اللہ سے ڈرو اور ان تمام گناہوں سے توبہ کرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ ⓭ نووی نے ”الاذکار“ میں غیبت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”خواہ وہ چیز اس کے بدن سے تعلق رکھتی ہو یا دین سے یا دنیا سے، اس کی شکل و صورت کے بارے میں ہو یا اخلاق کے، اس کے مال، اولاد، والدین اور بیوی بچوں کے متعلق ہو یا اس کے لباس، چال ڈھال، بول چال، خندہ پیشانی یا ترش روئی کے متعلق، غرض اس سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کا ذکر جو اسے ناپسند ہو غیبت ہے۔ پھر خواہ یہ ذکر زبان سے کیا جائے یا تحریر سے، اشارے سے ہو یا کنائے سے، تمام صورتوں میں غیبت ہے۔ اشارہ خواہ آنکھ سے ہو یا ہاتھ سے، سر کے ساتھ ہو یا جسم کے کسی حصے کے ساتھ، غیبت میں شامل ہے۔“ بدن کی غیبت مثلاً اس کی تنقیص کے لیے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، ٹھگنا، لمبوترا، کالا، کبڑا یا اس قسم کا کوئی اور لفظ استعمال کرے۔ دین کے بارے میں غیبت یہ ہے کہ اسے فاسق، چور، خائن، ظالم، نمازمیں سست، پلید، ماں باپ کا نافرمان یا بدمعاش وغیرہ کہے۔ دنیا کے بارے میں مثلاً اسے نکما، باتونی، پیٹو وغیرہ کہے۔ اخلاق کے متعلق مثلاً اسے بدخلق، متکبر، ریا کار، جلد باز، بزدل یا سٹریل قرار دے۔ اس کے والد کے متعلق مثلاً جولاہا، موچی، کالا، حبشی وغیرہ کہہ کر اس کی تنقیص کرے۔ پھر زبان، ہاتھ اور جسم کے ساتھ غیبت کی ایک صورت اس کی نقل اتارنا ہے، مثلاً اس کے اٹک اٹک کر بات کرنے یا ناک میں بولنے کی، لنگڑا کر چلنے کی، کبڑا ہونے کی یا چھوٹے قد کا ہونے کی نقل اتارے۔ غرض قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی حرکت جس کا مقصد کسی مسلم بھائی کی تنقیص ہو غیبت ہے اور حرام ہے۔ ⓮ بعض اوقات کسی مسلم بھائی کی غیبت جائز بھی ہو جاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کا عیب بیان کیا جا سکتا ہے۔ قاعدہ اس کا یہ ہے کہ جب دین کا کوئی ضروری مقصد اس کے بغیر حاصل نہ ہو سکتا ہو تو اس وقت یہ جائز ہے۔ نووی نے اور ان سے پہلے غزالی نے غیبت کے جواز کے چھ مواقع گنوائے ہیں: (1) ظلم پر فریاد، یعنی مظلوم کو حق ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ» [ النساء: ۱۴۸ ] ”اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا جائے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ] [ بخاري، الاستقراض، باب استقراض الإبل: ۲۳۹۰ ] ”یقینا حق والے کو بات کرنے کی گنجائش ہے۔“ بہتر یہ ہے کہ وہ بادشاہ یا قاضی یا کسی ایسے شخص کے پاس اپنی مظلومیت کا تذکرہ کرے جو اس کی مدد کر سکتا ہو۔ (2) کسی گناہ یا برے کام سے روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو اس کے ساتھ مل کر یا خود اسے روک سکیں۔ اگر مقصد صرف اس کام کرنے والے کی تذلیل ہو تو یہ جائز نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیات و احادیث اس کی دلیل ہیں۔ (3) فتویٰ لینے کے لیے مفتی کے سامنے کسی کا نقص ذکر کرے تو یہ جائز ہے، مثلاً ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنھا نے اپنے خاوند ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا: ”ابو سفیان بخیل آدمی ہے (مجھے اتنا خرچ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو) تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں؟“ آپ نے فرمایا: [ خُذِيْ أَنْتِ وَ بَنُوْكِ مَا يَكْفِيْكِ بِالْمَعْرُوْفِ ] [ بخاري، البیوع، باب من أجری أمر الأمصار…: ۲۲۱۱،۵۳۶۴ ] ”تمھارے اور تمھارے بچوں کے لیے جتنا کافی ہو معروف طریقے کے ساتھ لے لیا کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند رضی اللہ عنھا کو اپنے خاوند کا عیب بیان کرنے پر منع نہیں فرمایا، کیونکہ اس کا مقصد مسئلہ پوچھنا تھا۔ (4) مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے اور انھیں شر سے بچانے کے لیے کسی کی برائی سے آگاہ کرے تو یہ جائز ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے فرمایا: [ اِئْذَنُوْا لَهُ، بِئْسَ أَخُو الْعَشِيْرَةِ ] [ بخاري، الأدب، باب ما یجوز من اغتیاب …: ۶۰۵۴ ] ”اسے اجازت دے دو، یہ خاندان کا برا آدمی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس شخص کی برائی سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیا۔ مسلمانوں کی خیر خواہی میں اور انھیں شر سے بچانے میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، مثلاً حدیث کے راویوں پر اور مقدمے کے گواہوں پر جرح جائز بلکہ واجب ہے اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ دوسرے جب کوئی شخص کسی کے ساتھ رشتہ کرنے یا امانت رکھنے یا مشارکت کرنے یا ہمسائیگی اختیار کرنے، کاروبار یا کوئی اور معاملہ کرنے کے متعلق مشورہ پوچھے تو صحیح صحیح بات بتا دے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا نے معاویہ اور ابوجہم رضی اللہ عنھما میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَّا أَبُوْ جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوْكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِيْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ] [ مسلم، الطلاق، المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: ۱۴۸۰ ] ”ابوجہم تو عورتوں کو بہت مارتا ہے اور معاویہ کنگال آدمی ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ اور صحیح مشورہ دینا مومن کا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ إِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ] [ مسلم، السلام، باب من حق المسلم للمسلم ردّ السلام: 2162/5 ] ”اور جب وہ تم سے مشورہ مانگے تو اس کی خیر خواہی کر۔“ (5) جو شخص کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی کرتا ہو، لوگوں کو لوٹتا ہو، علانیہ شراب پیتا ہو تو اس کے ان گناہوں کا ذکر جائز ہے جن کو چھپانے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور جن کا ذکر کیا جائے تو اسے برا محسوس ہی نہیں ہوتا، کیونکہ غیبت ان چیزوں کا ذکر ہے جسے وہ ناپسند کرے۔ (6) کوئی شخص کسی لقب کے ساتھ مشہور ہو، اس کے بغیر اس کی پہچان نہ ہوتی ہو اور وہ اسے برا بھی نہ جانتا ہو تو اسے اس لقب سے ذکر کرنا جائز ہے، خواہ اس میں اس کا کوئی نقص ہی بیان ہو رہا ہو، مثلاً اعمش (جس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہوں)، اعرج (لنگڑا)، اصمّ (بہرا) اور اعمیٰ (نابینا) وغیرہ۔ شرط یہ ہے کہ مقصد اس کی تنقیص نہ ہو۔ ⓯ قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا» کہ مسلمان ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ اسی طرح {”ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ“} سے بھی ظاہر ہے کہ صرف مسلمان کی غیبت ناجائز ہے، کیونکہ کافر ہمارا دینی بھائی نہیں، اس لیے اس کی غیبت میں کوئی گناہ نہیں۔
لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (آدم(ع)) اور ایک عورت (حوا(ع)) سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہیں مختلف خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے یقیناً اللہ بڑا جاننے والا ہے، بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نسل انسانی کا نکتہ آغاز ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے ‘۔ یعنی آدم علیہ السلام ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حواء علیہا السلام کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔ «شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔ بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔ مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔
ترمذی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کر سکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1979،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ پھر فرمایا ’ حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے ‘۔ صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے“، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2378] صحیح مسلم میں ہے { اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:158/5:ضعیف] طبرانی میں ہے { مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3547:ضعیف] مسند بزار میں ہے { تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2043:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ { تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:145/4:ضعیف] ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں }۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے }۔ ۱؎ [مسند احمد:69/6:ضعیف] اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔ اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔ دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ { انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے }۔
13۔ 1 یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) سے یعنی تم سب کی اصل ایک ہی ہے ایک ہی مان باپ کی اولاد ہو مطلب ہے کسی کو محض خاندان اور نسب کی بنا پر فخر کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ سب کا نسب حضرت آدم ؑ سے ہی جا کر ملتا ہے۔ 13۔ 2 شعوب شعب کی جمع ہے برادری یا بڑا قبیلہ شعب کے بعد قبیلہ پھر عمارہ پھر بطن پھر فصیلہ اور پھر عشیرہ ہے (فتح القدیر) مطلب یہ ہے کہ مختلف خاندانوں برادریوں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے تاکہ آپس میں صلہ رحمی کرسکو اس کا مقصد ایک دوسرے پر برتری کا اظہار نہیں ہے جیسا کہ بدقسمتی سے حسب ونسب کو برتری کی بنیاد بنا لیا گیا ہے حالانکہ اسلام نے آ کر اسے مٹایا تھا اور اسے جاہلیت سے تعبیر کیا تھا۔ 13۔ 3 یعنی اللہ کے ہاں برتری کا معیار خاندان قبیلہ اور نسل ونسب نہیں ہے جو کسی انسان کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ معیار تقوی ہے جس کا اختیار کرنا انسان کے ارادہ اختیار میں ہے یہی آیت ان علماء کی دلیل ہے جو نکاح میں کفائت نسب کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف دین کی بنیاد پر نکاح کو پسند کرتے ہیں۔ ابن کثیر۔
(آیت 13) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى:} پچھلی آیات میں جن چھ گناہوں سے منع فرمایا ان کا بنیادی سبب اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھنا ہے۔ جاہلیت میں اپنے قبیلے کی خوبیوں پر فخر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری عام تھی۔ اس کی وجہ سے ہر قبیلے کے شاعر اور خطیب اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کے لیے دوسرے قبیلے کو استہزا، تمسخر اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے، اس کے لیے وہ ان کے عیب تلاش کرتے، جاسوسی کرتے، غیبت، بہتان اور ہجو کا بازار گرم رکھتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی قبیلوں کو بالکل ہی لوگوں کی نگاہوں سے گرا دیا۔ دنیا میں اپنی برتری پر فخر کا باعث کسی خاص قبیلے یا قوم میں پیدا ہونا ہی نہیں رہا، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو اپنے لیے باعثِ فخر اور دوسروں پر برتری کی دلیل قرار دیا گیا۔ چنانچہ رنگ، نسل، وطن اور زبان کی بنا پر نوعِ انسان تقسیم ہوئی اور ہر طبقے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو حقیر قرار دیا، جس کے نتیجے میں بے شمار جنگیں ہوئیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ وطن سے بے وطن ہوئے، غربت، بیماری اور بے آبروئی کا نشانہ بنے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پانچ آیات میں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا “} کے ساتھ خطاب کے بعد یہاں تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کہ اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت (آدم و حوا علیھما السلام) سے پیدا کیا ہے، اس لیے انسان ہونے میں تم سب برابر ہو۔ کسی خاص قوم، قبیلے یا ملک میں پیدا ہونے کی وجہ سے، یا کسی رنگ یا زبان کی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، کیونکہ اصل سب کی ایک ہے۔ پھر کسی قوم، ملک یا قبیلے میں پیدا ہونے یا کسی رنگ یا زبان والا ہونے میں کسی کا اپنا کوئی دخل یا اختیار نہیں، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے ان میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت یا عطیہ تو ہو سکتی ہے، جس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، مگر دوسروں پر برتری کا باعث نہیں ہو سکتی، کیونکہ برتری اس چیز میں کامیابی کی بدولت حاصل ہوتی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دے کر دنیا میں بھیجا ہے اور وہ ہے اللہ کا تقویٰ۔ اس لیے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ اس کے بغیر کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر یا آزاد کو غلام پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ ہاں، تقویٰ کے ساتھ فضیلت کی کوئی اور وجہ بھی جمع ہو جائے تو اسے برتری حاصل ہو گی، جیسے کسی کو متقی ہونے کے ساتھ قریشی یا ہاشمی ہونے کا شرف بھی حاصل ہو، یا ایسی قوم کا فرد ہونے کا جو شجاعت یا ذہانت یا کسی اور خوبی میں معروف ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دو آدمی قرآن کی قراء ت میں برابر ہوں تو امامت کے وقت ان میں سے بڑی عمر والے کو جوان پر مقدم کیا جائے گا۔ ➋ { وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ: ” شُعُوْبًا “ ”شَعْبٌ“} (شین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، بہت بڑا قبیلہ، جیسے ربیعہ، مضر، اوس اور خزرج وغیرہ۔ یہ ان چھ طبقوں میں سب سے پہلا طبقہ ہے جن میں عرب تقسیم ہوتے ہیں۔ وہ چھ طبقے یہ ہیں: (1) شعب (2) قبیلہ (3) عمارہ (4) بطن (5) فخذ (6) فصیلہ۔ شعب میں کئی قبائل ہوتے ہیں، قبیلہ میں کئی عمائر، عمارہ میں کئی بطون، بطن میں کئی افخاذ، اور فخذ میں کئی فصائل ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب میں خزیمہ شعب، کنانہ قبیلہ، قریش عمارہ، قصی بطن، ہاشم فخذ اور عباس فصیلہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے ایک لفظ دوسرے کی جگہ بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ شعب کا معنی شاخ ہے، اسے شعب اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان سے قبائل کی شاخیں نکلتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان چھ طبقوں میں سے تین کا ذکر آیا ہے، دو کا اس آیت میں اور ایک کا سورئہ معارج میں، فرمایا: «وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِ» [ المعارج: ۱۳ ] ”اور اپنے خاندان کو جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔“ (قرطبی و شنقیطی) ➌ { لِتَعَارَفُوْا:} یعنی قوموں، قبیلوں یا خاندانوں میں تقسیم کا مطلب کسی کی برتری نہیں، بلکہ ہم نے یہ تقسیم تمھاری ایک دوسرے سے پہچان کے لیے بنائی ہے۔ مثلاً عبد اللہ نام کے کئی آدمی ہیں، ان میں سے ایک کی تعیین قریشی، اس کے بعد ہاشمی اور اس کے بعد عباسی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس پہچان ہی کے ذریعے سے آدمی اپنی رشتہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ ] [ ترمذي، البر والصلۃ، باب ما جاء في تعلیم النسب: ۱۹۷۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، وقال الألباني صحیح ] ”اپنے نسب سیکھو، جن کے ذریعے سے تم اپنی رشتہ داریاں ملاؤ، کیونکہ رشتہ داری کو ملانا رشتہ داروں میں محبت، مال میں ثروت اور زندگی میں اضافے کا باعث ہے۔“ ➍ { اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِيٌّ، أَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجِعْلاَنِ الَّتِيْ تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ ] [ أبو داوٗد، الأدب، باب في التفاخر بالأحساب: ۵۱۱۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و قال الألباني صحیح ] ”اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس کے آبا و اجداد پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ (آدمی دو ہی قسم کے ہیں) متقی مومن ہے یا بدبخت فاجر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ کچھ آدمی ایسے لوگوں پر اپنا فخر ترک کر دیں گے جو جہنم کے کوئلوں میں سے محض ایک کوئلہ ہیں، یا پھر وہ (فخر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے سامنے پاخانے کے کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے، جو گندگی کو اپنی ناک کے ساتھ دھکیلتے رہتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [ أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟ ] ”لوگوں میں سب سے عزت والا کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ ] ”ان میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوْسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيْلِ اللّٰهِ ] ”تو سب سے زیادہ عزت والے یوسف علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی کے بیٹے ہیں، دادا بھی نبی ہے اور پردادا اللہ کا خلیل ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِّيْ؟ ] ”تو پھر تم مجھ سے عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوْا ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لقد کان في یوسف و إخوتہ…» : ۴۶۸۹ ] ”تو جاہلیت میں جو تم میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں تم سب سے بہتر ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کر لیں۔“ ابونضرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے درمیان والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی ] [مسند أحمد: 411/5، ح: ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح ] ”اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَ لٰكِنْ يَنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم …: ۳۴ /۲۵۶۴ ] ”اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا…: ۶۴؍۲۸۶۵ ] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔“ ➎ اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح میں کفو (جوڑ) ہونے کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی شرط معتبر نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس لیے یہ جو مشہور ہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید سے نہیں ہو سکتا، درست نہیں۔ ویسے فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد کو لفظ ”سید“ کے ساتھ خاص کرنا بھی محض رواج ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہونے کے باوجود ابولہب جہنمی ہے اور غلام ہونے کے باوجود بلال رضی اللہ عنہ کے جوتوں کی آواز جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (بطور خادم) سنائی دے رہی ہے اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: [ أَبُوْ بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِيْ بِلاَلاً ] [ بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب بلال بن رباح …: ۳۷۵۴ ] ”ابو بکر ہمارا سید ہے اور اس نے ہمارے سید بلال کو آزاد کیا۔“ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں تقویٰ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ معزز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تو جب کسی کو دلوں کا حال معلوم ہی نہیں تو کوئی کسی پر فخر کیسے کر سکتا ہے اور کسی کو حقیر کیوں جانتا ہے!؟
یہ بدوی کہتے ہیں کہ "ہم ایمان لائے" اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ "ہم مطیع ہو گئے" ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
گنوار بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اعراب (صحرائی عرب) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہوا ہی نہیں ہے اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو گے تو وہ (اللہ) تمہارے اعمال سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ بےشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو گے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں ٭٭
کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئیے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں۔ اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان؟“ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے، سعد رضی اللہ عنہ نے یہی کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا: ”اے سعد! میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:27] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ پس اس حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی «کتاب الایمان» کی شرح میں ذکر کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے، تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لیے انہیں ادب سکھایا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس وقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں) اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں «کتاب الایمان» میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
سعید بن جبیر، مجاہد، ابن زید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم «اَسْلَمْنَا» کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لیے تابع ہو گئے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورۃ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا ‘۔ جیسے فرمایا «وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ» ۱؎ [52-الطور:21] یعنی ’ ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا ‘۔ پھر فرمایا ’ جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں، نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں (۱) وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا، (۲) وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا، نہ یہ کسی کا مال ماریں، نہ کسی کی جان لیں، (۳) وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:8/3:ضعیف]
14۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک ان اعراب سے مراد بنو اسد اور خزیمہ کے منافقین ہیں جنہوں نے قحط سالی میں محض صدقات کی وصولی کے لیے یا قتل ہونے اور قیدی بننے کے اندیشے کے پیش نظر زبان سے اسلام کا اظہار کیا تھا ان کے دل ایمان اعتقاد صحیح اور خلوص نیت سے خالی تھے (فتح القدیر) لیکن امام ابن کثبر کے نزدیک ان سے وہ اعراب مراد ہیں جو نئے مسلمان ہوئے تھے اور ایمان ابھی ان کے اندر پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا لیکن دعوی انہوں نے اپنی اصل حثییت سے بڑھ کر ایمان کا کیا تھا جس پر انہیں یہ ادب سکھایا گیا کہ پہلے مرتبے پر ہی ایمان کا دعوی صحیح نہیں آہستہ آہستہ ترقی کے بعد تم ایمان کے مرتبے پر پہنچو گے۔
(آیت 14) ➊ { قَالَتِ الْاَعْرَابُ: ” الْاَعْرَابُ “} کی تشریح کے لیے دیکھیں سورۂ توبہ (۹۷) کی تفسیر۔ یہاں {” الْاَعْرَابُ “} پر الف لام جنس کا نہیں بلکہ عہد کا ہے اور اس سے مراد تمام اعراب نہیں، کیونکہ ان میں کئی مخلص مومن بھی تھے۔ (دیکھیے توبہ: ۹۹) بلکہ مراد وہ بعض اعراب ہیں جو مدینہ کے گرد رہتے تھے اور اسلام کی قوت کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے تھے، دل میں تکذیب بھی نہیں تھی کہ انھیں منافق کہا جا سکے، مگر ابھی تک کچھ تردّد باقی تھا اور ایمان و یقین پوری طرح دل میں داخل نہیں ہوا تھا، اس لیے یہ عمرۂ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے۔ ان کا ذکر اس سے پہلے سورۂ فتح کی آیت (۱۱): «سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ» میں بھی گزرا ہے۔ ➋ { اٰمَنَّا:} سورت کی ابتدا میں ان اعراب کا ذکر ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب اور اسلام کے دوسرے احکام سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آداب و احکام کی تلقین فرمائی اور جاہلیت کے فخر و غرور اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں سے منع فرمایا۔ اس سلسلے میں واضح فرمایا کہ آدمی کو دوسروں پر فخر کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ عزت جو دوسروں پر برتری دلاتی ہے وہ صرف تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے، جس کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال صرف علیم و خبیر جانتا ہے۔ یہاں سے ان اعراب کے کچھ دعوے ذکر فرما کر، جن سے ان کے فخر کا اظہار ہوتا تھا، ان کی تردید فرمائی۔ سب سے پہلے ان کے اس دعوے کا ذکر فرما کر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اس کی نفی فرمائی۔ ➌ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے۔ واضح رہے کہ قرآن و حدیث میں عام طور پر ایمان اور اسلام ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، جس میں دل کا یقین اور ظاہری فرماں برداری دونوں شامل ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد القیس کو ایمان کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ایمان کلمۂ شہادت، نماز، روزے، زکوٰۃ، حج اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنے کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ نے {” اِنَّ الدِّيْنُ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ “} کہہ کر اپنی جناب میں معتبر دین اسلام کو قرار دیا اور ظاہر ہے وہاں وہی دین معتبر ہے جو دل کے یقین سے ہو، صرف ظاہری اعمال تو وہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات اسلام سے مراد ظاہری احکام کی پابندی اور ایمان سے مراد قلبی یقین ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ایمان سے مراد دلی یقین اور اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسلام سے مراد دل سے مان لینا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ» [الأنعام: ۱۲۵] ”تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔“ جس طرح بعض اوقات ایمان سے مراد صرف زبانی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» [النساء:۱۳۶] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (یعنی جنھوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو)۔“ یہاں فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ یعنی ہم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں اور اس کے ظاہری احکام پر عمل شروع کر دیا ہے۔ یہاں الفاظ پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ {” قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ أَسْلَمْتُمْ “} ”ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ تم مسلم ہو گئے ہو۔“ بلکہ فرمایا: «لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا» ”تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے مومن ہونے کی نفی کے بعد ان کے مسلم ہونے کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا کہ تم مسلم ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلم وہی تسلیم ہو سکتا ہے جو مومن بھی ہو۔ اس کے ہاں اگر کسی کے دل میں یقین نہیں تو ظاہری اعمال کا بھی کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں ظاہری طور پر اسلامی احکام کی پابندی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے۔ ➍ { وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} ”اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا“ اس جملے سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ پکے مومن نہیں تھے مگر منافق بھی نہیں تھے، کیونکہ وہ دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے تھے۔ ان کے شک کی وجہ سے ان کے ایمان کی نفی کی گئی اور اگلی آیت میں مومن ان لوگوں کو قرار دیا جو ایمان لائے پھر انھوں نے شک نہیں کیا۔ {” لَمَّا “} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اگرچہ وہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، مگر آئندہ ان کے دلوں کے اندر ایمان داخل ہونے کی امید تھی۔ ➎ {وَ اِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ …:” لاَ يَلِتْ “} اصل میں {” لاَ يَلِيْتُ “} تھا، {” وَ اِنْ تُطِيْعُوْا “} شرط کا جواب ہونے کی وجہ سے تاء پر جزم آ گئی، تو یاء اور تاء دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {”لَاتَ يَلِيْتُ“} کسی کے حق میں کمی کرنا۔ یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ان دونوں کی اطاعت کی شرط اوّل ان پر سچے دل سے ایمان و یقین رکھنا ہے۔ اس میں انھیں اخلاص و یقین کی ترغیب دلائی ہے، یعنی اسلام کے احکام پر ثواب کی امید بھی اس وقت ہو سکتی ہے جب ظاہر و باطن سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد اعمال کا پورا ثواب دینا اور اس میں کمی نہ کرنا صرف اللہ کا کام ہے، رسول کا نہیں۔ اس لیے {”لاَ يَلِتْ“} واحد کا صیغہ استعمال فرمایا۔ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اطاعت کے بعد پہلی کوتاہیوں کو اللہ معاف کر دے گا، کیونکہ وہ گناہوں پر بے حد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے لوگ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
مؤمن تو پس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کبھی شک نہیں کیا اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد (بھی) کیا یہی لوگ سچے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انھوں نے شک نہیں کیا اور انھوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں ٭٭
کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئیے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں۔ اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان؟“ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے، سعد رضی اللہ عنہ نے یہی کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا: ”اے سعد! میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:27] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ پس اس حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی «کتاب الایمان» کی شرح میں ذکر کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے، تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لیے انہیں ادب سکھایا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس وقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں) اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں «کتاب الایمان» میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
سعید بن جبیر، مجاہد، ابن زید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم «اَسْلَمْنَا» کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لیے تابع ہو گئے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورۃ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا ‘۔ جیسے فرمایا «وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ» ۱؎ [52-الطور:21] یعنی ’ ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا ‘۔ پھر فرمایا ’ جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں، نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں (۱) وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا، (۲) وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا، نہ یہ کسی کا مال ماریں، نہ کسی کی جان لیں، (۳) وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:8/3:ضعیف]
15۔ 1 نہ کہ وہ جو صرف زبان سے اسلام کا اظہار کردیتے ہیں اور مذکورہ اعمال کا سرے سے کوئی اہتمام ہی نہیں کرتے۔
(آیت 15){ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ …: ” لَمْ يَرْتَابُوْا “ ”رَيْبٌ“} سے باب افتعال ہے۔ اعراب (بدویوں) کے ایمان کے دعوے کی نفی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمان کی ایک باطنی اور ایک ظاہری شرط بیان فرمائی۔ چنانچہ فرمایا مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، پھر شک میں مبتلا نہیں ہوئے اور انھوں نے اپنے ایمان و یقین کا ثبوت مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے ساتھ دیا۔ یہی لوگ ہیں جو ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دعویٰ ایمان کا کرتے ہیں مگر جب جہاد کا موقع آتا ہے تو اس سے جان بچاتے ہیں، وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
اے نبیؐ، اِن (مدعیان ایمان) سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاه کر رہے ہو، اللہ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاه ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کرتے ہو؟ حالانکہ اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ ہر شے کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہو، حالانکہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟) پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ’ اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے ‘۔
پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم) پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4330] مسند بزار میں ہے کہ { بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] ، نازل ہوئی }۔ پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ’ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔
16۔ 1 تعلیم، یہاں علم اور اخبار کے معنی میں ہے یعنی آمَنَّا کہہ کر تم اللہ کو اپنے دین و ایمان سے آگاہ کر رہے ہو؟ یا اپنے دلوں کی کیفیت اللہ کو بتلا رہے ہو۔ 16۔ 2 تو کیا تمہارے دلوں کی کیفیت پر یا تمہارے ایمان کی حقیقت سے وہ آگاہ نہیں۔
(آیت 16) {قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ …: ” تُعَلِّمُوْنَ “ ”عَلَّمَ يُعَلِّمُ تَعْلِيْمًا“} (تفعیل) کا معنی سکھانا پڑھانا ہے۔ تعلیم کسی کو کوئی بات بتانے کا سب سے مضبوط اور پختہ طریقہ ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بار بار اپنے ایمان کا اور دین دار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، ان کے بار بار دعوے کو اللہ تعالیٰ نے سکھانا پڑھانا قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو سکھانے چلے ہو کہ تم پکے مومن اور دین دار ہو اور یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ اسے تمھارے دل کا حال معلوم نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو آسمانوں کی ہر چیز کو اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں قابلِ توجہ بات لفظ {” اللّٰهَ “} کا بار بار ذکر ہے: «قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» اپنا نام بار بار ذکر کرنے سے مقصود اپنی ہیبت اور عظمت کا احساس دلانا ہے کہ سوچو تم بار بار ایمان کا دعویٰ کرکے کسی عام ہستی کو نہیں بلکہ کائنات کے خالق و مالک کو سکھانے جا رہے ہو، جس کا نام ”الله“ ہے اور جس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ اِنہوں نے اسلام قبول کر لیا اِن سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے، تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) یہ لوگ اسلام لا کر آپ(ص) پر احسان جتاتے ہیں کہئے تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ بلکہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمیں ایمان لانے کی ہدایت (توفیق) دی اگر تم (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے، کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟) پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ’ اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے ‘۔
پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم) پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4330] مسند بزار میں ہے کہ { بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] ، نازل ہوئی }۔ پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ’ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔
17۔ 1 یہی اعراب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے کہ دیکھو ہم مسلمان ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، جبکہ دوسرے عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر پیکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرماتے ہوئے فرمایا، تم اللہ پر اسلام لانے کا احسان مت جتلاؤ اس لئے کہ اگر تم اخلاص سے مسلمان ہوئے ہو تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا، نہ کہ اللہ کو۔ اس لئے یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی نہ کہ تمہارا احسان اللہ پر ہے۔
(آیت 17) ➊ { يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا:} اعراب یہ کہتے ہوئے کہ{” اٰمَنَّا “} (ہم ایمان لے آئے) دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلا رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان تھا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال رکھنا چاہیے تھا اور اس کے بدلے میں ان کے تقاضے اور فرمائشیں پوری کرنی چاہیے تھیں، جیسے چودھری اور سردار کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر اس پر احسان رکھتے ہیں اور پارٹی کے سربراہ سے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ ➋ { قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت رکھو، کیونکہ کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے، اگر نہیں ہوتا تو اس کا نقصان بھی اسی کو ہے، جیسا کہ فرمایا: «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۶ ] ”جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اس کے لیے ہے اور جس نے برائی کی تو وہ اسی پر ہے۔“ تمھارے اسلام لانے یا نہ لانے سے میرا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ ➌ { بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ:} یہاں بظاہر یہ کہنا چاہیے تھا کہ تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت رکھو، بلکہ میرا تم پر احسان ہے کہ میری وجہ سے تم اسلام لائے، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کی تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتلاتا اور یاد کرواتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان لانے کی ہدایت دی، یعنی اس کی توفیق بخشی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اگرچہ ہدایت دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [ الشورٰی: ۵۲ ] ”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ مگر آپ صرف صراط مستقیم کی راہنمائی کر سکتے ہیں، وہ ہدایت جو صراطِ مستقیم پر چلنے کا نام ہے اس کی توفیق صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے فرمایا: «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ» [القصص: ۵۶] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ اور اگر اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایمان کی توفیق دی تو اس میں سراسر تمھارا فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کو تم کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، نہ نقصان پہنچا سکتے ہو۔ تم ہی کیا، اگر ساری مخلوق بھی جمع ہو جائے تو نہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اس پر یا اس کے رسول پر احسان رکھنے کا کیا مطلب؟ ➍ {اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ کا ایمان کی ہدایت دینے کا احسان بھی تم پر اسی صورت میں ہے اگر تم اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہو، ورنہ ابھی تک تمھارے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیده باتیں اللہ خوب جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہواللہ وہ سب کچھ خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جانتا ہے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟) پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ’ اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے ‘۔
پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم) پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4330] مسند بزار میں ہے کہ { بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] ، نازل ہوئی }۔ پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ’ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18){ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} اس سے پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ آسمان و زمین کی انھی اشیاء کو جانتا ہے جو ظاہر ہیں، بلکہ وہ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو نگاہوں سے غائب ہیں، خواہ پہلے گزر چکی ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گی اور تم جو کچھ کر رہے ہو یا آئندہ کرو گے اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ نظم الدرر میں ہے، قشیری نے کہا: ”جو شخص یہاں ٹھہر کر تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اس کا عیش مکدّر ہو جائے گا، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کے غیب میں کیا لکھا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور ایمان کی نعمت اس کے پاس موت تک رہے گی یا نہیں۔ پھر دعویٰ کس بات کا اور احسان کیسا؟ یہی معنی اس شعر میں ادا ہوا ہے: {أَبْكِيْ وَ هَلْ تَدْرِيْنَ مَا يُبْكِيْنِيْ أَبْكِيْ حَذَرًا أَنْ تُفَارِقِيْنِيْ وَ تَقْطَعِيْ حَبْلِيْ وَ تَهْجُرِيْنِيْ} ”میں روتا ہوں اور کیا تو جانتی ہے کہ مجھے کیا چیز رلاتی ہے؟ میں اس ڈر سے روتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا نہ ہو جائے، مجھ سے قطع تعلق نہ کر لے اور مجھے چھوڑ نہ دے۔“