بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحشر — Surah Hashr
آیت نمبر 9
کل آیات: 24
قرآن کریم الحشر آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ الحشر islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۚ﴿۹﴾
(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالحجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دیدیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے
اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کو جو دیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں،
(اور یہ مال) ان کیلئے بھی ہے جو ان (مہاجرین) سے پہلے ان دیار (دارالہجرت مدینہ) میں ٹھکانا بنائے ہوئے ہیں اور ایمان لائے ہوئے ہیں اور جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتا ہے وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جائے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی ناخوشی محسوس نہیں کرتے اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ضرورت مند ہوں (فاقہ میں ہوں) اور جسے اپنے نفس کے حرص سے بچا لیا گیا وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مال فے کے حقدار ٭٭

اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مال کسے دیں گے؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حقدار وہ غریب مہاجر ہیں، جنہوں نے اللہ کو رضامند کرنے کے لیے اپنی قوم کو ناراض کر لیا، یہاں تک کہ انہیں اپنا وطن عزیز اور اپنے ہاتھ کا مشکلوں سے جمع کیا ہوا مال وغیرہ سب چھوڑ چھاڑ کر چل دینا پڑا، اللہ کے دین اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد میں برابر مشغول ہیں، اللہ کے فضل و خوشنودی کے متلاشی ہیں، یہی سچے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا فعل اپنے قول کے مطابق کر دکھایا، یہ اوصاف سادات مہاجرین میں تھے۔ پھر انصار کی مدح بیان ہو رہی ہے اور ان کی فضیلت، شرافت، کرم اور بزرگی کا اظہار ہو رہا ہے، ان کی کشادہ دلی، نیک نفسی، ایثار اور سخاوت کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے ہی دارالہجرت مدینہ میں اپنی بود و باش رکھی اور ایمان پر قیام رکھا، مہاجرین کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ایمان لا چکے تھے بلکہ بہت سے مہاجرین سے بھی پہلے یہ ایماندار بن گئے تھے۔

صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر یہ روایت ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں اپنے بعد کے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین اولین کے حق ادا کرتا رہے، ان کی خاطر مدارت میں کمی نہ کرے اور میری وصیت ہے کہ انصار کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی کرے جنہوں نے مدینہ میں جگہ بنائی اور ایمان میں جگہ حاصل کی، ان کے بھلے لوگوں کی بھلائیاں قبول کرے اور ان کی خطاؤں سے درگزر اور چشم پوشی کر لے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:4888] ‏‏‏‏ ان کی شرافت طبعی ملاحظہ ہو کر جو بھی راہ اللہ میں ہجرت کر کے آئے یہ اپنے دل میں اسے گھر دیتے ہیں اور اپنا جان و مال ان پر سے نثار کرنا اپنا فخر جانتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { مہاجرین نے ایک مرتبہ کہا: یا رسول اللہ! ہم نے تو دنیا میں ان انصار جیسے لوگ نہیں دیکھے تھوڑے میں سے تھوڑا اور بہت میں سے بہت، برابر ہمیں دے رہے ہیں، مدتوں سے ہمارا کل خرچ اٹھا رہے ہیں بلکہ ناز برداریاں کر رہے ہیں اور کبھی چہرے پر شکن بھی نہیں بلکہ خدمت کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، دیتے ہیں اور احسان نہیں رکھتے کام کاج خود کریں اور کمائی ہمیں دیں، اے اللہ کے رسول! ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں ہمارے اعمال کا سارا کا سارا اجر انہی کو نہ مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں جب تک تم ان کی ثناء اور تعریف کرتے رہو گے اور ان کے لیے دعائیں مانگتے رہو گے۔“ } ۱؎ [مسند احمد:201/3:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں کو بلا کر فرمایا کہ میں بحرین کا علاقہ تمہارے نام لکھ دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم اسے نہ لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، اگر نہیں لیتے تو دیکھو آئندہ بھی صبر کرتے رہنا میرے بعد ایسا وقت بھی آئے گا کہ اوروں کو دیا جائے گا اور تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:3894] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ { انصاریوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارے کھجوروں کے باغات ہم میں اور ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر فرمایا: ”سنو! کام کاج بھی تم ہی کرو اور ہم سب کو تم پیداوار میں شریک رکھو“، انصار نے جواب دیا یا رسول اللہ! ہمیں یہ بھی بخوشی منظور ہے۔“ } [صحیح بخاری:2325] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے یہ اپنے دلوں میں کوئی حسد ان مہاجرین کی قدر و منزلت اور ذکر و مرتبت پر نہیں کرتے، جو انہیں مل جائے انہیں اس پر رشک نہیں ہوتا۔ اسی مطلب پر اس حدیث کی دلالت بھی ہے جو مسند احمد میں انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ { ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ایک جنتی شخص آنے والا ہے“، تھوڑی دیر میں ایک انصاری رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتیاں لیے ہوئے تازہ وضو کر کے آ رہے تھے، داڑھی پر سے پانی ٹپک رہا تھا، دوسرے دن بھی اسی طرح ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور وہی شخص اسی طرح آئے تیسرے دن بھی یہی ہوا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آج دیکھتے بھالتے رہے اور جب مجلس نبوی ختم ہوئی اور یہ بزرگ وہاں سے اٹھ کر چلے تو یہ بھی ان کے پیچھے ہو لیے اور انصاری رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے مجھ میں اور میرے والد میں کچھ بول چال ہو گئی ہے جس پر میں قسم کھا بیٹھا ہوں کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا پس اگر آپ مہربانی فرما کر مجھے اجازت دیں تو میں یہ تین دن آپ کے ہاں گزار دوں، انہوں نے کہا بہت اچھا چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ تین راتیں ان کے گھر ان کے ساتھ گزاریں، دیکھا کہ وہ رات کو تہجد کی لمبی نماز بھی نہیں پڑھتے صرف اتنا کرتے ہیں کہ جب آنکھ کھلے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی بڑائی اپنے بستر پر ہی لیٹے لیٹے کر لیتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لیے اٹھیں، ہاں یہ ضروری بات تھی کہ میں نے ان کے منہ سے سوائے کلمہ خیر کے اور کچھ نہیں سنا، جب تین راتیں گزر گئیں تو مجھے ان کا عمل بہت ہی ہلکا سا معلوم ہونے لگا، اب میں نے ان سے کہا کہ دراصل نہ تو میرے اور میرے والد صاحب کے درمیان کوئی ایسی باتیں ہوئی تھیں، نہ میں نے ناراضگی کے باعث گھر چھوڑا تھا بلکہ واقعہ یہ ہوا کہ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ایک جنتی شخص آ رہا ہے اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو میں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں کچھ دن رہ کر دیکھوں تو سہی کہ آپ ایسی کون سی عبادتیں کرتے ہیں جو جیتے جی بہ زبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جنتی ہونے کی یقینی خبر ہم تک پہنچ گئی۔ چنانچہ میں نے یہ بہانہ کیا اور تین رات تک آپ کی خدمت میں رہا تاکہ آپ کے اعمال دیکھ کر میں بھی ویسے ہی عمل شروع کر دوں لیکن میں نے تو آپ کو نہ تو کوئی نیا اور اہم عمل کرتے ہوئے دیکھا، نہ عبادت میں ہی اوروں سے زیادہ بڑھا ہوا دیکھا، اب جا رہا ہوں لیکن زبانی ایک سوال ہے کہ آپ ہی بتائیے آخر وہ کون سا عمل ہے جس نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنتی بنایا؟ آپ نے فرمایا: بس تم میرے اعمال تو دیکھ چکے ان کے سوا اور کوئی خاص پوشیدہ عمل تو ہے نہیں چنانچہ میں ان سے رخصت ہو کر چلا تھوڑی ہی دور نکلا تھا جو انہوں نے مجھے آواز دی اور فرمایا: ہاں میرا ایک عمل سنتے جاؤ وہ یہ کہ میرے دل میں کبھی کسی مسلمان سے دھوکہ بازی، حسد اور بغض کا ارادہ بھی نہیں ہوا، میں کبھی کسی مسلمان کا بدخواہ نہیں بنا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بس اب معلوم ہو گیا اسی عمل نے آپ کو اس درجہ تک پہنچایا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ہر ایک کے بس کی نہیں امام نسائی بھی اپنی کتاب «عمل الیوم واللیله» میں اس حدیث کو لائے ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:166/3:صحیح] ‏‏‏‏ غرض یہ ہے کہ ان انصار میں یہ وصف تھا کہ مہاجرین کو اگر کوئی مال وغیرہ دیا جائے اور انہیں نہ ملے تو یہ برا نہیں مانتے تھے، بنو نضیر کے مال جب مہاجرین ہی میں تقسیم ہوئے تو کسی انصاری نے اس میں کلام کیا جس پر آیت «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» ۱؎ [59-الحشر:7] ‏‏‏‏ اتری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے مہاجر بھائی مال و اولاد چھوڑ کر تمہاری طرف آتے ہیں“، انصار نے کہا: پھر اے اللہ کے رسول! ہمارا مال ان میں اور ہم میں برابر بانٹ دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی زیادہ ایثار کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا جو آپ کا ارشاد ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر کھیت اور باغات کا کام نہیں جانتے تم خود اپنے مال کو قبضہ میں رکھو، خود کام کرو، خود باغات میں محنت کرو اور پیداوار میں انہیں شریک کر دو۔ انصار نے اسے بھی بہ کشادہ پیشانی منظور کر لیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33874:مرسل] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ خود کو حاجت ہونے کے باوجود بھی اپنے دوسرے بھائیوں کی حاجت کو مقدم رکھتے ہیں اپنی ضرورت خواہ باقی رہ جائے۔ لیکن دوسرے مسلمان کی ضرورت جلد پوری ہو جائے، یہ ان کی ہر وقت کی خواہش ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { جس کے پاس کمی اور قلت ہو خود کو ضرورت ہو اور پھر بھی صدقہ کرے اس کا صدقہ افضل اور بہتر ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1677،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ درجہ ان لوگوں کے درجہ سے بھی بڑھا ہوا ہے جن کا ذکر اور جگہ ہے کہ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ خرچ کرتے ہیں لیکن یہ لوگ تو خود اپنی حاجت ہوتے ہوئے صرف کرتے ہیں، محبت ہوتی ہے اور حاجت نہیں ہوتی، اس وقت کا خرچ اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا کہ خود کو ضرورت ہو اور پھر بھی راہ اللہ دے دینا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدقہ اسی قسم سے ہے کہ { آپ نے اپنا کل مال لا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر لگا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا بھی ”ابوبکر! کچھ باقی بھی رکھ آئے ہو؟“ جواب دیا، اللہ اور اس کے رسول کو باقی رکھ آیا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1678،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی طرح وہ واقعہ ہے جو جنگ یرموک میں عکرمہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کو پیش آیا تھا کہ میدان جہاد میں زخم خوردہ پڑے ہوئے ہیں ریت اور مٹی زخموں میں بھر رہی ہے کہ کراہ رہے ہیں، تڑپ رہے ہیں، سخت تیز دھوپ پڑ رہی ہے، پیاس کے مارے حلق چیخ رہا ہے، اتنے میں ایک مسلمان کندھے پر مشک لٹکائے آ جاتا ہے اور ان مجروح مجاہدین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ لیکن ایک کہتا ہے اس دوسرے کو پلاؤ، دوسرا کہتا ہے اس تیسرے کو پہلے پلاؤ وہ ابھی تیسرے تک پہنچا بھی نہیں کہ ایک شہید ہو جاتا ہے، دوسرے کو دیکھتا ہے کہ وہ بھی پیاسا ہی چل بسا، تیسرے کے پاس آتا ہے لیکن دیکھتا ہے کہ وہ بھی سوکھے ہونٹوں ہی اللہ سے جا ملا۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں سے خوش ہو اور انہیں بھی اپنی ذات سے خوش رکھے۔ [مستدرک حاکم:232/3:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں ہے کہ { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں سخت حاجت مند ہوں مجھے کچھ کھلوایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروں میں آدمی بھیجا لیکن تمام گھروں سے جواب ملا کہ حضور ہمارے پاس خود کچھ نہیں۔ یہ معلوم کر کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں سے کہا کہ کوئی ہے جو آج کی رات انہیں اپنا مہمان رکھے؟ ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! میں انہیں اپنا مہمان رکھوں گا چنانچہ یہ لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: دیکھو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، آج گو ہمیں کچھ بھی کھانے کو نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں، بیوی صاحبہ نے کہا: آج گھر میں بھی برکت ہے، بچوں کے لیے البتہ کچھ ٹکڑے رکھے ہوئے ہیں، انصاری نے فرمایا: اچھا بچوں کو تو بھلا پھسلا کر بھوکا سلا دو اور ہم تم دونوں اپنے پیٹ پر کپڑا باندھ کر فاقے سے رات گزار دیں گے، کھاتے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان یہ سمجھے کہ ہم کھا رہے ہیں اور دراصل ہم کھائیں گے نہیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا صبح جب یہ شخص انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کے اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ تعالیٰ خوش ہوا اور ہنس دیا انہی کے بارے میں «وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ» ۱؎ [59-الحشر:9] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ } صحیح مسلم کی روایت ہے میں ان انصاری کا نام ہے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3798] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے ’ جو اپنے نفس کی بخیلی، حرص اور لالچ سے بچ گیا اس نے نجات پا لی۔‘ مسند احمد اور مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگو! ظلم سے بچو، قیامت کے دن یہ ظلم اندھیرا بن جائے گا، لوگو! بخیلی اور حرص سے بچو یہی وہ چیز ہے جس نے تم سے پہلے لوگوں کو برباد کر دیا اسی کی وجہ سے انہوں نے خونریزیاں کیں اور حرام کو حلال بنا لیا۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:2528] ‏‏‏‏ اور سند سے یہ بھی مروی ہے کہ فحش سے بچو، اللہ تعالیٰ فحش باتوں اور بے حیائی کے کاموں کو ناپسند فرماتا ہے۔ حرص اور بخیلی کی مذمت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ { اسی کے باعث اگلوں نے ظلم کئے فسق و فجور کئے اور قطع رحمی کی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں جمع ہو ہی نہیں سکتا اسی طرح بخیلی اور ایمان بھی کسی بندہ کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ } ۱؎ [سنن نسائی:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یعنی راہ اللہ کی گرد جس پر پڑی وہ جہنم سے آزاد ہو گیا اور جس کے دل میں بخیلی نے گھر کر لیا اس کے دل میں ایمان کی رہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ایک شخص نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن میں تو ہلاک ہو گیا آپ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ کہا: قرآن میں تو ہے جو اپنے نفس کی بخیلی سے بچا دیا گیا اس نے فلاح پا لی اور میں تو مال کو بڑا روکنے والا ہوں، خرچ کرتے ہوئے دل رکتا ہے، آپ نے فرمایا اس کنجوسی کا ذکر اس آیت میں نہیں، یہاں مراد بخیلی سے یہ ہے کہ تو اپنے کسی مسلمان بھائی کا مال ظلم سے کھا جائے، ہاں بخیلی بہ معنی کنجوسی بھی ہے بہت بری چیز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/28:] ‏‏‏‏ ابولہیاج اسدی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دعا پڑھ رہے ہیں «اللَّهُمَّ قِنِي شُحّ نَفْسِي» الٰہی مجھے میرے نفس کی حرص و آڑ سے بچا لے۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا میں نے کہا آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ اس نے کہا جب اس سے بچاؤ ہو گیا تو پھر نہ تو زنا کاری ہو سکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی برا کام، اب جو میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:41/12:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

9۔ 1 ان سے انصار مدینہ مراد ہیں جو مہاجرین کے مدینہ آنے سے قبل مدینے میں آباد تھے اور مہاجرین کے ہجرت کر کے آنے سے قبل امین بھی ان کے دلوں میں قرار پکڑ چکا تھا یہ مطلب نہیں ہے کہ مہاجرین کے ایمان لانے سے پہلے یہ انصار ایمان لا چکے تھے کیونکہ ان کی اکثریت مہاجرین کے ایمان لانے کے بعد ایمان لائی ہے یعنی من قبلھم کا مطلب من قبل ھجرتھم ہے اور دار سے دار الھجرۃ یعنی مدینہ مراد ہے۔ 9۔ 2 یعنی مہاجرین کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ دے، اس پر حسد محسوس نہیں کرتے، جیسے فیء کا اولین مستحق بھی ان کو قرار دیا گیا۔ لیکن انصار نے برا نہیں منایا۔ 9۔ 3 یعنی اپنے مقابلے میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں خود بھوکا رہتے ہیں لیکن مہاجرین کو کھلاتے ہیں جیسے حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ تھا چناچہ ایک انصاری اسے اپنے گھر لے گیا گھر جا کر بیوی کو بتلایا تو بیوی نے کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کی خوراک ہے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بچوں کو تو آج بھوکا سلا دیں اور ہم خود بھی ایسے ہی کچھ کھائے بغیر سو جائیں گے البتہ مہمان کو کھلاتے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ اسے ہماری بابت علم نہ ہو کہ ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہیں صبح جب وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں میاں بیوی کی شان میں یہ آیات نازل فرمائی ہے۔ ویوثرون علی انفسھم۔ الایۃ صحیح بخاری۔ ان کے ایثار کی یہ بھی ایک نہایت عجیب مثال ہے کہ ایک انصاری کے پاس دو بیویاں تھیں تو اس نے ایک بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی پیشکش کی کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے اس کا دوسرا مہاجر بھائی نکاح کرلے۔ صحیح بخاری۔ کتاب النکاح۔ 9۔ 4 حدیث میں ہے ' شح سے بچو، اس حرص نفس نے ہی پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے خون ریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے محارم کو حلال کرلیا ' (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ {وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ:بَوَّأَ يُبَوِّءُ“} (تفعیل)جگہ دینا، ٹھکانا دینا،جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ» [ یونس: ۹۳ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا۔“ {” تَبَوَّأَ يَتَبَوَّأُ “} کسی جگہ میں ٹھکانا بنانا، مقیم ہونا۔ {” الدَّارَ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس گھر میں جہاں مہاجرین ہجرت کر کے پہنچے۔ ”دارِ ہجرت“ مدینہ منورہ کا لقب ہے، امام مالک رحمہ اللہ کو اسی لیے {”إِمَامُ دَارِ الْهِجْرَةِ “} کہا جاتا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے۔ یعنی اموالِ فے فقراء مہاجرین کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی دار ہجرت اور ایمان میں جگہ بنالی تھی، یعنی پہلے ہی مدینہ میں رہتے تھے اور ایمان لے آئے تھے۔ ایمان لانے کے لیے یہاں ایمان میں جگہ اور ٹھکانا بنانے کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ استعارہ ہے جس میں ایمان کو ایک مضبوط پناہ گاہ اور ٹھکانے کے ساتھ تشبیہ دی ہے، جس میں وہ پہلے ہی داخل ہو چکے تھے۔ ان لوگوں سے مراد تمام انصار ہیں جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس وقت ایمان لائے جب کوئی مہاجر مدینہ میں نہیں آیا تھا، یعنی بیعتِ عقبہ اولیٰ والے انصار اور وہ بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ایمان لا چکے تھے جب کچھ مہاجرین آچکے تھے اور کچھ آنے والے تھے اور مکہ فتح ہونے تک مسلمان ہونے والے تمام انصار بھی، کیونکہ وہ بھی کئی مہاجرین سے پہلے ایمان لے آئے تھے۔ ➋ { يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ:} یہ انصار کی دوسری فضیلت ہے کہ وہ ہجرت کر کے اپنے پاس آنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انصار نے ہجرت کر کے آنے والوں کو گلے لگایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے مہاجرین کو اپنی جائداد، گھر بار، زمینوں اور باغوں میں شریک کر لیا اور اتنے اصرار کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے کی کوشش کی کہ مہاجرین کو قرعہ ڈال کر ان کے گھروں میں تقسیم کیا گیا، جیسا کہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِيْنَ قُرْعَةً، قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِيْ أَبْيَاتِنَا ] [ بخاري، التعبیر، باب رؤیا النساء: ۷۰۰۳ ] ”انصار نے مہاجرین کو قرعہ کے ساتھ تقسیم کیا، ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون آئے، تو ہم نے انھیں اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا۔“ اس محبت کا ایک مظہر مواخات تھی، جس کی وجہ سے سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنی ساری جائداد اور تمام مکانوں میں سے نصف کی اور دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد ان کے نکاح میں دینے کی پیش کش کی، جس پر انھوں نے انھیں برکت کی دعا دی مگر یہ پیش کش قبول نہ کی۔ (دیکھیے بخاری: ۲۰۴۹) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِيْ قَلِيْلٍ، وَلاَ أَحْسَنَ بَذْلاً فِيْ كَثِيْرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤنَةَ، وَأَشْرَكُوْنَا فِي الْمَهْنَأِ، حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوْا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ لاَ، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لَهُمْ ] [مسند أحمد: ۳ /۲۰۰، ۲۰۱، ح: ۱۳۰۷۵، قال المحقق إسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ ترمذي: ۲۴۸۷ ] ”اے اللہ کے رسول! ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے جن کے پاس ہم آئے ہیں، جو تھوڑے میں اچھی سے اچھی غم خواری کرتے ہوں اور زیادہ میں بہتر سے بہتر خرچ کرتے ہوں۔ وہ ہماری جگہ خود محنت مشقت کر رہے ہیں اور انھوں نے آمدنی میں ہمیں شریک کر رکھا ہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوتاہے کہ سارا اجر وہی لے جائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا علاقہ بطور جاگیر ان کے لیے لکھ دیں۔ انھوں نے کہا: ”جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم نہیں لیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِمَّا لاَ، فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِيْ، فَإِنَّهُ سَيُصِيْبُكُمْ بَعْدِيْ أَثَرَةٌ ] [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للأنصار: ”اصبروا حتٰی تلقوني علی الحوض “: ۳۷۹۴ ] ”اگر تم نہیں لیتے تو صبر کرو، یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو، کیونکہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا: ”تم ہماری جگہ محنت کرو گے اور ہم تمھیں پھلوں کی پیداوار میں شریک کر لیں گے۔“ مہاجرین نے کہا: ”ہم نے تمھاری بات سنی اور مان لی۔“ [ بخاري، الحرث والمزارعۃ، باب إذا قال اکفني مؤونۃ النخل…: ۲۳۲۵ ] ➌ { وَ لَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا:} یعنی انصار کے دل میں مہاجرین کی ایسی محبت اور ہمدردی ہے کہ مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے تو انصار کے دل میں اپنے لیے اس کی خواہش تک پیدا نہیں ہوتی، اس کا مطالبہ تو بہت دور کی بات ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی چھوڑی ہوئی تمام زمینیں اور باغات مہاجرین کو دے دیے اور انصار نے بخوشی اسے قبول کیا۔ ➍ {وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ: ”خَصَّ يَخَصُّ خَصَاصَةً وَخَصَاصًا وَخَصَاصَاءً (ع)“ ”اِفْتَقَرَ“} محتاج ہونا۔ {” خَصَاصَةٌ “} فقر و فاقہ۔ اپنی ضرورت سے زائد چیز خرچ کرنا بھی اگرچہ خوبی ہے، مگر وہ تھوڑا بہت جو آدمی کے پاس ہو، خود فقرو فاقہ برداشت کرتے ہوئے اسے دوسرے پر خرچ کر دینا بہت ہی اونچی بات ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ ] [ أبو داوٗد، الزکاۃ، باب الرخصۃ في ذٰلک: ۱۶۷۷، وقال الألباني صحیح ] ”کم مال والے کی کوشش اور ابتدا اس سے کرو جس کی تم پرورش کر رہے ہو۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ] ”اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟“ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”میں لے جاؤں گا۔“ چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔“ اس نے کہا: ”ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔“ اس نے کہا: ”کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔“ اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ] ”آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الحشر: ۹ ] ”اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔“ [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم: ۲۰۵۴ ] صحیح مسلم میں اس انصاری کا نام بھی مذکور ہے کہ وہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ➎ {وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ …: ” يُوْقَ”وَقٰي يَقِيْ وِقَايَةً“} (ض) (بچانا) سے فعل مضارع مجہول ہے، اصل میں {”يُوْقٰي“} تھا، {” مَنْ “} کے جزم دینے کی وجہ سے الف گر گیا۔ راغب نے فرمایا: {”اَلشُّحُّ بُخْلٌ مَعَ حِرْصٍٍٍ وَذٰلِكَ فِيْمَا كَانَتْ عَادَةً۔“} ”شح“ ”وہ بخل ہے جس کے ساتھ حرص بھی ہو اور یہ آدمی کی عادت ہو۔“ یعنی ”شح“ یہ نہیں کہ آدمی کسی وقت بخل کر جائے یا حرص سے کام لے لے، بلکہ یہ دونوں چیزیں اس کی عادت ہوں۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ”شح“ یہ ہے کہ جو آدمی کے پاس ہو اس پر بخل کرے اور جو نہیں اس کی حرص رکھے۔ {” وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ “} سے ظاہر ہے کہ ہر انسان میں یہ عادت پائی جاتی ہے، بچتا وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ بچائے اور جنھیں اس بری خصلت سے بچا لیا جائے وہی کامیاب ہیں۔ آیت میں ”شح “ سے بچنے کی تاکید اور فضیلت کا بیان ہے، پھر جو کوشش کرے اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللہ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ» [ العنکبوت: ۶۹ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَمَنْ يَّسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللّٰهُ، وَمَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللّٰهُ، وَمَنْ يَّتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللّٰهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَ أَوْ سَعَ مِنَ الصَّبْرِ ] [بخاري، الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسئلۃ: ۱۴۶۹ ] ”اور جو (سوال سے) بچے گا اللہ تعالیٰ اسے بچالے گا اور جو غنی بننے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی بنا دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کر دے گا اور کسی شخص کو کوئی ایسا عطیہ نہیں دیا گیا جو صبر سے اچھا اور زیادہ وسیع ہو۔“ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلٰی أَنْ سَفَكُوْا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَهُمْ ] [مسلم، البروالصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۸ ] ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن بہت سی تاریکیاں ہوگا اور {”شُحَّ“} (بخل و حرص) سے بچو، کیونکہ شح نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو تم سے پہلے تھے۔ اس نے انھیں اس بات پر ابھارا کہ انھوں نے اپنے خون بہائے اور اپنے اوپر حرام چیزوں کو حلال کر لیا۔“ ➏ اس آیت میں انصار کی جو صفات بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ انھی کے ساتھ خاص ہیں بلکہ وہ مہاجرین میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان کی ہجرت ہی ان تمام صفات کی جامع ہے، کیونکہ آدمی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور ایمان والوں کی محبت اور انھیں اپنے جان و مال پر ترجیح دیے بغیر ہجرت کر سکے۔ پھر ہر موقع پر انصار کی طرح مہاجرین نے بھی جس طرح اپنے مال و جان کو اللہ کی راہ میں قربان کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ جنگ تبوک کے موقع پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گھر میں جو کچھ تھا سب لے آئے اور عمر رضی اللہ عنہ آدھا سامان لے آئے۔ یہ شح سے محفوظ ہونے اور ایثار کی بلند ترین مثالیں ہیں۔ اسی طرح پہلی آیت میں مہاجرین کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف انھی کے ساتھ خاص ہیں، بلکہ وہ انصار میں بھی موجود تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے دوست اور سچے مومن قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ» ‏‏‏‏ [ الأنفال: ۷۲ ] ”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی، یہ لوگ! ان کے بعض بعض کے دوست ہیں۔“ اور اس کے بعد فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا» ‏‏‏‏ [ الأنفال: ۷۴ ] ”اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔“ غرض مہاجرین و انصار میں سے کوئی بھی فضیلت میں کم نہیں، تاہم مہاجرین کو اپنی ہجرت کی وجہ سے انصار پر ایک قسم کی برتری حاصل ہے، اس لیے ان آیات میں ان کا ذکر پہلے آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی غنیمتوں کی تقسیم کے موقع پر انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: [ أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَّذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيْرِ، وَتَذْهَبُوْنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی رِحَالِكُمْ؟ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الطائف في شوال سنۃ ثمان: ۴۳۳۰ ] ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار شعار (جسم کے ساتھ ملا ہوا کپڑا) ہیں اور دوسرے لوگ (اوپر لیا جانے والا کپڑا)ہیں۔“
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →