بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحشر — Surah Hashr
آیت نمبر 24
کل آیات: 24
قرآن کریم الحشر آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الحشر islamicurdubooks.com ↗
ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۲۴﴾
وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اس کے لیے بہترین نام ہیں ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اُس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے
وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے
وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا ہر ایک کو صورت دینے والا اسی کے ہیں سب اچھے نام اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
وہی اللہ (ہر چیز کا) ٹھیک اندازے کے مطابق پیدا کرنے والا (وجود میں لانے والا) اور صورت گری کرنے والا ہے اسی کیلئے سارے اچھے نام ہیں (اور) اسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ غالب آنے والا (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ کی صفات ٭٭

اس مالک رب معبود کے سوا اور کوئی ان اوصاف والا نہیں، تمام چیزوں کا تنہا وہی مالک و مختار ہے، ہر چیز کا ہیر پھیر کرنے والا، سب پر قبضہ اور تصرف رکھنے والا بھی وہی ہے، کوئی نہیں جو اس کی مزاحمت یا مدافعت کر سکے یا اسے ممانعت کر سکے، وہ قدوس ہے، یعنی طاہر ہے، مبارک ہے، ذاتی اور صفاتی نقصانات سے پاک ہے، تمام بلند مرتبہ فرشتے اور سب کی سب اعلیٰ مخلوق اس کی تسبیح و تقدیس میں علی الدوام مشغول ہے، کل عیبوں اور نقصانوں سے مبرا اور منزہ ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، اپنے افعال میں بھی اس کی ذات ہر طرح کے نقصان سے پاک ہے، وہ «مومن» ہے یعنی تمام مخلوق کو اس نے اس بات سے بے خوف رکھا ہے کہ ان پر کسی طرح کا کسی وقت اپنی طرف سے ظلم ہو، اس نے یہ فرما کر کہ یہ حق ہے سب کو امن دے رکھا ہے، اپنے ایماندار بندوں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ «المهيمن» ہے یعنی اپنی تمام مخلوق کے اعمال کا ہر وقت یکساں طور شاہد ہے اور نگہبان ہے، جیسے فرمان ہے «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [85-البروج:9] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے۔‘

اور فرمان ہے «ثُمَّ اللَّـهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:46] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال پر گواہ ہے‘ اور جگہ فرمایا «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» ۱؎ [13-الرعد:33] ‏‏‏‏، مطلب یہ ہے کہ ’ ہر نفس جو کچھ کر رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ‘ وہ «عزیز» ہے ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے، کل مخلوق پر وہ غالب ہے پس اس کی عزت عظمت، جبروت کبریائی کی وجہ سے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، وہ «جبار» اور «متکبر» ہے، جبریت اور کبر صرف اسی کے شایان شان ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے { عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو مجھ سے ان دونوں میں سے کسی کو چھیننا چاہے گا میں اسے عذاب کروں گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2660] ‏‏‏‏ اپنی مخلوق کو جس چیز پر چاہے وہ رکھ سکتا ہے، کل کاموں کی اصلاح اسی کے ہاتھ ہے، وہ ہر برائی سے نفرت اور دوری رکھنے والا ہے، جو لوگ اپنی کم سمجھی کی وجہ سے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں وہ ان سب سے بیزار ہے، اس کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے، اللہ تعالیٰ خالق ہے یعنی مقدر مقرر کرنے والا، پھر باری ہے یعنی اسے جاری اور ظاہر کرنے والا، کوئی ایسا نہیں کہ جو تقدیر اور تنقید دونوں پر قادر ہو، جو چاہے اندازہ مقرر کرے اور پھر اسی کے مطابق اسے چلائے بھی، کبھی بھی اس میں فرق نہ آنے دے، بہت سے ترتیب دینے والے اور اندازہ کرنے والے ہیں، جو پھر اسے جاری کرنے اور اسی کے مطابق برابر جاری رکھنے پر قادر نہیں، تقدیر کے ساتھ ایجاد اور تنقید پر بھی قدرت رکھنے والی اللہ کی ہی ذات ہے، پس «خلق» سے مراد تقدیر اور «برء» سے مراد تنفیذ ہے۔ عرب میں یہ الفاظ ان معنوں میں برابر بطور مثال کے بھی مروج ہیں، اسی کی شان ہے کہ جس چیز کو جب جس طرح کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی طرح اسی صورت میں ہو جاتی ہے جیسے فرمان ہے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الإنفطار:8] ‏‏‏‏ ’ جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دی۔ ‘ اسی لیے یہاں فرماتا ہے وہ مصور بےمثل ہے یعنی جس چیز کی ایجاد جس طرح کی چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔

پیارے پیارے بہترین اور بزرگ تر ناموں والا وہی ہے، سورۃ الاعراف میں اس جملہ کی تفسیر گزر چکی ہے، نیز وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جو بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں شمار کر لے یاد رکھ لے وہ جنت میں داخل ہو گا وہ وتر ہے یعنی واحد ہے اور اکائی کو دوست رکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6410] ‏‏‏‏ ترمذی میں ان ناموں کی صراحت بھی آئی ہے جو نام یہ ہیں۔ «هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ الرَّحْمَن الرَّحِيم الْمَلِك الْقُدُّوس السَّلَام الْمُؤْمِن الْمُهَيْمِن الْعَزِيز الْجَبَّار الْمُتَكَبِّر الْخَالِق الْبَارِئ الْمُصَوِّر الْغَفَّار الْقَهَّار الْوَهَّاب الرَّزَّاق الْفَتَّاح الْعَلِيم الْقَابِض الْبَاسِط الْخَافِض الرَّافِع الْمُعِزّ الْمُذِلّ السَّمِيع الْبَصِير الْحَكَم الْعَدْل اللَّطِيف الْخَبِير الْحَلِيم الْعَظِيم الْغَفُور الشَّكُور الْعَلِيّ الْكَبِير الْحَفِيظ الْمُقِيت الْحَسِيب الْجَلِيل الْكَرِيم الرَّقِيب الْمُجِيب الْوَاسِع الْحَكِيم الْوَدُود الْمَجِيد الْبَاعِث الشَّهِيد الْحَقّ الْوَكِيل الْقَوِيّ الْمَتِين الْوَلِيّ الْحَمِيد الْمُحْصِي الْمُبْدِئ الْمُعِيد الْمُحْيِي الْمُمِيت الْحَيّ الْقَيُّوم الْوَاجِد الْمَاجِد الْوَاحِد الصَّمَد الْقَادِر الْمُقْتَدِر الْمُقَدِّم الْمُؤَخِّر الْأَوَّل الْآخِر الظَّاهِر الْبَاطِن الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرّ التَّوَّاب الْمُنْتَقِم الْعَفُوّ الرَّءُوف مَالِك الْمُلْك ذُو الْجَلَال وَالْإِكْرَام الْمُقْسِط الْجَامِع الْغَنِيّ الْمُغْنِي الْمُعْطِي الْمَانِع الضَّارّ النَّافِع النُّور الْهَادِي الْبَدِيع الْبَاقِي الْوَارِث الرَّشِيد الصَّبُور» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں کچھ تقدیم تاخیر کمی زیادتی بھی ہے، الغرض ان تمام احادیث وغیرہ کا بیان پوری طرح سورۃ الاعراف میں گزر چکا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے باقی سب کو دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی کل چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان میں جو مخلوق ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح حمد کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔‘ وہ عزیز ہے اس کی حکمت والی سرکار اپنے احکام اور تقدیر کے تقدر میں ایسی نہیں کہ کسی طرح کی کمی نکالی جائے یا کوئی اعتراض قائم کیا جا سکے۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے { جو شخص صبح کو تین مرتبہ «أَعُوذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم مِنْ الشَّيْطَان الرَّجِيم» پڑھ کر سورۃ الحشر کے آخر کی (‏‏‏‏ان)‏‏‏‏‏‏‏‏ تین آیتوں «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [59-الحشر:22-24] ‏‏‏‏ کو پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے جو شام تک اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا مرتبہ پاتا ہے اور جو شخص ان کی تلاوت شام کے وقت کرے وہ بھی اسی حکم میں ہے۔ } ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2922،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الحشر کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 کہتے ہیں کہ خلق کا مطلب ہے اپنے ارادہ و مشیت کے مطابق اندازہ کرنا اور برا کے معنی ہیں اسے پیدا کرنا، گھڑنا، وجود میں لانا۔ 24۔ 2 اسمائے حسنٰی کی بحث (وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 180۔) 7۔ الاعراف:180) میں گزر چکی ہے۔ 24۔ 3 زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ 24۔ 4 جس چیز کا بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ { هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ:} خلق، برء اور تصویر پیدائش کے تین مراحل ہیں، پہلا مرحلہ یہ کہ کوئی چیز بنانے سے پہلے اس کا پورا اندازہ لگانا اور نقشہ و خاکہ بنانا ہوتا ہے، یہ خلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا پہلے ہی ایک اندازہ اور نقشہ طے کر دیا ہے کہ وہ کیسی ہوگی، مثلاً انسان کی کیا شکل ہوگی، درخت کیسا ہو گا وغیرہ۔ دوسرا مرحلہ ان چیزوں کو وجود میں لانا ہے جن سے اسے بنایا جانا ہے اور انھیں تراش خراش اور ڈھال کر وہ صورت قبول کرنے کے قابل بنانا جو اس کے لیے طے کی گئی ہے۔ یہ ”برء“ ہے۔ مثلاً انسان کو مٹی سے بنایا، مٹی کو گارا بنایا، پھر آدم علیہ السلام کا ڈھانچہ بنایا۔ تیسرا اور آخری مرحلہ تصویر ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مکمل ہو کر وجود میں آ جاتی ہے۔ کائنات کی ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اللہ تعالیٰ نے تصویر عطا فرمائی ہے، زمین و آسمان ہوں یا چیونٹی اور ذرہ، ہر چیز کو پیدا کرنے کے تمام مراحل اسی کے ہاتھ میں ہیں، انسان اگر کچھ بناتا بھی ہے تو اس کے ہر کام کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ» [ الصافات: ۹۶ ] ”اور اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔“ ان تینوں اسماء میں سے ہر ایک مطلق بنانے اور پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۱) کی تفسیر۔ ➋ { لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى:} یعنی ان آیات میں جو اسماء اور صفات بیان ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ صرف انھی کے ساتھ متصف نہیں، بلکہ ہر بہترین اسم و صفت کا وہی مستحق ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۰) کی تفسیر۔ ➌ {يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} سورت کی ابتدا بھی اسی بات سے ہوئی ہے اور انتہا بھی۔ ابتدا میں{” سَبَّحَ لِلّٰهِ “} ہے اور انتہا میں {” يُسَبِّحُ لَهٗ “} ہے۔ اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے آگئے۔ آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حدید کی پہلی آیت اور سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) کی تفسیر۔ ➍ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ “} کہے، پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار (70,000) فرشتے مقرر کر دیتے ہیں جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ اس دن فوت ہو جائے تو شہید فوت ہوگا اور جو شام کو انھیں پڑھ لے اسے بھی یہ مرتبہ ملے گا۔“ [ ترمذي، فضائل القرآن، باب في فضل قراء ۃ آخر سورۃ الحشر: ۲۹۲۲۔ مسند أحمد: 26/5، ح: ۲۰۳۰۶ ] مسند احمد کے محققین اور شیخ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ تفصیل مسند احمد کی تحقیق میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت →