بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحشر — Surah Hashr
آیت نمبر 14
کل آیات: 24
قرآن کریم الحشر آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ الحشر islamicurdubooks.com ↗
لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾
یہ کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں تم اِنہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اِن کا یہ حال اِس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں
یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں
یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں
یہ سب مل کر کبھی تم سے (کھلے میدان میں) جنگ نہیں کریں گے مگر قلعہ بند بسیتوں میں (بیٹھ کر) یا دیواروں کے پیچھے سے (چھپ کر) وہ آپس میں بڑے قوی ہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ وہ متحد ہیں حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔
وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔ تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں،یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفر بزدلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز ٭٭

عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کر سکیں، نہ لڑائی میں ان کی مدد کر سکیں، نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں۔ اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی تیر و تلوار کی صورت دیکھتے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور نامردی کے ساتھ بھاگتے ہی بن پڑے۔ پھر مستقل طور پر پیش گوئی فرماتا ہے کہ ان کی تمہارے مقابلہ میں امداد نہ کی جائے گی، یہ اللہ سے بھی اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے خوف کھاتے ہیں۔

جیسے اور جگہ بھی ہے۔ «ذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:77] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کا ایک فریق لوگوں سے اتنا ڈرتا ہے جتنا اللہ سے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ۔ ‘ بات یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں، ان کی نامردی اور بزدلی کی یہ حالت ہے کہ یہ میدان کی لڑائی کبھی لڑ نہیں سکتے ہاں اگر مضبوط اور محفوظ قلعوں میں بیٹھے ہوئے ہوں یا مورچوں کی آڑ میں چھپ کر کچھ کاروائی کرنے کا موقعہ ہو تو خیر بسبب ضرورت کر گزریں گے لیکن میدان میں آ کر بہادری کے جوہر دکھانا یہ ان سے کوسوں دور ہے، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» ۱؎ [6-الأنعام:65] ‏‏‏‏ یعنی ’ بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھاتا ہے۔ ‘ تم انہیں مجتمع اور متفق و متحد سمجھ رہے ہو لیکن دراصل یہ متفرق و مختلف ہیں ایک کا دل دوسرے سے نہیں ملتا، منافق اپنی جگہ اور اہل کتاب اپنی جگہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، وجہ یہ ہے کہ بےعقل لوگ ہیں۔ پھر فرمایا ’ ان کی مثال ان سے کچھ ہی پہلے کے کافروں جیسی ہے جنہوں نے یہاں بھی اپنے کئے کا بدلہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے۔ ‘ اس سے مراد یا تو کفار قریش ہیں کہ بدر والے دن ان کی کمر کبڑی ہو گئی اور سخت نقصان اٹھا کر کشتوں کے پشتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یا بنو قینقاع کے یہود ہیں کہ وہ بھی شرارت پر اتر آئے، اللہ نے ان پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے خارج البلد کرا دیا یہ دونوں واقعے ابھی ابھی کے ہیں اور تمہاری عبرت کا صحیح سبق ہیں لیکن اس وقت کہ کوئی عبرت حاصل کرنے والا انجام کو سوچنے والا ہو بھی، زیادہ مناسب مقام بنو قینقاع کے یہود کا واقعہ ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» منافقین کے وعدوں پر ان یہودیوں کا شرارت پر آمادہ ہونا اور ان کے بھرے میں آ کر معاہدہ توڑ ڈالنا پھر ان منافقین کا انہیں موقعہ پر کام نہ آنا، نہ لڑائی کے وقت مدد پہنچانا، نہ جلا وطنی میں ساتھ دینا، ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو شیطان بھی اسی طرح انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب یہ کفر کر چکتا ہے تو خود بھی اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور اپنا اللہ والا ہونا ظاہر کرنے لگتا ہے۔

اسی مثال کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے، بنی اسرائیل میں ایک عابد تھے ساٹھ سال اسے عبادت الٰہی میں گزر چکے تھے شیطان نے اسے ورغلانا چاہا لیکن وہ قابو میں نہ آیا اس نے ایک عورت پر اپنا اثر ڈالا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا اسے جنات ستا رہے ہیں، ادھر اس عورت کے بھائیوں کو یہ وسوسہ ڈالا کہ اس کا علاج اسی عابد سے ہو سکتا ہے، یہ اس عورت کو اس عابد کے پاس لائے، اس نے علاج معالجہ یعنی دم کرنا شروع کیا اور یہ عورت یہیں رہنے لگی، ایک دن عابد اس کے پاس ہی تھا جو شیطان نے اس کے خیالات خراب کرنے شروع کئے یہاں تک کہ وہ زنا کر بیٹھا اور وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ اب رسوائی کے خوف سے شیطان نے چھٹکارے کی یہ صورت بتائی کہ اس عورت کو مار ڈال ورنہ راز کھل جائے گا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر ڈالا، ادھر اس نے جا کر عورت کے بھائیوں کو شک دلوایا وہ دوڑے آئے، شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا وہ لوگ آ رہے ہیں اب عزت بھی جائے گی اور جان بھی جائے گی۔ اگر مجھے خوش کر لے اور میرا کہا مان لے تو عزت اور جان دونوں بچ سکتی ہیں۔ شیطان نے کہا مجھے سجدہ کر، عابد نے اسے سجدہ کر لیا، یہ کہنے لگا تف ہے تجھ پر کم بخت میں تو اب تجھ سے بےزار ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، جو رب العالمین ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:48/12:صحیح] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ایک عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اور ایک راہب کی خانقاہ تلے رات گزرا کرتی تھی، اس کے چار بھائی تھے، ایک دن شیطان نے راہب کو گدگدایا اور اس سے زنا کر بیٹھا اسے حمل رہ گیا۔ شیطان نے راہب کے دل میں ڈالا کہ اب بڑی رسوائی ہو گی اس سے بہتر یہ ہے کہ اسے مار ڈال اور کہیں دفن کر دے، تیرے تقدس کو دیکھتے ہوئے، تیری طرف تو کسی کا خیال بھی نہ جائے گا اور اگر بالفرض پھر بھی کچھ پوچھ گچھ ہو تو جھوٹ موٹ کہ دینا، بھلا کون ہے جو تیری بات کو غلط جانے؟ اس کی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی، ایک روز رات کے وقت موقعہ پا کر اس عورت کو جان سے مار ڈالا اور کسی اجاڑ جگہ زمین میں دبا دیا۔ اب شیطان اس کے چاروں بھائیوں کے پاس پہنچا اور ہر ایک کے خواب میں اسے سارا واقعہ کہہ سنایا اور اس کے دفن کی جگہ بھی بتا دی، صبح جب یہ جاگے تو ایک نے کہا: آج کی رات تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے ہمت نہیں پڑتی کہ آپ سے بیان کروں دوسروں نے کہا: نہیں کہو تو سہی چنانچہ اس نے اپنا پورا خواب بیان کیا کہ اس طرح فلاں عابد نے اس سے بدکاری کی پھر جب حمل ٹھہر گیا تو اسے قتل کر دیا اور فلاں جگہ اس کی لاش دبا آیا ہے، ان تینوں میں سے ہر ایک نے کہا مجھے بھی یہی خواب آیا ہے، اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ سچا خواب ہے، چنانچہ انہوں نے جا کر اطلاع دی اور بادشاہ کے حکم سے اس راہب کو اس خانقاہ سے ساتھ لیا اور اس جگہ پہنچ کر زمین کھود کر اس کی لاش برآمد کی۔ کامل ثبوت کے بعد اب اسے شاہی دربار میں لے چلے اس وقت شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ سب میرے کرتوت ہیں اب بھی اگر تو مجھے راضی کر لے تو جان بچا دوں گا اس نے کہا جو تو کہے کروں گا، کہا مجھے سجدہ کر لے، اس نے یہ بھی کر دیا، پس پورا بے ایمان بنا کر شیطان کہتا ہے، میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے ڈرتا ہوں، چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا اور پادری صاحب کو قتل کر دیا گیا، مشہور ہے کہ اس پادری کا نام برصیصا تھا۔ سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم، طاؤس، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے یہ قصہ مختلف الفاظ سے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کے بالکل برعکس جریج عابد کا قصہ ہے کہ { ایک بدکار عورت نے اس پر تہمت لگا دی کہ اس نے میرے ساتھ زنا کیا ہے اور یہ بچہ جو مجھے ہوا ہے وہ اسی کا ہے، چنانچہ لوگوں نے جریج کے عبادت خانے کو گھیر لیا اور انہیں نہایت بے ادبی سے زد و کوب کرتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے باہر لے آئے اور عبادت خانے کو ڈھا دیا۔ یہ بیچارے گھبرائے ہوئے ہر چند پوچھتے ہیں کہ آخر واقعہ کیا ہے؟ لیکن مجمع آپے سے باہر ہے آخر کسی نے کہا کہ اللہ کے دشمن، اولیاء اللہ کے لباس میں یہ شیطانی حرکت؟ اس عورت سے تو نے بدکاری کی۔ جریج نے فرمایا: اچھا ٹھہرو، صبر کرو اس بچے کو لاؤ چنانچہ وہ دودھ پیتا چھوٹا سا بچہ لایا گیا جریج نے اپنی عزت کی بقا کی اللہ سے دعا کی پھر اس بچے سے پوچھا: اے بچے بتا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے کو اللہ نے اپنے ولی کی عزت بچانے کے لیے اپنی قدرت سے گویائی کی قوت عطا فرما دی اور اس نے اس صاف فصیح زبان میں اونچی آواز سے کہا میرا باپ ایک چرواہا ہے۔ یہ سنتے ہی بنی اسرائیل کے ہوش جاتے رہے یہ اس بزرگ کے سامنے عذر معذرت کرنے لگے معافی مانگنے لگے انہوں نے کہا بس اب مجھے چھوڑ دو لوگوں نے کہا ہم آپ کی عابدت گاہ سونے کی بنا دیتے ہیں آپ نے فرمایا بس اسے جیسی وہ تھی ویسے ہی رہنے دو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3426] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ آخر انجام کفر کے کرنے اور حکم دینے والے کا یہی ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم واصل ہوئے، ہر ظالم کئے کی سزا پا ہی لیتا ہے۔

📖 احسن البیان

14۔ 1 یعنی یہ منافقین اور یہودی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے البتہ قلعوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پر وار کرسکتے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں اور تمہاری ہیبت سے لرزاں وترساں ہیں۔ 14۔ 2 یعنی آپس میں یہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ اس لئے ان میں باہم تو تکار اور تھکا فضیحتی عام ہے۔ 14۔ 3 یہ منافقین کا آپس میں دلوں کا حال ہے یا یہود اور منافقین کا یا مشرکین اور اہل کتاب کا مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں یہ ایک نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل ایک نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغض وعناد سے بھرے ہوئے 14۔ 4 یعنی یہ اختلاف ان کی بےعقلی کی وجہ سے ہے، اگر ان کے پاس سمجھنے والی عقل ہوتی تو یہ حق کو پہچان لیتے اور اسے اپنا لیتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) ➊ { لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ …: ”حِصْنٌ“} کا معنی قلعہ ہے۔ {” مُحَصَّنَةٍ “} قلعہ بنائی ہوئی محفوظ بستیاں۔ {” جُدُرٍ”جِدَارٌ “} کی جمع ہے، دیواریں۔ یعنی یہ یہودی ایسے نامرد اور بزدل ہیں کہ کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں تمھارا سامنا نہیں کریں گے، بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کے پیچھے رہ کر ہی لڑیں گے۔ اس طرح لڑنے والے ہمیشہ ذلیل ہی ہوتے ہیں، کیونکہ جو میدان میں نکلنے کی جرأت نہیں رکھتا اسے قلعے اور دیواریں بھی نہیں بچا سکتیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھلے میدان میں لڑنا پسند کرتے تھے اور چونکہ وہ شہادت کی تلاش میں لڑتے تھے، اس لیے دشمن پہلی چوٹ ہی میں پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھتا تھا۔ یہودی چونکہ موت سے بچتے تھے اس لیے وہ میدان میں آنے کے بجائے قلعوں اور دیواروں کی پناہ کے ذریعے سے زندگی بچانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی قلعہ بند بستیاں بھی انھیں ذلت اور موت سے نہ بچا سکیں۔ ➋ { بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ:} یعنی یہ یہودی اور منافقین تمھارے مقابلے میں تبھی آ سکتے تھے جب وہ آپس میں ایک ہوتے، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسلام دشمنی میں اکٹھے ہیں، ورنہ ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے۔ منافقین و یہود اور مشرکین کا ایک دوسرے سے یہی معاملہ ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک گروہ کے افراد آپس میں بھی ایک نہیں بلکہ ایک دوسرے سے شدید دشمنی رکھتے ہیں، ایسے لوگوں میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ تمھارے مقابلے میں اکٹھے ہو کر میدان میں نکلیں۔ ➌ {تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى:” شَتّٰى”شَتِيْتٌ“} کی جمع ہے، جیسے{” قَتِيْلٌ“} کی جمع {” قَتْلٰي“} ہے، یعنی تم انھیں گمان کرو گے کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔ ➍ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ:} اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کام کے انجام کو نہیں سوچتے اور عقل سے کام نہیں لیتے، بلکہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں، جس کا نتیجہ باہمی اختلاف اور عداوت ہی ہے۔ {” قَوْمٌ “} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ ان کے ایک آدھ آدمی کا معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مزاج ہی یہ ہے۔ ➎ ان آیات میں مسلمانوں کی تربیت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت، عناد اور دشمنی سے بہت زیادہ اجتناب کریں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ کوئی بھی قوم دشمن پر اسی وقت غالب ہو سکتی ہے جب ان کے دل ایک دوسرے کے کینے اور عداوت سے پاک اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں اور وہ قومی و اجتماعی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے یک زبان و یک جان ہوں۔ ➏ مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں: ”اس آیت کے حکیمانہ مضمون کو اور مسلمانوں کی اندرونی حالت نوعی و صنفی، پھر صنفی در صنفی کو دیکھیں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے کہ یہ آیت ہمارے ہی حق میں اتری ہے۔ خواجہ حالی نے اس حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے: نہ سنی میں اور جعفری میں ہو ملت نہ نعمانی و شافعی میں ہو الفت وہابی سے صوفی کی کم نہ ہو نفرت مقلد کرے نامقلد پہ لعنت رہے اہل قبلہ میں جنگ ایسی باہم کہ دین خدا پر ہنسے سارا عالم کسی ایک غرضِ عام کے لیے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، ابتدا میں اگر ہوتے ہیں تو انتہا میں بگڑ جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ اطوار انھی لوگوں میں ہوتے ہیں جو قومی اغراض عامہ سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے ان کے حق میں یہ الٰہی فیصلہ بالکل حق اور بجا ہے: «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ ”یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ (ثنائی)
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →