بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 82
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 82
آیت نمبر: 82 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡہُمۡ وَ اَشَدَّ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے، اِن سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں اِن سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں جو کچھ کمائی اُنہوں نے کی تھی، آخر وہ اُن کے کس کام آئی؟
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا؟ جو ان سے تعداد میں زیاده تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں، ان کے کیے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائده نہیں پہنچایا
کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے اور ان کی قوت اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا،
کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزرے ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ تھے اور طاقت میں اور زمین میں اپنی چھوڑی ہوئی نشانیوں کے اعتبار سے ان سے بڑھے ہوئے تھے لیکن ان کی سب کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی۔
تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ (تعداد میں) ان سے زیادہ تھے اور قوت میں اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے ان سے بڑھ کر تھے، تو ان کے کسی کام نہ آیا، جو وہ کماتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہو گئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کر دیا، بھرکس نکال ڈالا، تہ و بالا کر دیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کر لی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ «قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ‏‏‏‏ [ 10-یونس: 90 ] ‏‏‏‏ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ «‏‏‏‏آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ‏‏‏‏ [ 10-یونس: 91 ] ‏‏‏‏ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کر چکے ہو۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بد دعا کی تھی کہ «وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-یونس: 88 ] ‏‏‏‏ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ جب دم سینے میں اٹکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لیے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔ «‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃغافر کی تفسیر ختم ہوئی، ولله الحمد والمنة۔

📖 احسن البیان

82۔ 1 یعنی جن قوموں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ یہ ان کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات تو دیکھیں جو ان کے علاقوں میں ہی ہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ 82۔ 2 یعنی عمارتوں کارخانوں اور کھیتیوں کی شکل میں ان کے کھنڈرات واضح کرتے ہیں کہ وہ کاریگری کے میدان میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔ 82۔ 3 فما اغنی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اور نافیہ بھی نافیہ کا مفہوم تو ترجمے سے واضح ہے استفہامیہ کی رو سے مطلب ہوگا ان کو کیا فائدہ پہنچایا؟ مطلب وہی ہے کہ ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہیں آئی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 82) ➊ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ روم کی آیت (۹) کی تفسیر۔ ➋ { فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ:} یعنی جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کے قدو قامت، جسمانی قوت، مال و دولت کی کثرت، فن تعمیر کے عظیم الشان نمونے اور دوسری فنی مہارتیں ان کے کسی کام نہ آ سکیں، پھر اے اہلِ مکہ! تم جو ہر لحاظ سے ان سے کمزور اور کمتر ہو، اللہ کا عذاب آنے پر کس طرح بچ سکو گے؟
← پچھلی آیت (81) پوری سورۃ اگلی آیت (83) →