بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 67
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 67
آیت نمبر: 67 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو
وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو اور اس لیے کہ سمجھو
اللہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر تمہیں (شکمِ مادر سے) بچہ بنا کر نکالا۔ پھر (تمہاری پرورش کی) تاکہ تم اپنی پوری طاقت (جوانی) کو پہنچو (پھر زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی پہلے اٹھا لیا جاتا ہے (یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تم مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ اور عقل سے کام لو (خدا کی قدرت و حکمت کو سمجھو)۔
وہی ہے جس نے تمھیں کچھ مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تمھیں ایک بچہ بنا کر نکالتا ہے، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اورتم میںسے بعض وہ ہے جو اس سے پہلے قبض کر لیا جاتا ہے اور تاکہ تم ایک مقرر وقت کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوت توحید ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی «وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر سے ہوتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے «وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى» [ 22- الحج: 5 ] ‏‏‏‏ یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔

📖 احسن البیان

67۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو مٹی سے بنایا جو ان کی تمام اولاد کے مٹی سے پیدا ہونے کو مستلزم ہے پھر اس کے بعد نسل انسانی کے تسلسل اور اس کی بقا وتحفظ کے لیے انسانی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا اب ہر انسان اس نطفے سے پیدا ہوتا ہے جو صلب پدر سے رحم مادر میں جا کر قرار پکڑتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ ان کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی جیسا کہ قرآن کریم کی بیان کردہ تفصیلات سے واضح ہے اور جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ 67۔ 2 یعنی ان تمام کیفیتوں اور اطوار سے گزارنے والا وہی اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ 67۔ 3 یعنی رحم مادر میں مختلف ادوار سے گزر کر باہر آنے سے پہلے ہی ماں کے پیٹ میں، بعض بچپن میں، بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے سے قبل فوت ہوجاتے ہیں۔ 67۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ یہ اس لئے کرتا ہے تاکہ جس کی جتنی عمر اللہ نے لکھ دی ہے، وہ اس کو پہنچ جائے اور اتنی زندگی دنیا میں گزار لے۔ 67۔ 5 یعنی جب تم ان اطوار اور مراحل پر غور کرو گے کہ نطفے سے علقہ پھر مضغۃ، پھر بچہ، پھر جوانی، کہولت اور بڑھاپا، تو تم جان لو گے کہ تمہارا رب بھی ایک ہی ہے اور تمہارا معبود بھی ایک اس کے سوا کو‏ئی معبود نہیں علاوہ ازیں یہ بھی سمجھ لو گے کہ جو اللہ یہ سب کچھ کرنے والا ہے اس کے لیے قیامت والے دن انسانوں کو دوبارہ زندہ کردینا بھی مشکل نہیں ہے اور وہ یقینا سب کو زندہ فرما‏ئے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 67) ➊ { هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ …:} یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اس کی تفسیر سورۂ حج (۵) اور سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴) میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔ البتہ یہاں چند الفاظ کی مختصر تشریح کی جاتی ہے۔ ➋ {” ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤااَشُدَّكُمْ “} اور {” ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُيُوْخًا “} دونوں میں ”لامِ کے“ فعل محذوف کے متعلق ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے: {” ثُمَّ يُرَبِّيْكُمْ “} یعنی پھر وہ تمھاری پرورش کرتا رہتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ) یا {” ثُمَّ يُبْقِيْكُمْ “} ہے، یعنی پھر وہ تمھیں باقی رکھتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ)۔ ➌ { وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ:} یعنی کوئی پیدا ہونے سے پہلے (اسقاط کی صورت میں)، کوئی جوانی کو پہنچنے سے پہلے اور کوئی بوڑھا ہونے سے پہلے فوت کر لیا جاتا ہے۔ ➍ {وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى:} اس {” لِتَبْلُغُوْۤا “} کا تعلق پہلے {” لِتَبْلُغُوْۤا “} کے لیے مقدر فعل کے ساتھ نہیں ہو گا، بلکہ اس کے لیے الگ فعل مقدر ماننا پڑے گا، مثلاً {”وَ فَعَلَ لَكُمْ ذٰلِكَ لِتَبْلُغُوْا أَجَلًا مُّسَمًّي“} ”اور اس نے تمھارے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کیا ہے کہ تم موت کے اس وقت تک پہنچ جاؤ جو تم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔“ یعنی کوئی علقہ بننے تک، کوئی مضغہ یا عظام بننے تک، کوئی ولادت تک، کوئی لڑکپن تک، کوئی جوانی تک اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر مرے۔ (ابن جزی) ➎ { وَ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں زندگی کے ان مختلف مراحل سے اس لیے گزارتا ہے کہ جب تم اس حیرت انگیز نظام پر غور کرو تو سمجھ جاؤ کہ کوئی خالق ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور وہ ایک ہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ورنہ کائنات کے اس سلسلے میں ہر چیز کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ اتنی زبردست موافقت و مناسبت ہوتی اور نہ ہی یہ نظام ایک لمحے کے لیے چل سکتا یا باقی رہ سکتا۔ اور تاکہ یہ بھی سمجھ جاؤ کہ یہاں ہر مرحلے کے بعد اگلا مرحلہ ہے، مٹی اور نطفے سے پیدا کرنے والے اور اسے ایک وقت تک پہنچانے کے بعد قبض کر لینے والے کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرلے اور تمھارا حساب لے۔ یعنی اگر غور کرو تو پیدائش کے اس سلسلے سے اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت اور تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر اس کا قادر ہونا آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یعنی اتنے احوال تم پر گزرے، شاید ایک حال اور بھی گزرے (اور) وہ (ہے) مر کر جینا۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (66) پوری سورۃ اگلی آیت (68) →