بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 64
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنا دیا جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رب
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمده عمده چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں واﻻ اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے واﻻ
اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی اور آسمان چھت اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں ستھری چیزیں روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے قرارگاہ اور آسمان کو عمارت (چھت) بنایا اور تمہاری صورت گری کی اور تمہاری صورتوں کو حسین (و جمیل) بنایا اور تمہیں کھانے کیلئے پاکیزہ غذائیں عطا کیں یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے پس بڑا ہی بابرکت الٰہ ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
اللہ وہ ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، یہ ہے اللہ تمھارا رب، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسانات و انعامات کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کر دینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔

پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بیدلیل و حجت، غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضاء سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔

پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ‏‏‏‏ [ 2-البقرہ: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر، ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» ‏‏‏‏پڑھنے والے کو ساتھ ہی «‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ اس آیت پر عمل ہو جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہی جب تک «‏‏‏‏فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» پڑھے تو «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ لیا کر۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے سلام کے بعد «‏‏‏‏لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَة وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاء الْحَسَنُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ، وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ» پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:594:صحیح] ‏‏‏‏۔

📖 احسن البیان

64۔ 1 آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہوجائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔ 64۔ 2 جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔ 64۔ 3 یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔۔ 64۔ 4 جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔ 64۔ 5 یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ بھی ہیں اور قوت بخش بھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 64) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا …:} اس سے پہلے لیل و نہار کے ذکر کے ساتھ زمانی نعمتوں کا ذکر فرمایا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بے شمار نعمتوں میں سے مزید پانچ نعمتوں کا ذکر فرما کر اپنے اکیلے رب ہونے کی یاد دہانی فرمائی۔ ان نعمتوں کا تعلق مکان سے ہے یا انسان کی ذات سے۔ پہلی نعمت زمین کو رہنے کی جگہ بنانا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ اس نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اس میں ایسے توازن و تناسب سے پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لیے جائے قرار بن گئی۔ اگر اس میں مسلسل زلزلے کی کیفیت رہتی تو کوئی متنفس اس پر نہ بس سکتا۔ (دیکھیے نحل: ۱۵۔ انبیاء: ۳۱۔ لقمان: ۱۰) دوسری یہ کہ زمین انسان کو اور تمام جانداروں کو زندگی میں بسیرا مہیا کرتی ہے اور مرنے کے بعد بھی انھیں سمیٹتی ہے، اگر اس میں یہ وصف نہ ہوتا تو تعفن کی وجہ سے کوئی جاندار زندہ و سلامت نہ رہتا۔ (دیکھیے مرسلات: ۲۵، ۲۶) اور تیسری یہ کہ انسان کی تمام ضروریات کھانا پینا اور لباس وغیرہ سب زمین سے وابستہ ہیں، اگر اللہ تعالیٰ اس میں یہ صفت نہ رکھتا تو کوئی جاندار یہاں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان ہوئی ہے۔ دوسری نعمت آسمان کو چھت بنانا ہے، چھت بھی ستونوں کے بغیر اور گرنے سے اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۳۲)، رعد (۲) اور لقمان (۱۰)۔ تیسری نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورۂ ص: ۳۸) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۰): «‏‏‏‏وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …» ‏‏‏‏ کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ”طیبات“ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔{ ” الطَّيِّبٰتِ “} کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و بوش کی بے شمار طیبات شامل ہیں۔ ➋ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ:} اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔ ➌ {فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ: ”تَبَارَكَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت۔
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →