بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 55
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾
پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو
پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی معافی مانگتا ره اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره
تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو
آپ صبر (و ثبات) سے کام لیجئے! اللہ کا وعدہ برحق ہے اور (تہمت) گناہ پر استغفار کرتے رہیے اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کے لیے بخشش مانگ اور دن کے پچھلے اور پہلے پہر اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت ٭٭

آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کر دیا، جیسے حضرت یحییٰ، زکریا، شعیب صلوات اللہ علیہم و سلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔

چنانچہ یحییٰ، زکریا علیہ السلام، شعیب علیہ السلام کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا؟ حضعر عیسیٰ علیہ السلام کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کر دیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کر دیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ [صحیح بخاری:6502] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے۔ [شرح السنۃ للبغوی:1242] ‏‏‏‏۔ اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے یا ایماندار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بے حرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء علیہ السلام اور مومنین رحمہ اللہ علیہم یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔

اشرف الانبیاء حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بے نتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو بلند و بالا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سردارانِ مشرکین یا تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کر دیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بے ادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کر دیا گیا۔

بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آ گیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہو گئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک نہاد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لیے کھڑے ہو گئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کر دیا۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کونا اپنے قبضے میں کر لیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین!

الحمدللہ آج تک اللہ کا دین غالب اور منصور ہے۔ آج تک مسلمانوں میں حکومت اور سلطنت موجود ہے۔ آج تک ان ہاتھوں میں اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہو گی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔

گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں «‏‏‏‏يَوْمَ» بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہو گا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہو گا۔ ان کی عاقبت خراب ہو گی، موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہو گا انجام کے لحاظ سے آپ ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلا شک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر، کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہا کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہو گا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہو جائیں گے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع و بصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پرہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

📖 احسن البیان

55۔ 1 گناہ سے مراد چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں، جو بہ تقاضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہیں، جن کی اصلاح بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کردی جاتی ہے۔ یا استغفار بھی ایک عبادت ہی ہے۔ اجر وثواب کی زیادتی کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے، یا مقصد امت کی رہنمائی ہے کہ وہ استغفار سے بےنیاز نہ ہوں۔ 55۔ 2 عشیی سے دن کا آخری اور رات کا ابتدائی حصہ اور ابکار سے رات کا آخری اور دن کا ابتدائی حصہ مراد ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55) ➊ { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور آلِ فرعون کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں، جن پر انھوں نے صبر کیا اور اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی تائید و نصرت سے نوازا، اس کے ذکر کے بعد اب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے امت کے ہر آدمی کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ دعوتِ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور کفار کی طرف سے ملنے والی ایذاؤں پر صبر کریں، یقینا اللہ تعالیٰ کا مدد کا وعدہ حق ہے، اس لیے بے صبری یا جلد بازی مت کریں، جیسا کہ فرمایا:ـ «‏‏‏‏فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ» [ الأحقاف: ۳۵ ] ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔“ ➋ {وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور امت کے ہر فرد کو استغفار کا حکم ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ] [بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ: ۶۳۰۷ ] ”اللہ کی قسم! میں ہر روز ستر (۷۰) سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیے تھے، جیسا کہ سورۂ فتح (۲) میں ہے، پھر استغفار کا حکم کیوں دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ مومن مکی سورت ہے، جو اس بشارت سے پہلے کی ہے، اس لیے اس پر یہ سوال وارد ہی نہیں ہوتا، جب کہ سورۂ فتح ۶ ہجری میں اتری۔ البتہ سورۂ نصر میں مذکور آیت (۳): «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ» ‏‏‏‏ پر یہ سوال وارد ہوتا ہے، کیونکہ یہ سورت فتح مکہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب اتری۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُوْلَ فِيْ رُكُوْعِهِ وَسُجُوْدِهِ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ، يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ] [ بخاري، الأذان، باب التسبیح والدعاء في السجود: ۸۱۷ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے کہا کرتے تھے: {” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ “} ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے“ آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ ہر آدمی کا گناہ اس کے مرتبے کو پیش نظر رکھ کر ہوتا ہے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم معمولی سی غفلت کے لیے بھی استغفار ضروری سمجھتے تھے۔ اغر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلٰی قَلْبِيْ وَإِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ ] [ مسلم، الذکر والدعاء، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ: ۲۷۰۲ ] ”میرے دل پر ہلکا سا پردہ آ جاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔“ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم ) دن میں سو سو بار گناہ سے استغفار کرتے تھے۔ ہر بندے سے تقصیر ہوتی ہے، اس کے موافق ہر کسی کو استغفار ضروری ہے۔“ (موضح) ➌ بعض حضرات کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گناہوں سے استغفار کا حکم ہے، اس سے مراد امت کے گناہوں کے لیے استغفار ہے، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) میں یہ تاویل ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ» [محمد: ۱۹ ] ”پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تعالیٰ تمھارے چلنے پھرنے اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔“ ➍ { وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ:} اللہ تعالیٰ کی مدد کے وعدے کا حق دار بننے کے لیے صبر اور استغفار کے ساتھ ساتھ صبح و شام رب تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرتے رہنے کا حکم دیا۔ اس میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بھی شامل ہے اور نماز بھی، کیونکہ صبر اور نماز ہی اللہ تعالیٰ سے استعانت کا ذریعہ ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ تسبیح و تحمید سے مراد نماز ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۰) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت (56) →