بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 28
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾
اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اٹھا: "کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آ جائیں گے اللہ کسی شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں
اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو
اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مردِ مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب) کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے تو اس کا کچھ حصہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔
اور فرعون کی آل میں سے ایک مومن آدمی نے کہا جو اپنا ایمان چھپاتا تھا، کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے ‘‘حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو تمھیں اس کا کچھ حصہ پہنچ جائے گا جس کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا، سخت جھوٹا ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت ٭٭

مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے [ رحمہ اللہ تعالیٰ ] ‏‏‏‏ اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایماندار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے موسیٰ علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ» [ 28-القص: 20 ] ‏‏‏‏ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ علیہ السلام کی سن کر ضبط نہ ہو سکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے «رحمہ اللہ علیہ» ۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔ البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپصلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3856] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کامجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت «أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ» [ الغافر: 28 ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کی۔ [نسائی فی السنن الکبری:11462،صحیح:] ‏‏‏‏۔

پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقیناً تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت «وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّـهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ» ‏‏‏‏ [ 44- الدخان: 21-17 ] ‏‏‏‏ تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول اللہ کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو، یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو! مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ علیہم السلام اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی، پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہیئے۔

یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آ جائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [ 17- الإسراء: 102 ] ‏‏‏‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں۔ اور آیت میں ہے «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [ 27- النمل: 14 ] ‏‏‏‏، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوکے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی۔ «إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ» [ 11-هود: 97 ] ‏‏‏‏ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے «وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ» [ 20-طه: 79 ] ‏‏‏‏ فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ [صحیح بخاری:1750] ‏‏‏‏ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب»

📖 احسن البیان

28۔ 1 یعنی اللہ کی ربوبیت پر وہ ایمان یوں ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پاس اپنے اس موقف کی واضح دلیلیں ہیں۔ 28۔ یہ اس نے بطور تنزل کے کہا کہ اگر اس کے دلائل سے تم مطمئن نہیں اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اس سے تعرض نہ کیا جائے اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے اس جھوٹ کی سزا دنیا و آخرت میں دے دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ایذائیں پہنچائیں تو پھر یقینا وہ تمہیں جن عذابوں سے ڈراتا ہے تم پر ان میں سے کوئی عذاب آسکتا ہے۔ 28۔ 3 اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا جیسا کہ تم باور کراتے ہو تو اللہ تعالیٰ اسے دلائل معجزات سے نہ نوازتا جب کہ اس کے پاس یہ چیزیں موجود ہیں دوسرا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے ذلیل اور ہلاک کر دے گا تمہیں اس کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ { وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ …:} موسیٰ علیہ السلام نے ہر متکبر سے اللہ کی پناہ مانگی جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ان کی حمایت میں ایک ایسے آدمی کو کھڑا کر دیا جو فرعون کی آل میں سے تھا، جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکا تھا مگر اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے بہت اچھے طریقے سے موسیٰ علیہ السلام کا دفاع کیا اور فرعون کو ان کے قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ فرعون کے اپنے لوگوں میں سے ہونے کی وجہ سے اس نے بات کی جرأت کی اور اسی وجہ سے فرعون نے اس کی بات کے بعد اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، ورنہ اس کے دربار میں کسی اسرائیلی کی نہ یہ جرأت تھی اور نہ ہی اس کی برداشت تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا تو اس نے وہاں سے حمایت کروا دی جہاں سے وہم و گمان تک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے{ ”رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ “ } فرمایا ہے، یعنی وہ مردانگی اور ایمان دونوں سے متصف تھا۔ اس کے مرد کامل اور مومن کامل ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس نے افضل جہاد کیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ أَوْ أَمِيْرٍ جَائِرٍ ] [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنہي: ۴۳۴۴ ] ”افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم امیر کے سامنے عدل کی بات کہنا ہے۔“ بعض کہتے ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے اس سے پہلے فرعون کی مجلس میں موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے مشورہ کی خبر انھیں پہنچائی تھی، جس پر وہ ہجرت کر کے مدین چلے گئے تھے، مگر اس بات کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں، البتہ اس میں شک نہیں کہ وہ بھی مرد کامل تھا۔ دیکھیے سورۂ قصص (۲۰)۔ مفسر رازی نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے حالات میں تجربہ کیا ہے کہ جب بھی کسی شریر نے میرے متعلق شر کا ارادہ کیا اور میں نے اس سے تعرض نہیں کیا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے پر اکتفا کیا، تو اللہ سبحانہ نے ایسے لوگوں کو میرے دفاع کے لیے مقرر فرما دیا جنھیں میں بالکل نہیں جانتا تھا اور جنھوں نے حد سے بڑھ کر اس شر کو دور کرنے کی کوشش کی۔ ➋ {يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ:} اس جملے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کی سختیوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کی دعوت ہر جگہ پہنچ گئی تھی، حتیٰ کہ فرعون کے خاندان کے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہو چکے تھے، اگرچہ اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ یہ مرد مومن بھی اس سے پہلے ایمان چھپاتا تھا، مگر جب بات موسیٰ علیہ السلام کے قتل تک پہنچ گئی تو اس کے ایمان نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ اس نے بات کا آغاز تو ایک غیر جانبدار آدمی کی طرح کیا، مگر آخر میں اس نے اپنے ایمان کا صاف اظہار کر دیا اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھا ہے۔ اب تک ایمان چھپائے رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے مومن فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں ایمان چھپانے کے باوجود آدمی مومن رہتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۱۰۶)۔ ➌ { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ …:} اس جملے میں اس مرد مومن نے تین حقیقتیں بیان کر دیں، پہلی یہ کہ رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ اس نے کہا کہ کیا تم ایک آدمی کو اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب (میرا پالنے والا مالک) صرف وہ پاک ذات ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہ فرعون کو اپنا رب نہیں مانتا، بلکہ اس کو مانتا ہے جس نے فرعون اور اس کے باپ دادا کو اور زمین و آسمان سمیت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، تو اس پر اسے داد دینی اور اس کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے یا اسے قتل کر دینا چاہیے؟ دوسری حقیقت ({وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ}) یہ بیان فرمائی کہ وہ تمھارے پاس اپنے اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کی واضح دلیلیں لے کر آیا ہے، جنھیں جھٹلانے کا تمھارے پاس کوئی جواز ہی نہیں، پورے ملک کے جادوگر اس کے مقابلے میں ناکام ہو کر اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں اور اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ تیسری حقیقت ({مِنْ رَّبِّكُمْ}) یہ کہ اسے جس مالک کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے وہ تمھارا بھی رب ہے، یہ تمھاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔ ➍ موسیٰ علیہ السلام کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کے حالات پیش آئے۔ ان واقعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا سامان ہے کہ آپ ہی کو نہیں، پہلے پیغمبروں کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ➎ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”فرعون کے سامنے یہ کہنا {” اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ “} (کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے) بہت بڑی بات ہے (اس سے بڑی دلیری ہو نہیں سکتی)۔“ ہاں، بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما سے کہا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جو ایذا پہنچائی وہ مجھے بتائیں، تو انھوں نے فرمایا: [ بَيْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُصَلِّيْ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِيْ مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَلَوٰی ثَوْبَهُ فِيْ عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيْدًا فَأَقْبَلَ أَبُوْ بَكْرٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَ دَفَعَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ قَالَ: «‏‏‏‏اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ المؤمن: ۴۸۱۵ ] ” ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کندھا پکڑ لیا اور اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال کر اسے بہت سختی کے ساتھ گھونٹ دیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور کہا: «اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ» ”کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔“ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اس مرد مومن سے بھی زیادہ شجاع تھے، کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا، جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کھلم کھلا مومن تھے، جو سب سے پہلے ایمان لائے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور دفاع میں ان کے لیے اس مرد مومن سے زیادہ خطرہ تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے یہ بات صرف زبان سے نہیں کہی بلکہ عملاً عقبہ کو دھکا دے کر پیچھے بھی ہٹا دیا۔ ➏ {وَ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ:} وہ مرد مومن موسیٰ علیہ السلام کو کاذب نہیں سمجھتا تھا، یہ بات اس نے ایک غیر جانبدار شخص کی حیثیت سے ایک مفروضہ کے طور پر کہی کہ اگر یہ جھوٹا ہے تب بھی اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہے، تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان سے کہا تھا: «‏‏‏‏وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ» [ الدخان: ۲۱ ] ”اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔“ ➐ {وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ …:} ”اور اگر یہ سچا ہے تو تمھیں اُن میں سے کوئی نہ کوئی چیز پہنچ جائے گی جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔“ اس مرد مومن نے یہاں {” يَعِدُكُمْ “} کا لفظ استعمال کیا جو وعدے کے لیے استعمال ہوتا ہے، {” يُوْعِدُكُمْ“} استعمال نہیں کیا جو وعید کے لیے ہے۔ کیونکہ وعدے میں دونوں چیزیں آ جاتی ہیں، یعنی اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اس کی اطاعت کی تو اس کا وعدہ ہے کہ تمھیں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں حاصل ہوں گی، اس کے مطابق تمھیں ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل ہو جائے گا، اگر وہ دنیا میں حاصل نہ ہوئیں تو آخرت میں یقینا حاصل ہو جائیں گی اور اگر تم سچا ہونے کے باوجود اس پر ایمان نہ لائے، یا تم نے اسے قتل کر دیا تو اس نے تمھارے کفر کی صورت میں دنیا کے اندر جن جن عذابوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور تم پر آ جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی امتوں کے مختلف قسم کے عذابوں سے ڈرایا، فرمایا: «‏‏‏‏فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا» ‏‏‏‏ [العنکبوت: ۴۰ ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا۔“ اور اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے بچنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں۔ ➑ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ:} اس جملے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے اس عظیم شخص نے دونوں مراد لیے ہوں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو راہِ راست کی ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا سخت جھوٹا ہو، جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں حد سے بڑھنے کی کوئی بات نہیں ہے، پھر کذاب تو بہت دور کی بات ہے اس پر جھوٹ کا الزام ایک بار بھی نہیں لگا۔ اس کی واضح دلیلوں اور معجزوں سے اس کا سچا ہونا ثابت ہو رہا ہے، کسی مسرف و کذاب پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل و کرم کیسے ہو سکتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا کیسے روا ہو سکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ یہ دونوں اوصاف بیان کرتے ہوئے درحقیقت وہ فرعون پر طعن کر رہا تھا، جو رب ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی حد سے بے حساب تجاوز بھی کر رہا تھا اور زبردست جھوٹ بھی بول رہا تھا، اس کی طرف سے قتل کا ارادہ بھی اس کے مسرف و کذاب ہونے کا نتیجہ تھا کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق نہیں دیتا۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →