بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 26
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَ لۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴿۲۶﴾
ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا "چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا"
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے
اور فرعون بولا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو پکارے میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے یا زمین میں فساد چمکائے
اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں موسیٰ(ع) کو قتل کر دوں اور وہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے پرورگار کو پکارے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین (شرک) نہ بدل دے۔ یا زمین میں فساد برپا نہ کر دے۔
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکار لے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمھارا دین بدل دے گا، یا یہ کہ زمین میں فساد پھیلا دے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏‏‏‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏‏‏‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏‏‏‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

26۔ 1 یہ غالبًا فرعون نے ان لوگوں سے کہا جو اسے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے۔ 26۔ 2 یہ فرعون کی دیدہ دلیری کا اظہار ہے کہ میں دیکھوں گا، اس کا رب اسے کیسے بچاتا ہے، اسے پکار کر دیکھ لے۔ یا رب ہی کا انکار ہے کہ اس کا کون سا رب ہے جو بچا لے گا، کیونکہ رب تو وہ اپنے آپ کو کہتا تھا۔ 26۔ 3 یعنی غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر ایک اللہ کی عبادت پر نہ لگا دے یا اس کی وجہ سے فساد نہ پیدا ہوجائے مطلب یہ تھا کہ اس کی دعوت اگر میری قوم کے کچھ لوگوں نے قبول کرلی تو وہ نہ قبول کرنے والوں سے بحث و تکرار کریں گے جس سے ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوگا جو فساد کا ذریعہ بنے گا یوں دعوت توحید کو اس نے قساد کا سبب اور اہل توحید کو فسادی قرار دیا درآں حالیکہ فسادی وہ خود تھا اور غیر اللہ کی عبادت ہی فساد کی جڑ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ { وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِيْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى:} یہ کہہ کر فرعون ظاہر یہ کرنا چاہتا تھا کہ ابھی تک اس نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا تو اپنے درباریوں اور سرداروں کے روکنے کی وجہ سے نہیں کیا۔ یہ بات اس نے محض رعب گانٹھنے کے لیے یا اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لیے کہی، کیونکہ اندر سے وہ شدید خوف زدہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے{” وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا “} (ہم تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔ قصص:۳۵) کے فرمان کے ساتھ موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو جو غلبہ اور رُعب عطا فرما رکھا تھا، اس کے ہوتے ہوئے اس کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ انھیں قتل کرے، یا کوئی اور نقصان پہنچائے۔ رہے درباری، تو وہ نہ تو فرعون کو موسیٰ علیہ السلام کے قتل سے روکتے تھے اور نہ ہی فرعون ان کی رائے کو پرکاہ کی وقعت دیتا تھا۔ (دیکھیے مومن: ۲۹) اس نے اپنی پوری قوم کو اتنا بے وقعت بنا دیا تھا کہ وہ ہر بات میں اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے، خواہ وہ عقل سے کتنی ہی دور ہو، جیسا کہ فرمایا: «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ» [ الزخرف: ۵۴ ] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔“ ➋ { وَ لْيَدْعُ رَبَّهٗ:} یہ بھی اس کی گیدڑ بھبکی تھی، ورنہ اسے اور اس کی قوم کو موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ وہ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اگر اسے یہ یقین نہ ہو چکا ہوتا تو اتنی افواجِ قاہرہ کا مالک ہونے کے باوجود کس نے اس کا ہاتھ موسیٰ علیہ السلام کے قتل سے روک رکھا تھا۔ ➌ { اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ:} دین سے مراد ان کا عقیدہ اور اس پر مبنی نظام سلطنت ہے، جس میں فرعون کو رب الاعلیٰ اور اس کے حکم کو واجب الاطاعت مانا جاتا تھا۔ یعنی مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمھیں تمھارے اس دین اور اعتقاد کا منکر کر دے جس کے تحت تم مجھے اپنا رب سمجھ کر میری محکومی اور فرماں برداری پر مطمئن ہو اور اس طرح ملک میں انقلاب برپا کر دے، گویا میں اسے تمھاری خاطر ہی قتل کرنا چاہتا ہوں۔ ➍ { اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ:} یعنی اگر وہ تمام اہلِ مصر کو آبائی دین کا منکر نہ کر سکے تو کم از کم یہ خطرہ تو ضرور ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں کو توحید کا قائل کرلے اور بعض میری ربوبیت اور حاکمیت کے قائل رہیں، اس سے آئے دن ملک میں فساد برپا رہے۔ یہ وہی انداز ہے جسے ہر مطلق العنان حاکم اندرونی یا بیرونی خطرے کا ہوّا کھڑا کر کے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس ظالم کو تو دیکھیے کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو، جس سے لوگ راہِ راست پر آ رہے ہیں، فساد قرار دے رہا ہے، حالانکہ اصل فسادی وہ خود ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ہے: «‏‏‏‏اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۲ ] ”سن لو! یقینا وہی تو فساد ڈالنے والے ہیں اور لیکن وہ نہیں سمجھتے۔“
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →