بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ غافر/مومن — Surah Ghafir
آیت نمبر 22
کل آیات: 85
قرآن کریم غافر/مومن آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ غافر/مومن islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾
یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،
(ان کا یہ انجام) اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ع) ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آتے تھے تو وہ کفر کرتے تھے۔ آخرکار اللہ نے انہیں پکڑ لیا بیشک وہ بڑا طاقتور (اور) سخت سزا دینے والا ہے۔
یہ اس لیے کہ وہ لوگ، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو انھوں نے انکار کیا تو اللہ نے انھیں پکڑ لیا۔ بے شک وہ بہت قوت والا، بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کفار کے لیے انہیں باعث عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔

📖 احسن البیان

22۔ 1 یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلہ نبوت و رسالت تو بند ہے۔ تاہم آفاق پر انس میں بیشمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے علماء اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشاندہی کے لیے موجود ہیں اس لیے آج بھی جو آیات الہی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 22) {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ …: ”اَلْبَيِّنَاتُ“} کا لفظ عام ہے، اس سے مراد معجزے بھی ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح احکام و ہدایات بھی۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →