بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 9
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ ﴿۹﴾
وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی زمین کو جِلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا
اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کردیتے ہیں۔ اسی طرح دوباره جی اٹھنا (بھی) ہے
اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے
اور اللہ ہی وہ (قادر) ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو حرکت میں لاتی (اٹھاتی) ہیں پھر ہم اسے ایک مردہ (اجاڑ) شہر کی طرف لے جاتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مردہ (اجاڑ) ہونے کے بعد زندہ (سرسبز) کر دیتے ہیں اسی طرح (قیامت کے دن لوگوں کا) جی اٹھنا ہوگا۔
اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائو ں کو بھیجا، پھر وہ بادل کو ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے ایک مردہ شہر کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں، اسی طرح اٹھایا جانا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت کے بعد زندگی ٭٭

قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ الحج وغیرہ میں ہے۔۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏بندوں کے لیے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی تروتازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن بادل اٹھتے ہیں، پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی، تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھا یا کوسوں تک ہریاول ہی ہریاول ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے ایک سے ایک الگ ہو گا۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میں سے اگنے لگیں گے۔ جیسے زمین سے دانے الگ آتے ہیں۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے ابن آدم تمام کا تمام گل سڑ جاتا ہے لیکن ریڑھ کی ہڈی نہیں سڑتی اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اس سے ترکیب دیا جائے گا۔۱؎ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ یہاں بھی نشان بتا کر فرمایا کہ اسی طرح موت کے بعد کی زیست ہے۔ سورۃ الحج کی تفسیر میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ ابورزین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس بات کی کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا اے ابورزین کیا تم اپنی بستی کے آس پاس کی زمین کے پاس سے اس حالت میں نہیں گذرے کہ وہ خشک بنجر پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ تم گذرتے ہو تو دیکھتے ہو کہ وہ سبزہ زار بنی ہوئی ہے اور تازگی کے ساتھ لہرا رہی ہے۔ ابو رزین نے جواب دیا ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔ آپ نے فرمایا بس اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر دے گا۔۱؎ [مسند احمد::11/4ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

9۔ 1 یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک زمین کو ہم شاداب کردیتے ہیں اسی طریقے سے قیامت والے دن تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کردیں گے، حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا سارا جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے صرف ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے اسی سے اس کی دوبارہ تخلیق و ترکیب ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9){ وَ اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا …:} قرآن کریم میں موت کے بعد زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ حج میں فرمایا: «وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ (5) ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (6) وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵ تا ۷ ] ”اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اور (اس لیے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور (اس لیے) کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔“ سب لوگ دیکھتے ہیں کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے، پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں جانور یعنی مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہو گئے؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی ہو گی، انسان کا حال عجیب ہے کہ جو چیز اس کے مشاہدے میں آتی ہے اسے من و عن تسلیم کر لیتا ہے، مگر بالکل اس جیسی دوسری چیز کا انکار صرف اس لیے کر دیتا ہے کہ وہ اس کے مشاہدے میں نہیں آئی، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →