بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 42
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ جَآءَہُمۡ نَذِیۡرٌ لَّیَکُوۡنُنَّ اَہۡدٰی مِنۡ اِحۡدَی الۡاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ نَذِیۡرٌ مَّا زَادَہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرَۨا ﴿ۙ۴۲﴾
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آ گیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا
اور یہ لوگ (کفارِ مکہ) بڑی سخت قَسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تو وہ ہر ایک قوم سے بڑھ کر ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے لیکن جب ان کے پاس ڈرانے والا آگیا تو اس (کی آمد) نے ان کی نفرت۔
اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہو ئے اللہ کی قسم کھائی کہ واقعی اگر کوئی ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو ضرور بالضرور وہ امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت پانے والے ہو ں گے، پھر جب ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا تو اس نے ا ن کو دور بھاگنے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭

قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:156] ‏‏‏‏، یعنی اس لیے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہو جاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل آ پہنچی ہدایت و رحمت خود تمہارے ہاتھوں میں دی جا چکی اب بتاؤ کہ رب کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان سے منہ موڑنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہے؟ اور آیتوں میں ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے اپنے پاس اگلے لوگوں کے عبرتناک واقعات ہوتے تو ہم تو اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اس کے ان کے پاس آچکنے کے بعد کفر کیا اب انہیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ ان کے پاس اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور رب کی آخری اور افضل تر کتاب آ چکی لیکن یہ کفر میں اور بڑھ گئے، انہوں نے اللہ کی باتیں ماننے سے تکبر کیا خود نہ مان کر پھر اپنی مکاریوں سے اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔

لیکن انہیں باور کر لینا چاہیئے کہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا۔ یہ اللہ کا نہیں البتہ اپنا بگاڑ رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکاریوں سے پرہیز کرو مکر کا بوجھ مکار پر ہی پڑتا ہے اور اس کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔۱؎ [الدرالمنثور للسیوطی:480/5] ‏‏‏‏ محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین کاموں کاکرنے والا نجات نہیں پا سکتا، ان کاموں کا وبال ان پر یقیناً آئے گا، مکر، بغاوت اور وعدوں کو توڑ دینا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، انہیں صرف اسی کا انتظار ہے جو ان جیسے ان پہلے گزرنے والوں کا حال ہوا۔ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے اللہ کے دائمی عذب ان پر آ گئے۔ پس یہ تو اللہ تعالیٰ کی عادت ہی ہے اور تو غور کر۔ رب کی عادت بدلتی نہیں نہ پلٹتی ہے۔ جس قوم پر عذاب کا ارادہ الہی ہو چکا پھر اس ارادے کے بدلنے پر کوئی قدرت نہیں رکھتا کہ ان پر سے عذاب ہٹیں نہ وہ ان سے بچیں۔ نہ کوئی انہیں گھما سکے۔ واللہ اعلم۔

📖 احسن البیان

42۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ بعث محمدی سے قبل یہ مشرکین عرب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا، تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔ یہ مضمون دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ 156؀ۙ اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۭ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْۗءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ 157؁) 6۔ الانعام:157-156) (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ) 37۔ الصافات:68)۔ (فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ) 37۔ الصافات:170) 42۔ 2 یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نبی بن کر آگئے جن کے لئے وہ تمنا کرتے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ { وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ …:} مشرکین کے کفر اور ناشکری کا اظہار شرک کی صورت میں بھی ہوتا تھا اور پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں بھی، چنانچہ شرک کی تردید کے بعد پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں ان کی ناشکری کا ذکر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے مشرکین مکہ کی سفر کے دوران میں عرب کے دوسرے شہروں مثلاً یثرب اور خیبر وغیرہ میں یا دوسرے ملکوں مثلاً شام وغیرہ میں اہل کتاب سے ملاقات ہوتی تو وہ ان کی بت پرستی اور دوسری جہالتوں پر طعن کرتے، تو یہ اس کے جواب میں کہتے کہ تم لوگوں کے پاس تو اللہ کے رسول اور اس کی کتابیں آئیں، اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر آیا تو ہم کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے، اور اپنی اس بات پر پکی سے پکی جو قسم وہ کھا سکتے تھے کھاتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۵۶، ۱۵۷ ] ”ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔“ اور جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ (167) لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (168) لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ (169) فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الصافات: ۱۶۷ تا ۱۷۰ ] ”اور بے شک وہ (کافر) تو کہا کرتے تھے۔ اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔ تو ہم ضرور اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو انھوں نے اس کا انکار کر دیا، سو جلد ہی جان لیں گے۔“ ➋ {فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا:} تو جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو بجائے اس کے کہ وہ کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت قبول کرتے، وہ اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے، بلکہ رسول کی آمد نے ان کے بدکنے اور دور بھاگنے میں اضافہ ہی کیا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ ہدایت سے دور ہو گئے۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →