بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 3
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ؕ ہَلۡ مِنۡ خَالِقٍ غَیۡرُ اللّٰہِ یَرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۖ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳﴾
لوگو، تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟
لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو
اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو
اے لوگو! اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو؟
اے لوگو! اللہ کی نعمت یاد کرو جو تم پر ہے، کیا اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے، جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ٭٭

اس بات کی دلیل یہاں ہو رہی ہے کہ عبادتوں کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا فاش غلطی ہے۔ دراصل اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں۔ پھر تم اس واضح دلیل اور ظاہر برہان کے بعد کیسے بہک رہے ہو؟ اور دوسروں کی عبادت کی طرف جھکے جاتے ہو؟ «واللہ اعلم»

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی اس بیان اور وضاحت کے بعد بھی تم غیر اللہ کی عبات کرتے ہو؟۔ مطلب ہے کہ تمہارے اندر توحید اور آخرت کا انکار کہاں سے آگیا، جب کہ تم مانتے ہو کہ تمہارا خالق اور رازق اللہ ہے (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں فراموش نہ کرو اور نمک حرام نہ بنو، بھلا بتاؤ اللہ کے سوا تمھارا کوئی خالق ہے جو تمھیں رزق دے رہا ہو؟ ظاہر ہے کوئی نہیں۔ استفہام انکاری ہے۔ ➋ {فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ:} یعنی پھر تمھیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق و رازق تو اللہ تعالیٰ ہو، مگر بندگی اور فرماں برداری دوسروں کی کی جائے۔ مثل مشہور ہے ”جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔“
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →