بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 20
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ ﴿ۙ۲۰﴾
نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں
اور نہ تاریکی اور روشنی
اور نہ اندھیریاں اور اجالا
اور نہ اندھیرا (کفر) اور اجالا (ایمان) برابر ہیں۔
اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک موازنہ ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایماندار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122] ‏‏‏‏، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کر دیا اور اسے نور دیا جسے لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اور آیت میں ہے «مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:24] ‏‏‏‏، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 اندھے سے مراد کافر اور آنکھوں والا سے مومن، اندھیروں سے باطل اور روشنی سے حق مراد ہے، باطل کی بیشمار قسمیں ہیں، اس لئے اس کے لئے جمعود کا اور حق چونکہ متعدد نہیں، ایک ہے، اس لئے اس کے لئے واحد صیغہ استعمال کیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) {وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُ: } یہ کفر و ایمان کی مثال ہے کہ کفر نام ہے اندھیروں کا اور ایمان نور ہے۔ باطل اور کفر کی صورتیں اور اس کی راہیں بے شمار ہیں، اس لیے اس کے لیے جمع کا لفظ{ ” الظُّلُمٰتُ “} استعمال فرمایا، جب کہ حق ایک ہے اور ایمان کا راستہ بھی ایک ہی ہے، اس لیے اس کے لیے لفظ {” النُّوْرُ “} واحد استعمال فرمایا۔ حرف نفی {” لَا “} دو بار تاکید کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →