بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 18
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ اِلٰی حِمۡلِہَا لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفۡسِہٖ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے
کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا۔ لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
اور کوئی بوجھ اٹھانے والا (گنہگار) کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی بھاری بوجھ والا اس کے اٹھانے کیلئے (کسی کو) بلائے گا تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو؟ (اے رسول(ص)!) آپ صرف انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بے دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور جو (باقاعدہ) نماز پڑھتے ہیں اور جو (گناہوں سے) پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کیلئے پاکباز رہتا ہے (آخرکار) اللہ ہی کی طرف (سب کی) بازگشت ہے۔
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہو ئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قرابت دار ہو، تو تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ قادر مطلق ٭٭

اللہ ساری مخلوق سے بے نیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے۔کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بیبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بے نیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں، اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد و ثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر دے اور تمہارے عوض دوسرے لوگوں کو لائے، رب پر یہ کام کچھ مشکل نہیں، قیامت کے دن کوئی دوسرے کے گناہ اپنے اوپر نہ لے گا۔ اگر کوئی گنہگار اپنے بعض یا سب گناہ دوسرے پر لادنا چاہے تو یہ چاہت بھی اس کی پوری نہ ہو گی۔

کوئی نہ ملے گا کہ اس کا بوجھ بٹائے عزیز و اقارب بھی منہ موڑ لیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ گو ماں باپ اور اولاد ہو۔ ہر شخص اپنے حال میں مشغول ہو گا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پڑوسی پڑوسی کے پیچھے پڑ جائے گا اللہ سے عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ تو سہی کہ اس نے مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کر لیا تھا؟ کافر مومن کے پیچھے لگ جائے گا اور جو احسان اس نے دنیا میں کئے تھے وہ یاد دلا کر کہے گا کہ آج میں تیرا محتاج ہوں مومن بھی اس کی سفارش کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کا عذاب قدرے کم ہو جائے گو جہنم سے چھٹکارا محال ہے۔ باپ اپنے بیٹے کو اپنے احسان جتائے گا اور کہے گا کہ رائی کے ایک دانے برابر مجھے آج اپنی نیکیوں میں سے دیدے وہ کہے گا ابا آپ چیز تو تھوڑی سی طلب فرما رہے ہیں لیکن آج تو جو کھٹکا آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے میں تو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ پھر بیوی کے پاس جائے گا اس سے کہے گا میں نے تیرے ساتھ دنیا میں کیسے سلوک کئے ہیں؟ وہ کہے گی بہت ہی اچھے یہ کہے گا آج میں تیرا محتاج ہوں مجھے ایک نیکی دیدے تاکہ عذابوں سے چھوٹ جاؤں جواب ملے گا کہ سوال تو بہت ہلکا ہے لیکن جس خوف میں تم ہو وہی ڈر مجھے بھی لگا ہوا ہے میں تو آج کچھ بھی سلوک نہیں کر سکتی۔

قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖۡ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا ۭ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [31-لقمان:33] ‏‏‏‏ یعنی آج نہ باپ بیٹے کے کام آئے نہ بیٹا باپ کے کام آئے اور فرمان ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ» ۱؎ [80-عبس:34] ‏‏‏‏، آج انسان اپنے بھائی سے، ماں سے، باپ سے، بیوی سے اور اولاد سے بھاگتا پھر ے گا۔ ہر شخص اپنے حال میں سمت و بیخود ہو گا۔ ہر ایک دوسرے سے غافل ہو گا، تیرے وعظ و نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عقلمند اور صاحب فراست ہوں جو اپنے رب سے قدم قدم پر خوف کرنے والے اور اطاعت اللہ کرتے ہوئے نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔ نیک اعمال خود تم ہی کو نفع دیں گے جو پاکیزگیاں تم کروگے ان کا نفع تم ہی کو پہنچے گا۔ آخر اللہ کے پاس جانا ہے، اس کے سامنے پیش ہونا ہے، حساب کتاب اس کے سامنے ہونا ہے، اعمال کا بدلہ وہ خود دینے والا ہے۔

📖 احسن البیان

18۔ 1 ہاں جس نے دوسروں کو گمراہ کیا ہوگا، وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بی اٹھائے گا، جیسا کہ آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ) 29۔ العنکبوت:13) واضح ہے لیکن یہ دوسروں کا بوجھ بھی درحقیقت ان کا اپنا ہی بوجھ کہ ان ہی نے ان دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ 18۔ 2 ایسا انسان جو گناہوں کے بوجھ سے لدا ہو ہوگا، وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے رشتہ دار کو بھی بلائے گا تو وہ آمادہ نہیں ہوگا۔ 18۔ 3 یعنی تیرے انذار و تبلیغ کا فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے تو یا تو انہی کو ڈراتا ہے ان کو نہیں جن کو انذار سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا) 79۔ النازعات:45) 18۔ 4 تطھر کے معنی ہیں شرک اور فواحش کی آلودگیوں سے پاک ہونا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى:} اس آیت میں مشرکین کے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ان کے گناہ اپنے ذمے لے کر انھیں چھڑا لیں گے، جیسا کہ نصرانیوں کا کہنا ہے کہ مسیح علیہ السلام ان کے گناہوں کی پاداش میں سولی پر چڑھ گئے اور بعض کلمہ گو حضرات کا کہنا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے انھیں قیامت کے دن کوئی نہیں پوچھے گا، کیونکہ انھوں نے شہید ہو کر اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا ہے۔ آیت میں {” وَازِرَةٌ “} محذوف لفظ {”نَفْسٌ“} کی صفت ہے، جو مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی ہے اور یہ لفظ اس لیے اختیار فرمایا کہ اس میں مرد عورتیں سب آ جاتے ہیں۔ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ➋ { وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا …:} یعنی نہ یہ ہوگا کہ کوئی اپنے آپ کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے اور نہ یہ ہوگا کہ کسی کے پکارنے اور درخواست کرنے سے کوئی کسی کا بوجھ اٹھالے، بلکہ اگر کوئی قرابت دار اپنے قریبی رشتہ دار کو اس مقصد کے لیے بلائے گا، حتیٰ کہ باپ ہو یا بیٹا تو وہ بھی اس کے بوجھ سے ذرہ برابر اپنے ذمے نہیں لے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی اور ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا۔ بلانے پر بھی بوجھ نہ اٹھانے کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ عرب کے ہاں معروف تھا کہ جب کوئی تمھیں مدد کے لیے بلائے تو ہر صورت اس کی مدد کرو۔ فرمایا، وہاں بلانے پر بھی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۳۳) اور عبس (۳۳تا ۳۷) مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴)، بنی اسرائیل (۱۵) اور عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔ ➌ { اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ ان لوگوں کے رویے سے دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہوں جو آپ کی دعوت سن کر ایمان نہیں لاتے، کیونکہ آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی بھی نہیں دیکھ رہا ہوتا اس وقت بھی اس سے ڈرتے ہیں ({” بِالْغَيْبِ “} کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں) اور نماز قائم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ کے ڈرانے سے وہی لوگ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان رکھتے، اس سے ڈرتے اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور جو ان دیکھے رب کو مانتا ہی نہیں اور ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے، اسے آپ کے ڈرانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، نہ آپ اس کے لیے فکر مند ہوں۔ دیکھیے سورۂ یٰس (۱۱) اور سورۂ قٓ (۴۵)۔ ➍ {وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ:} یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص کفر و شرک اور فسق و فجور کی نجاست سے پاک ہوتا ہے، اس کا آپ پر یا اللہ تعالیٰ پر کچھ احسان نہیں، اس کے پاک ہونے کا فائدہ خود اسی کو ہے۔ ➎ {وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی کفر و فسوق کی نجاست میں آلودہ رہنے کا یا اس سے پاک ہونے کا نتیجہ پوری طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگا اور ضرور ظاہر ہو گا، کیونکہ سب کو دوبارہ اللہ ہی کی طرف واپس پلٹنا ہے۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →