بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فاطر — Surah Fatir
آیت نمبر 11
کل آیات: 45
قرآن کریم فاطر آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ فاطر islamicurdubooks.com ↗
وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے (یعنی مرد اور عورت) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے
لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد وعورت) بنا دیا ہے، عورتوں کو حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے، اور جو بڑی عمر واﻻ عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وه سب کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے
اور اللہ نے تمہیں بنایا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ کو آسان ہے
اور اللہ ہی نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑا جوڑا (نر و مادہ) بنا دیا اور کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور بچہ نہیں جنتی مگر اس (اللہ) کے علم سے اور نہ کسی شخص کی عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں موجود ہے اور یقیناً یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔
اور اللہ ہی نے تمھیں تھوڑی سی مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر اس نے تمھیں جوڑے بنا دیا اور کو ئی مادہ نہ حاملہ ہو تی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور نہ کسی عمر پانے والے کی عمر بڑھائی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر ایک کتاب میں (درج) ہے۔ بلاشبہ یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عزت اللہ کے پاس ہے ٭٭

جو شخص دنیا اور آخرت میں باعزت رہنا چاہتا ہو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت گذاری کرنی چاہیئے وہی اس مقصد کا پورا کرنے والا ہے، دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ ساری عزتیں اسی کی ملکیت میں ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہماری عزت ہو وہ عزت کے حصول سے مایوس ہو جائیں کیونکہ عزت تو اللہ کے قبضے میں ہیں اور جگہ فرمان عالی شان ہے تجھے ان کی باتیں غم ناک نہ کریں، تمام تر عزتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔

اور آیت میں اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے «وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسولِهِ وَلِلمُؤمِنينَ وَلٰكِنَّ المُنافِقينَ لا يَعلَمونَ» [63-المنافقون:8] ‏‏‏‏ یعنی عزتیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور ایمان والوں کے لیے لیکن منافق بےعلم ہیں۔۱؎ مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں بتوں کی پرستش میں عزت نہیں عزت والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ طالب عزت کو احکام اللہ کی تعمیل میں مشغول رہنا چاہیئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو یہ جاننا چاہتا ہو کہ کس کے لیے عزت ہے وہ جان لے کہ ساری عزتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ذکر، تلاوت،دعا وغیرہ پاک کلمے اسی کی طرف چڑھتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جتنی حدیثیں تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں۔ سب کی تصدیق کتاب اللہ سے پیش کر سکتے ہیں۔ سنو! مسلمان بندہ جب پڑھتا ہے تو ان کلمات کو فرشتہ اپنے پر تلے لے کر آسمان پر چڑھ جاتا ہے۔ فرشتوں کے جس مجمع کے پاس سے گذرتا ہے وہ مجمع ان کلمات کے کہنے والے کے لیے استغفار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ رب العالمین عزوجل کے سامنے یہ کلمات پیش کئے جاتے ہیں۔ پھر آپ نے «ااِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ» [35-فاطر:10] ‏‏‏‏کی تلاوت کی۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:399/10] ‏‏‏‏

کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سبحان اللہ» اور «‏‏‏‏لا الہٰ الا اللہ اور اللہ اکبر» عرش کے اردگرد آہستہ آہستہ آواز نکالتے رہتے ہیں۔ جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ اپنے کہنے والے کا ذکر اللہ کے سامنے کرتے رہتے ہیں اور نیک اعمال خزانوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کا جلال،اس کی تسبیح، اس کی حمد، اس کی بڑائی، اس کی وحدانیت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے ان کے یہ کلمات عرش کے آس پاس اللہ کے سامنے ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم نہیں چاہتے کہ کوئی نہ کوئی تمہارا ذکر تمہارے رب کے سامنے کرتا رہے؟ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3809،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدناابن رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ پاک کلموں سے مراد ذکر اللہ ہے اور عمل صالح سے مراد فرائض کی ادائیگی ہے۔ پس جو شخص ذکر اللہ اور ادائے فریضہ کرے اس کا عمل اس کے ذکر کو اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھاتا ہے۔ اور جو ذکر کرے لیکن فریضہ ادا نہ کرے اس کا کلام اس کے عمل پر لوٹا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کلمہ طیب کو عمل صالح لے جاتا ہے اور بزرگوں سے بھی یہی منقول ہے بلکہ ایاس بن معاویہ قاضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قول بغیر عمل کے مردود ہے۔ برائیوں کے گھات میں لگنے والے وہ لوگ ہیں جو مکاری اور ریا کاری کے سے اعمال کرتے ہوں۔ لوگوں پر گویہ یہ ظاہر ہو کہ وہ اللہ کی فرماں برداری کرتے ہیں لکین دراصل اللہ کے نزدیک وہ سب سے زیادہ برے ہیں جو نیکیاں صرف دکھلاوے کی کرتے ہیں۔ یہ ذکر اللہ بہت ہی کم کرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مشرک ہیں۔ لیکن یہ صحیح ہے کہ یہ آیت عام ہے مشرک اس میں بطریق اولیٰ داخل ہیں۔ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر فاسد و باطل ہے۔ ان کا جھوٹ آج نہیں تو کل کھل جائے گا عقلمند ان کے مکر سے واقف ہو جائیں گے۔ جو شخص جو کچھ کرے اس کا اثر اس کے چہرے پر ہی ظاہر ہو جاتا ہے اس کی زبان اسی رنگ سے رنگ دی جاتی ہے۔ جیسا باطن ہوتا ہے اسی کا عکس ظاہر پر بھی پڑتا ہے۔ ریا کار کی بےایمانی لمبی مدت تک پوشیدہ نہیں رہ سکتی ہاں کوئی بیوقوف اس کے دام میں پھنس جائے تو اور بات ہے۔ مومن پورے عقلمند اور کامل دانا ہوتے ہیں وہ ان دھوکے بازوں سے بخوبی آگاہ ہو جاتے ہیں اور اس عالم الغیب اللہ پر تو کوئی بات بھی چھپ نہیں سکتی، اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کی نسل کو ایک ذلیل پانی سے جاری رکھا۔ پھر تمہیں جوڑا جوڑا بنایا یعنی مرد و عورت۔ یہ بھی اس کا لطف و کرم اور انعام واحسان ہے کہ مردوں کے لیے بیویاں بنائیں جو ان کے سکون و راحت کا سبب ہیں۔ ہر حاملہ کے حمل کی اور ہر بچے کے تولد ہونے کی اسے خبر ہے۔ بلکہ ہر پتے کے جھڑنے اور اندھیرے میں پڑے ہوئے دانے اور ہر ترو خشک چیز کا اسے علم ہے بلکہ اس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا ہے۔ اسی آیت جیسی «اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ» ‏‏‏‏ ۱؎، [13-الرعد:8] ‏‏‏‏ ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی گذر چکی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ عالم الغیب کو یہ بھی علم ہے کہ کس نطفے کو لمبی عمر ملنے والی ہے۔ یہ بھی اس کی پاس لکھا ہوا ہے «وَّلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖٓ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ» [35-فاطر:11] ‏‏‏‏میں «ہ» کی ضمیر کا مرجع جنس ہے۔ عین ہی نہیں اس لیے کہ طول عمر کتاب میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کی عمر سے کمی نہیں ہوتی۔ جنس کی طرف بھی ضمیر لوٹتی ہے۔

جیسے عرب میں کہا جاتا ہے «عندی ثوب و نصفہ» یعنی میرے پاس ایک کپڑا ہے اور دوسرے کپڑے کا آدھا ہے۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس شخص کے لیے اللہ نے طویل عمر مقدر کی ہے وہ اسے پوری کر کے ہی رہے گا لیکن وہ لمبی عمر میری کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہے وہیں تک پہنچے گی اور جس کے لیے میں نے کم عمر مقرر کی ہے اس کی حیات اسی عمر تک پہنچے گی یہ سب کچھ اللہ کی پہلی کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہے اور رب پر یہ سب کچھ آسان ہے۔ عمر کے ناقص ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو نطفہ تمام ہونے سے پہلے ہی گر جاتا ہے وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ بعض انسان سو سو سال کی عمر پاتے ہیں اور بعض پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ ساٹھ سال سے کم عمر میں مرنے والا بھی ناقص عمر والا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماں کے پیٹ میں عمر کی لمبائی یا کمی لکھ لی جاتی ہے۔ ساری مخلوق کی یکساں عمر نہیں ہوتی کوئی لمبی عمر والا کوئی کم عمر والا۔ یہ سب اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے اور اسی کے مطابق ظہور میں آ رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جو اجل لکھی گئی ہے اور اس میں سے جو گزر رہی ہے سب علم اللہ میں ہے اور اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

بخاری مسلم وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو یہ چاہے کہ اس کی روزی اور عمر بڑھے وہ صلہ رحمی کیا کرے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2067] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی کی اجل آ جانے کے بعد اسے مہلت نہیں ملتی۔ زیادتی عمر سے مراد نیک اولاد کا ہونا ہے جس کی دعائیں اسے اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر میں پہنچتی رہتی ہے یہی زیادتی عمر ہے۔۱؎ [ابن عدی فی الکامل:285/3 ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اللہ پر آسان ہے اس کا علم اس کے پاس ہے۔ اس کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے وہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے۔ اس پر کچھ مخفی نہیں۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے اور پھر اس کے بعد تمہاری نسل کو قائم رکھنے کے لیے انسان کی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا جو مرد کی پشت سے نکل کر عورت کے رحم میں جاتا ہے۔ 11۔ 2 یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، حتی کہ زمین پر گرنے والے پتے کو اور زمین کی تاریکیوں میں نشوونما پانے والے بیج کو بھی جانتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) ➊ {وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ …:} اس سے پہلے بارش سے زمین کے زندہ ہونے کو موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اب اس آیت میں موت کے بعد زندگی کی تین دلیلیں پیش فرمائیں جو تینوں عقلی ہیں، پہلی انسان کا مٹی سے پیدا ہو کر مختلف مراحل سے گزر کر موت کی آغوش میں جا بسنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵ ] ”اے لوگو! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بے شک ہم نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔“ یعنی جس اللہ نے پہلے مٹی سے پیدا فرمایا وہ انسان کے مٹی ہونے کے بعد دوبارہ بھی اسے پیدا فرما سکتا ہے۔ ➋ { وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ:} یعنی کسی بھی مادہ کے حمل سے لے کر وضع تک کے تمام مراحل جس ہستی کے علم میں ہیں اور اسی کے کمال قدرت سے سر انجام پا رہے ہیں، اس کے لیے اس انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ بنا دینا کیا مشکل ہے؟ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۸)۔ ➌ {وَ مَا يُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ …:} یہ بعث بعد الموت کی تیسری دلیل ہے، یعنی کسی زیادہ عمر والے کو زیادہ عمر دی جاتی ہے، یا کم عمر والے کو کم عمر دی جاتی ہے، تو یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے ہی طے فرما دیا ہے۔ تو جس ہستی نے ہر زیادہ عمر والے کی عمر اور کم عمر والے کی عمر پہلے ہی لکھ دی ہے اور جو ہر شخص کی زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہے اس کے لیے انھیں دوبارہ بنانے میں کیا دشواری ہو سکتی ہے؟ ➍ یعنی اگرچہ تمھارے لیے اور پوری مخلوق کے لیے ناممکن ہے کہ تم پہلے ہی ان باتوں کو جان لو یا ان کا فیصلہ کر لو، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بالکل آسان ہے، کیونکہ اسے پہلے ہی ان سب باتوں کا علم ہے اور وہ ہمیشہ سے یہ سب کچھ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →