بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الفلق
سورۃ الفلق — 5 آیات
قرآن کریم Surah 113
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ(ص) کہہ دیجئے کہ میں پناہ لیتا ہوں صبح کے پروردگار کی۔
عبدالسلام بن محمد
تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ «غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] ‏‏‏‏ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔

ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ’اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ‘} ۱؎ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ {جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“} ۲؎۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا} ۳؎۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] ‏‏‏‏

صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5765] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ {ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا} ۱؎، [صحیح بخاری:6064] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔

ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔‏‏‏‏“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں (1)
کسی بھی قسم کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کے لیے سورۂ فلق اور سورۂ ناس جیسی کوئی چیز نہیں۔ ان سورتوں میں تمام جسمانی و روحانی آفات سے بچانے اور انھیں دور کرنے کی زبردست تاثیر موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے، خصوصاً پناہ کے باب میں ان کو بے مثل قرار دیا ہے۔ یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں: (1) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ: «قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ‏‏‏‏ وَ «‏‏‏‏قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ‏‏‏‏ ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ المعوذتین: ۸۱۴] ”کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل کی گئی ہیں، جن کی مثل کبھی دیکھی ہی نہیں گئی؟ وہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔“ (2) ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: [ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُوْنَ؟ قَالَ بَلٰي يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ «‏‏‏‏قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» وَ «‏‏‏‏قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ‏‏‏‏ هَاتَيْنِ السُّوْرَتَيْنِ ] [ نسائي، الاستعاذۃ، باب ما جاء في سورتي المعوذتین: ۵۴۳۴ ] ”کیا میں تمھیں سب سے بہتر وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ساتھ پناہ پکڑنے والے پناہ پکڑتے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {” قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ “} اور {” قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ “} یہ دو سورتیں۔“ (3) عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ خَرَجْنَا فِيْ لَيْلَةٍ مَّطِيْرَةٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيْدَةٍ نَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ لَنَا، قَالَ فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، قَالَ قُلْ، فَقُلْتُ مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ قُلْ «‏‏‏‏قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ» وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِيْنَ تُمْسِيْ وَ تُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ] [ترمذي، الدعوات، باب الدعاء عند النوم: ۳۵۷۵، وقال الألباني حسن ] ”ہم ایک بارش اور سخت اندھیرے والی رات میں نکلے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے، تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچہ میں آپ سے جا ملا، تو آپ نے فرمایا: ”کہو۔“ میں نے کچھ نہ کہا، آپ نے پھر فرمایا: ”کہو۔“ تو میں نے کچھ نہ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کہو۔“ میں نے کہا: ”میں کیا کہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} اور معوذتین صبح و شام تین تین مرتبہ کہہ، یہ تجھے ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی۔“ (4) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”معوذ تین نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں سے اور انسان کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب معوذتین اتریں تو آپ نے ان دونوں کو معمول بنا لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔“ [ ترمذي، الاستعاذۃ، باب ما جاء في الرقیۃ بالمعوذتین: ۲۰۵۸ ] ترمذی نے اسے حسن صحیح اور البانی نے صحیح کہا ہے۔ (5) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ (ہم نے یہ سوال کیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سورتوں کے ساتھ صبح کی جماعت کروائی۔ [ نسائي، الاستعاذۃ، باب ما جاء في سورتي المعوذتین: ۵۴۳۶، وصححہ الألباني ] اس سے معلوم ہوا کہ ان کا نام معوذتین معروف تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ نے لمبی سورتوں کی جگہ انھیں کافی قرار دیا۔ [ دیکھیے ترمذي، الاستعاذۃ، باب ما جاء في الرقیۃ بالمعوذتین: ۲۰۵۸] (6) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرتے پھر ان میں پھونکتے۔ دونوں میں {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “، ” قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ “} اور {” قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ “} پڑھتے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہو سکتا پھیرتے۔ پھیرنے کی ابتدا سر،چہرے اور جسم کے سامنے والے حصے سے کرتے۔ آپ اس طرح تین مرتبہ کرتے۔“ [ بخاري، فضائل القرآن، باب فضل المعوذات: ۵۰۱۷ ] (7) عائشہ رضی اللہ عنھا ہی سے روایت ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے آپ پر معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ جب آپ کا درد بہت بڑھ گیا تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ ہی کا ہاتھ اس ہاتھ کی برکت کی امید سے (آپ کے جسم پر) پھیرتی تھی۔“ [ بخاري، الاستعاذۃ، باب ما جاء في المعوذات: ۵۰۱۶ ] ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ان تینوں سورتوں کو مذکورہ اوقات میں روزانہ پڑھنا چاہیے، یہ ہر قسم کی روحانی اور جسمانی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہیں اور جن و انس میں سے شیاطین کے شرور و آفات سے بھی اللہ کی پناہ میں رکھتی ہیں۔ تنبیہ: جب ہم {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ“} یا معوذات پڑھتے ہیں تو ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبان سے یہ الفاظ ادا کر دیے جائیں، بلکہ ضروری ہے کہ وہ تمام خیالات، خواہشات اور اعمال ترک کرنے کی کوشش کی جائے جو شیطان کو پسند ہیں۔ جس طرح کسی شخص پر کوئی درندہ حملہ آور ہو تو اس کا صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ میں فلاں قلعہ میں پناہ لیتا ہوں، بلکہ اسے اس قلعہ میں پہنچنے کی جدو جہد بھی کرنا ہو گی۔ اسی طرح دشمن کے حملے سے اللہ کی پناہ طلب کرنے والے اور اس پر فتح و نصرت کی دعا کرنے والے کے لیے پناہ اور دعا کے الفاظ ہی منہ سے ادا کر دینا کافی نہیں، بلکہ دشمن کے خلاف تیاری، میدان میں نکلنا اور قتل و قتال کے لیے تیار رہنا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دعا بھی کی جائے تو واقعی اللہ تعالیٰ کی پناہ بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کی حفاظت بھی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عملاً تو ہر بات میں شیاطین الانس والجن کی پیروی کرے، مگر منہ سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے تو یہ پناہ طلب کرنا اسے شیاطین سے اور ان کے وسوسوں سے نہیں بچا سکتا۔ اس کی ایک جامع مثال یہ ہے کہ ”لا الٰہ الا اللہ “ کہنے والا شخص یقینا جنت میں جائے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہے، مگر کیا صرف یہ الفاظ ادا کرنے والا جہنم سے اللہ کی پناہ میں چلا جاتا ہے؟ نہیں، بلکہ وہ جو {”صَادِقًا مِّنْ قَلْبِهِ“} ہو، یعنی سچے دل سے صرف اللہ کو معبود برحق مانے اور اسی کی عبادت کرے، اس کے لیے یہ فضیلت ہے۔ اگر وہ کسی غیر کو یا اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا لے تو پھر کروڑ دفعہ بھی ”لا الٰہ الا اللہ“ پڑھتا رہے تو جہنم سے نہیں بچ سکتا۔ (ملخص از قاسمی) (آیت 1) ➊ {قُلْ اَعُوْذُ …: ” اَعُوْذُ”عَاذَ يَعُوْذُ عَوْذًا وَمَعَاذًا“} (ن) پناہ پکڑنا۔ پناہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز سے خوف محسوس کرے اور سمجھے کہ میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس سے بچنے کے لیے وہ کسی دوسرے کی حفاظت میں چلا جائے یا کسی چیز کی آڑ لے لے۔ ظاہر ہے پناہ اسی کی لی جاتی ہے جس کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ اس خوف ناک چیز سے بچا سکتا ہے۔ پناہ بعض اوقات ایسی چیزوں کی لی جاتی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے بعض خوف ناک چیزوں سے بچنے کا سبب بنا دیا ہے، مثلاً دشمن سے بچنے کے لیے کسی قلعہ یا خندق یا مورچے وغیرہ کی پناہ لینا اور کسی ظالم سے بچنے کے لیے کسی طاقتور آدمی یا قوم کی پناہ لینا، یہ پناہ کسی بھی چیز کی لی جا سکتی ہے اور بعض اوقات یہ سمجھ کر پناہ لی جاتی ہے کہ وہ خطرات جن میں دنیا کے بچاؤ کے تمام ذرائع و اسباب بے کار ہو جائیں ان میں فلاں ہستی بچا سکتی ہے۔ سورۂ فلق اور سورۂ ناس میں جس پناہ کا ذکر ہے، بلکہ قرآن و حدیث میں جہاں بھی اللہ سے پناہ مانگی گئی ہے اس سے مراد پناہ کی دوسری قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے سے یہ پناہ مانگنا شرک ہے۔ مشرک لوگ اپنے تحفظ کے لیے اللہ کو چھوڑ کر دیوی دیوتاؤں، جنوں، فرشتوں یا پیروں، پیغمبروں کی پناہ لیتے اور ان کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں میں تعلیم دی کہ ایسے تمام خطرات سے بچنے کے لیے میری ان صفات کی پناہ لو جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ ایسے تمام خطرات سے میں ہی تمھیں بچا سکتا ہوں۔ ➋ {بِرَبِّ الْفَلَقِ: ”فَلَقَ يَفْلِقُ فَلَقًا“} (ض) پھاڑنا۔ یہاں مصدر {” الْفَلَقِ “} مفعول {”مَفْلُوْقٌ“} کے معنی میں ہے۔ اس کی تفسیر میں معتبر اقوال دو ہیں، پہلا قول جابربن عبداللہ رضی اللہ عنھما کا ہے جو ابن ابی حاتم نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے، ان کے علاوہ کئی تابعین کا بھی یہی قول ہے کہ {” الْفَلَقِ “} کا معنی صبح ہے، کیونکہ صبح رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۹۶] ”یعنی وہ رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح لانے والا ہے۔“ صبح کے رب کی پناہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ جو رب رات کی تاریکی کو دور کرکے روشن صبح لانے والا ہے میں ساری مخلوق کے شر سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ جب وہ رات کی تاریکی کو دور کر دیتا ہے، جس میں بے شمار شر ور پائے جاتے ہیں تو اس کے لیے دوسرے شرور کو دور کرنا اور ان سے بچانا تو معمولی بات ہے۔ دوسرا قول ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ہے جو طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور ضحاک کا قول بھی یہی ہے کہ {” الْفَلَقِ “} سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پھاڑ کر نکالا ہے، مثلاً زمین سے نباتات، پہاڑوں سے چشمے، بادلوں سے بارش اور رحم مادر اور انڈوں سے حیوانات۔ ان کے علاوہ جہاں بھی پیدائش کا معاملہ ہے اکثر میں انشقاق (پھٹنے) کا سلسلہ موجود ہے۔ گویا {” الْفَلَقِ “} کا معنی مخلوق ہے، مطلب یہ ہوگا کہ میں ساری مخلوق کے مالک کی پناہ پکڑتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی مخلوق کے شر سے بچا لے۔ یہ معنی زیادہ جامع ہے، اس لیے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔
مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کی سب مخلوق کی شر سے
علامہ محمد حسین نجفی
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ «غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] ‏‏‏‏ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔

ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ’اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ‘} ۱؎ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ {جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“} ۲؎۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا} ۳؎۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] ‏‏‏‏

صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5765] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ {ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا} ۱؎، [صحیح بخاری:6064] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔

ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔‏‏‏‏“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
2۔ 1 یہ عام ہے اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سے پناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
(آیت 2) ➊ {مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ:} ”اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی“ اس میں ہر مخلوق کے ہر شر سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔ کوئی نقصان، تکلیف یا پریشانی باقی نہیں رہی جو اس میں نہ آگئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پناہ مانگنے کے لیے یہ بہت ہی جامع سورت ہے، کیونکہ جب بندہ ساری مخلوق کے ہر شر سے بچنے کے لیے اس کے رب کی پناہ میں چلا گیا تو پھر مخلوق میں سے کون ہے جو اسے نقصان پہنچا سکے اور اگر وہ مالک ہی اپنی مخلوق کو نقصان پہنچانے سے نہ روکے تو مخلوق کے شر سے کون بچ سکتا ہے؟ ➋ اس آیت میں مخلوق کے اس شر سے بھی پناہ مانگ لی گئی جو پہنچ چکا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور اس سے بھی جس کا خوف ہے۔
وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کی تاریکی کے شر سے جبکہ وہ چھا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ «غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] ‏‏‏‏ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔

ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ’اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ‘} ۱؎ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ {جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“} ۲؎۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا} ۳؎۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] ‏‏‏‏

صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5765] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ {ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا} ۱؎، [صحیح بخاری:6064] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔

ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔‏‏‏‏“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
3۔ 1 رات کے اندھیرے میں خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نکلتے ہیں ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی۔ غاسق، رات وقت داخل ہوجائے، چھا جائے۔
(آیت 3) ➊ { وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ:} اگرچہ ساری مخلوق کے شر سے پناہ مانگنے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہی جس کے شر سے پناہ مانگی جائے، مگر مخلوق میں سے چند چیزوں کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کا سبق دیا گیا، کیونکہ یہ بہت ہی خوف ناک ہیں اور ان کے شر سے پناہ مانگنے کی تو بہت ہی ضرورت ہے۔ ➋ { ” غَاسِقٍ “} کا معنی ہے تاریک، سخت اندھیرے والی۔ قاموس میں ہے: {”غَسَقَ اللَّيْلُ أَيْ اِشْتَدَّتْ ظُلْمَتُهٗ“} ”یعنی {”غَسَقَ اللَّيْلُ “} کا معنی یہ ہے کہ رات کی تاریکی بہت سخت ہوگئی۔“ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: «‏‏‏‏اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ» [ بني إسرائیل: ۸۷ ] ”رات کے سخت تاریک ہونے تک۔“ {” وَقَبَ “} (ض) داخل ہونا، غائب ہونا۔ فرّاء نے {” غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ “} کا معنی کیا ہے: {” اَللَّيْلُ إِذَا دَخَلَ كُلَّ شَيْءٍ وَ أَظْلَمَ“} ” رات جب ہر چیز پر چھا جائے اور تاریک ہو جائے۔“ تاریک رات کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کی تلقین اس لیے کی گئی ہے کہ اندھیری رات میں بے شمار شرور و خطرات ہوتے ہیں، اکثر مجرم، چور، ڈاکو، زانی، قاتل اور شب خون مارنے والے رات ہی کو نکلتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات ہی میں قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے، تاکہ نہ آپ بچاؤ کر سکیں اور نہ قاتل کا پتا چل سکے۔ جنگلی جانوروں مثلاً شیر، چیتے، بھیڑیے وغیرہ اور حشرات الارض مثلاً سانپ، بچھو وغیرہ کا خطرہ رات کو زیادہ ہو جاتا ہے اور مچھر، کھٹمل وغیرہ رات کو جو تکلیف دیتے ہیں سب جانتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق اکثر بیماریوں کے جراثیم اندھیرے میں پیدا ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اندھیرے میں وہمی چیزوں کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان سب پر مزید یہ کہ ان سب شرور کے اندھیرے میں واقع ہونے کی وجہ سے انسان ان سے اپنا بچاؤ بھی نہیں کر سکتا، اس لیے اندھیری رات کی برائیوں سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی۔ ➌ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھا تو فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! اسْتَعِيْذِيْ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّ هٰذَا، فَإِنَّ هٰذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ ] [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المعوذتین: ۳۳۶۶، وصححہ الترمذي والألباني ] ”اے عائشہ! اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی {” غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ “} ہے۔“ اس صورت میں {” غَاسِقٍ “} کا معنی ”اندھیرے والا“ اور {” اِذَا وَقَبَ “} کا معنی {” إِذَا غَابَ “} ہے، یعنی ”جب غائب ہو جائے۔“ شاہ رفیع الدین نے ترجمہ یوں کیا ہے: ”اور برائی اندھیرا کرنے والے کی سے، جب وہ چھپ جائے۔“ یعنی چاند غروب ہو کر اندھیرا پھیلا دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے {” غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ “} سے سورج مراد لیا ہے، کیونکہ سورج غائب ہو کر سخت تاریکی پھیلنے کا باعث بنتا ہے۔ بہرحال ان تفسیروں اور پہلی تفسیر میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ مراد تاریکی کے شر سے پناہ مانگنا ہی ہے۔
وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)
احمد رضا خان بریلوی
اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اوران کے شر سے جو گِرہوں میں پھونکے مارتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ «غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] ‏‏‏‏ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔

ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ’اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ‘} ۱؎ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ {جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“} ۲؎۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا} ۳؎۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] ‏‏‏‏

صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5765] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ {ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا} ۱؎، [صحیح بخاری:6064] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔

ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔‏‏‏‏“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
4۔ 1 نفاثات، مونث کا صیغہ ہے، جو النفوس (موصوف محذوف) کی صفت ہے من شر النفوس النفاثات یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے، جادوگر پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔
(آیت 4){ وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ:النَّفّٰثٰتِ”نَفَّاثَةٌ“} کی جمع ہے جو {”نَفَثَ يَنْفُثُ نَفْثًا“} (ن، ض) (پھونک مارنا، جس کے ساتھ تھوڑی سی تھوک ہو) سے مشتق ہے، بہت پھونکیں مارنے والی عورتیں یا جماعتیں۔ اگر {”نَفَّاثَةٌ“} میں تاء {”عَلَّامَةٌ“} کی طرح مبالغے کے لیے ہو یا {” النَّفّٰثٰتِ “} سے مراد نفوس ہوں تو عورتوں کے علاوہ بہت پھونکیں مارنے والے مرد بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ {” الْعُقَدِ”عُقْدَةٌ“} کی جمع ہے، گرہیں۔ ابن جریر اور مفسرین سلف کے مطابق گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں سے مراد جادو کرنے والی عورتیں یا لوگ ہیں، کیونکہ انھوں نے جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر جادو کرتے ہوئے کسی تانت یا دھاگے میں گرہیں ڈالتے جاتے اور منتر پڑھ پڑھ کر ان میں پھونکیں مارتے جاتے ہیں۔ ان کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کی تلقین اس لیے کی گئی کہ وہ چھپ کر وار کرتے ہیں۔ آدمی کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ اسے تکلیف کیوں ہے، وہ بیماری سمجھ کر علاج معالجہ میں لگا رہتا ہے اور تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ {” الْعُقَدِ “} (گرہوں) سے مراد مردوں کے پختہ عزم اور ارادے ہیں اور {” النَّفّٰثٰتِ “} سے مراد یہ ہے کہ جس طرح تھوک کے ساتھ رسی کی گرہیں نرم کی جاتی ہیں اس طرح عورتیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مردوں کے پختہ ارادوں کو بدل دیتی ہیں، اس آیت میں ان عورتوں کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی۔ یہ معنی پر لطف ہونے کے باوجود سلف کی تفسیر کے خلاف ہے اور اکثر یہ معنی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو جادو سے نقصان پہنچنے کے قائل نہیں اور انھیں اپنے اس موقف پر اس قدر اصرار ہے کہ وہ بخاری ومسلم اور حدیث کی بہت سی دوسری کتابوں میں مروی حدیث کو ماننے ہی سے انکار کر دیتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا اور آپ اس جادو کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار اور پریشان رہے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، کتاب الطب، باب ہل یستخرج السحر؟:۵۷۶۵،۵۷۶۳ ]
وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے
علامہ محمد حسین نجفی
اورحاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ «غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] ‏‏‏‏ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔

ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ’اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ‘} ۱؎ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ {جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“} ۲؎۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا} ۳؎۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق] ‏‏‏‏

صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:5765] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ {ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا} ۱؎، [صحیح بخاری:6064] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔

ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔‏‏‏‏“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
5۔ 1 حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال کی نعمت کی آرزو کرتا ہے چناچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے کیونکہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
(آیت 5) ➊ { وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ:حَسَدَ “} کا معنی ہے کسی شخص پر اللہ کی نعمت سے جلناکہ یہ نعمت اسے کیوں ملی اور اس کے زوال کی تمنا کرنا۔ پھر خواہ یہ خواہش یا کوشش ہو کہ وہ حسد کرنے والے کو ملے یا نہ ہو۔ قباحت کے لحاظ سے حسد کے کئی درجے ہیں، سب سے بدتر یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت دی ہے اس سے چھن جانے کی تمنا کے ساتھ ساتھ قول و عمل کے ذریعے سے یہ کوشش بھی کرے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ پھر بعض کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور بعض کو اس سے غرض نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسی پر خوش ہوتے ہیں کہ اس کے پاس یہ نعمت نہیں رہی۔ دوسرا یہ کہ عملی طور پر تو اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے، لیکن دل میں یہ خواہش رکھے کہ اس کے پاس سے یہ نعمت نہ رہے۔ یہ دونوں صورتیں حرام ہیں۔ ➋ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حاسد کے شر سے پناہ مانگتے وقت {” اِذَا حَسَدَ “} (جب وہ حسد کرے) کی قید کیوں لگائی؟ جواب یہ ہے کہ حاسد کے حسد کا نقصان دوسرے شخص کو اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے حسد کے تقاضے کے مطابق قول یا فعل سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، یا حسد کے تقاضے کے مطابق یہ خواہش رکھے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ حسد کی ایک صورت یہ ہے کہ دل میں خیال آتا ہے کہ فلاں شخص کو یہ نعمت کیوں ملی، مگر آدمی اس خیال کو ہٹا دیتا ہے، نہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ایسا ارادہ یا خواہش رکھتا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے، اس پر مؤاخذہ نہیں۔ ایسے خیالات آ ہی جاتے ہیں، کیونکہ انسان کی طبیعت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کا کوئی ہم جنس کسی خوبی میں اس سے بڑھ کر ہو، تو جو شخص حسد کے تقاضے پر عمل نہ کرے بلکہ ایسے خیال آنے پر انھیں دور کرنے کی کوشش کرے اور محسود (جس کے ساتھ حسد ہو) کے ساتھ احسان کرے، اس کے لیے دعا کرے اور اس کی خوبیاں عام بیان کرنا شروع کر دے، تاکہ دل میں اس بھائی کے ساتھ حسد کے بجائے محبت پیدا ہو جائے تو اس کے شر سے پناہ مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا حسد کے تقاضے پر عمل کرنے کے بجائے اس سے مقابلہ کرنا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنا تو ایمان کے اعلیٰ درجے کی علامت ہے اور حسد سے نجات پانے کا طریقہ بھی یہی ہے۔ ➌ حسد کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حاسد دراصل اللہ تعالیٰ پر ناراض ہوتا ہے کہ اس نے اسے وہ نعمت کیوں دی۔ پھر بندے پر اس کے کسی جرم کے بغیر ناراض ہوتا ہے، کیونکہ اس نعمت کے حصول میں اس کا کچھ اختیار نہیں۔ تو حاسد دراصل اللہ کا بھی دشمن ہے اور اللہ کے بے گناہ بندوں کا بھی۔ ➍ حسد کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے کہ حسد کا نقصان دین و دنیا میں حسد کرنے والے ہی کو ہے، محسود کو کوئی نقصان نہیں، نہ دنیا میں نہ دین میں، بلکہ اسے دین و دنیا میں حاسد کے حسد سے فائدہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ دین میں فائدہ یہ ہے کہ وہ مظلوم ہے، خصوصاً جب حاسد قول یا عمل سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، تو قیامت کو اسے ظلم کا بدلا ملے گا اور ظالم حاسد نیکیوں سے مفلس رہ جائے گا اور دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے دشمن غم و فکر اور عذاب میں مبتلا رہیں اور حاسد جس عذاب اور مصیبت میں گرفتار ہے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے؟ وہ ہر وقت حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے اور اطمینان اور دلی سکون سے محروم ہوتا ہے۔ ➎ حسد آدمی کو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے، اہل علم فرماتے ہیں کہ آسمان میں اللہ تعالیٰ کی سب سے پہلی نافرمانی حسد کی وجہ سے واقع ہوئی کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام پر حسد کی وجہ سے اسے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور زمین پر پہلی نافرمانی، یعنی آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ایک کے دوسرے کو قتل کرنے کا باعث بھی یہی حسد تھا۔ برادران یوسف نے یوسف علیہ السلام اور ان کے والدین پر جو ظلم کیا اس کا باعث بھی حسد تھا۔ یہودی لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول برحق ہیں، ایمان نہ لائے تو اس کا باعث بھی یہی حسد تھا اور یہی حسد تھا جس کی بنا پرانھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا۔ گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر کے پیچھے بھی عموماً حسد ہی کا جذبہ چھپا ہوتا ہے، اس لیے ان کے شر کے بعد حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ ➏ بعض اوقات حسد کا لفظ {”غِبْطَةٌ “} (رشک اور ریس) کے معنی میں بھی آجاتا ہے، یعنی کسی شخص پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ مجھے بھی یہ نعمت مل جائے، لیکن یہ خواہش نہ ہو کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ یہ خواہش حرام نہیں، مگر صرف دو چیزوں میں رشک کرنا پسندیدہ ہے، ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب فضل من یقوم بالقرآن…: ۸۱۵۔ بخاري: ۵۰۲۵ ] ”حسد (رشک کرنا) نہیں مگر دو چیزوں میں، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قائم رہتا ہے اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا ہے تو وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتا رہتا ہے۔“