«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
برجوں والے آسمان کی قسم (1)
یہ سورت مسلمانوں کو اہلِ مکہ کی ایذا رسانی پر صبر و استقامت کی تلقین کے لیے نازل ہوئی۔ اس مقصد کے لیے پہلی امتوں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے شدید ترین امتحان اور اس پر ان کے صبر و ثبات اور انھیں ستانے والوں کے انجامِ بد کا تذکرہ فرمایا، تاکہ ان کے حالات سن کر انھیں تسلی ہو اور یقین ہو جائے کہ جس طرح اصحاب الاخدود مارے گئے اسی طرح وہ لوگ بھی مارے جائیں گے جو اب مسلمانوں کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ (آیت 1) {وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ:” الْبُرُوْجِ “ ”بُرْجٌ “} کی جمع ہے، اس کا اصل معنی ہے ”نمایاں اور ظاہر ہونے والی چیز۔“ {” تَبَرَّجَ “} کا معنی بے پردہ ہونا، ظاہر ہونا ہے۔ اس لیے بلند محل کو بُرج کہتے ہیں، شہر کی فصیل کے بلند حصوں کو بھی برج کہتے ہیں اور آسمان پر ستاروں کے اجتماع سے جو صورتیں نظر آتی ہیں انھیں بروج کہتے ہیں۔ وہ آسمانی ٹھکانے بھی بروج کہلاتے ہیں جن میں شیطانوں سے آسمان کی حفاظت کے لیے فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ سورج اور چاند کی منزلوں کو بھی بروج کہا جاتا ہے۔
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
2۔ 1 اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
(آیت 2) {وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ:} قیامت کا دن، جس کا جزا و سزا کے لیے وعدہ کیا گیا ہے۔
اور اس دن کی جو گواہ ہے اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور گواہ کی قَسم اور اس چیز کی جس کی گواہی دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا ٭٭
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
3۔ 1 شَاھْدٍ اور مَشْھُوْدِ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا، اور مشہود سے عرفہ (9 ذوالحجہ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
(آیت 3) {وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ: ” شَاهِدٍ “} حاضر ہونے والا۔ {” مَشْهُوْدٍ “} جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔ لفظوں کے لحاظ سے اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو کہیں حاضر ہو سکتے ہیں اور مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جن کا مشاہدہ ہو سکتا ہے یا جن کے پاس کوئی حاضر ہو سکتا ہے۔ اہلِ علم نے {” شَاهِدٍ “} اور {” مَشْهُوْدٍ “} کی تفسیر کرتے ہوئے جس چیز کو زیادہ اہم یا معروف یا مناسب سمجھا اس کے ساتھ تفسیر کردی۔ چنانچہ بہت سے صحابہ و تابعین نے {” شَاهِدٍ “} سے مراد یوم جمعہ اور {” مَشْهُوْدٍ “} سے مراد یوم عرفہ لیا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو کہیں حاضر ہوتاہے اور حاضری کا ہر وہ موقع ہے جس میں کوئی فرد حاضر ہوتا ہے۔
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
4۔ 1 یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے قتل بمعنی لعن۔
(آیت 4) ➊ {قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ: ”خَدَّ يَخُدُّ خَدًّا “ (ن) ” اَلْأَرْضَ وَ فِي الْأَرْضِ“} زمین میں لمبا گڑھا کھودنا۔ {” الْاُخْدُوْدِ “} لمبا گڑھا۔ خندق، کھائی۔ اس کی جمع {”أَخَادِيْدُ“} ہے۔ یعنی عظیم الشان برجوں والا آسمان، قیامت کا دن، کسی بھی مقام پر حاضر ہونے والے لوگ اور کوئی بھی موقع جس میں لوگ حاضر ہوتے ہیں، یہ سب چیزیں اگر اپنا وجود رکھتی ہیں اور یقینا ان کے وجود میں کوئی شبہ نہیں تو یہ بات بھی یقینی سمجھو کہ جن لوگوں نے بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر انھیں آگ سے بھرا، پھر جو اہلِ ایمان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور مرتد نہ ہوئے انھیں اس آگ میں پھینک کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھتے رہے، وہ مارے گئے، کیونکہ وہ زبردست ہستی جو ان برجوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کے لیے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی جگہ کوئی حاضر ہونے والا غائب ہے اور نہ حاضری کا کوئی موقع، وہ ان سنگ دل ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور دے گا اور وہ نہ اس کی نگاہ سے غائب ہو سکیں گے اور نہ عذاب سے بچ سکیں گے۔ ➋ دنیا میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اہلِ ایمان کو خندق کھود کر آگ میں جلا دیا گیا، سند کے لحاظ سے سب سے صحیح ایک کافر بادشاہ کا وہ طویل واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں صہیب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حدیث لمبی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ اس کافر بادشاہ کی رعایا کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اس نے گلیوں کے کناروں پر گڑھے کھدوا کر ان میں آگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو شخص اسلام نہ چھوڑے اسے آگ میں پھینک دو، چنانچہ اہلِ ایمان کو ان گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ مفصل واقعہ کے لیے دیکھیے صحیح مسلم میں {”بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُوْدِ (۳۰۰۵)۔“} تفسیر ابن کثیر میں مومنوں کو آگ میں جلائے جانے کے مزید واقعات بھی موجود ہیں۔
(اُس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ایک آگ تھی ایندھن والی
احمد رضا خان بریلوی
اس بھڑکتی آ گ والے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس میں بھڑکتے ہوئے ایندھن والی آگ تھی۔
عبدالسلام بن محمد
جو سراسر آگ تھی بہت ایندھن والی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا ٭٭
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
5۔ 1 یہ خندقیں کیا تھیں؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لئے دہکائی گئی تھی۔
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
6۔ 1 کافر بادشاہ یا اسکے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
(آیت 7،6){ اِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُوْدٌ …:} یعنی کنارے پر بیٹھ کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے، انھیں جلتے ہوئے دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی۔ اس طرح کے واقعات کافر قوتوں کے زیر سایہ آج بھی ہو رہے ہیں، مثلاً انڈیا، برما اور افریقہ وغیرہ میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں، ان کا انجام بھی اصحاب الاخدود کی طرح ہوگا۔ (ان شاء اللہ) مگر ان مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سے بچانا دنیا کے تمام مسلمانوں پر فرض ہے، جس کی ادائیگی میں کوتاہی اور جہاد ترک کرنے ہی کی وجہ سے کفار کو یہ جرأت ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا» [ النساء: ۷۵ ] ”اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔“
اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور وه خد گواه ہیں جو کہ مسلما نوں کے ساتھ کر رہے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جو کچھ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اس پر جو وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے، گواہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا ٭٭
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف] اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103] یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔ ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟“ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا ”نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف] سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [48-الفتح:28] اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘
اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور انھیں مسلمانوں کا کیا برا لگا یہی نہ کے وہ ایمان لا ئے اللہ والے سب خو بیوں سرا ہے پر،
علامہ محمد حسین نجفی
اورانہوں نے اہلِ ایمان کی کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا (اور ان میں کوئی عیب نظر نہیں آیا) سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے جو غالب ہے (اور) سزاوارِ ستائش ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے، ہر تعریف کے لائق ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور اس عداوت و عذاب کا سبب ان مومنوں کا کوئی قصور نہ تھا، انہیں تو صرف ان کی ایمان داری پر غضب و غصہ تھا دراصل غلبہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کی پناہ میں آ جانے والا کبھی برباد نہیں ہوتا وہ اپنے تمام اقوال افعال شریعت اور تقدیر میں قابل تعریف ہے وہ اگر اپنے خاص بندوں کو کسی وقت کافروں کے ہاتھ سے تکلیف بھی پہنچا دے اور اس کا راز کسی کو معلوم نہ ہو سکے تو نہ ہو لیکن دراصل وہ مصلحت و حکمت کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ زمینوں، آسمانوں اور کل مخلوقات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر حاضر ناظر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ واقعہ اہل فارس کا ہے ان کے بادشاہ نے یہ قانون جاری کرنا چاہا کہ محرمات ابدیہ یعنی ماں بہن بیٹی وغیرہ سب حلال ہیں اس وقت کے علماء کرام نے اس کا انکار کیا اور روکا، اس پر اس نے خندقیں کھدوا کر اس میں آگ جلا کر ان حضرات کو اس میں ڈال دیا، چنانچہ یہ اہل فارس آج تک ان عورتوں کو حلال ہی جانتے ہیں۔“ یہ بھی مروی ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے، مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہوئی مسلمان غالب آ گئے پھر دوسری لڑائی میں کافر غالب آ گئے تو انہوں نے گڑھے کھدوا کر ایمان والوں کو جلا دیا، یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ اہل حبش کا ہے یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے انہوں نے دانیال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اور اقوال بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر تھا، جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت آ رہا ہے مجھے کوئی بچہ سونپ دو تو میں اسے جادو سکھا دوں چنانچہ ایک ذہین لڑکے کو وہ تعلیم دینے لگا لڑکا اس کے پاس جاتا تو راستے میں ایک راہب کا گھر پڑتا جہاں وہ عبادت میں اور کبھی وعظ میں مشغول ہوتا یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور اس کے طریق عبادت کو دیکھتا اور وعظ سنتا آتے جاتے یہاں رک جایا کرتا تھا، جادوگر بھی مارتا اور ماں باپ بھی کیونکہ وہاں بھی دیر میں پہنچتا اور یہاں بھی دیر میں آتا، ایک دن اس بچے نے راہب کے سامنے اپنی یہ شکایت بیان کی راہب نے کہا کہ جب جادوگر تجھ سے پوچھے کہ کیوں دیر لگ گئی تو کہہ دینا گھر والوں نے روک لیا تھا اور گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ آج جادوگر نے روک لیا تھا، یونہی ایک زمانہ گزر گیا کہ ایک طرف تو جادو سیکھتا تھا اور دوسری جانب کلام اللہ اور دین اللہ سیکھتا تھا ایک دن وہ دیکھتا ہے کہ راستے میں ایک زبردست ہیبت ناک جانور پڑا ہوا ہے، اس نے لوگوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے ادھر والے ادھر اور ادھر والے ادھر نہیں آ سکتے، اور سب لوگ ادھر ادھر حیران و پریشان کھڑے ہیں اس نے اپنے دل میں سوچا کہ آج موقعہ ہے کہ میں امتحان کر لوں کہ راہب کا دین اللہ کو پسند ہے یا جادوگر کا؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا کہ اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کے امر سے زیادہ محبوب ہے تو تو اس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے پتھر کے لگتے ہی وہ جانور مر گیا اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا پھر جا کر راہب کو خبر دی اس نے کہا پیارے بچے تو مجھ سے افضل ہے اب اللہ کی طرف سے تیری آزمائش ہو گی اگر ایسا ہوا تو تو کسی کو میری خبر نہ کرنا، اب اس بچے کے پاس حاجت مند لوگوں کو تانتا لگ گیا اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے کوڑھی جذامی اور ہر قسم کے بیمار اچھے ہونے لگے۔}
{ بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں بھی یہ آواز پڑی وہ بڑے تحائف لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر تو مجھے شفاء دیدے تو یہ سب تجھے دے دوں گا اس نے کہا شفاء میرے ہاتھ نہیں میں کسی کو شفاء نہیں دے سکتا شفاء دینے والا اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرے تو میں اس سے دعا کروں اس نے اقرار کیا بچے نے اس کے لیے دعا کی اللہ نے اسے شفاء دے دی اور بادشاہ کے دربار میں آیا اور جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا کرنے لگا، اور آنکھیں بالکل روشن تھیں بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ تجھے آنکھیں کس نے دیں؟ اس نے کہا میرے رب نے بادشاہ نے کہا، ہاں یعنی میں نے، وزیر نے کہا، نہیں نہیں، میرا اور تیرا رب اللہ ہے، بادشاہ نے کہا، اچھا تو کیا میرے سوا تیرا کوئی اور بھی رب ہے؟ وزیر نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ عزوجل ہے۔ اب اس نے اسے مار پیٹ شروع کر دیا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچانے لگا اور پوچھنے لگا کہ تجھے یہ تعلیم کس نے دی؟ آخر اس نے بتا دیا کہ اس بچے کے ہاتھ پر میں نے اسلام قبول کیا اور اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں خوب کامل ہو گئے ہو کہ اندھوں کو دیکھتا اور بیماروں کو تندرست کرنے لگ گئے اس نے کہا غلط ہے نہ میں کسی کو شفاء دے سکتا ہوں نہ جادو، شفاء تو اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے کہنے لگا ہاں یعنی میرے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اللہ تو میں ہی ہوں اس نے کہا ہرگز نہیں، کہا پھر کیا تو میرے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے؟ تو وہ کہنے لگا ہاں! میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے اس نے اب اسے بھی طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں یہاں تک کہ راہب کا پتہ لگا لیا راہب کو بلا کر اس نے کہا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے اور اس دین سے پلٹ جا، اس نے انکار کیا تو اس بادشاہ نے آرے سے اس کے چہرے کو چیر دیا اور ٹھیک دو ٹکڑے کر کے پھینک دیا پھر اس نوجوان سے کہا کہ تو بھی دین سے پھر جا مگر اس نے بھی انکار کر دیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائیں اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ کر پھر اسے اس کے دین چھوڑ دینے کو کہیں اگر مان لے تو اچھا ورنہ وہیں سے لڑھکا دیں۔}
{ چنانچہ یہ لوگ اسے لے گئے جب وہاں سے دھکا دینا چاہا تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی «اللَّهُمَّ اِكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْت» اللہ جس طرح چاہ مجھے ان سے نجات دے، اس دعا کے ساتھ پہاڑ ہلا اور وہ سب سپاہی لڑھک گئے صرف وہ بچہ بچا رہا، وہاں سے وہ اترا اور ہنسی خوشی پھر اس ظالم بادشاہ کے پاس آ گیا، بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا میرے سپاہی کہاں ہیں؟ فرمایا: میرے اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا اس نے کچھ اور سپاہی بلوائے اور ان سے بھی یہی کہا کہ اسے کشتی میں بٹھا کر لے جاؤ، اور بیچوں بیچ سمندر میں ڈبو کر چلے آؤ یہ اسے لے کر چلے اور بیچ میں پہنچ کر جب سمندر میں پھینکنا چاہا تو اس نے پھر وہی دعا کی کہ بار الٰہی جس طرح چاہ مجھے ان سے بچا، موج اٹھی اور وہ سپاہی سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے صرف وہ بچہ ہی باقی رہ گیا یہ پھر بادشاہ کے پاس آیا، اور کہا میرے رب نے مجھے ان سے بھی بچا لیا، اے بادشاہ تو چاہے تمام تدبیریں کر ڈال لیکن مجھے ہلاک نہیں کر سکتا ہاں جس طرح میں کہوں اس طرح اگر کرے تو البتہ میری جان نکل جائے گی۔ اس نے کہا کیا کروں فرمایا تو لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر پھر کھجور کے تنے پر سولی چڑھا اور میرے ترکش میں سے ایک تنکا نکال میری کمان پر چڑھا اور «بِسْمِ اللَّه رَبّ ھٰذا الْغُلَام» یعنی اسی اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے کہہ کر وہ تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے اور اس سے میں مروں گا چنانچہ بادشاہ نے یہی کیا تیر بچے کی کنپٹی میں لگا اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا اور شہید ہو گیا۔ اس کے اس طرح شہید ہوتے ہی لوگوں کو اس کے دین کی سچائی کا یقین آ گیا چاروں طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ہم سب اس بچے کے رب پر ایمان لا چکے یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے مصاحب گھبرائے اور بادشاہ سے کہنے لگے اس لڑکے کی ترکیب ہم سمجھے ہی نہیں دیکھئیے اس کا یہ اثر پڑا کہ یہ تمام لوگ اس کے مذہب پر ہو گئے ہم نے تو اسی لیے قتل کیا تھا کہ کہیں یہ مذہب پھیل نہ جائے لیکن وہ ڈر تو سامنے ہی آ گیا اور سب مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کہ تمام محلوں اور راستوں میں خندقیں کھدواؤ ان میں لکڑیاں بھرو اور اس میں آگ لگا دو جو اس دین سے پھر جائے اسے چھوڑ دو اور جو نہ مانے اسے اس آگ میں ڈال دو ان مسلمانوں نے صبر و ضبط کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کر لیا اور اس میں کود کود گرنے لگے، البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا چھوٹا بچہ تھا وہ ذرا ہچکچائی تو اس بچہ کو اللہ نے بولنے کی طاقت دی اس نے کہا اماں کیا کر رہی ہو تم تو حق پر ہو صبر کرو اور اس میں کود پڑو۔} ۱؎ [صحیح مسلم:3005] یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے اور صحیح مسلم کے آخر میں بھی ہے اور نسائی میں بھی قدرے اختصار کے ساتھ ہے۔
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد عموماً زیر لب کچھ فرمایا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں، فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی تھے جو اپنی امت پر فخر کرتے تھے کہنے لگے کہ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ انہیں اختیار ہے خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں خود ان سے انتقام لوں خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کروں، انہوں نے انتقام کو پسند کیا چنانچہ ایک ہی دن میں ان میں سے ستر ہزار مر گئے۔“ } اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان کی جو اوپر گزری پھر آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» سے «ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ» ۱؎ [85-البروج:4-15] تک کی آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ یہ نوجوان شہید دفن کر دئیے گئے تھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کی قبر سے انہیں نکالا گیا تھا ان کی انگلی اسی طرح ان کی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی جس طرح بوقت شہادت تھی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3340،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں یہ صراحت نہیں کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تو ممکن ہے کہ صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے ہی اس واقعہ کو بیان فرمایا ہو ان کے پاس نصرانیوں کی ایسی حکایتیں بہت ساری تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے بھی اس قصہ کو دوسرے الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نجرانی لوگ بت پرست مشرک تھے، اور نجران کے پاس ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جس میں ایک جادوگر تھا، نجرانیوں کو جادو سکھایا کرتا تھا۔ فیمون نامی ایک بزرگ عالم یہاں آئے اور نجران اور اس کے گاؤں کے درمیان انہوں نے اپنا پڑاؤ ڈالا۔ شہر کے لڑکے جو جادوگر سے جادو سیکھنے جایا کرتے تھے ان میں تاجر کا ایک لڑکا عبداللہ نامی بھی تھا اسے آتے جاتے راہب کی عبادت اور اس کی نماز وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا اس پر غور و خوض کرتا اور دل میں اس کے مذہب کی سچائی جگہ کرتی جاتی پھر تو اس نے یہاں آنا جانا شروع کر دیا۔ اور مذہبی تعلیم بھی اس راہب سے لینے لگا۔ کچھ دنوں بعد اس مذہب میں داخل ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا توحید کا پابند ہو گیا اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگا اور علم دین اچھی طرح حاصل کر لیا وہ راہب اسم اعظم بھی جانتا تھا اس نے ہر چند خواہش کی کہ اسے بتا دے لیکن اس نے نہ بتایا اور کہہ دیا کہ ابھی تم میں اس کی صلاحیت نہیں آئی تم ابھی کمزور دل والے ہو اس کی طاقت میں تم میں نہیں پاتا۔ عبداللہ کے باپ تامر کو اپنے بیٹے کے مسلمان ہو جانے کی مطلق خبر نہ تھی وہ اپنے نزدیک یہی سمجھ رہا تھا کہ میرا بیٹا جادو سیکھ رہا ہے، اور وہیں جاتا آتا رہتا ہے۔ عبداللہ نے جب دیکھا کہ راہب مجھے اسم اعظم نہیں سکھاتے اور انہیں میری کمزوری کا خوف ہے تو ایک دن انہوں نے تیر لیے اور جتنے نام اللہ تبارک و تعالیٰ کے انہیں یاد تھے ہر تیر پر ایک نام لکھا پھر آگ جلا کر بیٹھ گیا اور ایک ایک تیر کو اس میں ڈالنا شروع کیا جب وہ تیر آیا جس پر اسم اعظم تھا تو وہ آگ میں پڑتے ہی اچھل کر باہر نکل آیا اور اس پر آگ نے بالکل اثر نہ کیا سمجھ لیا کہ یہی اسم اعظم ہے۔
اپنے استاد کے پاس آئے اور کہا اسم اعظم کا علم مجھے ہو گیا استاد نے پوچھا بتاؤ کیا ہے؟ اس نے بتایا راہب نے پوچھا کیسے معلوم ہوا تو اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا فرمایا بھئی تم نے خوب معلوم کر لیا واقعی یہی اسم اعظم ہے۔ اسے اپنے ہی تک رکھو لیکن مجھے تو ڈر ہے کہ تم کھل جاؤ گے۔ ان کی یہ حالت ہوئی کہ یہ نجران میں آئے یہاں جس بیمار پر، جس دکھی پر، جس ستم رسیدہ پر نظر پڑی اس سے کہا کہ اگر تم موحد بن جاؤ اور دین اسلام قبول کر لو تو میں رب سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفاء اور نجات دیدے گا، اور دکھ بلا کو ٹال دے گا، وہ اسے قبول کر لیتا یہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرتے اللہ اسے بھلا چنگا کر دیتا اب تو نجرانیوں کے ٹھٹھ لگنے لگے اور جماعت کی جماعت روزانہ مشرف بہ اسلام اور فائزالمرام ہونے لگی۔ آخر بادشاہ کو اس کا علم ہوا اس نے اسے بلا کر دھمکایا کہ تو نے میری رعیت کو بگاڑ دیا اور میرے اور میرے باپ دادا کے مذہب پر حملہ کیا میں اس کی سزا میں تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تجھے چوراہے پر رکھوا دوں گا۔ عبداللہ بن تامر نے جواب دیا کہ تو ایسا نہیں کر سکتا اب بادشاہ نے اسے پہاڑ پر سے گرا دیا لیکن وہ نیچے آ کر صحیح سلامت رہا جسم پر کہیں چوٹ بھی نہ آئی نجران کے ان طوفان خیز دریاؤں میں گرداب کی جگہ انہیں لا ڈالا جہاں سے کوئی بچ نہیں سکتا لیکن یہ وہاں سے بھی صحت و سلامتی کے ساتھ واپس آ گئے۔ غرض ہر طرح عاجز آ گیا تو پھر عبداللہ بن تامر نے فرمایا سن اے بادشاہ تو میرے قتل پر کبھی قادر نہ ہو گا یہاں تک کہ تو اس دین کو مان لے جسے میں مانتا ہوں اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے اگر یہ کر لے گا تو پھر تو مجھے قتل کر سکتا ہے، بادشاہ نے ایسا ہی کیا اس نے عبداللہ کا بتلایا ہوا کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو کر جو لکڑی اس کے ہاتھ میں تھی اس سے عبداللہ کو مارا جس سے کچھ یونہی سے خراش آئی اور اسی سے وہ شہید ہو گئے اللہ ان سے خوش ہو اور اپنی خاص رحمتیں انہیں عنایت فرمائے ان کے ساتھ ہی بادشاہ بھی مر گیا۔ اس واقعہ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات پیوست کر دی کہ دین ان کا ہی سچا ہے چنانچہ نجران کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے اور عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم ہو گئے اور وہی مذہب اس وقت برحق بھی تھا۔ ابھی تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بن کر دنیا میں آئے نہ تھے لیکن پھر ایک زمانہ کے بعد ان میں بدعتیں پیدا ہونے لگیں اور پھیل گئیں اور دین حق کا نور چھن گیا غرض نجران میں عیسائیت کے پھیلنے کا اصلی سبب یہ تھا۔ اب ایک زمانہ کے بعد ذونواس یہودی نے اپنے لشکر سمیت ان نصرانیوں پر چڑھائی کی اور غالب آ گیا پھر ان سے کہا یا تو یہودیت قبول کر لو یا موت، انہوں نے قتل ہونا منظور کیا اس نے خندقیں کھدوا کر آگ سے پر کر کے ان کو جلا دیا بعض کو قتل بھی کیا بعض کے ہاتھ پاؤں ناک کان کاٹ دئیے وغیرہ۔
تقریباً بیس ہزار مسلمانوں کو سرکش نے قتل کیا اور اس کا ذکر آیت «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» ۱؎ [85-البروج:4] میں ہے۔ ذونواس کا نام زرعہ تھا اس کی بادشاہت کے زمانہ میں اسے یوسف کہا جاتا تھا اس کے باپ کا نام بیان اسعد ابی کریب تھا جو تبع مشہور ہے جس نے مدینہ میں غزوہ کیا اور کعبہ کو پردہ چڑھایا اس کے ساتھ دو یہودی عالم تھے، یمن والے ان کے ہاتھ پر یہودی مذہب میں داخل ہوئے ذونواس نے ایک ہی دن میں صرف صبح کے وقت ان کھائیوں میں بیس ہزار ایمان والوں کو قتل کیا ان میں سے صرف ایک ہی شخص بچ نکلا جس کا نام دوس ذی ثعلبان تھا یہ گھوڑے پر بھاگ کھڑا ہوا گو اس کے پیچھے بھی گھوڑے سوار دوڑائے لیکن یہ ہاتھ نہ لگا، یہ سیدھا شاہ روم قیصر کے پاس گیا اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو لکھا چنانچہ دوس وہاں سے حبشہ کے نصرانیوں کا لشکر لے کر یمن آیا اس کے سردار اریاط اور ابرہہ تھے یہودی مغلوب ہوئے یمن یہودیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ذونواس بھاگ نکلا لیکن وہ پانی میں غرق ہو گیا پھر ستر سال تک یہاں حبشہ کے نصرانیوں کا قبضہ رہا بالاخر سیف بن ذی یزن حمیری نے فارس کے بادشاہ سے امدادی فوجیں اپنے ساتھ لیں اور سات سو قیدی لوگوں سے اس پر چڑھائی کر کے فتح حاصل کی اور پھر سلطنت حمیری قائم کی اس کا کچھ بیان سورۃ الفیل میں بھی آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نجرانی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نجران کی ایک بنجر غیر آباد زمین اپنے کسی کام کے لیے کھودی تو دیکھا کہ عبداللہ بن تامر رحمہ اللہ کا جسم اس میں ہے آپ بیٹھے ہوئے ہیں سر پر جس جگہ چوٹ آئی تھی وہیں ہاتھ ہے، ہاتھ اگر ہٹاتے ہیں تو خون بہنے لگتا ہے پھر ہاتھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہاتھ اپنی جگہ چلا جاتا ہے، اور خون تھم جاتا ہے ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی ہے جس پر «رَبِّیَ اللهُ» لکھا ہوا ہے یعنی میرا رب اللہ ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کی اطلاع قصر خلافت میں دی گئی، یہاں سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان گیا کہ ”اسے یونہی رہنے دو اور اوپر سے مٹی وغیرہ جو ہٹائی ہے، وہ ڈال کر جس طرح تھا اسی طرح بے نشان کر دو“ چنانچہ یہی کیا گیا۔ ابن ابی الدنیا نے لکھا ہے کہ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اصفہان فتح کیا تو ایک دیوار دیکھی کہ وہ گر پڑی ہے ان کے حکم پر وہ بنا دی گئی لیکن پھر گر پڑی پھر بنوائی پھر گر پڑی آخر معلوم ہوا کہ اس کے نیچے کوئی نیک بخت شخص مدفون ہیں جب زمین کھودی تو دیکھا کہ ایک شخص کا جسم کھڑا ہوا ہے ساتھ ہی ایک تلوار ہے جس پر لکھا ہے میں حارث بن مضاض ہوں میں نے کھائیوں والوں کا انتقام لیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس لاشے کو نکال لیا اور وہاں دیوار کھڑی کرا دی جو برابر رہی، میں کہتا ہوں یہ حارث بن مضاض بن عمرو جرہی ہے جو کعبۃ اللہ کے متولی ہوئے تھے، ثابت بن اسمٰعیل بن ابراہیم کی اولاد کے بعد اس کا لڑکا عمرو بن حاث بن مضاض تھا جو مکہ میں جرہم خاندان کا آخری بادشاہ تھا، جس وقت کہ خزاعہ قبیلے نے انہیں یہاں سے نکال اور یمن کی طرف جلا وطن کیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے پہلے پہلے عرب میں شعر کہا جس شعر میں ویران مکہ کو اپنا آباد کرنا اور زمانہ کے ہیر پھیر اور انقلابات سے پھر وہاں سے نکالا جانا اس نے بیان کیا۔ اس واقعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ اسماعیل علیہ السلام کے کچھ زمانہ کے بعد کا اور بہت پرانا ہے جو کہ اسماعیل علیہ السلام کے تقریباً پانچ سو سال کے بعد کا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ابن اسحاق کی اس مطول روایت سے جو پہلے گزری ہے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ قصہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا ہے زیادہ ٹھیک بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں کئی بار ہوا ہو، جیسے کہ ابن ابی حاتم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الرحمن بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تبع کے زمانہ میں یمن میں خندقیں کھدوائی گئی تھیں اور قسطنطین کے زمانہ میں قسطنطنیہ میں بھی مسلمانوں کے یہی عذاب دیا گیا تھا۔ جبکہ نصرانیوں نے اپنا قبلہ بدل دیا دین مسیح میں بدعتیں ایجاد کر لیں توحید کو چھوڑ بیٹھے اس وقت جو سچے دیندار تھے انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور اصلی دین پر قائم رہے تو ان ظالموں نے خندقیں آگ سے بھروا کر انہیں جلا دیا اور یہی واقعہ بابل کی زمین پر عراق میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا جس نے ایک بت بنا لیا تھا اور لوگوں سے اسے سجدہ کراتا تھا، دانیال اور ان کے دونوں ساتھی عزریا اور مشایل نے اس سے انکار کر دیا تو اس نے انہیں اس آگ کی خندق میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر ٹھنڈا کر دیا انہیں سلامتی عطا فرمائی صاف نجات دی اور اس سرکش کافروں کو ان خندقوں میں ڈال دیا یہ نو قبیلے تھے سب جل کر خاک ہو گئے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین جگہ یہ معاملہ ہوا عراق میں شام میں اور یمن میں۔
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خندقیں تین جگہ تھیں ایک تو یمن کے شہر نجران میں، دوسری شام میں، تیسری فارس میں۔ شام میں اس کا بانی انطنانوس رومی تھا اور فارس میں بخت نصر اور زمین عرب پر یوسف ذونواس، فارس اور شام کی خندقیوں کا ذکر قرآن میں نہیں یہ ذکر نجران کا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے فترۃ کے زمانے میں یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کے زمانہ میں ایک قوم تھی انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ فتنے اور شر میں گرفتار ہو گئے ہیں اور گروہ گروہ بن گئے ہیں اور ہر گروہ اپنے خیالات میں خوش ہے تو ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا یہاں سے ہجرت کر کے الگ ایک جگہ بنا کر وہیں رہنا سہنا شروع کیا اور اللہ کی مخلصانہ عبادت میں یکسوئی کے ساتھ مشغول ہو گئے نمازوں کی پابندی زکوٰتوں کی ادائیگی میں لگ گئے اور ان سے الگ تھلگ رہنے لگے یہاں تک کہ ایک سرکش بادشاہ کو اس اللہ والی جماعت کا پتہ لگ گیا اس نے ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے اور انہیں سمجھایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ اور بت پرستی شروع کر دو ان سب نے بالکل انکار کیا کہ ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ» کے سوا کسی اور کی بندگی کریں۔ بادشاہ نے کہلوایا کہ اگر یہ تمہیں منظور نہیں تو میں تمہیں قتل کرا دوں گا، جواب ملا کہ جو چاہو کرو لیکن ہم سے دین نہیں چھوڑا جائے گا، اس ظالم نے خندقیں کھدوائیں آگ جلوائی اور ان سب مرد و عورتوں اور بچوں کو جمع کر لیا اور ان خندقوں کے کنارے کھڑا کر کے کہا بولو یہ آخری سوال جواب ہے آیا بت پرستی قبول کرتے ہو یا آگ میں گرنا قبول کرتے ہو انہوں نے کہا ہمیں جل مرنا منظور ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے بچوں نے چیخ و پکار شروع کر دی بڑوں نے انہیں سمجھایا کہ بس آج کے بعد آگ نہیں۔ نہ گھبراؤ اور اللہ کا نام لے کر کود پڑو چنانچہ سب کے سب کود پڑے انہیں آنچ بھی نہیں لگنے پائی تھی کہ اللہ نے ان کی روحیں قبض کر لیں اور آگ خندقوں سے باہر نکل پڑی اور ان بدکردار سرکشوں کو گھیر لیا اور جتنے بھی تھے سارے کے سارے جلا دئیے گئے ان کی خبر ان آیتوں «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» الخ میں ہے۔ تو اس بنا پر «فَتَنُوا» کے معنی ہوئے کہ جلایا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ان لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کو جلا دیا ہے اگر انہوں نے توبہ نہ کی یعنی اپنے اس فعل سے باز نہ آئے، نہ اپنے اس کئے پر نادم ہوئے تو ان کے لیے جہنم ہے اور جلنے کا عذاب ہے تاکہ بدلہ بھی ان کے عمل جیسا ہو۔ ‘ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے کرم و رحم اس کی مہربانی اور عنایت کو دیکھو کہ جب بدکاروں نے اس کے پیارے بندوں کو ایسے بدترین عذابوں سے مارا انہیں بھی وہ توبہ کرنے کو کہتا ہے اور ان سے بھی مغفرت اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے وسیع رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
8۔ 1 یعنی ان لوگوں کا جرم، جنہیں آگ میں جھونکا جا رہا تھا، یہ تھا کہ وہ اللہ غالب پر ایمان لائے تھے، اس واقع کی تفصیل جو صحیح احادیث سے ثابت ہے، مختصراً اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔
(آیت 8) ➊ {وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ …:} ان اہلِ ایمان نے ان ظالموں پر یا کسی دوسرے پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کا وہ بدلا لے رہے ہوں، ان کا جرم صرف اللہ پر ایمان لا کر اس پر قائم رہنا تھا۔ آیت میں {” اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا “} فرمایا ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے، {”إِلَّا أَنْ آمَنُوْا“} نہیں فرمایا جوماضی کا صیغہ ہے، یعنی ان کا جرم یہی نہ تھا کہ وہ ایمان لے آئے تھے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اب بھی ایمان پر قائم تھے۔ ➋ { بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ:} یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کوئی جرم یا غلط کام نہ تھا، بلکہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے تھے جو عزیز و حمید ہے اور آئندہ آیت میں مذکور صفات کا مالک ہے اور ان صفات کی وجہ سے اس کا حق ہے کہ اس پر ایمان رکھا جائے۔ یہ قرآن مجید کاخاص اسلوب ہے کہ واقعات بیان کرتے ہوئے بھی وہ عقائد کی درستی اور احکام کی وضاحت کا اہتمام جاری رکھتا ہے، اس کی ایک مثال یہ آیت ہے۔
جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے ہر چیز
احمد رضا خان بریلوی
کے اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر گواه ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہی ہے اور ہر چیز پر گواہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اس کی ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور اس عداوت و عذاب کا سبب ان مومنوں کا کوئی قصور نہ تھا، انہیں تو صرف ان کی ایمان داری پر غضب و غصہ تھا دراصل غلبہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کی پناہ میں آ جانے والا کبھی برباد نہیں ہوتا وہ اپنے تمام اقوال افعال شریعت اور تقدیر میں قابل تعریف ہے وہ اگر اپنے خاص بندوں کو کسی وقت کافروں کے ہاتھ سے تکلیف بھی پہنچا دے اور اس کا راز کسی کو معلوم نہ ہو سکے تو نہ ہو لیکن دراصل وہ مصلحت و حکمت کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ زمینوں، آسمانوں اور کل مخلوقات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر حاضر ناظر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ واقعہ اہل فارس کا ہے ان کے بادشاہ نے یہ قانون جاری کرنا چاہا کہ محرمات ابدیہ یعنی ماں بہن بیٹی وغیرہ سب حلال ہیں اس وقت کے علماء کرام نے اس کا انکار کیا اور روکا، اس پر اس نے خندقیں کھدوا کر اس میں آگ جلا کر ان حضرات کو اس میں ڈال دیا، چنانچہ یہ اہل فارس آج تک ان عورتوں کو حلال ہی جانتے ہیں۔“ یہ بھی مروی ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے، مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہوئی مسلمان غالب آ گئے پھر دوسری لڑائی میں کافر غالب آ گئے تو انہوں نے گڑھے کھدوا کر ایمان والوں کو جلا دیا، یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ اہل حبش کا ہے یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے انہوں نے دانیال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اور اقوال بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر تھا، جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت آ رہا ہے مجھے کوئی بچہ سونپ دو تو میں اسے جادو سکھا دوں چنانچہ ایک ذہین لڑکے کو وہ تعلیم دینے لگا لڑکا اس کے پاس جاتا تو راستے میں ایک راہب کا گھر پڑتا جہاں وہ عبادت میں اور کبھی وعظ میں مشغول ہوتا یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور اس کے طریق عبادت کو دیکھتا اور وعظ سنتا آتے جاتے یہاں رک جایا کرتا تھا، جادوگر بھی مارتا اور ماں باپ بھی کیونکہ وہاں بھی دیر میں پہنچتا اور یہاں بھی دیر میں آتا، ایک دن اس بچے نے راہب کے سامنے اپنی یہ شکایت بیان کی راہب نے کہا کہ جب جادوگر تجھ سے پوچھے کہ کیوں دیر لگ گئی تو کہہ دینا گھر والوں نے روک لیا تھا اور گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ آج جادوگر نے روک لیا تھا، یونہی ایک زمانہ گزر گیا کہ ایک طرف تو جادو سیکھتا تھا اور دوسری جانب کلام اللہ اور دین اللہ سیکھتا تھا ایک دن وہ دیکھتا ہے کہ راستے میں ایک زبردست ہیبت ناک جانور پڑا ہوا ہے، اس نے لوگوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے ادھر والے ادھر اور ادھر والے ادھر نہیں آ سکتے، اور سب لوگ ادھر ادھر حیران و پریشان کھڑے ہیں اس نے اپنے دل میں سوچا کہ آج موقعہ ہے کہ میں امتحان کر لوں کہ راہب کا دین اللہ کو پسند ہے یا جادوگر کا؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا کہ اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کے امر سے زیادہ محبوب ہے تو تو اس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے پتھر کے لگتے ہی وہ جانور مر گیا اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا پھر جا کر راہب کو خبر دی اس نے کہا پیارے بچے تو مجھ سے افضل ہے اب اللہ کی طرف سے تیری آزمائش ہو گی اگر ایسا ہوا تو تو کسی کو میری خبر نہ کرنا، اب اس بچے کے پاس حاجت مند لوگوں کو تانتا لگ گیا اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے کوڑھی جذامی اور ہر قسم کے بیمار اچھے ہونے لگے۔}
{ بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں بھی یہ آواز پڑی وہ بڑے تحائف لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر تو مجھے شفاء دیدے تو یہ سب تجھے دے دوں گا اس نے کہا شفاء میرے ہاتھ نہیں میں کسی کو شفاء نہیں دے سکتا شفاء دینے والا اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرے تو میں اس سے دعا کروں اس نے اقرار کیا بچے نے اس کے لیے دعا کی اللہ نے اسے شفاء دے دی اور بادشاہ کے دربار میں آیا اور جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا کرنے لگا، اور آنکھیں بالکل روشن تھیں بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ تجھے آنکھیں کس نے دیں؟ اس نے کہا میرے رب نے بادشاہ نے کہا، ہاں یعنی میں نے، وزیر نے کہا، نہیں نہیں، میرا اور تیرا رب اللہ ہے، بادشاہ نے کہا، اچھا تو کیا میرے سوا تیرا کوئی اور بھی رب ہے؟ وزیر نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ عزوجل ہے۔ اب اس نے اسے مار پیٹ شروع کر دیا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچانے لگا اور پوچھنے لگا کہ تجھے یہ تعلیم کس نے دی؟ آخر اس نے بتا دیا کہ اس بچے کے ہاتھ پر میں نے اسلام قبول کیا اور اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں خوب کامل ہو گئے ہو کہ اندھوں کو دیکھتا اور بیماروں کو تندرست کرنے لگ گئے اس نے کہا غلط ہے نہ میں کسی کو شفاء دے سکتا ہوں نہ جادو، شفاء تو اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے کہنے لگا ہاں یعنی میرے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اللہ تو میں ہی ہوں اس نے کہا ہرگز نہیں، کہا پھر کیا تو میرے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے؟ تو وہ کہنے لگا ہاں! میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے اس نے اب اسے بھی طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں یہاں تک کہ راہب کا پتہ لگا لیا راہب کو بلا کر اس نے کہا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے اور اس دین سے پلٹ جا، اس نے انکار کیا تو اس بادشاہ نے آرے سے اس کے چہرے کو چیر دیا اور ٹھیک دو ٹکڑے کر کے پھینک دیا پھر اس نوجوان سے کہا کہ تو بھی دین سے پھر جا مگر اس نے بھی انکار کر دیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائیں اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ کر پھر اسے اس کے دین چھوڑ دینے کو کہیں اگر مان لے تو اچھا ورنہ وہیں سے لڑھکا دیں۔}
{ چنانچہ یہ لوگ اسے لے گئے جب وہاں سے دھکا دینا چاہا تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی «اللَّهُمَّ اِكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْت» اللہ جس طرح چاہ مجھے ان سے نجات دے، اس دعا کے ساتھ پہاڑ ہلا اور وہ سب سپاہی لڑھک گئے صرف وہ بچہ بچا رہا، وہاں سے وہ اترا اور ہنسی خوشی پھر اس ظالم بادشاہ کے پاس آ گیا، بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا میرے سپاہی کہاں ہیں؟ فرمایا: میرے اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا اس نے کچھ اور سپاہی بلوائے اور ان سے بھی یہی کہا کہ اسے کشتی میں بٹھا کر لے جاؤ، اور بیچوں بیچ سمندر میں ڈبو کر چلے آؤ یہ اسے لے کر چلے اور بیچ میں پہنچ کر جب سمندر میں پھینکنا چاہا تو اس نے پھر وہی دعا کی کہ بار الٰہی جس طرح چاہ مجھے ان سے بچا، موج اٹھی اور وہ سپاہی سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے صرف وہ بچہ ہی باقی رہ گیا یہ پھر بادشاہ کے پاس آیا، اور کہا میرے رب نے مجھے ان سے بھی بچا لیا، اے بادشاہ تو چاہے تمام تدبیریں کر ڈال لیکن مجھے ہلاک نہیں کر سکتا ہاں جس طرح میں کہوں اس طرح اگر کرے تو البتہ میری جان نکل جائے گی۔ اس نے کہا کیا کروں فرمایا تو لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر پھر کھجور کے تنے پر سولی چڑھا اور میرے ترکش میں سے ایک تنکا نکال میری کمان پر چڑھا اور «بِسْمِ اللَّه رَبّ ھٰذا الْغُلَام» یعنی اسی اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے کہہ کر وہ تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے اور اس سے میں مروں گا چنانچہ بادشاہ نے یہی کیا تیر بچے کی کنپٹی میں لگا اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا اور شہید ہو گیا۔ اس کے اس طرح شہید ہوتے ہی لوگوں کو اس کے دین کی سچائی کا یقین آ گیا چاروں طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ہم سب اس بچے کے رب پر ایمان لا چکے یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے مصاحب گھبرائے اور بادشاہ سے کہنے لگے اس لڑکے کی ترکیب ہم سمجھے ہی نہیں دیکھئیے اس کا یہ اثر پڑا کہ یہ تمام لوگ اس کے مذہب پر ہو گئے ہم نے تو اسی لیے قتل کیا تھا کہ کہیں یہ مذہب پھیل نہ جائے لیکن وہ ڈر تو سامنے ہی آ گیا اور سب مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کہ تمام محلوں اور راستوں میں خندقیں کھدواؤ ان میں لکڑیاں بھرو اور اس میں آگ لگا دو جو اس دین سے پھر جائے اسے چھوڑ دو اور جو نہ مانے اسے اس آگ میں ڈال دو ان مسلمانوں نے صبر و ضبط کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کر لیا اور اس میں کود کود گرنے لگے، البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا چھوٹا بچہ تھا وہ ذرا ہچکچائی تو اس بچہ کو اللہ نے بولنے کی طاقت دی اس نے کہا اماں کیا کر رہی ہو تم تو حق پر ہو صبر کرو اور اس میں کود پڑو۔} ۱؎ [صحیح مسلم:3005] یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے اور صحیح مسلم کے آخر میں بھی ہے اور نسائی میں بھی قدرے اختصار کے ساتھ ہے۔
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد عموماً زیر لب کچھ فرمایا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں، فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی تھے جو اپنی امت پر فخر کرتے تھے کہنے لگے کہ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ انہیں اختیار ہے خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں خود ان سے انتقام لوں خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کروں، انہوں نے انتقام کو پسند کیا چنانچہ ایک ہی دن میں ان میں سے ستر ہزار مر گئے۔“ } اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان کی جو اوپر گزری پھر آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» سے «ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ» ۱؎ [85-البروج:4-15] تک کی آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ یہ نوجوان شہید دفن کر دئیے گئے تھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کی قبر سے انہیں نکالا گیا تھا ان کی انگلی اسی طرح ان کی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی جس طرح بوقت شہادت تھی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3340،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں یہ صراحت نہیں کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تو ممکن ہے کہ صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے ہی اس واقعہ کو بیان فرمایا ہو ان کے پاس نصرانیوں کی ایسی حکایتیں بہت ساری تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے بھی اس قصہ کو دوسرے الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نجرانی لوگ بت پرست مشرک تھے، اور نجران کے پاس ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جس میں ایک جادوگر تھا، نجرانیوں کو جادو سکھایا کرتا تھا۔ فیمون نامی ایک بزرگ عالم یہاں آئے اور نجران اور اس کے گاؤں کے درمیان انہوں نے اپنا پڑاؤ ڈالا۔ شہر کے لڑکے جو جادوگر سے جادو سیکھنے جایا کرتے تھے ان میں تاجر کا ایک لڑکا عبداللہ نامی بھی تھا اسے آتے جاتے راہب کی عبادت اور اس کی نماز وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا اس پر غور و خوض کرتا اور دل میں اس کے مذہب کی سچائی جگہ کرتی جاتی پھر تو اس نے یہاں آنا جانا شروع کر دیا۔ اور مذہبی تعلیم بھی اس راہب سے لینے لگا۔ کچھ دنوں بعد اس مذہب میں داخل ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا توحید کا پابند ہو گیا اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگا اور علم دین اچھی طرح حاصل کر لیا وہ راہب اسم اعظم بھی جانتا تھا اس نے ہر چند خواہش کی کہ اسے بتا دے لیکن اس نے نہ بتایا اور کہہ دیا کہ ابھی تم میں اس کی صلاحیت نہیں آئی تم ابھی کمزور دل والے ہو اس کی طاقت میں تم میں نہیں پاتا۔ عبداللہ کے باپ تامر کو اپنے بیٹے کے مسلمان ہو جانے کی مطلق خبر نہ تھی وہ اپنے نزدیک یہی سمجھ رہا تھا کہ میرا بیٹا جادو سیکھ رہا ہے، اور وہیں جاتا آتا رہتا ہے۔ عبداللہ نے جب دیکھا کہ راہب مجھے اسم اعظم نہیں سکھاتے اور انہیں میری کمزوری کا خوف ہے تو ایک دن انہوں نے تیر لیے اور جتنے نام اللہ تبارک و تعالیٰ کے انہیں یاد تھے ہر تیر پر ایک نام لکھا پھر آگ جلا کر بیٹھ گیا اور ایک ایک تیر کو اس میں ڈالنا شروع کیا جب وہ تیر آیا جس پر اسم اعظم تھا تو وہ آگ میں پڑتے ہی اچھل کر باہر نکل آیا اور اس پر آگ نے بالکل اثر نہ کیا سمجھ لیا کہ یہی اسم اعظم ہے۔
اپنے استاد کے پاس آئے اور کہا اسم اعظم کا علم مجھے ہو گیا استاد نے پوچھا بتاؤ کیا ہے؟ اس نے بتایا راہب نے پوچھا کیسے معلوم ہوا تو اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا فرمایا بھئی تم نے خوب معلوم کر لیا واقعی یہی اسم اعظم ہے۔ اسے اپنے ہی تک رکھو لیکن مجھے تو ڈر ہے کہ تم کھل جاؤ گے۔ ان کی یہ حالت ہوئی کہ یہ نجران میں آئے یہاں جس بیمار پر، جس دکھی پر، جس ستم رسیدہ پر نظر پڑی اس سے کہا کہ اگر تم موحد بن جاؤ اور دین اسلام قبول کر لو تو میں رب سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفاء اور نجات دیدے گا، اور دکھ بلا کو ٹال دے گا، وہ اسے قبول کر لیتا یہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرتے اللہ اسے بھلا چنگا کر دیتا اب تو نجرانیوں کے ٹھٹھ لگنے لگے اور جماعت کی جماعت روزانہ مشرف بہ اسلام اور فائزالمرام ہونے لگی۔ آخر بادشاہ کو اس کا علم ہوا اس نے اسے بلا کر دھمکایا کہ تو نے میری رعیت کو بگاڑ دیا اور میرے اور میرے باپ دادا کے مذہب پر حملہ کیا میں اس کی سزا میں تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تجھے چوراہے پر رکھوا دوں گا۔ عبداللہ بن تامر نے جواب دیا کہ تو ایسا نہیں کر سکتا اب بادشاہ نے اسے پہاڑ پر سے گرا دیا لیکن وہ نیچے آ کر صحیح سلامت رہا جسم پر کہیں چوٹ بھی نہ آئی نجران کے ان طوفان خیز دریاؤں میں گرداب کی جگہ انہیں لا ڈالا جہاں سے کوئی بچ نہیں سکتا لیکن یہ وہاں سے بھی صحت و سلامتی کے ساتھ واپس آ گئے۔ غرض ہر طرح عاجز آ گیا تو پھر عبداللہ بن تامر نے فرمایا سن اے بادشاہ تو میرے قتل پر کبھی قادر نہ ہو گا یہاں تک کہ تو اس دین کو مان لے جسے میں مانتا ہوں اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے اگر یہ کر لے گا تو پھر تو مجھے قتل کر سکتا ہے، بادشاہ نے ایسا ہی کیا اس نے عبداللہ کا بتلایا ہوا کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو کر جو لکڑی اس کے ہاتھ میں تھی اس سے عبداللہ کو مارا جس سے کچھ یونہی سے خراش آئی اور اسی سے وہ شہید ہو گئے اللہ ان سے خوش ہو اور اپنی خاص رحمتیں انہیں عنایت فرمائے ان کے ساتھ ہی بادشاہ بھی مر گیا۔ اس واقعہ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات پیوست کر دی کہ دین ان کا ہی سچا ہے چنانچہ نجران کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے اور عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم ہو گئے اور وہی مذہب اس وقت برحق بھی تھا۔ ابھی تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بن کر دنیا میں آئے نہ تھے لیکن پھر ایک زمانہ کے بعد ان میں بدعتیں پیدا ہونے لگیں اور پھیل گئیں اور دین حق کا نور چھن گیا غرض نجران میں عیسائیت کے پھیلنے کا اصلی سبب یہ تھا۔ اب ایک زمانہ کے بعد ذونواس یہودی نے اپنے لشکر سمیت ان نصرانیوں پر چڑھائی کی اور غالب آ گیا پھر ان سے کہا یا تو یہودیت قبول کر لو یا موت، انہوں نے قتل ہونا منظور کیا اس نے خندقیں کھدوا کر آگ سے پر کر کے ان کو جلا دیا بعض کو قتل بھی کیا بعض کے ہاتھ پاؤں ناک کان کاٹ دئیے وغیرہ۔
تقریباً بیس ہزار مسلمانوں کو سرکش نے قتل کیا اور اس کا ذکر آیت «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» ۱؎ [85-البروج:4] میں ہے۔ ذونواس کا نام زرعہ تھا اس کی بادشاہت کے زمانہ میں اسے یوسف کہا جاتا تھا اس کے باپ کا نام بیان اسعد ابی کریب تھا جو تبع مشہور ہے جس نے مدینہ میں غزوہ کیا اور کعبہ کو پردہ چڑھایا اس کے ساتھ دو یہودی عالم تھے، یمن والے ان کے ہاتھ پر یہودی مذہب میں داخل ہوئے ذونواس نے ایک ہی دن میں صرف صبح کے وقت ان کھائیوں میں بیس ہزار ایمان والوں کو قتل کیا ان میں سے صرف ایک ہی شخص بچ نکلا جس کا نام دوس ذی ثعلبان تھا یہ گھوڑے پر بھاگ کھڑا ہوا گو اس کے پیچھے بھی گھوڑے سوار دوڑائے لیکن یہ ہاتھ نہ لگا، یہ سیدھا شاہ روم قیصر کے پاس گیا اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو لکھا چنانچہ دوس وہاں سے حبشہ کے نصرانیوں کا لشکر لے کر یمن آیا اس کے سردار اریاط اور ابرہہ تھے یہودی مغلوب ہوئے یمن یہودیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ذونواس بھاگ نکلا لیکن وہ پانی میں غرق ہو گیا پھر ستر سال تک یہاں حبشہ کے نصرانیوں کا قبضہ رہا بالاخر سیف بن ذی یزن حمیری نے فارس کے بادشاہ سے امدادی فوجیں اپنے ساتھ لیں اور سات سو قیدی لوگوں سے اس پر چڑھائی کر کے فتح حاصل کی اور پھر سلطنت حمیری قائم کی اس کا کچھ بیان سورۃ الفیل میں بھی آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نجرانی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نجران کی ایک بنجر غیر آباد زمین اپنے کسی کام کے لیے کھودی تو دیکھا کہ عبداللہ بن تامر رحمہ اللہ کا جسم اس میں ہے آپ بیٹھے ہوئے ہیں سر پر جس جگہ چوٹ آئی تھی وہیں ہاتھ ہے، ہاتھ اگر ہٹاتے ہیں تو خون بہنے لگتا ہے پھر ہاتھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہاتھ اپنی جگہ چلا جاتا ہے، اور خون تھم جاتا ہے ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی ہے جس پر «رَبِّیَ اللهُ» لکھا ہوا ہے یعنی میرا رب اللہ ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کی اطلاع قصر خلافت میں دی گئی، یہاں سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان گیا کہ ”اسے یونہی رہنے دو اور اوپر سے مٹی وغیرہ جو ہٹائی ہے، وہ ڈال کر جس طرح تھا اسی طرح بے نشان کر دو“ چنانچہ یہی کیا گیا۔ ابن ابی الدنیا نے لکھا ہے کہ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اصفہان فتح کیا تو ایک دیوار دیکھی کہ وہ گر پڑی ہے ان کے حکم پر وہ بنا دی گئی لیکن پھر گر پڑی پھر بنوائی پھر گر پڑی آخر معلوم ہوا کہ اس کے نیچے کوئی نیک بخت شخص مدفون ہیں جب زمین کھودی تو دیکھا کہ ایک شخص کا جسم کھڑا ہوا ہے ساتھ ہی ایک تلوار ہے جس پر لکھا ہے میں حارث بن مضاض ہوں میں نے کھائیوں والوں کا انتقام لیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس لاشے کو نکال لیا اور وہاں دیوار کھڑی کرا دی جو برابر رہی، میں کہتا ہوں یہ حارث بن مضاض بن عمرو جرہی ہے جو کعبۃ اللہ کے متولی ہوئے تھے، ثابت بن اسمٰعیل بن ابراہیم کی اولاد کے بعد اس کا لڑکا عمرو بن حاث بن مضاض تھا جو مکہ میں جرہم خاندان کا آخری بادشاہ تھا، جس وقت کہ خزاعہ قبیلے نے انہیں یہاں سے نکال اور یمن کی طرف جلا وطن کیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے پہلے پہلے عرب میں شعر کہا جس شعر میں ویران مکہ کو اپنا آباد کرنا اور زمانہ کے ہیر پھیر اور انقلابات سے پھر وہاں سے نکالا جانا اس نے بیان کیا۔ اس واقعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ اسماعیل علیہ السلام کے کچھ زمانہ کے بعد کا اور بہت پرانا ہے جو کہ اسماعیل علیہ السلام کے تقریباً پانچ سو سال کے بعد کا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ابن اسحاق کی اس مطول روایت سے جو پہلے گزری ہے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ قصہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا ہے زیادہ ٹھیک بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں کئی بار ہوا ہو، جیسے کہ ابن ابی حاتم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الرحمن بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تبع کے زمانہ میں یمن میں خندقیں کھدوائی گئی تھیں اور قسطنطین کے زمانہ میں قسطنطنیہ میں بھی مسلمانوں کے یہی عذاب دیا گیا تھا۔ جبکہ نصرانیوں نے اپنا قبلہ بدل دیا دین مسیح میں بدعتیں ایجاد کر لیں توحید کو چھوڑ بیٹھے اس وقت جو سچے دیندار تھے انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور اصلی دین پر قائم رہے تو ان ظالموں نے خندقیں آگ سے بھروا کر انہیں جلا دیا اور یہی واقعہ بابل کی زمین پر عراق میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا جس نے ایک بت بنا لیا تھا اور لوگوں سے اسے سجدہ کراتا تھا، دانیال اور ان کے دونوں ساتھی عزریا اور مشایل نے اس سے انکار کر دیا تو اس نے انہیں اس آگ کی خندق میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر ٹھنڈا کر دیا انہیں سلامتی عطا فرمائی صاف نجات دی اور اس سرکش کافروں کو ان خندقوں میں ڈال دیا یہ نو قبیلے تھے سب جل کر خاک ہو گئے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین جگہ یہ معاملہ ہوا عراق میں شام میں اور یمن میں۔
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خندقیں تین جگہ تھیں ایک تو یمن کے شہر نجران میں، دوسری شام میں، تیسری فارس میں۔ شام میں اس کا بانی انطنانوس رومی تھا اور فارس میں بخت نصر اور زمین عرب پر یوسف ذونواس، فارس اور شام کی خندقیوں کا ذکر قرآن میں نہیں یہ ذکر نجران کا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے فترۃ کے زمانے میں یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کے زمانہ میں ایک قوم تھی انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ فتنے اور شر میں گرفتار ہو گئے ہیں اور گروہ گروہ بن گئے ہیں اور ہر گروہ اپنے خیالات میں خوش ہے تو ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا یہاں سے ہجرت کر کے الگ ایک جگہ بنا کر وہیں رہنا سہنا شروع کیا اور اللہ کی مخلصانہ عبادت میں یکسوئی کے ساتھ مشغول ہو گئے نمازوں کی پابندی زکوٰتوں کی ادائیگی میں لگ گئے اور ان سے الگ تھلگ رہنے لگے یہاں تک کہ ایک سرکش بادشاہ کو اس اللہ والی جماعت کا پتہ لگ گیا اس نے ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے اور انہیں سمجھایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ اور بت پرستی شروع کر دو ان سب نے بالکل انکار کیا کہ ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ» کے سوا کسی اور کی بندگی کریں۔ بادشاہ نے کہلوایا کہ اگر یہ تمہیں منظور نہیں تو میں تمہیں قتل کرا دوں گا، جواب ملا کہ جو چاہو کرو لیکن ہم سے دین نہیں چھوڑا جائے گا، اس ظالم نے خندقیں کھدوائیں آگ جلوائی اور ان سب مرد و عورتوں اور بچوں کو جمع کر لیا اور ان خندقوں کے کنارے کھڑا کر کے کہا بولو یہ آخری سوال جواب ہے آیا بت پرستی قبول کرتے ہو یا آگ میں گرنا قبول کرتے ہو انہوں نے کہا ہمیں جل مرنا منظور ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے بچوں نے چیخ و پکار شروع کر دی بڑوں نے انہیں سمجھایا کہ بس آج کے بعد آگ نہیں۔ نہ گھبراؤ اور اللہ کا نام لے کر کود پڑو چنانچہ سب کے سب کود پڑے انہیں آنچ بھی نہیں لگنے پائی تھی کہ اللہ نے ان کی روحیں قبض کر لیں اور آگ خندقوں سے باہر نکل پڑی اور ان بدکردار سرکشوں کو گھیر لیا اور جتنے بھی تھے سارے کے سارے جلا دئیے گئے ان کی خبر ان آیتوں «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» الخ میں ہے۔ تو اس بنا پر «فَتَنُوا» کے معنی ہوئے کہ جلایا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ان لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کو جلا دیا ہے اگر انہوں نے توبہ نہ کی یعنی اپنے اس فعل سے باز نہ آئے، نہ اپنے اس کئے پر نادم ہوئے تو ان کے لیے جہنم ہے اور جلنے کا عذاب ہے تاکہ بدلہ بھی ان کے عمل جیسا ہو۔ ‘ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے کرم و رحم اس کی مہربانی اور عنایت کو دیکھو کہ جب بدکاروں نے اس کے پیارے بندوں کو ایسے بدترین عذابوں سے مارا انہیں بھی وہ توبہ کرنے کو کہتا ہے اور ان سے بھی مغفرت اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے وسیع رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
واقعہ اصحاب الا خدود: گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو، جسے میں یہ علم سکھا دوں، چناچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اس کے سپرد کردیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کے پاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور (شیر یا سانپ وغیرہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا، لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر راہب کا معاملہ، تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے بہتر اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے، تاکہ لوگوں کی آمد و رفت جاری ہوجائے یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور وہ جانور مرگیا۔ لڑکے نے جا کر یہ واقعہ راہب کو بتایا راہب نے کہا، بیٹے! اب تم فضل و کمال کو پہنچ گئے ہو اور تمہاری آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ لیکن اس دور آزمائش میں میرا نام ظاہر نہ کرنا، یہ لڑکا مادر زاد اندھے، برص اور دیگر بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا لیکن ایمان باللہ کی شرط پر، اسی شرط پر اس نے بادشاہ کے ایک نابینا مصاحب کی آنکھیں بھی اللہ سے دعا کر کے صحیح کردیں۔ یہ لڑکا یہی کہتا تھا کہ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، وہ شفا عطا فرما دے گا، چناچہ اس کی دعا سے اللہ شفا یاب فرما دیتا، یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا، بعض اہل ایمان کو قتل کرا دیا۔ اس لڑکے کے بارے میں اس نے چند آدمیوں کو کہا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینک دو، اس نے اللہ سے دعا کی پہاڑ میں لرزش پیدا ہوئی جس سے وہ سب مرگئے اور اللہ نے اسے بچا لیا۔ بادشاہ نے اسے دوسرے آدمیوں کے سپرد کر کے کہ کہا کہ ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ لے جا کر اسے پھینک دو، وہاں بھی اس کی دعا سے کشتی الٹ گئی، جس سے وہ سب غرق ہوگئے اور یہ بچ گیا۔ اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا، اگر تو مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھلے میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور بِسْمِ اللہ رَبِّ الْغُلام کہہ کر مجھے تیر مار، بادشاہ نے ایسے ہی کیا جس سے وہ لڑکا مرگیا لیکن سارے لوگ پکار اٹھے، کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، بادشاہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ چناچہ اس نے خندقیں کھدوائیں اور اس میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے انحراف نہ کرے اس کو آگ میں پھینک دو، اس طرح ایماندار آتے رہے اور آگ کے حوالے ہوتے رہے، حتیٰ کہ ایک عورت آئی، جس کے ساتھ ایک بچہ تھا وہ ذرا ٹھٹھکی، تو بچہ بول پڑا، اماں صبر کر تو حق پر ہے (صحیح مسلم) امام ابن کثیر نے اور بھی بعض واقعات نقل کئے ہیں جو اس سے مختلف ہیں اور کہا ہے، ممکن ہے اس قسم کے متعدد واقعات مختلف جگہوں پر ہوئے ہوں (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)
جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بے شک جنھو ں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر تو بہ نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے آگ کا عذاب
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں پر ظلم و ستم کیا اور پھر توبہ بھی نہ کی تو ان کیلئے جہنم کا عذاب ہے اور آگ سے جلنے کی سزا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اور اس عداوت و عذاب کا سبب ان مومنوں کا کوئی قصور نہ تھا، انہیں تو صرف ان کی ایمان داری پر غضب و غصہ تھا دراصل غلبہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کی پناہ میں آ جانے والا کبھی برباد نہیں ہوتا وہ اپنے تمام اقوال افعال شریعت اور تقدیر میں قابل تعریف ہے وہ اگر اپنے خاص بندوں کو کسی وقت کافروں کے ہاتھ سے تکلیف بھی پہنچا دے اور اس کا راز کسی کو معلوم نہ ہو سکے تو نہ ہو لیکن دراصل وہ مصلحت و حکمت کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ زمینوں، آسمانوں اور کل مخلوقات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر حاضر ناظر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ واقعہ اہل فارس کا ہے ان کے بادشاہ نے یہ قانون جاری کرنا چاہا کہ محرمات ابدیہ یعنی ماں بہن بیٹی وغیرہ سب حلال ہیں اس وقت کے علماء کرام نے اس کا انکار کیا اور روکا، اس پر اس نے خندقیں کھدوا کر اس میں آگ جلا کر ان حضرات کو اس میں ڈال دیا، چنانچہ یہ اہل فارس آج تک ان عورتوں کو حلال ہی جانتے ہیں۔“ یہ بھی مروی ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے، مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہوئی مسلمان غالب آ گئے پھر دوسری لڑائی میں کافر غالب آ گئے تو انہوں نے گڑھے کھدوا کر ایمان والوں کو جلا دیا، یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ اہل حبش کا ہے یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے انہوں نے دانیال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اور اقوال بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر تھا، جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت آ رہا ہے مجھے کوئی بچہ سونپ دو تو میں اسے جادو سکھا دوں چنانچہ ایک ذہین لڑکے کو وہ تعلیم دینے لگا لڑکا اس کے پاس جاتا تو راستے میں ایک راہب کا گھر پڑتا جہاں وہ عبادت میں اور کبھی وعظ میں مشغول ہوتا یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور اس کے طریق عبادت کو دیکھتا اور وعظ سنتا آتے جاتے یہاں رک جایا کرتا تھا، جادوگر بھی مارتا اور ماں باپ بھی کیونکہ وہاں بھی دیر میں پہنچتا اور یہاں بھی دیر میں آتا، ایک دن اس بچے نے راہب کے سامنے اپنی یہ شکایت بیان کی راہب نے کہا کہ جب جادوگر تجھ سے پوچھے کہ کیوں دیر لگ گئی تو کہہ دینا گھر والوں نے روک لیا تھا اور گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ آج جادوگر نے روک لیا تھا، یونہی ایک زمانہ گزر گیا کہ ایک طرف تو جادو سیکھتا تھا اور دوسری جانب کلام اللہ اور دین اللہ سیکھتا تھا ایک دن وہ دیکھتا ہے کہ راستے میں ایک زبردست ہیبت ناک جانور پڑا ہوا ہے، اس نے لوگوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے ادھر والے ادھر اور ادھر والے ادھر نہیں آ سکتے، اور سب لوگ ادھر ادھر حیران و پریشان کھڑے ہیں اس نے اپنے دل میں سوچا کہ آج موقعہ ہے کہ میں امتحان کر لوں کہ راہب کا دین اللہ کو پسند ہے یا جادوگر کا؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا کہ اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کے امر سے زیادہ محبوب ہے تو تو اس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے پتھر کے لگتے ہی وہ جانور مر گیا اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا پھر جا کر راہب کو خبر دی اس نے کہا پیارے بچے تو مجھ سے افضل ہے اب اللہ کی طرف سے تیری آزمائش ہو گی اگر ایسا ہوا تو تو کسی کو میری خبر نہ کرنا، اب اس بچے کے پاس حاجت مند لوگوں کو تانتا لگ گیا اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے کوڑھی جذامی اور ہر قسم کے بیمار اچھے ہونے لگے۔}
{ بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں بھی یہ آواز پڑی وہ بڑے تحائف لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر تو مجھے شفاء دیدے تو یہ سب تجھے دے دوں گا اس نے کہا شفاء میرے ہاتھ نہیں میں کسی کو شفاء نہیں دے سکتا شفاء دینے والا اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرے تو میں اس سے دعا کروں اس نے اقرار کیا بچے نے اس کے لیے دعا کی اللہ نے اسے شفاء دے دی اور بادشاہ کے دربار میں آیا اور جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا کرنے لگا، اور آنکھیں بالکل روشن تھیں بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ تجھے آنکھیں کس نے دیں؟ اس نے کہا میرے رب نے بادشاہ نے کہا، ہاں یعنی میں نے، وزیر نے کہا، نہیں نہیں، میرا اور تیرا رب اللہ ہے، بادشاہ نے کہا، اچھا تو کیا میرے سوا تیرا کوئی اور بھی رب ہے؟ وزیر نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ عزوجل ہے۔ اب اس نے اسے مار پیٹ شروع کر دیا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچانے لگا اور پوچھنے لگا کہ تجھے یہ تعلیم کس نے دی؟ آخر اس نے بتا دیا کہ اس بچے کے ہاتھ پر میں نے اسلام قبول کیا اور اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں خوب کامل ہو گئے ہو کہ اندھوں کو دیکھتا اور بیماروں کو تندرست کرنے لگ گئے اس نے کہا غلط ہے نہ میں کسی کو شفاء دے سکتا ہوں نہ جادو، شفاء تو اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے کہنے لگا ہاں یعنی میرے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اللہ تو میں ہی ہوں اس نے کہا ہرگز نہیں، کہا پھر کیا تو میرے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے؟ تو وہ کہنے لگا ہاں! میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے اس نے اب اسے بھی طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں یہاں تک کہ راہب کا پتہ لگا لیا راہب کو بلا کر اس نے کہا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے اور اس دین سے پلٹ جا، اس نے انکار کیا تو اس بادشاہ نے آرے سے اس کے چہرے کو چیر دیا اور ٹھیک دو ٹکڑے کر کے پھینک دیا پھر اس نوجوان سے کہا کہ تو بھی دین سے پھر جا مگر اس نے بھی انکار کر دیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائیں اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ کر پھر اسے اس کے دین چھوڑ دینے کو کہیں اگر مان لے تو اچھا ورنہ وہیں سے لڑھکا دیں۔}
{ چنانچہ یہ لوگ اسے لے گئے جب وہاں سے دھکا دینا چاہا تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی «اللَّهُمَّ اِكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْت» اللہ جس طرح چاہ مجھے ان سے نجات دے، اس دعا کے ساتھ پہاڑ ہلا اور وہ سب سپاہی لڑھک گئے صرف وہ بچہ بچا رہا، وہاں سے وہ اترا اور ہنسی خوشی پھر اس ظالم بادشاہ کے پاس آ گیا، بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا میرے سپاہی کہاں ہیں؟ فرمایا: میرے اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا اس نے کچھ اور سپاہی بلوائے اور ان سے بھی یہی کہا کہ اسے کشتی میں بٹھا کر لے جاؤ، اور بیچوں بیچ سمندر میں ڈبو کر چلے آؤ یہ اسے لے کر چلے اور بیچ میں پہنچ کر جب سمندر میں پھینکنا چاہا تو اس نے پھر وہی دعا کی کہ بار الٰہی جس طرح چاہ مجھے ان سے بچا، موج اٹھی اور وہ سپاہی سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے صرف وہ بچہ ہی باقی رہ گیا یہ پھر بادشاہ کے پاس آیا، اور کہا میرے رب نے مجھے ان سے بھی بچا لیا، اے بادشاہ تو چاہے تمام تدبیریں کر ڈال لیکن مجھے ہلاک نہیں کر سکتا ہاں جس طرح میں کہوں اس طرح اگر کرے تو البتہ میری جان نکل جائے گی۔ اس نے کہا کیا کروں فرمایا تو لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر پھر کھجور کے تنے پر سولی چڑھا اور میرے ترکش میں سے ایک تنکا نکال میری کمان پر چڑھا اور «بِسْمِ اللَّه رَبّ ھٰذا الْغُلَام» یعنی اسی اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے کہہ کر وہ تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے اور اس سے میں مروں گا چنانچہ بادشاہ نے یہی کیا تیر بچے کی کنپٹی میں لگا اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا اور شہید ہو گیا۔ اس کے اس طرح شہید ہوتے ہی لوگوں کو اس کے دین کی سچائی کا یقین آ گیا چاروں طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ہم سب اس بچے کے رب پر ایمان لا چکے یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے مصاحب گھبرائے اور بادشاہ سے کہنے لگے اس لڑکے کی ترکیب ہم سمجھے ہی نہیں دیکھئیے اس کا یہ اثر پڑا کہ یہ تمام لوگ اس کے مذہب پر ہو گئے ہم نے تو اسی لیے قتل کیا تھا کہ کہیں یہ مذہب پھیل نہ جائے لیکن وہ ڈر تو سامنے ہی آ گیا اور سب مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کہ تمام محلوں اور راستوں میں خندقیں کھدواؤ ان میں لکڑیاں بھرو اور اس میں آگ لگا دو جو اس دین سے پھر جائے اسے چھوڑ دو اور جو نہ مانے اسے اس آگ میں ڈال دو ان مسلمانوں نے صبر و ضبط کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کر لیا اور اس میں کود کود گرنے لگے، البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا چھوٹا بچہ تھا وہ ذرا ہچکچائی تو اس بچہ کو اللہ نے بولنے کی طاقت دی اس نے کہا اماں کیا کر رہی ہو تم تو حق پر ہو صبر کرو اور اس میں کود پڑو۔} ۱؎ [صحیح مسلم:3005] یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے اور صحیح مسلم کے آخر میں بھی ہے اور نسائی میں بھی قدرے اختصار کے ساتھ ہے۔
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد عموماً زیر لب کچھ فرمایا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں، فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی تھے جو اپنی امت پر فخر کرتے تھے کہنے لگے کہ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ انہیں اختیار ہے خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں خود ان سے انتقام لوں خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کروں، انہوں نے انتقام کو پسند کیا چنانچہ ایک ہی دن میں ان میں سے ستر ہزار مر گئے۔“ } اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان کی جو اوپر گزری پھر آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» سے «ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ» ۱؎ [85-البروج:4-15] تک کی آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ یہ نوجوان شہید دفن کر دئیے گئے تھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کی قبر سے انہیں نکالا گیا تھا ان کی انگلی اسی طرح ان کی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی جس طرح بوقت شہادت تھی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3340،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں یہ صراحت نہیں کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تو ممکن ہے کہ صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے ہی اس واقعہ کو بیان فرمایا ہو ان کے پاس نصرانیوں کی ایسی حکایتیں بہت ساری تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے بھی اس قصہ کو دوسرے الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نجرانی لوگ بت پرست مشرک تھے، اور نجران کے پاس ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جس میں ایک جادوگر تھا، نجرانیوں کو جادو سکھایا کرتا تھا۔ فیمون نامی ایک بزرگ عالم یہاں آئے اور نجران اور اس کے گاؤں کے درمیان انہوں نے اپنا پڑاؤ ڈالا۔ شہر کے لڑکے جو جادوگر سے جادو سیکھنے جایا کرتے تھے ان میں تاجر کا ایک لڑکا عبداللہ نامی بھی تھا اسے آتے جاتے راہب کی عبادت اور اس کی نماز وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا اس پر غور و خوض کرتا اور دل میں اس کے مذہب کی سچائی جگہ کرتی جاتی پھر تو اس نے یہاں آنا جانا شروع کر دیا۔ اور مذہبی تعلیم بھی اس راہب سے لینے لگا۔ کچھ دنوں بعد اس مذہب میں داخل ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا توحید کا پابند ہو گیا اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگا اور علم دین اچھی طرح حاصل کر لیا وہ راہب اسم اعظم بھی جانتا تھا اس نے ہر چند خواہش کی کہ اسے بتا دے لیکن اس نے نہ بتایا اور کہہ دیا کہ ابھی تم میں اس کی صلاحیت نہیں آئی تم ابھی کمزور دل والے ہو اس کی طاقت میں تم میں نہیں پاتا۔ عبداللہ کے باپ تامر کو اپنے بیٹے کے مسلمان ہو جانے کی مطلق خبر نہ تھی وہ اپنے نزدیک یہی سمجھ رہا تھا کہ میرا بیٹا جادو سیکھ رہا ہے، اور وہیں جاتا آتا رہتا ہے۔ عبداللہ نے جب دیکھا کہ راہب مجھے اسم اعظم نہیں سکھاتے اور انہیں میری کمزوری کا خوف ہے تو ایک دن انہوں نے تیر لیے اور جتنے نام اللہ تبارک و تعالیٰ کے انہیں یاد تھے ہر تیر پر ایک نام لکھا پھر آگ جلا کر بیٹھ گیا اور ایک ایک تیر کو اس میں ڈالنا شروع کیا جب وہ تیر آیا جس پر اسم اعظم تھا تو وہ آگ میں پڑتے ہی اچھل کر باہر نکل آیا اور اس پر آگ نے بالکل اثر نہ کیا سمجھ لیا کہ یہی اسم اعظم ہے۔
اپنے استاد کے پاس آئے اور کہا اسم اعظم کا علم مجھے ہو گیا استاد نے پوچھا بتاؤ کیا ہے؟ اس نے بتایا راہب نے پوچھا کیسے معلوم ہوا تو اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا فرمایا بھئی تم نے خوب معلوم کر لیا واقعی یہی اسم اعظم ہے۔ اسے اپنے ہی تک رکھو لیکن مجھے تو ڈر ہے کہ تم کھل جاؤ گے۔ ان کی یہ حالت ہوئی کہ یہ نجران میں آئے یہاں جس بیمار پر، جس دکھی پر، جس ستم رسیدہ پر نظر پڑی اس سے کہا کہ اگر تم موحد بن جاؤ اور دین اسلام قبول کر لو تو میں رب سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفاء اور نجات دیدے گا، اور دکھ بلا کو ٹال دے گا، وہ اسے قبول کر لیتا یہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرتے اللہ اسے بھلا چنگا کر دیتا اب تو نجرانیوں کے ٹھٹھ لگنے لگے اور جماعت کی جماعت روزانہ مشرف بہ اسلام اور فائزالمرام ہونے لگی۔ آخر بادشاہ کو اس کا علم ہوا اس نے اسے بلا کر دھمکایا کہ تو نے میری رعیت کو بگاڑ دیا اور میرے اور میرے باپ دادا کے مذہب پر حملہ کیا میں اس کی سزا میں تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تجھے چوراہے پر رکھوا دوں گا۔ عبداللہ بن تامر نے جواب دیا کہ تو ایسا نہیں کر سکتا اب بادشاہ نے اسے پہاڑ پر سے گرا دیا لیکن وہ نیچے آ کر صحیح سلامت رہا جسم پر کہیں چوٹ بھی نہ آئی نجران کے ان طوفان خیز دریاؤں میں گرداب کی جگہ انہیں لا ڈالا جہاں سے کوئی بچ نہیں سکتا لیکن یہ وہاں سے بھی صحت و سلامتی کے ساتھ واپس آ گئے۔ غرض ہر طرح عاجز آ گیا تو پھر عبداللہ بن تامر نے فرمایا سن اے بادشاہ تو میرے قتل پر کبھی قادر نہ ہو گا یہاں تک کہ تو اس دین کو مان لے جسے میں مانتا ہوں اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے اگر یہ کر لے گا تو پھر تو مجھے قتل کر سکتا ہے، بادشاہ نے ایسا ہی کیا اس نے عبداللہ کا بتلایا ہوا کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو کر جو لکڑی اس کے ہاتھ میں تھی اس سے عبداللہ کو مارا جس سے کچھ یونہی سے خراش آئی اور اسی سے وہ شہید ہو گئے اللہ ان سے خوش ہو اور اپنی خاص رحمتیں انہیں عنایت فرمائے ان کے ساتھ ہی بادشاہ بھی مر گیا۔ اس واقعہ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات پیوست کر دی کہ دین ان کا ہی سچا ہے چنانچہ نجران کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے اور عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم ہو گئے اور وہی مذہب اس وقت برحق بھی تھا۔ ابھی تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بن کر دنیا میں آئے نہ تھے لیکن پھر ایک زمانہ کے بعد ان میں بدعتیں پیدا ہونے لگیں اور پھیل گئیں اور دین حق کا نور چھن گیا غرض نجران میں عیسائیت کے پھیلنے کا اصلی سبب یہ تھا۔ اب ایک زمانہ کے بعد ذونواس یہودی نے اپنے لشکر سمیت ان نصرانیوں پر چڑھائی کی اور غالب آ گیا پھر ان سے کہا یا تو یہودیت قبول کر لو یا موت، انہوں نے قتل ہونا منظور کیا اس نے خندقیں کھدوا کر آگ سے پر کر کے ان کو جلا دیا بعض کو قتل بھی کیا بعض کے ہاتھ پاؤں ناک کان کاٹ دئیے وغیرہ۔
تقریباً بیس ہزار مسلمانوں کو سرکش نے قتل کیا اور اس کا ذکر آیت «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» ۱؎ [85-البروج:4] میں ہے۔ ذونواس کا نام زرعہ تھا اس کی بادشاہت کے زمانہ میں اسے یوسف کہا جاتا تھا اس کے باپ کا نام بیان اسعد ابی کریب تھا جو تبع مشہور ہے جس نے مدینہ میں غزوہ کیا اور کعبہ کو پردہ چڑھایا اس کے ساتھ دو یہودی عالم تھے، یمن والے ان کے ہاتھ پر یہودی مذہب میں داخل ہوئے ذونواس نے ایک ہی دن میں صرف صبح کے وقت ان کھائیوں میں بیس ہزار ایمان والوں کو قتل کیا ان میں سے صرف ایک ہی شخص بچ نکلا جس کا نام دوس ذی ثعلبان تھا یہ گھوڑے پر بھاگ کھڑا ہوا گو اس کے پیچھے بھی گھوڑے سوار دوڑائے لیکن یہ ہاتھ نہ لگا، یہ سیدھا شاہ روم قیصر کے پاس گیا اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو لکھا چنانچہ دوس وہاں سے حبشہ کے نصرانیوں کا لشکر لے کر یمن آیا اس کے سردار اریاط اور ابرہہ تھے یہودی مغلوب ہوئے یمن یہودیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ذونواس بھاگ نکلا لیکن وہ پانی میں غرق ہو گیا پھر ستر سال تک یہاں حبشہ کے نصرانیوں کا قبضہ رہا بالاخر سیف بن ذی یزن حمیری نے فارس کے بادشاہ سے امدادی فوجیں اپنے ساتھ لیں اور سات سو قیدی لوگوں سے اس پر چڑھائی کر کے فتح حاصل کی اور پھر سلطنت حمیری قائم کی اس کا کچھ بیان سورۃ الفیل میں بھی آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نجرانی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نجران کی ایک بنجر غیر آباد زمین اپنے کسی کام کے لیے کھودی تو دیکھا کہ عبداللہ بن تامر رحمہ اللہ کا جسم اس میں ہے آپ بیٹھے ہوئے ہیں سر پر جس جگہ چوٹ آئی تھی وہیں ہاتھ ہے، ہاتھ اگر ہٹاتے ہیں تو خون بہنے لگتا ہے پھر ہاتھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہاتھ اپنی جگہ چلا جاتا ہے، اور خون تھم جاتا ہے ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی ہے جس پر «رَبِّیَ اللهُ» لکھا ہوا ہے یعنی میرا رب اللہ ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کی اطلاع قصر خلافت میں دی گئی، یہاں سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان گیا کہ ”اسے یونہی رہنے دو اور اوپر سے مٹی وغیرہ جو ہٹائی ہے، وہ ڈال کر جس طرح تھا اسی طرح بے نشان کر دو“ چنانچہ یہی کیا گیا۔ ابن ابی الدنیا نے لکھا ہے کہ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اصفہان فتح کیا تو ایک دیوار دیکھی کہ وہ گر پڑی ہے ان کے حکم پر وہ بنا دی گئی لیکن پھر گر پڑی پھر بنوائی پھر گر پڑی آخر معلوم ہوا کہ اس کے نیچے کوئی نیک بخت شخص مدفون ہیں جب زمین کھودی تو دیکھا کہ ایک شخص کا جسم کھڑا ہوا ہے ساتھ ہی ایک تلوار ہے جس پر لکھا ہے میں حارث بن مضاض ہوں میں نے کھائیوں والوں کا انتقام لیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس لاشے کو نکال لیا اور وہاں دیوار کھڑی کرا دی جو برابر رہی، میں کہتا ہوں یہ حارث بن مضاض بن عمرو جرہی ہے جو کعبۃ اللہ کے متولی ہوئے تھے، ثابت بن اسمٰعیل بن ابراہیم کی اولاد کے بعد اس کا لڑکا عمرو بن حاث بن مضاض تھا جو مکہ میں جرہم خاندان کا آخری بادشاہ تھا، جس وقت کہ خزاعہ قبیلے نے انہیں یہاں سے نکال اور یمن کی طرف جلا وطن کیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے پہلے پہلے عرب میں شعر کہا جس شعر میں ویران مکہ کو اپنا آباد کرنا اور زمانہ کے ہیر پھیر اور انقلابات سے پھر وہاں سے نکالا جانا اس نے بیان کیا۔ اس واقعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ اسماعیل علیہ السلام کے کچھ زمانہ کے بعد کا اور بہت پرانا ہے جو کہ اسماعیل علیہ السلام کے تقریباً پانچ سو سال کے بعد کا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ابن اسحاق کی اس مطول روایت سے جو پہلے گزری ہے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ قصہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا ہے زیادہ ٹھیک بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں کئی بار ہوا ہو، جیسے کہ ابن ابی حاتم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الرحمن بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تبع کے زمانہ میں یمن میں خندقیں کھدوائی گئی تھیں اور قسطنطین کے زمانہ میں قسطنطنیہ میں بھی مسلمانوں کے یہی عذاب دیا گیا تھا۔ جبکہ نصرانیوں نے اپنا قبلہ بدل دیا دین مسیح میں بدعتیں ایجاد کر لیں توحید کو چھوڑ بیٹھے اس وقت جو سچے دیندار تھے انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور اصلی دین پر قائم رہے تو ان ظالموں نے خندقیں آگ سے بھروا کر انہیں جلا دیا اور یہی واقعہ بابل کی زمین پر عراق میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا جس نے ایک بت بنا لیا تھا اور لوگوں سے اسے سجدہ کراتا تھا، دانیال اور ان کے دونوں ساتھی عزریا اور مشایل نے اس سے انکار کر دیا تو اس نے انہیں اس آگ کی خندق میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر ٹھنڈا کر دیا انہیں سلامتی عطا فرمائی صاف نجات دی اور اس سرکش کافروں کو ان خندقوں میں ڈال دیا یہ نو قبیلے تھے سب جل کر خاک ہو گئے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین جگہ یہ معاملہ ہوا عراق میں شام میں اور یمن میں۔
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خندقیں تین جگہ تھیں ایک تو یمن کے شہر نجران میں، دوسری شام میں، تیسری فارس میں۔ شام میں اس کا بانی انطنانوس رومی تھا اور فارس میں بخت نصر اور زمین عرب پر یوسف ذونواس، فارس اور شام کی خندقیوں کا ذکر قرآن میں نہیں یہ ذکر نجران کا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے فترۃ کے زمانے میں یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کے زمانہ میں ایک قوم تھی انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ فتنے اور شر میں گرفتار ہو گئے ہیں اور گروہ گروہ بن گئے ہیں اور ہر گروہ اپنے خیالات میں خوش ہے تو ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا یہاں سے ہجرت کر کے الگ ایک جگہ بنا کر وہیں رہنا سہنا شروع کیا اور اللہ کی مخلصانہ عبادت میں یکسوئی کے ساتھ مشغول ہو گئے نمازوں کی پابندی زکوٰتوں کی ادائیگی میں لگ گئے اور ان سے الگ تھلگ رہنے لگے یہاں تک کہ ایک سرکش بادشاہ کو اس اللہ والی جماعت کا پتہ لگ گیا اس نے ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے اور انہیں سمجھایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ اور بت پرستی شروع کر دو ان سب نے بالکل انکار کیا کہ ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ» کے سوا کسی اور کی بندگی کریں۔ بادشاہ نے کہلوایا کہ اگر یہ تمہیں منظور نہیں تو میں تمہیں قتل کرا دوں گا، جواب ملا کہ جو چاہو کرو لیکن ہم سے دین نہیں چھوڑا جائے گا، اس ظالم نے خندقیں کھدوائیں آگ جلوائی اور ان سب مرد و عورتوں اور بچوں کو جمع کر لیا اور ان خندقوں کے کنارے کھڑا کر کے کہا بولو یہ آخری سوال جواب ہے آیا بت پرستی قبول کرتے ہو یا آگ میں گرنا قبول کرتے ہو انہوں نے کہا ہمیں جل مرنا منظور ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے بچوں نے چیخ و پکار شروع کر دی بڑوں نے انہیں سمجھایا کہ بس آج کے بعد آگ نہیں۔ نہ گھبراؤ اور اللہ کا نام لے کر کود پڑو چنانچہ سب کے سب کود پڑے انہیں آنچ بھی نہیں لگنے پائی تھی کہ اللہ نے ان کی روحیں قبض کر لیں اور آگ خندقوں سے باہر نکل پڑی اور ان بدکردار سرکشوں کو گھیر لیا اور جتنے بھی تھے سارے کے سارے جلا دئیے گئے ان کی خبر ان آیتوں «قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ» الخ میں ہے۔ تو اس بنا پر «فَتَنُوا» کے معنی ہوئے کہ جلایا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ان لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کو جلا دیا ہے اگر انہوں نے توبہ نہ کی یعنی اپنے اس فعل سے باز نہ آئے، نہ اپنے اس کئے پر نادم ہوئے تو ان کے لیے جہنم ہے اور جلنے کا عذاب ہے تاکہ بدلہ بھی ان کے عمل جیسا ہو۔ ‘ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے کرم و رحم اس کی مہربانی اور عنایت کو دیکھو کہ جب بدکاروں نے اس کے پیارے بندوں کو ایسے بدترین عذابوں سے مارا انہیں بھی وہ توبہ کرنے کو کہتا ہے اور ان سے بھی مغفرت اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے وسیع رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت10){ اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ …: ”فِتْنَةٌ “} کا معنی ہے، کھرے کھوٹے کی آزمائش کے لیے سونے کو آگ میں ڈالنا۔ پھر یہ لفظ جلانے، ستانے، عذاب دینے اور حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ {” اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوْا “} سے مراد اصحاب الاخدود بھی ہیں، جنھوں نے اہلِ ایمان کو آگ کی خندقوں میں ڈالا اور کفارِ قریش اور بعد میں آنے والے وہ تمام ظالم بھی جو انواع وا قسام کے عذاب دے دے کر اہل ایمان کو ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔ {” فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ “} جہنم میں کئی طرح کا عذاب ہے، سب سے سخت عذاب جلنے کا ہے، اس لیے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا، اس کے علاوہ اہلِ ایمان کو جلانے والوں کے حسب حال جلنے ہی کا عذاب ہے۔ {” ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا “} (پھر توبہ نہیں کی) اللہ کی شان کریمی دیکھیے کہ اہلِ ایمان کو جلانے والوں کو بھی جہنم کی سزا تب سنائی جب وہ توبہ کے بغیر مریں، کیونکہ توبہ کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے توبہ کی ترغیب بھی نکل رہی ہے۔
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے بہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بے شک جو ایما ن لائے اور اچھے کام کئے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے (جنت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} یہاں ایمان و عمل صالح والے لوگوں کے لیے جنت کی بشارت کے ذکر کی دو مناسبتیں ہیں، ایک تو یہ کہ اگر مسلمانوں کو ستانے والے لوگ بھی ایمان لا کر صالح عمل والے بن جائیں تو ان کے لیے بھی وہ باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ دوسری یہ کہ ایمان اور عمل صالح کے حامل جن مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹیوں میں جھونکا جارہا ہے وہ غم نہ کریں، یہ وقت گزر جانے والا ہے، آخرت میں ان کے لیے وہ عظیم الشان باغات تیار ہیں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رکھنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں جنت دے گا۔ کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر جنت کا مذاق اڑاتے اور اسے بے وقعت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ کی آیت (۱۶) کی تفسیر۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
12۔ 1 یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا
(آیت 12){ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ: ” بَطْشَ “} وہ پکڑ جس میں تیزی اور سختی پائی جائے۔ رب تعالیٰ کی بطش جسے وہ خود شدید بتا رہا ہے، کس قدر سخت ہوگی؟ اہل ایمان کو ایذا پہنچانے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اس سے بچ جاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ھود: ۱۰۲ ] ”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حال میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، یقینا اس کی پکڑ بڑی دردناک ہے، بہت سخت ہے۔“
وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوباره پیدا کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
بے شک وه پہلے اور پھر کرے
علامہ محمد حسین نجفی
وہی پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور (وہی) دوبارہ پیدا کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
13۔ 1 یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا کرے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا۔
(آیت 13){ اِنَّهٗ هُوَ يُبْدِئُ وَ يُعِيْدُ:} یہ نہ سمجھنا کہ دنیا میں تمھارے ظلم و ستم پر باز پرس نہیں ہوئی تو مرنے کے بعد بھی نہیں ہوگی، جس نے تمھیں پہلے پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ کرکے تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
اور وہی ہے جو بے حد بخشنے والا، نہایت محبت کرنے والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14){ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ:} اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کے ذکر کے ساتھ ہی اس کی صفات رحمت کا تذکرہ ہے کہ اگر تم توبہ کر لو تو وہ بے حد بخشنے والا ہے۔ {” الْوَدُوْدُ “ ”وَدَّ يَوَدُّ وُدًّا“} (س) سے {”فَعُوْلٌ“} کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، بہت محبت کرنے والا، یعنی وہ بندوں کا دشمن نہیں بلکہ ان سے بہت محبت کرنے والا ہے، سزا صرف اس کو دیتا ہے جو سرکشی پر اتر آئے۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
15۔ 1 یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے وہ اس کا مستقر ہے جیسا کہ صحابہ وتابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ المجید صاحب فضل و کرم۔
(آیت 16،15) {ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُ …:} وہ تمھاری طرح معمولی اور عارضی اقتدار والا نہیں، بلکہ اس عرش عظیم کا مالک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے مابین سے بھی بڑا ہے، نہ وہ تمھاری طرح کم ظرف ہے کہ معمولی سی قدرت ملے تو ظلم پہ اتر آئے، بلکہ وہ بڑی شان والا ہے اور نہ وہ تمھاری طرح بے بس ہے کہ مجبور ہو کر اسے اپنے ارادے ترک کرنا پڑیں، بلکہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ایسے زبردست قوت والے پروردگار سے تمھیں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہاں {” ذُو الْعَرْشِ “ } کے بعد{” الْمَجِيْدُ “} بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس لیے اس پر رفع ہے، یہ {” الْعَرْشِ “} کی صفت نہیں، ورنہ یہ مجرور ہوتا۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
16۔ 1 یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابوبکر سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، پوچھا اس نے کیا کہا، انی فعال لما ارید، میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ (ابن کثیر) مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب طبیبوں کے ہاتھ میں نہیں رہا میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے جس کی مشییت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
(آیت 18،17){ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِ …:} یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لیے ثمود و فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہلِ مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(کچھ نہیں) بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ کافر جھٹلا نے میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ یہ کافر (و منکر) تو جھٹلانے میں لگے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20،19) {بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} حق تو یہ تھا کہ پہلے سرکشوں کا انجام دیکھ کر یہ لوگ ایمان لے آتے، مگر یہ الٹا خواہ مخواہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انھیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، وہ جب چاہے پکڑلے۔
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
20۔ 1 (ان بطش ربک لشدید) ہی کا اثبات اور اس کی تاکید ہے۔
(اُن کے جھٹلانے سے اِس قرآن کا کچھ نہیں بگڑتا) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ وہ بڑی شان والا قرآن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22،21) {بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ …:} اور اگر ان کا جھٹلانا اس خیال سے ہے کہ یہ کلامِ الٰہی نہیں یا اس میں شیطان کا کچھ دخل ہے تو ان کی یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، اس لوح میں سے اتارا گیا ہے جس کی فرشتوں کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، کسی شیطان کا اس میں دخل نہیں ہو سکتا۔ اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اگر انھیں شبہ ہے تو وہ بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کر لے آئیں، جب یہ نہیں کرسکتے تو اس کے کلامِ الٰہی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا؟ (ماخوذ از احسن التفاسیر)
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘ پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد» پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔} فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
22۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت اسے نازل فرماتا ہے۔