بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 77
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
اَ وَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾
اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدگی اور ﻇاہرداری سب کو جانتا ہے؟
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں-
کہا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔
اور کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭

اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لیے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» ۱؎ [ 5۔ المائدہ: 13 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ سننے کو فرمایا اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی وہ جماعت ہے جنہوں نے آپ علیہ السلام سے اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سننے کی درخواست کی تھی اور جب وہ پاک صاف ہو کر روزہ رکھ کر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ طور پہاڑ پر پہنچ کر سجدے میں گر پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا کلام سنایا جب یہ واپس آئے اور نبی اللہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بنی اسرائیل میں بیان کرنا شروع کیا تو ان لوگوں نے اس کی تحریف اور تبدیلی شروع کر دی۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے توراۃ میں تحریف کی تھی یہی عام معنی ٹھیک ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے اور اس بدخصلت والے دوسرے یہودی بھی۔ قرآن میں ہے «فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّـهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ» ۱؎ [ 9-التوبہ-69 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ مشرکوں میں سے کوئی اگر تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے ‘۔ تو اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سنے بلکہ قرآن سنے تو یہاں بھی کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے۔ یہ تحریف کرنے والے اور چھپانے والے ان کے علماء تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:245/2] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف ان کی کتاب میں تھے ان سب میں انہوں نے تاویلیں کر کے اصل مطلب دور کر دیا تھا اسی طرح حلال کو حرام، حرام کو حلال، حق کو باطل، باطل کو حق لکھ دیا کرتے تھے۔ رشوتیں لینی اور غلط مسائل بتانے کی عادت ڈال لی تھی ہاں کبھی کبھی جب رشوت ملنے کا امکان نہ ہوتا، ریاست جانے کا خوف نہ ہوتا، مریدوں سے الگ ہوتے تو حق بات بھی کہہ دیا کرتے تھے۔ مسلمانوں سے ملتے تو کہہ دیا کرتے کہ تمہارے نبی علیہ السلام سچے ہیں۔ یہ برحق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:250/2] ‏‏‏‏ لیکن پھر آپس میں بیٹھ کر کہتے، عربوں سے یہ باتیں کیوں کہتے ہو۔ پھر تو یہ تم پر چھا جائیں گے۔ اللہ کے ہاں بھی تمہیں لاجواب کر دیں گے۔ تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان بیوقوفوں کو اتنا علم نہیں کہ ہم پوشیدہ اور ظاہر سب جانتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ میں ہمارے پاس سوائے ایمان والوں کے اور کوئی نہ آئے۔‏‏‏‏“ تو ان کافروں اور یہودیوں نے کہا کہ جاؤ کہہ دو ہم بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہاں آؤ تو ویسے ہی رہے جیسے تھے۔ پس یہ لوگ صبح آ کر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور شام کو جا کر کفار میں شامل ہو جاتے تھے۔ قرآن میں ہے «وَقَالَتْ طَّاىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 3۔ آل عمران: 72 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا ایمان والوں پر جو اترا ہے اس پر دن کے شروع حصہ میں ایمان لاؤ پھر آخر میں کفر کرو تاکہ خود ایمان والے بھی اس دین سے پھر جائیں ‘۔ یہ لوگ اس فریب سے یہاں کے راز معلوم کرنا اور انہیں اپنے والوں کو بتانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے مگر ان کی یہ چالاکی نہ چلی اور یہ راز اللہ نے کھول دیا جب یہ یہاں ہوتے اور اپنا ایمان اسلام و ظاہر کرتے تو صحابہ ان سے پوچھتے کیا تمہاری کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت وغیرہ نہیں؟ وہ اقرار کرتے۔ جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹتے اور کہتے اپنی باتیں ان سے کہہ کر کیوں ان کی اپنی مخالفت کے ہاتھوں میں ہتھیار دے رہے ہو؟ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ والے دن یہودیوں کے قلعہ تلے کھڑے ہو کر فرمایا اے بندر اور خنزیر اور طاغوت کے عابدوں کے بھائیو! تو وہ آپس میں کہنے لگے یہ ہمارے گھر کی باتیں انہیں کس نے بتا دیں خبردار اپنی آپس کی خبریں انہیں نہ دو ورنہ انہیں اللہ کے سامنے تمہارے خلاف دلائل میسر آ جائیں گے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1348:مرسل] ‏‏‏‏ اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گو تم چھپاؤ لیکن مجھ سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی تم جو چپکے چپکے اپنوں سے کہتے ہو کہ اپنی باتیں ان تک نہ پہنچاؤ اور اپنی کتاب کی باتیں کو چھپاتے ہو تو میں تمہارے اس برے کام سے بخوبی آگاہ ہوں۔ تم جو اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو۔ تمہارے اس اعلان کی حقیقت کا علم بھی مجھے اچھی طرح ہے۔

📖 احسن البیان

77۔ 1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بتلاؤ کہ اللہ کو تو ہر بات کا علم ہے اور سب باتوں کو تمہارے بتلائے بغیر بھی مسلمانوں پر ظاہر فرما سکتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 78،77) بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف طبقوں کا بیان ہو رہا ہے، اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی گئی ہے۔ (رازی) اُمیّ وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور { ”اَمَانِيَّ“ ”اُمْنِيَّةٌ“ } کی جمع ہے، جس کے معنی آرزوؤں یا من گھڑت روایات کے ہیں، یعنی یہود میں ایک طبقہ جو عوام کا ہے اور ان پڑھ ہے، انھیں {”الْكِتٰبَ“ } یعنی تورات کا تو کچھ علم نہیں، مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بے بنیاد قسم کی آرزوئیں پالے ہوئے ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے بزرگوں کی وجہ سے اللہ انھیں ضرور بخش دے گا، یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ، مختلف قسم کی خرافات کا عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی غلط آرزوئیں ہیں یا من گھڑت قصے ہیں جو انھوں نے سن رکھے ہیں۔ (ترجمان) {”اُمْنِيَّةٌ“} کا ایک معنی تلاوت بھی آتا ہے، جیسا کہ: «{ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖ }» [ الحج: ۵۲ ] کا ایک ترجمہ تلاوت بھی کیا گیا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ وہ خالی تلاوت کر سکتے ہیں مگر انھیں اس کے مطلب کی کچھ خبر نہیں، جیسا کہ آج کل اکثر مسلمان، خواہ حافظِ قرآن ہوں، محض تلاوت کر سکتے ہیں، مگر مفہوم سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ ایسا پڑھنا نہ پڑھنے ہی کے برابر ہے، اس لیے ان کے اُمّی ہونے کے خلاف نہیں۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →