بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 43
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ
اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو-
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور (میری بارگاہ میں) رکوع کرنے (جھکنے) والوں کے ساتھ رکوع کرو (باجماعت نماز ادا کرو)۔
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بدخو یہودی ٭٭

یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہیہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپا لیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہٰذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیشنگوئیاں جو تم کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ۔ «تَکْتُمُوْا» مجزوم بھی ہو سکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «تَکْتُمُونْ» بھی ہے۔ یہ حال ہو گا اور اس کے بعد کا جملہ بھی حال ہے معین یہ ہوئے کہ حق کو حق جانتے ہوئے ایسی بے حیائی نہ کرو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ علم کے باوجود اسے چھپانے اور ملاوٹ کرنے کا کیسا عذاب ہو گا۔ اس کا علم ہو کر بھی افسوس کہ تم بدکرداری پر آمادہ نظر آتے ہو۔

پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھو زکوٰۃ دو اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع و سجود میں شامل رہا کرو، انہیں میں مل جاؤ اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی امت بن جاؤ، [تفسیر الکشاف:133/1] ‏‏‏‏ اطاعت و اخلاص کو بھی زکوٰۃ کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں زکوٰۃ دو سو درہم پر۔ پھر اس سے زیادہ رقم پر واجب ہوتی ہے نماز و زکوٰۃ و فرض و واجب ہے۔ اس کے بغیر سبھی اعمال غارت ہیں۔ زکوٰۃ سے بعض لوگوں نے فطرہ بھی مراد لیا ہے۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال میں ایمانداروں کا ساتھ دو اور ان میں بہترین چیز نماز ہے اس آیت سے اکثر علماء نے نماز باجماعت کے فرض ہونے پر بھی استدلال کیا ہے اور یہاں پر امام قرطبی رحمہ اللہ نے مسائل جماعت کو سبط سے بیان فرمایا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) اپنے عہد کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر یہ تینوں کام اہتمام سے کرو۔ اس آیت سے باجماعت نماز کی تاکید ظاہر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ ایندھن کا حکم دوں، وہ اکٹھا کیا جائے، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کروائے، پھر ان آدمیوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔“ [ بخاری، الأذان، باب وجوب صلٰوۃ الجماعۃ: ۶۴۴۔ مسلم: ۶۵۱۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سنے اور سن کر (نماز کے لیے مسجد میں) نہ آئے تو اس کی نماز نہیں مگر کسی عذر سے۔“ [ ابن ماجہ، المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف: ۷۹۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما۔ صحیح ابن حبان: ۲۰۶۴۔ مستدرک: 373/1، ح: ۸۹۴، ۸۹۵۔ و صححہ الألبانی ]
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →