بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 255
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 255
آیت نمبر: 255 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا
اللہ (ہی وہ ذات) ہے۔ جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ زندہ (جاوید) ہے۔ جو (ساری کائنات کا) بندوبست کرنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی (پیشگی) اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں (کسی کی) سفارش کرے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اور وہ (بندے) اس کے علم میں سے کسی چیز (ذرا) پر بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔ مگر جس قدر وہ چاہے۔ اس کی کرسی (علم و اقتدار) آسمان و زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ ان دونوں (آسمان و زمین) کی نگہداشت اس پر گراں نہیں گزرتی وہ برتر ہے اور بڑی عظمت والا ہے۔
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یہ آیت آیت الکرسی ہے، جو بڑی عظمت والی آیت ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اس کا سب سے زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر یہی سوال کرتے ہیں، بار بار کے سوال پر جواب دیتے ہیں کہ آیت الکرسی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ابوالمنذر اللہ تعالیٰ تجھے تیرا علم مبارک کرے، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی زبان ہو گی اور ہونٹ ہوں گے اور یہ بادشاہ حقیقی کی تقدیس بیان کرے گی اور عرش کے پایہ سے لگی ہوئی ہو گی، [ مسند احمد 141/5-142] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے لیکن یہ پچھلا قسمیہ جملہ اس میں نہیں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے ہاں ایک کھجور کی بوری تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس میں سے کھجوریں روز بروز گھٹ رہی ہیں، ایک رات میں جاگتا رہا اس کی نگہبانی کرتا رہا، میں نے دیکھا ایک جانور مثل جوان لڑکے کے آیا، میں نے اسے سلام کیا اس نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا میں جن ہوں، میں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دے، اس نے ہاتھ بڑھا دیا، میں نے اپنے ہاتھ میں لیا تو کتے جیسا ہاتھ تھا اور اس پر کتے جیسے ہی بال تھے، میں نے کہا کیا جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہے؟ اس نے کہا تمام جنات میں سب سے زیادہ قوت طاقت والا میں ہی ہوں، میں نے کہا بھلا تو میری چیز چرانے پر کیسے دلیر ہو گیا؟ اس نے کہا مجھے معلوم ہے کہ تو صدقہ کو پسند کرتا ہے، ہم نے کہا پھر ہم کیوں محروم رہیں؟ میں نے کہا تمہارے شر سے بچانے والی کون سی چیز ہے؟ اس نے کہا آیت الکرسی۔ صبح کو جب میں سرکارِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو میں نے رات کا سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیث نے یہ بات تو بالکل سچ کہ۔ [مستدرک حاکم562/1] ‏‏‏‏، ایک بار مہاجرین کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی آیت کون سی بڑی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت الکرسی پڑھ کر سنائی۔ [ طبرانی کبیر334/1 ] ‏‏‏‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک سے پوچھا تم نے نکاح کر لیا؟ اس نے کہا میرے پاس مال نہیں، اس لیے نکاح نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» [ 112-الاخلاص: 1 ] ‏‏‏‏ یاد نہیں؟ اس نے کہا وہ تو یاد ہے، فرمایا چوتھائی قرآن تو یہ ہو گیا، کیا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» [ 109-الکافرون: 1 ] ‏‏‏‏ یاد نہیں، کہا ہاں وہ بھی یاد ہے، فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا، پھر پوچھا کیا «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» [ 99-الزلزلہ: 1 ] ‏‏‏‏ بھی یاد ہے؟ کہا ہاں، فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا، کیا «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» [ 110-النصر: 1 ] ‏‏‏‏ بھی یاد ہے؟ کہا ہاں، فرمایا چوتھائی یہ، کہا آیت الکرسی «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [ 2-البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ یاد ہے؟ کہا ہاں فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا [ مسند احمد221/3ضعیف ] ‏‏‏‏ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا اٹھو نماز ادا کر لو۔ میں نے نماز پڑھی پھر آ کر بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر شیطان انسانوں اور جنوں سے پناہ مانگ، میں نے کہا حضور کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ فرمایا ہاں، میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ فرمایا وہ سراسر خیر ہے جو چاہے کم حصہ لے جو چاہے زیادہ، میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم روزہ؟ فرمایا کفایت کرنے والا فرض ہے اور اللہ کے نزدیک زیادتی ہے، میں نے کہا صدقہ؟ فرمایا بہت زیادہ اور بڑھ چڑھ کر بدلہ دلوانے والا، میں نے کہا سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کا ہمت کرنا یا پوشیدگی سے محتاج کی احتیاج پوری کرنا، میں نے سوال کیا سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ فرمایا آدم علیہ السلام، میں نے کہا وہ نبی تھے؟ فرمایا نبی اور اللہ سے ہمکلام ہونے والے، میں نے پوچھا رسولوں کی تعداد کیا ہے؟ فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس، بہت بڑی جماعت۔ ایک روایت میں تین سو پندرہ کا لفظ ہے،میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سب سے زیادہ بزرگی والی آیت کون سی اتری؟ فرمایا آیت الکرسی «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [ 2-البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏الخ، [ مسند احمد 178/5:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خزانہ میں سے جنات چرا کر لے جایا کرتے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو اسے دیکھے تو کہنا «بسم اللہ اجیبی رسول اللہ» جب وہ آیا میں نے یہی کہا، پھر اسے چھوڑ دیا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر بھی آئے گا، میں نے اسے اسی طرح دو تین بار پکڑا اور اقرار لے لے کر چھوڑا دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ وہ پھر بھی آئے گا، آخر مرتبہ میں نے کہا اب میں تجھے نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا چھوڑ دے میں تجھے ایک ایسی چیز بتاؤں گا کہ کوئی جن اور شیطان تیرے پاس ہی نہ آ سکے، میں نے کہا اچھا بتاؤ، کہا وہ آیت الکرسی ہے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذِکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، گو وہ جھوٹا ہے۔ [ مسند احمد423/5:صحیح ] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں «کتاب فضائل القرآن اور کتاب الوکالہ» اور «صفۃ ابلیس» کے بیان میں بھی یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں ہے کہ زکوٰۃ رمضان کے مال پر میں پہرہ دے رہا تھا جو یہ شیطان آیا اور سمیٹ سمیٹ کر اپنی چادر میں جمع کرنے لگا، تیسری مرتبہ اس نے بتایا کہ اگر تو رات بستر پر جا کر اس آیت کو پڑھ لے گا تو اللہ کی طرف سے تجھ پر حافظ مقرر ہو گا اور صبح تک شیطان تیرے قریب بھی نہ آ سکے گا۔ [ صحیح بخاری:2311 ] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ کھجوریں تھیں اور مٹھی بھر وہ لے گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ اگر اسے پکڑنا چاہے تو جب وہ دروازے کھولے کہنا «سبحان من سخرک محمد» شیطان نے عذر یہ بتایا تھا کہ ایک فقیر جن کے بال بچوں کیلئے میں یہ لے جا رہا تھا۔ [سنن الکبری: 10793:جید] ‏‏‏‏ پس یہ واقعہ تین صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہوا، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک انسان کی ایک جن سے ملاقات ہوئی جن نے کہا مجھ سے کشتی کرے گا؟ اگر مجھے گرا دے گا تو میں تجھے ایک ایسی آیت سکھاؤں گا کہ جب تو اپنے گھر جائے اور اسے پڑھ لے تو شیطان اس میں نہ آ سکے، کشتی ہوئی اور اس آدمی نے جن کو گرا دیا، اس شخص نے جن سے کہا تو تو نحیف اور ڈرپوک ہے اور تیرے ہاتھ مثل کتے کے ہیں، کیا جنات ایسے ہی ہوتے ہیں یا صرف تو ہی ایسا ہے؟ کہا میں تو ان سب میں سے قوی ہوں، پھر دوبارہ کشتی ہوئی اور دوسری مرتبہ بھی اس شخص نے گرا دیا تو جن نے کہا جو آیت میں نے سکھانے کیلئے کہا تھا وہ آیت الکرسی ہے، جو شخص اپنے گھر میں جاتے ہوئے اسے پڑھ لے تو شیطان اس گھر سے گدھے کی طرح چیختا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ جس شخص سے کشتی ہوئی تھی وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ [کتاب الغریب] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سورۃ البقرہ میں ایک آیت ہے جو قرآن کریم کی تمام آیتوں کی سردار ہے جس گھر میں وہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ وہ آیت، آیت الکرسی ہے [مستدرک حاکم560/1] ‏‏‏‏ ترمذی میں ہے ہرچیز کی کوہان اور بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۃ البقرہ ہے اور اس میں بھی آیت الکرسی تمام آیتوں کی سردار ہے۔ [سنن ترمذي2878، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس سوال پر کہ سارے قرآن میں سب سے زیادہ بزرگ آیت کون سی ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے خوب معلوم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آیت آیت الکرسی ہے [میزان اعتدال 475/2ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ایک تو آیت الکرسی، دوسری آیت «الم» «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [ 3-آل عمران: 1-2 ] ‏‏‏‏ [سنن ابوداود1496، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

اور حدیث میں ہے کہ وہ اسمِ اعظم جس نام کی برکت سے جو دعا اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے وہ قبول فرماتا ہے۔ وہ تین سورتوں میں ہے، سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ۔ [سنن ابن ماجه3856، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ہشام بن عمار خطیب دمشق فرماتے ہیں سورۃ البقرہ کی آیت آیت الکرسی ہے اور آل عمران کی پہلی ہی آیت اور طہٰ کی آیت «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» [ 20-طحہ: 111 ] ‏‏‏‏ ہے اور حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے اسے جنت میں جانے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے [سنن نسائی:100، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث کو امام نسائی نے بھی اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں وارد کیا ہے اور ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے اپنی صحیح میں وارد کیا ہے اس حدیث کی سند شرط بخاری پر ہے لیکن ابوالفرج بن جوزی اسے موضوع کہتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، تفسیر ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہے۔ ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، جو شخص یہ کرے گا میں اسے شکر گزار دِل اور ذِکر کرنے والی زبان دوں گا۔ اور اسے نبیوں کا ثواب اور صدیقوں کا عمل دوں گا۔ جس عمل کی پابندی صرف انبیاء او صدیقین سے ہی ہوتی ہے یا اس بندے سے جس کا دِل میں نے ایمان کیلئے آزما لیا ہو یا اسے اپنی راہ میں شہید کرنا طے کر لیا ہو [ ضعیف] ‏‏‏‏، لیکن یہ حدیث بہت منکر ہے۔

ترمذی کی حدیث میں ہے جو شخص سورۃ [حم] ‏‏‏‏ [المومن ] ‏‏‏‏ کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [ 40-الغافر: 3 ] ‏‏‏‏ تک اور آیت الکرسی کو صبح کے وقت پڑھ لے گا وہ شام تک اللہ کی حفاظت میں رہے گا اور شام کو پڑھنے والے کی صبح تک حفاظت ہو گی [سنن ترمذي:2879، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اس آیت کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں لیکن ایک تو اس لیے کہ ان کی سندیں ضعیف ہیں اور دوسرے اس لیے بھی کہ ہمیں اختصار مدنظر ہے، ہم نے انہیں وارد نہیں کیا۔

اس مبارک آیت میں دس مستقل جملے، پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان ہے کہ کل مخلوق کا وہی ایک اللہ ہے۔ دوسرے جملے میں ہے کہ وہ خود زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔ قیوم کی دوسری نشانی قرأت «قیام» بھی ہے پس تمام موجودات اس کی محتاج ہے او وہ سب سے بے نیاز ہے، کوئی بھی بغیر اس کی اجازت کے کسی چیز کا سنبھالنے والا نہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ» [ 30-الروم: 25 ] ‏‏‏‏ «بِأَمْرِهِ» یعنی اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر فرمایا نہ تو اس پر کوئی نقصان آئے نہ کبھی وہ اپنی مخلوق سے غافل اور بے خبر ہو، بلکہ ہر شخص کے اعمال پر وہ حاضر، ہر شخص کے احوال پر وہ ناظر، دل کے ہر خطرے سے وہ واقف، مخلوق کا کوئی ذرہ بھی اس کی حفاظت اور علم سے کبھی باہر نہیں، یہی پوری ”قیومیت“ ہے۔ اونگھ، غفلت، نیند اور بے خبری سے اس کی ذات مکمل پاک ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر صحابہ کرام کو چار باتیں بتائیں، فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ سوتا نہیں، نہ نیند اس کی ذات کے لائق ہے، وہ ترازو کا حافظ ہے جس کیلئے چاہے جھکا دے، جس کیلئے چاہے نہ جھکائے، دن کے اعمال رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف لے جائے جاتے ہیں، اس کے سامنے نور یا آگ کے پردے ہیں اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچے۔ [صحیح مسلم:179] ‏‏‏‏۔

عبدالرزاق میں عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرشتوں سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ سوتا بھی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی کہ موسیٰ علیہ السلام کو تین راتوں تک بیدار رکھیں، انہوں نے یہی کیا، تین راتوں تک سونے نہ دیا، اس کے بعد دو بوتلیں ان کے ہاتھوں میں دے دیں گئیں اور کہہ دیا کہ انہیں تھامے رہو خبردار یہ گرنے اور ٹوٹنے نہ پائیں، آپ علیہ السلام نے انہیں تھام لیا لیکن اجاگا تھا، نیند کا غلبہ ہوا، اونگھ آنے لگی، آنکھ بند ہو جاتی لیکن پھر ہوشیار ہو جاتے مگر کب تک؟ آخر ایک مرتبہ ایسا جھکولا آیا کہ بوتلیں ٹوٹ گئیں، گویا انہیں بتایا گیا کہ جب ایک اونگھنے اور سونے والا دو بوتلوں کو نہیں سنبھال سکتا تو اللہ تعالیٰ اگر اونگھے یا سوئے تو زمین و آسمان کی حفاظت کس طرح ہو سکے؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:5782:حسن] ‏‏‏‏ لیکن یہ بنی اسرائیل کی بات ہے اور کچھ دِل کو لگتی بھی نہیں اس لیے کہ یہ ناممکن ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر عارف باللہ، اللہ جل شانہ کی اس صفت سے ناواقف ہوں اور انہیں اس میں تردد ہو کہ اللہ ذوالجلال و الاکرام جاگتا ہی رہتا ہے یا سو بھی جاتا ہے۔ اور اس سے بھی بہت زیادہ غرابت والی وہ حدیث ہے جو ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو منبر پر بیان فرمایا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فرمان پیغمبر ہونا ثابت نہیں بلکہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال کیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کو بوتلیں پکڑوائی گئیں اور وہ بوجہ نیند کے نہ سنبھال سکے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی،

آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی غلامی میں اور اس کی ماتحتی میں اور اس کی سلطنت میں ہیں جیسے فرمایا «إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [ 19-مریم: 93-95 ] ‏‏‏‏، یعنی زمین و آسمان کی کل چیزیں رحمٰن کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہیں، ان سب کو رب العالمین نے ایک ایک کر کے گن رکھا ہے۔ ساری مخلوق تنہا تنہا اس کے پاس حاضر ہو گی، کوئی نہیں جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش یا شفاعت کر سکے، جیسے ارشاد ہے «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» [ 53-النجم: 26 ] ‏‏‏‏، یعنی آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں لیکن ان کی شفاعت بھی کچھ فائدہ نہیں دے سکتی، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی سے ہو۔ ، اور جگہ ہے «وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ» [ 21- الأنبياء: 28 ] ‏‏‏‏ کسی کی وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اس کی جس سے اللہ خوش ہو، پس یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کا جلال اور اس کی کبریائی بیان ہو رہی ہے، کہ بغیر اس کی اجازت اور رضا مندی کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش میں زبان کھولے، حدیث شفاعت میں بھی ہے کہ میں اللہ کے عرش کے نیچے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ مجھے سجدے میں ہی چھوڑ دے گا جب تک چاہے، پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو، سنا جائے گا، شفاعت کرو، منظور کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا۔ [صحیح بخاری:7440] ‏‏‏‏ وہ اللہ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ کا عالم ہے اس کا علم تمام مخلوق کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جیسے اور جگہ فرشتوں کا قول ہے کہ «وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَٰلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا» [ 19-مریم: 64 ] ‏‏‏‏، ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر اتر نہیں سکتے ہمارے آگے پیچھے اور سامنے سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں اور تیرا رب بھول چوک سے پاک ہے۔

کرسی سے مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے علم منقول ہے، دوسرے بزرگوں سے دونوں پاؤں رکھنے کی جگہ منقول ہے، ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مروی ہے، اور یہ بھی ہے کہ اس کا اندازہ بجر باری تعالٰی کے کسی اور کو معلوم نہیں، خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے , [خطیب بغداد251/9موقوف] ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً یہی مروی ہے لیکن رفع ثابت نہیں، ابومالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کرسی عرش کے نیچے ہے، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں آسمان و زمین کرسی کے جوف میں اور کرسی عرش کے سامنے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان اگر پھیلا دئیے جائیں اور سب کو ملا کر بسیط کر دیا جائے تو بھی کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے جیسے ایک حلقہ کسی چٹیل میدان میں, [تفسیر ابن جریر الطبری:5895:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی میں ایسے ہی ہیں جیسے سات درہم ڈھال میں اور حدیث میں کرسی عرش کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک لوہے کا حلقہ چٹیل میدان میں، سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کرسی کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہی فرمایا اور فرمایا کہ پھر عرش کی فضیلت کرسی پر بھی ایسی ہی ہے، ایک عورت نے آن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے جنت میں لے جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی کرسی نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے مگر جس طرح نیا پالان چرچراتا ہے وہ کرسی عظمت پروردگار سے چرچرا رہی ہے، گو یہ حدیث بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے لیکن کسی سند میں کوئی راوی غیرمشہور ہے کسی میں ارسال ہے، کوئی موقوف ہے، کسی میں بہت کچھ غریب زیادتی ہے، کسی میں حذف ہے اور ان سب سے زیادہ غریب سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے جو ابوداؤد میں مروی ہے [سنن ابوداود:4726، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔ اور وہ روایات بھی ہیں جن میں قیامت کے روز کرسی کا فیصلوں کیلئے رکھا جانا مروی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں یہ ذِکر نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مسلمانوں کے ہئیت دان متکلمین کہتے ہیں کہ کرسی آٹھواں آسمان ہے جسے فلک ثوابت کہتے ہیں اور جس پر نواں آسمان ہے اور جسے فلک اثیر کہتے ہیں اور اطلس بھی، لیکن دوسرے لوگوں نے اس کی تردید کی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کرسی ہی عرش ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ کرسی اور ہے اور عرش اور ہے، جو اس سے بڑا ہے جیسا کہ آثار احادیث میں وارد ہوا ہے، علامہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت پر اعتماد کئے ہوئے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کی صحت میں کلام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ اللہ پر ان کی حفاظت بوجھل اور گراں نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے۔ وہ ساری مخلوق کے اعمال پر خبردار تمام چیزوں پر نگہبان کوئی چیز اس سے پوشیدہ اور انجان نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے، تمام مخلوق اس کے سامنے حقیر متواضع ذلیل پست محتاج اور فقیر، وہ غنی وہ حمید وہ جو کچھ چاہے کر گزرنے والا، کوئی اس پر حاکم نہیں بازپرس کرنے والا، ہرچیز پر وہ غالب، ہرچیز کا حافظ اور مالک، وہ علو، بلندی اور رفعت والا وہ عظمت بڑائی اور کبریائی والا، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی خبرگیری کرنے والا نہ پالنے پوسنے والا «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] ‏‏‏‏ وہ کبریائی والا اور فخر والا ہے، اسی لیے فرمایا «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» بلندی اور عظمت والا وہی ہے۔ یہ آیتیں اور ان جیسی اور آیتیں اور صحیح حدیثیں جتنی کچھ ذات و صفات باری تعالیٰ میں وارد ہوئی ہیں ان سب پر ایمان لانا بغیر کیفیت معلوم کئے اور بغیر تشبیہ دئیے جن الفاظ میں وہ وارد ہوئی ہیں ضروری ہے اور یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا۔

📖 احسن البیان

255۔ 1 یہ آیت الکرسی ہے جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً یہ آیت قرآن کی اعظم آیت ہے۔ اس کے پڑھنے سے رات کو شیطان سے تحفظ رہتا ہے ہر فرض کے بعد پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے (ابن کثیر) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات جلال اس کی علو شان اور اس کی قدرت و عظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے۔ 255۔ 2 کرسی سے بعض نے موضع قدمین (قدم رکھنے کی جگہ) بعض نے علم بعض نے قدرت و عظمت بعض نے بادشاہی اور بعض نے عرش مراد لیا ہے لیکن صفات باری تعالیٰ کے بارے میں محدثین اور سلف کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کی بغیر تاویل اور کیفیت بیان کیے ان پر ایمان رکھا جائے اس لیے یہی ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ فی الواقع کرسی ہے جو عرش سے الگ ہے اس کی کیفیت کیا ہے اس پر وہ کس طرح بیٹھتا ہے اس کو ہم بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی حقیقت سے ہم بیخبر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 255) ➊ یہ آیت الکرسی ہے جو قرآن مجید کی تمام آیات سے عظیم آیت ہے۔ اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟“ فرماتے ہیں، میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟“ کہتے ہیں، میں نے عرض کی: «اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ» (اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! (تم نے درست کہا) اے ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو۔“ [مسلم، صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سورۃ الکہف و آیۃ الکرسی: ۸۱۰ ] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث ہے، اس میں ان کا زکوٰۃ الفطر کی حفاظت پر مامور ہونا اور ایک شخص کا تین دن آ کر چوری کی کوشش کرنا، دو مرتبہ گرفتار ہو کر منتیں کرکے چھوٹنا اور تیسری دفعہ گرفتار ہونے پر انھیں یہ بتانا مذکور ہے کہ جب تم بستر پر آؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، تو لازماً اللہ کی طرف سے تم پر ایک حفاظت کرنے والا مقرر ہو گا اور تمھارے صبح کرنے تک کوئی شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اسے چھوڑ دیا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمھارے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے سارا قصہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو! اس نے تمھیں سچ بتایا، حالانکہ وہ بہت جھوٹا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا:”وہ شیطان تھا۔“ [بخاری، الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا فترک …: ۲۳۱۱، ۵۰۱۰ ] اس حدیث سے آیت الکرسی کی فضیلت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا نام آیت الکرسی ہونے کی تصدیق بھی معلوم ہوئی۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخلے سے سوائے موت کے کوئی اور چیز نہیں روکے گی۔“ [عمل الیوم واللیلۃ للنسائی، ص: ۱۸۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۷۲۔ ابن کثیر اور البانی رحمہا اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ] ➋ قرآن مجید کی سب سے لمبی آیت: «اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۸۲ ] ہے، مگر سب سے زیادہ عظمت والی آیت، آیت الکرسی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت کا موضوع توحید ہے، جو اس میں کئی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ موضوع اور دلیلوں کی وجہ سے یہ سب سے بڑی آیت ہے۔ سورۂ اخلاص چھوٹی سی سورت ہونے کے باوجود قرآن کے ثلث (تہائی حصے) کے برابر ہے۔ [بخاری، فضائل القرآن، باب فضل: «قل ھو اللہ أحد» ‏‏‏‏: ۵۰۱۳ ] اس کی وجہ بھی موضوعِ توحید کی عظمت ہے۔ نکتہ: آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے اسماء اور ضمائر کی صورت میں سولہ (16) دفعہ آیا ہے۔ { ”يَعْلَمُ“ } اور { ”شَآءَ“ } میں بھی ضمیریں موجود ہیں۔ ➌ آیت الکرسی ایک دعویٰ اور اس کی گیارہ دلیلوں پر مشتمل آیت ہے۔ دعویٰ یہ ہے: «اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» یعنی اللہ وہ ہے جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ پہلی دلیل: وہ { ”اَلْحَيُّ“ } ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ ] ”اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔“ [بخاری، التوحید، باب «و کان عرشہ علی الماء» ‏‏‏‏: ۷۴۱۸ ] اس کے سوا کسی ہستی میں یہ خوبی نہیں۔ چنانچہ فرمایا: «هُوَ الْحَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» [المؤمن: ۶۵ ] ”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس کے سوا جس چیز کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ ہمیشہ سے ہے نہ ہمیشہ رہے گی، ہر چیز موت کی آغوش سے نکلی ہے اور اسی کی آغوش میں جانے والی ہے، فرمایا: «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۸ ] ”تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ (20) اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [النحل: ۲۰، ۲۱ ] ”اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“ وہی ایک ہے جس کو دائم بقا ہے جہاں کی وراثت اسی کو سزا ہے سوا اس کے انجام سب کا فنا ہے نہ کوئی رہے گا نہ کوئی رہا ہے مسافر یہاں ہیں فقیر اور غنی سب غلام اور آزاد ہیں رفتنی سب (حالی) دوسری دلیل: { ”الْقَيُّوْمُ“ } یہ { ”قَامَ يَقُوْمُ“ } سے { ”فَيْعُوْلٌ“ } کے وزن پر ہے، اصل میں { ”قَيْوُوْمٌ“ } تھا، پہلی واؤ کو یاء سے بدل دیا، پھر پہلی یاء کو دوسری میں ادغام کر دیا، یاء کے اضافے سے مزید مبالغہ پیدا ہو گیا، یعنی وہ کسی سہارے کے بغیر خود قائم ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والا، تھامنے والا ہے۔ انسان جو { ”اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى“ } کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے، ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے تھامنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خود اس کے دل کی دھڑکن، سانس کی آمدورفت، پیشاب و پاخانے کا نظام، خون کی گردش، نیند اور بیداری حتیٰ کہ زندگی اور موت کچھ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں، تو دوسروں کو کیا تھامے گا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، آپ پر آنے والی تکلیفیں، یعنی آپ کا زخمی ہونا، گھوڑے سے گر کرموچ آنا، بیمار ہونا، بھوک، پیاس، غرض پوری زندگی اس کی شاہد ہے، پھر اتنی وسیع کائنات اور لاتعداد مخلوقات کو اللہ کے سوا کون ہے جو تھامے ہوئے ہے کہ اسے مشکل کشا، داتا یا دستگیر یا جھولی بھرنے والا سمجھا جائے۔ آسمان و زمین سے متعلق فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا» [فاطر: ۴۱ ] ”بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں۔“ اڑتے پرندوں کے متعلق فرمایا: «مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ» ‏‏‏‏ [الملک: ۱۹ ] ” رحمان کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔“ تیسری دلیل: { ”لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ“ ”سِنَةٌ“ } اصل میں { ”وَسَنٌ“ } تھا، جیسے: { ”وَعْدٌ“ } سے{ ”عِدَةٌ“ } ہے، شروع سے ”واؤ “ حذف کرکے آخر میں ”تاء “ لے آئے۔ معنی ہے نیند سے پہلے آنے والی اونگھ، جب آدمی سونے اور جاگنے کے درمیان ہوتا ہے۔ { ”سِنَةٌ“ } اور{ ”نَوْمٌ“ } کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے: ”اسے نہ کچھ اونگھ پکڑتی ہے نہ کوئی نیند “ یعنی اللہ تعالیٰ کو ذرا برابر اونگھ یا نیند اپنی گرفت میں نہیں لے سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اونگھ اور نیند اتنی زبردست چیزیں ہیں کہ جس پر آتی ہیں اسے پکڑ لیتی ہیں، انسان ان کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ صبح کی نماز کے لیے طلوعِ آفتاب کے بعد بیدار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اونگھ اور نیند دونوں سے پاک ہے، کیونکہ اگر اسے اونگھ یا نیند آ جائے تو کائنات آپس میں ٹکرا کر فنا ہو جائے، اگر تجربہ کرنا ہو تو ہوشیار سے ہوشیار شخص کے دونوں ہاتھوں میں شیشے کا ایک ایک گلاس دے کر اسے ایک دو راتیں جگا کر تجربہ کر لیں۔ چوتھی دلیل: { ”لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ“ } یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے۔ [مزيد ديكهيے مريم: ۹۳ تا ۹۵] جب مالک وہ ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یحییٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو یہ بات سمجھائی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نے اپنے خالص مال سونے یا چاندی کے ساتھ ایک غلام خریدا اور غلام سے کہا کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، اس میں کام کرو اور اس کی آمدنی مجھے دیا کرو۔ غلام سارا دن کام کرتا اور شام کو آمدنی مالک کے سوا کسی اور کو دے دیتا، تو تم میں سے کون ہے جو ایسے غلام کو پسند کرے؟“ [ترمذی، الأدب، باب ما جاء فی مثل الصلوٰۃ …: ۲۸۶۳، و صححہ الألبانی ] پانچویں دلیل: { ”مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ“ } یعنی کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ آیت الکرسی سے پہلی آیت میں قیامت کے دن کسی بھی قسم کی سفارش کی نفی فرمائی ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ سفارش ممکن بتائی ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان یا جن یا فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کی جرأت کرے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب سفارش کے لیے جائیں گے تو جب اپنے رب کو دیکھیں گے تو سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی تعریفیں کریں گے، جو اللہ تعالیٰ اس وقت آپ کو سکھائے گا، پھر اللہ تعالیٰ سر اٹھانے کا حکم دے گا اور ایک حد مقرر کرکے فرمائے گا کہ ان لوگوں کو جہنم سے نکال لو۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «لما خلقت بيدي» : ۷۴۱۰ ] قیامت کے دن سفارش تو کجا اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا» ‏‏‏‏ [النبا: ۳۸ ] ”جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمان اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔“ یہ عقیدہ کہ کوئی زبردستی اللہ تعالیٰ سے بات منوا سکتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کسی کی محبت کے ہاتھوں اس کی سفارش ماننے پر مجبور ہو گا، خالص جاہلانہ عقیدہ ہے، مکہ کے مشرکوں کا بھی یہی عقیدہ تھا، اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۳) اور سورۂ یونس (۱۸) وہاں عجز و نیاز کے سوا اور خود اس کی مہربانی سے اجازت کے بغیر کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ شفاعت کا مضمون اچھی طرح سمجھنے کے لیے شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کی تیسری فصل کا مطالعہ کریں۔ چھٹی دلیل: { ”يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ“ } یعنی وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ سامنے سے مراد حاضر چیزیں اور پیچھے سے مراد غائب چیزیں ہیں۔ اس میں ماضی، حال اور استقبال سب کا علم آ گیا۔ اس کے سوا کسی ہستی میں یہ صفت موجود نہیں، فرمایا: «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» ‏‏‏‏ [النمل: ۶۵ ] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔“ جب اللہ تعالیٰ ہمارے اور پوری کائنات کے تمام گزشتہ، موجودہ اور آئندہ حالات سے واقف ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ ساتویں دلیل: { ”وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ“ } یعنی کوئی شخص اللہ کے علم یعنی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتا مگر جتنا وہ چاہے، جیسا کہ فرمایا: «عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا (26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ» [الجن: ۲۶، ۲۷ ] ”(وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کر لے۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک اور معنی کا احتمال بھی ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے وہ اللہ کی ذات و صفات کے علم میں سے کسی بات پر مطلع نہیں ہو سکتا مگر جتنا وہ خود چاہے اور بتا دے، گویا یہ اس آیت کی ہم معنی ہے: «‏‏‏‏وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۱۱۰ ] ”اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔“ موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعہ میں مذکور ہے کہ ایک چڑیا نے سمندر میں ایک یا دو ٹھونگے مارے تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ”میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم سے کم نہیں کیا مگر جتنا اس چڑیا کے ٹھونگے نے سمندر سے کم کیا ہے۔“ [بخاری، العلم، باب ما یستحب للعالم…: ۱۲۲ ] اب خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہے یا یہ بے بس مخلوق۔ آٹھویں دلیل: { ”وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ“ } کرسی کا معنی سب لوگوں کے ہاں معروف ہے، یعنی وہ چیز جس پر بیٹھا جاتا ہے۔ سلف صالحین کے نزدیک اس کا معنی کرسی ہی ہے۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کرسی موجود ہے اور ہمارا اس کے وجود پر ایمان ہے، اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسی ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں، البتہ قرآن مجید میں جو آیا ہے اس کے مطابق اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے زیادہ وسیع ہے، اس پر ہمارا ایمان ہے۔ بعد میں آنے والے مفسرین میں سے بعض نے سلف کا مسلک ہی اختیار کیا ہے، البتہ بعض نے کہا کہ کرسی سے مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت ہے اور بعض نے کہا، اس سے مراد علم ہے۔ عموماً یہ وہ لوگ ہیں جو عرش کے بھی منکر ہیں، چنانچہ وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ نہ کوئی عرش ہے نہ کرسی، بلکہ مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور حکومت ہے۔ مگر کرسی کا یہ معنی حقیقی نہیں مجازی ہے، جو اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو، حالانکہ اللہ کے عرش اور کرسی کو حقیقی معنوں میں لینے سے کچھ خرابی لازم نہیں آتی۔ رہا یہ خیال کہ پھر تو اللہ تعالیٰ آدمیوں کے مشابہ ہو گیا جبکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں تو سلف کے فرمان کے مطابق ہم یہ کہتے ہی نہیں کہ وہ کرسی ہماری کرسیوں جیسی ہے، نہیں بلکہ وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔ انسان علیم ہے جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ» [الذاریات: ۲۸ ] ”اور انھوں نے اسے ایک بہت علیم بیٹے کی خوش خبری دی“ اور اللہ تعالیٰ بھی علیم ہے، تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا انکار کر دیں کہ اس سے مشابہت لازم آتی ہے، نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ علیم ہے اپنی شان کے مطابق۔ اس سے بھی بڑھ کر مثال لے لیں، انسان موجود ہے تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کر دیں گے کہ اس سے انسان کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ نہیں، ہر گز نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح آئی ہیں اسی طرح ماننا پڑیں گی۔ ہاں، وہ صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں۔ آیت میں یہ جملہ بھی توحید کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کرسی کی وسعت اس کے ایک معبود ہونے کی دلیل ہے۔ نویں دلیل: { ”وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا“ } { ”آدَ يَؤُوْدُ“ } کا معنی کسی چیز کا بھاری بوجھ بننا، مشقت میں ڈال دینا ہے۔ مخلوق کتنی بھی بڑی ہو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتی جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین و آسمان کی حفاظت کچھ بوجھ نہیں۔ دسویں اور گیارھویں دلیل:{ ”وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ“ } بلندی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، مخلوق اللہ تعالیٰ کی بلندی اور عظمت کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، اس لیے عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آخر میں اس آیت میں موجود ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ آیت باری تعالیٰ کے نام {”اَللّٰهُ“} سے شروع ہوئی ہے، یہ نام تمام صفات کا جامع ہے، مخلوق میں سے کسی پر یہ نام نہیں بولا جا سکتا ہے۔ تمام مذاہب میں مذکور خداؤں کی تثنیہ و جمع بن سکتی ہے، مثلاً دیویوں، دیوتاؤں اور Gods وغیرہ مگر لفظ ”اللہ “ واحد ہی رہے گا، اس کی نہ جمع بن سکتی ہے نہ تثنیہ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کی زبردست دلیل ہے، اگر اس نکتہ کو بھی شامل کر لیں تو آیت میں توحید کی بارہ دلیلیں موجود ہیں۔
← پچھلی آیت (254) پوری سورۃ اگلی آیت (256) →