بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 251
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 251
آیت نمبر: 251 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۟ۙ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۵۱﴾
آخر کا ر اللہ کے اذن سے اُنہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤدؑ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اِس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو مملکت وحکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے واﻻ ہے
تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے،
پس ان لوگوں نے خدا کے حکم سے ان لوگوں (دشمنوں) کو شکست دے دی۔ اور داؤد (ع) نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور خدا نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی۔ اور جس جس چیز کا چاہا علم عطا فرمایا۔ اور اگر خدا ایک گروہ کا دوسرے گروہ کے ذریعہ سے دفاع نہ کرے تو زمین تباہ و برباد ہو جائے۔ مگر خدا تمام جہانوں پر بڑا لطف و کرم کرنے والا ہے۔
تو انھوں نے اللہ کے حکم سے انھیں شکست دی اور دائود نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور دانائی عطا کی اور جتنا کچھ چاہتا تھا سکھادیا۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ہٹانا نہ ہوتا تو یقینا زمین برباد ہو جاتی اور لیکن اللہ جہانوں پر بڑے فضل والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جالوت مارا گیا ٭٭

یعنی جس وقت مسلمانوں کی اس مختصر جماعت نے کفار کے ٹڈی دل لشکر دیکھے تو جناب باری میں گڑگڑا کر دعائیں کرنی شروع کیں کہ اے اللہ ہمیں صبر و ثبات کا پہاڑ بنا دے۔ لڑائی کے وقت ہمارے قدم جما دے، منہ موڑنے اور بھاگنے سے ہمیں بچا لے اور ان دشمنوں پر ہمیں غالب کر، چنانچہ ان کی عاجزانہ اور مخلصانہ دعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے اور یہ مٹھی بھر جماعت اس ٹڈی دل لشکر کو تہس نہس کر دیتی ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں مخالفین کا سردار اور سرتاج جالوت مارا جاتا ہے، اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی مروی ہے کہ طالوت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جالوت کو قتل کرو گے تو میں اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دوں گا اور اپنا آدھا مال بھی تمہیں دے دوں گا اور حکومت میں بھی برابر شریک کر لوں گا، چنانچہ داؤد علیہ السلام نے پتھر کو فلاخن میں رکھ کر جالوت پر چلایا اور اسی سے وہ مارا گیا، جالوت نے اپنا وعدہ پورا کیا، بالآخر سلطنت کے مستقل سلطان آپ علیہ السلام ہی ہو گئے اور پروردگار عالم کی طرف سے بھی نبوت جیسی زبردست نعمت عطا ہوئی اور شموئیل علیہ السلام کے بعد یہ پیغمبر بھی بنے اور بادشاہ بھی، حکمت سے مراد نبوت ہے اور بہت سے مخصوص علم بھی جو اللہ عزوجل نے چاہے اپنے اس نبی علیہ السلام کو سکھائے۔

پھر ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ یوں پست لوگوں کی پستی نہ بدلتا جس طرح بنی اسرائیل کو طالوت جیسے مدبر بادشاہ اور حضرت داؤد علیہ السلام جیسے دلیر سپہ سالار عطا فرما کر حکومت تبدیل نہ کرتا تو لوگ ہلاک ہو جاتے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرًا» [ 22-الحج: 40 ] ‏‏‏‏ ور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو [راہبوں کے] ‏‏‏‏ صومعے اور [عیسائیوں کے] ‏‏‏‏ گرجے اور [یہودیوں کے] ‏‏‏‏ عبادت خانے اور [مسلمانوں کی] ‏‏‏‏ مسجدیں جن میں اللہ کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک نیک بخت ایماندار کی وجہ سے اس کے آس پاس کے سو سو گھرانوں سے اللہ تعالیٰ بلاؤں کو دور کر دیتا ہے۔ پھر راوی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی آیت کی تلاوت کی [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری5755 باطل] ‏‏‏‏۔

ابن جریر کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک سچے مسلمان کی صلاحیت کی وجہ سے اس کی اولاد کی اولاد کو اس کے گھر والوں کو اور سنوار دیتا ہے اور اس کی موجودگی تک وہ سب اللہ کی حفاظت میں رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5756 باطل] ‏‏‏‏، ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت تک ہر زمانہ میں ساٹھ شخص تم میں ضرور ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور تم پر بارش برسائی جائے گی اور تمہیں روزی دی جائے گی [الدرالمنشور:1 /569-568 ضعیف ] ‏‏‏‏۔ ابن مردویہ کی دوسری حدیث میں ہے میری امت میں تیس ابدال ہوں گے جن کی وجہ سے تم روزیاں دئیے جاؤ گے، تم پر بارش برسائی جائے گی اور تمہاری مدد کی جائے گی۔ [مسند احمد:322/5 منکر] ‏‏‏‏۔ اس حدیث کے راوی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے حسن بھی انہیں ابدال میں سے تھے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت اور اس کا احسان ہے کہ وہ ایک کو دوسرے سے دفع کرتا ہے، وہی سچا حاکم ہے، اس کے تمام کام الحکمت سے پر ہوتے ہیں، وہ اپنی دلیلیں اپنے بندوں پر واضح فرما رہا ہے۔ وہ تمام مخلوق پر فضل و کرم کرتا ہے۔ یہ واقعات اور یہ تمام حق کی باتیں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سچی وحی سے تمہیں معلوم ہوئیں۔ تم میرے سچے رسول ہو۔ میری ان باتوں کی اورخود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سچائی کا علم ان لوگوں کو بھی ہے جن کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ «تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ» [ البقرہ: 252 ] ‏‏‏‏ یہاں اللہ تعالیٰ نے زوردار پرتاکید الفاظ میں قسم کھا کر اپنے نبی کی نبوت کی تصدیق کی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ الحمدللہ تفسیر محمدی کا دوسرا پارہ یہاں ختم ہوا۔

📖 احسن البیان

251۔ 1 حضرت داؤد ؑ جو ابھی پیغمبر نہ بادشاہ تھے اس لشکر طالوت میں ایک سپاہی کے طور پر شامل تھے ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے جالوت کا خاتمہ کیا اور تھوڑے سے اہل ایمان کے ذریعے ایک بڑی قوم کو شکست فاش دلوائی۔ 251۔ 2 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بادشاہت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی لفظ حکمت سے بعض نے نبوت بعض نے صنعت آہن گری اور بعض نے ان امور کی سمجھ مراد لی جو اس موقع جنگ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 251) ➊{فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ:} چنانچہ ان تھوڑے سے مسلمانوں نے جالوت کے لشکروں کو اللہ کے حکم سے شکست دی اور داؤد علیہ السلام نے، جو اس وقت ایک سپاہی تھے، کفار کے بادشاہ جالوت کو قتل کر دیا، جس کے نتیجے میں طالوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا، ان کو سکھائے گئے علوم میں سے قرآن مجید میں ان کے اسلحہ سازی کے علم، پرندوں کی بولی کے علم اور حکم یعنی قوتِ فیصلہ کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان کی خوش الحانی اور پرندوں اور پہاڑوں کے ان کے ساتھ تسبیح کرنے کا بھی ذکر ہے۔ ➋ نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنا نبیوں کا کام نہیں، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ سے رہا ہے اور اگر جہاد نہ ہو تو مفسد لوگ شہروں کو ویران کر ڈالیں۔ (موضح) ➌ {وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ…:} اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی گروہ قوت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر انسانی حد سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کسی دوسرے گروہ کو اٹھا کر اس کی سرکوبی کروا دیتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین میں امن قائم نہ ہو سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ حج (۴۰)۔
← پچھلی آیت (250) پوری سورۃ اگلی آیت (252) →