بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 215
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 215
آیت نمبر: 215 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾
لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا
آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے
تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے
لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ (راہِ خدا میں) کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے! کہ تم جو مال بھی صرف کرو (اس میں تمہارے) ماں باپ کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے اور تم جو بھی نیک کام کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں؟ کہہ دے تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو سو وہ ماں باپ اور زیادہ قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے اور تم نیکی میں سے جو کچھ بھی کرو گے تو بے شک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نفلی خیرات ٭٭

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:419/2] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کر دیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہدو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے، [دار قطنی:44/3:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بیان فرما کر میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:620/2] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے تم جو بھی نیک کام کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اس پر بہترین بدلہ عطا فرمائے گا وہ ذرے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔

📖 احسن البیان

215۔ 1 بعض صحابہ کرام کے استفسار پر مال خرچ کرنے کے اولین مصارف بیان کئے جا رہے ہیں یعنی یہ سب سے زیادہ تمہارے مالی تعاون کے مستحق ہیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ نفاق کا یہ حکم صدقات نافلہ سے متعلق ہے زکوٰۃ سے متعلق نہیں کیونکہ ماں باپ پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنی جائز نہیں ہے حضرت میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا مال خرچ کرنے کی ان جگہوں میں نہ طبلہ سارنگی کا ذکر ہے اور نہ چوبی تصویروں اور دیواروں پر لٹکائے جانے والے آرائشی پردوں کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر مال خرچ کرنا ناپسندیدہ اور اسراف ہے افسوس ہے کہ آج یہ مسرفانہ اور ناپسندیدہ اخراجات ہماری زندگی کا اس طرح لازمی حصہ بن گئے کہ اس میں کراہت کا کوئی پہلو ہی ہماری نظروں میں نہیں رہا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 215) ➊ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے حیات دنیا کے مزین کیے جانے کا ذکر فرمایا، بنی اسرائیل کے باہمی اختلاف کا باعث بھی حسد، ضد اور سرکشی بیان فرمایا، جو عموماً مال سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوال کا ذکر فرمایا کہ وہ (اس فتنے سے بچنے کے لیے) کیا خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ کہاں خرچ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ خرچ کرنے کی جگہیں بھی بتائی جائیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ صفراء (گرمی) کا کوئی مریض کسی مہربان طبیب سے پوچھے کہ میں شہد پی لوں تو وہ جواب میں کہے، پی لو، مگر سرکہ ملا کر، کیونکہ سرکہ اس کی گرمی کو کم کر دے گا۔ ان کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ”تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو “ یعنی جو چاہو خرچ کرو، مگر وہ مال حلال طریقے سے حاصل ہوا ہو، کیونکہ حرام کو خیر نہیں کہہ سکتے۔ (طنطاوی) ➋ خرچ کرنے کی جگہوں میں سے سب سے پہلے والدین کا ذکر کیا، تاکہ ان کے جنم دینے اور پرورش کرنے کا کچھ حق ادا ہو جائے، پھر زیادہ قرابت والے، تاکہ قرابت اور رشتہ داری کا حق ادا ہو، پھر یتامیٰ، کیونکہ وہ مہربان باپ کے سائے سے محروم ہو چکے ہیں، پھر مساکین، ان کے فقر و احتیاج کی وجہ سے، پھر مسافر، کیونکہ وہ اپنے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے ایک طرح سے محتاج ہیں۔ رازی نے فرمایا، خرچ کرنے کی جگہوں میں یہ ترتیب ہی صحیح ترتیب ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے بعد خلاصہ بیان فرمایا کہ تم خیر میں سے جو عمل بھی کرو گے تو بے شک اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔ اس میں وہ کام اور وہ جگہیں بھی آ گئیں جن کا یہاں ذکر نہیں ہوا، مثلاً سائلین اور غارمین وغیرہ، بشرطیکہ وہ کام اور وہ جگہیں خیر ہوں، کیونکہ غلط جگہ خرچ کرنا فعل خیر نہیں۔ میمون بن مہران اس آیت کو پڑھ کر کہنے لگے کہ یہ ہیں مسلمان کے خرچ کرنے کی جگہیں، ان میں طبلہ، سارنگی، لکڑی کی تصویروں اور گھر کی آرائش کا ذکر نہیں ہے۔ (ابن کثیر) ➌ اس آیت میں زکوٰۃ کے علاوہ خرچ کا ذکر ہے جو نفل ہو یا بعض اوقات فرض، کیونکہ ماں باپ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰)۔ ➍ ایک روایت میں یہ سوال کرنے والا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا ہے، مگر وہ روایت موضوع ہے، اس میں کلبی اور ابو صالح متہم بالکذب ہیں۔ (الاستیعاب فی بیان الاسباب)
← پچھلی آیت (214) پوری سورۃ اگلی آیت (216) →