بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 213
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 213
آیت نمبر: 213 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾
ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اور اُن کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا نہیں،) اختلاف اُن لوگوں نے کیا، جنہیں حق کا عمل دیا چکا تھا اُنہوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس کے لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے پس جو لوگ انبیا پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اُس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھا دیتا ہے
دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے
لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے،
(پہلے) سب انسان ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (پھر جب ان میں باہمی اختلاف پیدا ہوئے) تو خدا نے انبیاء بھیجے۔ (جو نیکوکاروں کو) خوشخبری دینے والے (اور بدکاروں) کو ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی (جس میں قانون تھا)۔ تاکہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے اور یہ اختلاف انہی لوگوں نے کیا جن کو وہ (کتاب) دی گئی تھی اور وہ بھی تب کہ جب کھلی ہوئی دلیلیں ان کے سامنے آچکی تھیں۔ محض بغاوت اور زیادتی کی بنا پر۔ تو خدا نے اپنے حکم سے ایمان والوں کو ان اختلافی باتوں میں راہِ حق کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔
سب لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جنھیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آ چکیں، آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نوح علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت «وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ» [ 10۔ یونس: 19 ] ‏‏‏‏، [حاکم:546/2] ‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی یہی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:78/4] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی نوح علیہ السلام، [عبدالرزاق:82/1] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی کے اعتبار سے بھی اور سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے، پس ان پیغمبروں نے ایمان والوں کو خوشیاں سنائی اور ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا، ان کے ساتھ اللہ کی کتاب بھی تھی تاکہ لوگوں کے ہر اختلاف کا فیصلہ قانون الٰہی سے ہو سکے، لیکن ان دلائل کے بعد بھی صرف آپس کے حسد و بغض تعصب و ضد اور نفسانیت کے بنا پر پھر اتفاق نہ کر سکے، لیکن ایماندار سنبھل گئے اور اس اختلاف کے چکر سے نکل کر سیدھی راہ لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آگے ہوں گے، اہل کتاب کو کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ہمیں اس کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ پاک نے ہماری رہبری کی جمعہ کے بارے میں بھی نااتفاقی رہی لیکن ہمیں ہدایت نصیب ہوئی یہ کل کے کل اہل کتاب اس لحاظ سے بھی ہمارے پیچھے ہیں۔ [عبدالرزاق:81/1] ‏‏‏‏ جمعہ ہمارا ہے ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار نصرانیوں کا، [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے علاوہ قبلہ کے بارے میں بھی یہی ہوا نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا یہود نے بھی، ان میں بعض کی نماز رکوع ہے اور سجدہ نہیں، بعض کے ہاں سجدہ ہے اور رکوع نہیں، بعض نماز میں بولتے چلتے پھرتے رہتے ہیں لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سکون و وقار والی ہے نہ یہ بولیں نہ چلیں نہ پھریں، روزوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا اور اس میں بھی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت نصیب ہوئی ان میں سے کوئی تو دن کے بعض حصے کا روزہ رکھتا ہے کوئی گروہ بعض قسم کے کھانے چھوڑ دیتا ہے لیکن ہمارا روزہ ہر طرح کامل ہے اور اس میں بھی راہ حق ہمیں سمجھائی گئی ہے، اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہود نے کہا کہ وہ یہودی تھے نصرانیوں نے انہیں نصاری کہا لیکن دراصل وہ یکسر مسلمان تھے پس اس بارے میں بھی ہماری رہبری کی گئی اور خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت صحیح خیال تک ہم کو پہنچا دیا گیا، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہودیوں نے جھٹلایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت بدکلامی کی، نصرانیوں نے انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا لیکن مسلمان اس افراط وتفریط سے بچا لیے گئے اور انہیں روح اللہ کلمۃ اللہ اور نبی برحق مانا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/4] ‏‏‏‏

سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح ابتداء میں سب لوگ اللہ واحد کی عبادت کرنے والے نیکیوں کے عامل برائیوں سے مجتنب تھے بیچ میں اختلاف رونما ہو گیا تھا پس اس آخری امت کو اول کی طرح اختلاف سے ہٹا کر صحیح راہ پر لگا دیا یہ امت اور امتوں پر گواہ ہو گی یہاں تک کہ امت نوح علیہ السلام پر بھی ان کی شہادت ہو گی، قوم یہود، قوم صالح، قوم شعیب اور آل فرعون کا بھی حساب کتاب انہی کی گواہیوں پر ہو گا یہ کہیں گے کہ ان پیغمبروں نے تبلیغ کی اور ان امتوں نے تکذیب کی، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں آیت «واللہ یہدی» الخ، سے پہلے یہ لفظ بھی ہیں آیت «ولیکونوا شہداء علی الناس یوم القیامۃ» الخ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں گویا حکم ہے کہ شبہ، گمراہی، اور فتنوں سے بچنا چاہیئے، یہ ہدایت اللہ کے علم اور اس کی رہبری سے ہوئی وہ جسے چاہے راہ استقامت سجھا دیتا ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو یہ پڑھتے دعا «اللہم رب جبرائیل ومیکائیل واسرافیل فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اہدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم» ۔ یعنی اے اللہ اے جبرائیل ومیکائل اور اسرافیل کے اللہ عزوجل اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے الہ العالمین۔ اے چھپے کھلے کے جاننے والے اللہ جل شانہ تو ہی اپنے بندوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے میری دعا ہے کہ جس جس چیز میں یہ اختلاف کریں تو مجھے اس میں حق بات سمجھا تو جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے [صحیح مسلم:770] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا یہ بھی منقول ہے «اللہم ارنا الحق حق وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاوارزقنا اجتنابہ ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل واجعلنا للمتقین اماما» ۔ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی تابعدار نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچا کہیں ایسا نہ کہ حق و باطل ہم پر خلط ملط ہو جائے اور ہم بہک جائیں اے اللہ ہمیں نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں کا امام بنا۔

📖 احسن البیان

213۔ 1 یعنی توحید پر۔ یہ حضرت آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ، یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر، جس کی تعلیم انبیاء دیتے رہے قائم رہے۔ آیت مفسرین صحابہ نے فاختَلَفُوْا منسوخ مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و ظاہر پرستی عام ہوگئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق اور توحید قائم اور واضح کریں (ابن کثیر) 213۔ 2 اختلاف ہمیشہ راہ حق سے انحراف کی وجہ سے ہوتا ہے اور انحراف کا منبع بغض اور عناد بنتا ہے امت مسلمہ میں بھی جب تک یہ انحراف نہیں آیا یہ امت اپنی اصل پر قائم اور اختلاف کی شدت سے محفوظ رہی لیکن اندھی تقلید اور بدعات نے حق سے گریز کا جو راستہ کھولا اس سے اختلاف کا دائرہ پھیلتا اور بڑھتا ہی چلا گیا، تاآنکہ اتحاد امت ایک ناممکن چیزیں بن کر رہ گیا ہے۔ 213۔ 3 مثلاً اہل کتاب نے جمعہ میں اختلاف کیا یہود نے ہفتہ کو اور نصاریٰ نے اتوار کو اپنا مقدس دن قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جمعہ کا دن اختیار کرنے کی ہدایت دے دی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اختلاف کیا یہود نے ان کو جھٹلایا اور ان کی والدہ حضرت مریم پر بہتان باندھا اس کے برعکس عیسائیوں نے ان کو اللہ کا بیٹا اور اللہ بنادیا اللہ نے مسلمانوں کو ان کے بارے میں صحیح موقف اپنانے کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے فرمانروا بندے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں بھی انہوں نے اختلاف کیا ایک نے یہودی اور دوسرے نے نصرانی کہا مسلمانوں کو اللہ نے صحیح بات بتلائی کہ وہ (حنیفاً مُسْلِماً) تھے اور اس طرح کے کئی دیگر مسائل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو صراط مستقیم دکھائی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 213) ➊ اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر و شرک اور عظیم الشان مخلوقات، مثلاً سورج، چاند، آگ، ہوا، پانی، فرشتوں اور نیک انسانوں وغیرہ کی پرستش سے نہیں ہوئی بلکہ خالص توحید سے ہوئی ہے۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ان کی ایک ہی ملت تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیان دس قرن (ایک ہزار سال) تھے۔ یہ سب شریعت حقہ (توحید) پر تھے، پھر(شیطان کے بہکانے سے ان میں شرک آیا اور) ان میں اختلافات پیدا ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے(نوح علیہ السلام اور دوسرے) انبیاء بھیجے۔“ [ طبری و حاکم 442/2، ح: ۳۶۵۴، بسند صحیح] پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں، تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الٰہی کی طرف لایا جائے۔ اس آیت میں {”فَبَعَثَ اللّٰهُ“} کا عطف محذوف پر ہے یعنی {”فَاخْتَلَفُوْا فَبَعَثَ اللّٰہُ“} ”پس انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے نبی بھیجے۔“ (کبیر، ابن جریر) مزید دیکھیے سورۂ یونس (۲۱)۔ ➋ {فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ:} یعنی پہلی امتوں میں اختلافات لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ باہمی حسد، ضد اور سرکشی کی وجہ سے پیدا ہوئے، جس سے وہ فرقوں میں بٹ گئیں اور اس وجہ سے گمراہ ہو گئیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بھیج کر اور اس پر اپنی آخری کتاب نازل فرما کر تمام اختلافات کا فیصلہ فرما دیا اور اپنی توفیق خاص {”بِاِذْنِهٖ“} سے مومنوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کر دی ہے۔ (بیضاوی، فتح البیان) واضح رہے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بھی شروع میں دین میں کوئی اختلاف نہیں تھا، سلف صالحین سب کے سب کسی شخص کی تقلید کے بجائے براہ راست قرآن و حدیث پر عمل کرتے تھے۔ ان میں نہ شیعہ سنی کی تفریق تھی، نہ ان میں کوئی حنفی تھا، نہ مالکی، نہ شافعی، نہ حنبلی، نہ نقشبندی، نہ قادری، نہ سہروردی، نہ چشتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا:”تم ضرور ہی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے چل پڑو گے، جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی ضب (سانڈے) کے بل میں جا گھسے ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟“ فرمایا: ”پھر اور کون ہیں؟“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۵۶۔ مسلم: ۲۶۶۹] آپ کے اس فرمان کے مطابق جب اس امت میں بھی اہل کتاب کی طرح شخصی رائے کی تقلید اور اپنے دھڑے کی بے جا حمایت پر جمود پیدا ہو گیا، لوگوں نے قرآن و حدیث کے بجائے اقوالِ رجال کو دین سمجھنا شروع کر دیا تو امت مختلف فرقوں میں بٹ کر تباہ ہو گئی۔ اس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو قرآن و سنت پر براہ راست کار بند رہے اور کسی نئے گروہ کا حصہ نہ بنے۔ [ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ] ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کو اٹھتے تو اپنی رات کی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: [ اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَ مِیْکَائِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اہْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ] [ مسلم، صلٰوۃ المسافرین، باب صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودعاء ہ باللیل: ۷۷۰]
← پچھلی آیت (212) پوری سورۃ اگلی آیت (214) →