بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 211
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 211
آیت نمبر: 211 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ مَنۡ یُّبَدِّلۡ نِعۡمَۃَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۱۱﴾
بنی اسرائیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے اُنہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہیں سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اُسے اللہ کیسی سخت سزادیتا ہے
بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے) کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے
بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
(اے رسول) بنو اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو انبیاء کے ذریعے کس قدر کھلی ہوئی نشانیاں عنایت کیں اور جو (شخص و قوم) خدا کی نعمت کو اس کے پاس آجانے کے بعد بدل ڈالے (اسے برائی میں صرف کرے) تو خدا سخت عذاب والا ہے۔
بنی اسرائیل سے پوچھ! ہم نے انھیں کتنی واضح نشانیاں دیں اور جو شخص اللہ کی نعمت کو بدل دے، اس کے بعد کہ اس کے پاس آ چکی ہو تو یقینا اللہ بہت سخت سزا والاہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے موسیٰ علیہ السلام کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لیے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آڑے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14۔ ابرہیم: 29، 28 ] ‏‏‏‏ کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔

پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایماندار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضا مندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیقی نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آ جائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دیدے جسے چاہے بے حساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، [صحیح بخاری:5352] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، [طبرانی کبیر:1020:صحیح] ‏‏‏‏ قرآن میں ہے آیت «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [ 34۔ سبأ: 39 ] ‏‏‏‏ تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ [صحیح بخاری:1442] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہو چکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہو گیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، [صحیح مسلم:2958] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لیے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔ [مسند احمد:17/6:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

211۔ 1 مثلاً عصائے موسیٰ جس کے ذریعے سے ہم نے جادوگروں کا توڑ کیا سمندر سے راستہ بنایا پتھر سے بارہ چشمے جاری کیے، بادلوں کا سایہ، من و سلوا کا نزول وغیرہ جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے احکام الٰہی سے انکار کیا۔ 211۔ 2 نعمت کے بدلنے کا مطلب یہی ہے کہ ایمان کے بدلے انہوں نے کفر کا راستہ اپنایا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 211) اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے مطالبے پر یا مطالبے کے بغیر انبیاء کو کئی معجزے عطا فرمائے، مگر جب وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر مختلف عذاب آئے، جیسے قوم ثمود و قوم فرعون اور بنی اسرائیل، اب جب اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے اترنے کا مطالبہ حد سے زیادہ ہونے لگا تو کفارِ عرب سے کہا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل سے پوچھ لو، ہم نے انھیں کتنے واضح معجزات دکھائے، یعنی عصائے موسیٰ، ید بیضا، طوفان، ٹڈیاں، سمندر کا پھٹنا، صحرا میں بادل کا سایہ، بارہ چشموں کا پھوٹنا، من و سلویٰ کا نزول وغیرہ، تو انھوں نے ان نعمتوں سے کوئی فائدہ اٹھایا جو تم اٹھاؤ گے؟ پھر نعمتوں کی ناشکری کا نتیجہ تو عذاب ہی ہے، فرمایا: «وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [ بنی إسرائیل: ۵۹ ] ”اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا۔“
← پچھلی آیت (210) پوری سورۃ اگلی آیت (212) →