بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 203
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 203
آیت نمبر: 203 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۚ وَ مَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾
یہ گنتی کے چند روز ہیں، جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہییں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہو اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے
اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے
اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے،
اور گنتی کے چند دنوں میں خدا کو یاد کرو پس جو جلدی کرے گا اور (منٰی سے) دو ہی دن میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو دیر کرے (تیسرے دن تک ٹھہرا رہے) اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے مگر یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جو (شکار سے) بچتا رہا ہو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو اور یقین رکھو کہ تم اسی کے حضور اکھٹے کئے جاؤگے (پلٹ کر جاؤ گے)۔
اور اللہ کو چند گنے ہوئے دنوں میں یاد کرو، پھر جو دو دنوں میں جلد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، اس شخص کے لیے جو ڈرے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایام تشریق ٭٭

آیت میں «أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ» سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، [تفسیر قرطبی:3/3] ‏‏‏‏ ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:545/2] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کا دن قربانی کا دن اور ایام تشریق ہمارے یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ [مسند احمد:152/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ [مسند احمد:75/5:صحیح] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ عرفات کل ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایام تشریق سب قربانی کے دن ہیں، اور یہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ منیٰ کے دن تین ہیں دو دن میں جلدی یا دیر کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے کہ ایام تشریق کھانے اور ذکر اللہ کرنے کے دن ہیں، [مسند احمد:229/2:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ وہ منیٰ میں گھوم کر منادی کر دیں کہ ان دنوں میں کوئی روزہ نہ رکھیں یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ [مسند احمد:513/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک اور مرسل روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مگر جس پر قربانی کے بدلے روزے ہوں اس کے لیے یہ زائد نیکی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:2918:صحیح بالشواھد] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ منادی سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3917:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3916:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر شعب انصار میں کھڑے ہو کر یہ حکم سنایا تھا، کہ لوگو یہ دن روزوں کے نہیں بلکہ کھانے پینے اور ذکر اللہ کرنے کے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:3919:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ایام معدودات ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہیں دسویں ذی الحجہ کی اور تین دن اس کے بعد کے یعنی دس سے تیرہ تک، [تفسیر ابن جریر الطبری:547/2] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر، ابن زبیر، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم، عطاء مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو مالک، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حسن، قتادہ، سدی، زہری، ربیع بن انس، ضحاک، مقاتل بن حیان، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم، امام مالک رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:547/2] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ تین دن ہیں دسویں گیارہویں اور بارہویں ان میں جب چاہو قربانی کرو لیکن افضل پہلا دن ہے مگر مشہور قول یہی ہے اور آیت کریمہ کے الفاظ کی ظاہری دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ دو دن میں جلدی یا دیر معاف ہے تو ثابت ہوا کہ عید کے بعد تین دن ہونے چاہئیں اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنا قربانیوں کے ذبح کے وقت ہے، اور یہ بھی پہلے بیان ہو چکا ہے کہ راجح مذہب اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے کہ قربانی کا وقت عید کے دن سے ایام تشریق کے ختم ہونے تک ہے، اور اس سے مراد نمازوں کے بعد کا مقررہ ذکر بھی ہے اور ویسے عام طور پر یہی اللہ کا ذکر مراد ہے، اور اس کے مقررہ وقت میں گو علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن زیادہ مشہور قول جس پر عمل درآمد بھی ہے یہ ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر دن کی عصر کی نماز تک، اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی دارقطنی میں ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے اور آپ رضی اللہ عنہ کی تکبیر پر بازار والے لوگ تکبیر کہتے ہیں یہاں تک کہ منیٰ کا میدان گونج اٹھتا اسی طرح یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے وقت تکبیر اور اللہ کا ذکر کیا جائے جو ایام تشریق کے ہر دن ہو گا، ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ بیت اللہ کا طواف صفا مروہ کی سعی شیطانوں کو کنکریاں مارنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے ہے۔ [سنن ابوداود:1888، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کی پہلی اور دوسری واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعد لوگ ان پاک مقامات کو چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں اور مقامات کو لوٹ جائیں گے اس لیے ارشاد فرمایا کہ «وَهُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [ 23-المؤمنون: 79 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس کے سامنے جمع ہونا ہے اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا پھر وہی سمیٹ لے گا پھر اسی کی طرف حشر ہو گا۔ پس جہاں کہیں ہو اس سے ڈرتے رہا کرو۔

📖 احسن البیان

23۔ 1 مراد ایام تشریق ہیں یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ۔ ان میں ذکر الہی یعنی باآواز بلند تکبیرات مسنون ہیں صرف فرض نمازوں کے بعد ہی نہیں (جیسے کہ ایک کمزور حدیث کی بنیاد پر مشہور ہے) بلکہ ہر وقت یہ تکبیرات پڑھی جائیں۔ کنکریاں مارتے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھنی مسنون ہے۔ (اَ للّٰہُ اَکبَرْ، اللّٰہُ اَکبَر، ْ لَا اِلٰہَ اِلَّا، واللّٰہُ اَکبَر، اللّٰہُ اَکبَر وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُہ) 23۔ 2 رمی جماد (جمرات کو کنکریاں مارنا) 3 دن افضل ہیں لیکن اگر کوئی دو دن (11 اور 12 ذوالحجہ) کنکریاں مار کر واپس آجائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت203) ➊ { وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ:} عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”ایام معدودات ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ) ہیں۔“ [ بخاری، العیدین، باب فضل العمل… قبل، ح: ۹۶۹ ] پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے: ”منیٰ میں ٹھہرنے کے دنوں میں تکبیر کہنا اور جب عرفات کو جائے۔“ عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمے کے اندر تکبیر کہتے، مسجد والے اسے سنتے تو وہ بھی تکبیر کہتے اور بازاروں والے بھی تکبیر کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیرات سے گونج اٹھتا۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی ان دنوں میں منیٰ میں تکبیر کہتے، نمازوں کے بعد تکبیر کہتے اور اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں تکبیر کہتے اور ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا قربانی کے دن تکبیر کہتیں اور عورتیں ابان بن عثمان اورعمر بن عبد العزیز کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تشریق کی راتوں میں تکبیر کہتیں۔ [ بخاری، العیدین، باب التکبیر أیام منیً …، قبل ح: ۹۷۰ ] معلوم ہوا ان ایام سے مراد عرفہ کی صبح سے لے کر ۱۳ ذوالحجہ کے سورج غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ قربانی کے دن اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”یہ کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔“ [ مسلم، الصیام، باب تحریم صوم أیام التشریق …: ۱۱۴۱ ] اللہ کے ذکر سے مراد وہ تمام تکبیرات ہیں جو جمرات کو کنکر مارتے وقت، جانور ذبح کرتے وقت یا دوسرے اوقات میں کہی جاتی ہیں اور تکبیر کے علاوہ کوئی بھی ذکر ہو وہ بھی اس حکم میں شامل ہے۔ یعنی ان ایام میں ذکر الٰہی میں مصروف رہو۔ ➋ {لِمَنِ اتَّقٰى:} یعنی گیارہ اور بارہ کو دو دن جمرات کو کنکر مار کر چلا آئے تب بھی جائز ہے اور اگر کوئی تاخیر کرے یعنی پورے تین دن منیٰ میں ٹھہرا رہے تو بھی جائز ہے، بشرطیکہ دل میں تقویٰ ہو اور حج کے احکام خلوص سے ادا کرے۔ (ابن کثیر) ➌ { اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ:} حج کے موقع پر لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں اس لیے حج کے ذکر کے ساتھ حشر کا دن یاد دلا کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا۔
← پچھلی آیت (202) پوری سورۃ اگلی آیت (204) →