بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 189
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 189
آیت نمبر: 189 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلۡ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَ الۡحَجِّ ؕ وَ لَیۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُیُوۡتَ مِنۡ ظُہُوۡرِہَا وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰیۚ وَ اۡتُوا الۡبُیُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِہَا ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۸۹﴾
لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہو: یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں نیز ان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے
لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی واﻻ وه ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ
تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ
(اے رسول(ص)) لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ وہ گھٹے بڑھتے کیوں ہیں؟) کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کے (دنیوی معاملات) کی تاریخیں اور حج کے لئے اوقات مقرر کرنے کا ذریعہ ہیں اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ تم گھروں میں پچھواڑے کی طرف سے (پھاند کر) آؤ۔ بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ (آدمی غلط کاری سے) پرہیزگاری اختیار کرے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو۔ اور خدا سے ڈرو (اس کے قہر و غضب سے بچو) تاکہ تم فلاح پاؤ۔
وہ تجھ سے نئے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت معلوم کرنے کے ذریعے ہیں اور نیکی ہر گز یہ نہیں کہ گھروں میں ان کی پچھلی طرفوں سے آئو اور بلکہ نیکی اس کی ہے جو بچے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آئو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

چاند اور مہ وسال ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے چاند کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس سے قرض وغیرہ کے وعدوں کی میعاد معلوم ہو جاتی ہے، عورتوں کی عدت کا وقت معلوم ہوتا ہے، حج کا وقت معلوم ہوتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:554/3] ‏‏‏‏ مسلمانوں کے روزے کے افطار کا تعلق بھی اسی سے ہے، مسند عبدالرزاق میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کو لوگوں کے وقت معلوم کرنے کے لیے بنایا ہے اسے دیکھ کر روزے رکھو اسے دیکھ کر عید مناؤ اگر ابر و باراں کی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن پورے گن لیا کرو، [عبدالرزاق:7306] ‏‏‏‏ اس روایت کو امام حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [حاکم:423/1] ‏‏‏‏ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک موقوف روایت میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ بھلائی گھروں کے پیچھے سے آنے میں نہیں بلکہ بھلائی تقویٰ میں ہے گھروں میں دروازوں سے آؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جاہلیت کے زمانہ یہ دستور تھا کہ احرام میں ہوتے تو گھروں میں پشت کی جانب سے آتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4512] ‏‏‏‏ ابوداؤد طیالسی میں بھی یہ روایت ہے۔ [طیالسی:717:صحیح علی شرط الشیخین] ‏‏‏‏ انصار کا عام دستور تھا کہ سفر سے جب واپس آتے تو گھر کے دروازے میں نہیں گھستے تھے دراصل یہ بھی جاہلیت کے زمانہ میں قریشیوں نے اپنے لیے ایک اور امتیاز قائم کر لیا تھا کہ اپنا نام انہوں نے حمس رکھا تھا احرام کی حالت یہ تو براہ راست اپنے گھروں میں آ سکتے تھے لیکن دوسرے لوگ سیدھے راستے گھروں میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ سے اس کے دروازے سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک انصاری صحابی سیدنا قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اسی دروازے سے نکلے اس پر لوگوں نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ایک تجارت پیشہ شخص ہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اس دروازے سے کیوں نکلے؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جواب دیا کہ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کرتے دیکھا کیا۔ مانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمس میں سے ہیں لیکن میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہی ہوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی [حاکم:483/1:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی یہ روایت مروی ہے حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں بہت سی قوموں کا یہ رواج تھا کہ جب وہ سفر کے ارادے سے نکلتے پھر سفر ادھورا چھوڑ کر اگر کسی وجہ سے واپس چلے آتے تو گھر کے دروازے سے گھر میں نہ آتے بلکہ پیچھے کی طرف سے چڑھ کر آتے جس سے اس آیت میں روکا گیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:401/1] ‏‏‏‏ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں اعتکاف کی حالت میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کیا، عطا فرماتے ہیں اہل مدینہ کا عیدوں میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کر دیا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بجا لانا اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جانا اس کا ڈر دل میں رکھنا یہ چیزیں ہیں جو دراصل اس دن کام آنے والی ہیں جس دن ہر شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اور پوری پوری جزا سزا پائے گا۔

📖 احسن البیان

189۔ 1 انصار جاہلیت میں جب حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتے اور پھر کسی خاص ضرورت کے لئے گھر آنے کی ضرورت پڑجاتی تو دروازے سے آنے کے بجائے پیچھے سے دیوار پھلانگ کر اندر آتے، اس کو نیکی سمجھتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نیکی نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 189) ➊ {الْاَهِلَّةِ:} یہ { ”هِلاَلٌ“ } کی جمع ہے۔ پہلی اور دوسری رات کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے، پھر اسے ”قمر“ کہا جاتا ہے۔ (راغب) لوگوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ چاند ہر ماہ ہلال کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، پھر وہ چودھویں کو پورا (بدر) ہو جاتا ہے۔ آخری رات بالکل غائب ہو جاتا ہے، پھر دوبارہ نئے چاند کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے، جس سے شہروں اور بستیوں کے علاوہ صحراؤں اور سمندروں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نیا مہینا شروع ہو گیا ہے اور وہ اس کی مختلف حالتوں سے تاریخ بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ جب کہ سورج ہمیشہ مکمل رہتا ہے، اس کے حساب سے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا، حج، کفارات اور معاملات، مثلاً طلاق اور وفات کی عدت چاند کے لحاظ ہی سے مقرر فرمائی۔ ہر ماہ طلوع ہونے والے چاندوں کے لحاظ سے { ”الْاَهِلَّةِ“ } جمع ذکر فرمایا۔ ➋ {وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا …:} حج کا ذکر آیا تو ایام حج میں جاہلیت کی ایک رسم کا رد فرمایا۔ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی، انصار جب حج کرتے، پھر (واپس) آتے تو اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے، اب انصار کا ایک آدمی(حج سے) آیا اور اپنے دروازے کی طرف سے داخل ہو گیا تو گویا اسے اس کی عار دلائی گئی تو یہ آیت اتری: «‏‏‏‏وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا» [ بخاری، العمرۃ، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏و أتوا البیوت من أبوابہا» ‏‏‏‏: ۱۸۰۳ ] دوسری روایت میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب لوگ احرام باندھ لیتے تو گھروں کی پچھلی طرف سے گھر آتے، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، التفسیر، بابٌ: «ولیس البر بأن تأتوا البیوت …» ‏‏‏‏: ۴۵۱۲ ] آیت میں دونوں کا رد ہے۔ ➌ {”وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ“} اس میں { ”لَيْسَ“ } کی تاکید ”باء“ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”نیکی ہر گز یہ نہیں۔“
← پچھلی آیت (188) پوری سورۃ اگلی آیت (190) →