بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 96
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ وَ جَعَلَ الَّیۡلَ سَکَنًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۹۶﴾
پردہ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں
وه صبح کا نکالنے واﻻ ہے اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنا یا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو کہ قادر ہے بڑے علم واﻻ ہے
تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا اور سورج اور چاند کو حساب یہ سادھا (سدھایا ہوا) ہے زبردست جاننے والے کا،
وہ (رات کے اندھیرے سے) صبح کا برآمد کرنے والا ہے۔ اور اسی نے رات کو سکون و راحت کے لئے بنایا اور سورج و چاند کو (ماہ و سال کے) حساب کے لئے بنایا۔ یہ غالب اور بڑے علم والے (خدا) کا مقرر کردہ نظام ہے۔
صبح کو پھاڑ نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا۔ یہ اس زبردست غالب، سب کچھ جاننے والے کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اس کی حیرت ناک قدرت ٭٭

دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے۔ جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-یس:36-33] ‏‏‏‏ ’ اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے ‘۔ «مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ ‘ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ‏‏‏‏ ’ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے ‘۔ جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] ‏‏‏‏ ’ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے ‘۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:1-2] ‏‏‏‏ ’ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے ‘، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:3-4] ‏‏‏‏ جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏ ’ وہی دن رات چڑھاتا ہے ‘۔

الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بے انتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:1-2] ‏‏‏‏ اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» ۱؎ [92۔اللیل:1-2] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ‏‏‏‏ ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔

حضرت صہیب رومی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لیے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند صہیب کے لیے وہ بھی آرام کی نہیں اس لیے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں -جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آ جاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» ۱؎ [10۔یونس:5] ‏‏‏‏ ’ اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» ۱؎ [36-یس:40] ‏‏‏‏ ’ نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے ‘ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏، ’ سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں ‘۔ یہاں فرمایا ’ یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں ‘۔ عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [36۔یس:37-38] ‏‏‏‏ میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [41۔فصلت:12] ‏‏‏‏ میں۔ پھر فرمایا ’ ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں ‘۔ بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ’ ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

96۔ 1 اندھیرے اور روشنی کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ رات کی تاریکی سے صبح روشن پیدا کرتا ہے جس سے ہر چیز روشن ہوتی ہوجاتی ہے۔ 96۔ 2 یعنی رات کو تاریکیوں میں بدل دیتا ہے تاکہ لوگ روشنی کی تمام مصروفیات ترک کر کے آرام کرسکیں۔ 96۔ 3 یعنی دونوں کے لئے ایک حساب بھی مقدر ہے جس میں کوئی تغیر و اضطراب نہیں ہوتا، بلکہ دونوں کی اپنی اپنی منزلیں ہیں، جن پر وہ گرمی اور سردی میں رواں رہتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر سردی میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی اور گرمی میں اس سے برعکس دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوجاتی ہیں۔ جس کی تفصیل سورة یونس۔ 5 سورة یٰسین 40 اور سورة اعراف 54 میں بھی بیان کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 96) {فَالِقُ الْاِصْبَاحِ …:} وہی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح روشن نکالنے والا ہے، پھر اس نے رات کا اندھیرا طاری کر کے سب کو سکون اور آرام کا موقع فراہم کیا اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا، جس سے وقت، دن، رات، مہینوں اور سالوں کا حساب وجود میں آتا ہے۔ {” الْعَزِيْزِ “} سے مراد کمال قدرت والا اور {” الْعَلِيْمِ “} سے مراد کمال علم والا ہے۔ جس کا علم اور قدرت آسمان و زمین کے ذرّے ذرّے کو محیط ہے۔ عموماً قرآن میں رات دن اور سورج چاند کے پیدا کرنے اور مسخر کرنے کو اسمائے حسنیٰ میں سے ان دو صفاتی ناموں کے ساتھ ختم کیا ہے۔
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →